تاثرات: حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
وبعد!…… معہد الخلیل الاسلامی کے بانی حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی قدس اللہ سرہ اپنی گوناگوں صفات و احوال و افعال کے اعتبار سے فقیہ المثال شخصیت کے حامل تھے، جس طرح معہد الخلیل مدارس میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے انفرادی شان رکھتا ہے کہ مدرسہ بھی ہے اور خانقاہ بھی، اسی طرح مولانا کی اولاد کی (۷ بیٹے، ۵ بیٹیاں) عالم، حافظ تدریس و تعلیم سے وابستہ، دنیوی علائق سے لا تعلق رہ کر ’’این خانہ ہمہ آفتاب و مہتاب است‘‘ کی شان بن گئے۔
مولانا محمد یحییٰ نے بزرگوں سے فیض یاب ہونے کے لیے اپنی ہستی کو فراموش کیا، فنانی الشیخ ہو کر فیض بھی حاصل کیا اور بزرگوں کے محبوب بن گئے، اسی کا نتیجہ ہے کہ احقر کی نظر میں مولانا محمد یحییٰ مدنی کے مدرسہ کی نظیر کہیں نہیں، اسی طرح ان کی اولاد کی مثال بھی موجود نہیں۔
مدرسہ، مدرسہ بھی ہے اور مدارس میں ممتاز ہے اور خانقاہ بھی ہے اور خانقاہوں میں ممتاز ہے، اولاد و دین کی تعلیم و تدریس کے لیے وقف ہے، دنیا کو سمیٹنے سے ان کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کسی نے ’’من کان للہ کان اللہ لہ‘‘ کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو معہد الخلیل الاسلامی کو دیکھے۔
سلیم اللہ خان
بانی و مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی
صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
۹ ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ — ۱۰ فروری ۲۰۱۴ء