مضامین

تعلیم و تزکیہ کا حسین امتزاج

حضرت مولانا شفیق احمد بستوی صاحب
فاضلِ دار العلوم دیوبند و مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں نبی ٔ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں وہ پیغامِ خداوندی کی تبلیغ، تعلیم الکتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفوس ہیں۔ آپ کی وراثت کے امین حضراتِ علمائے حق اور اولیاء اللہ نے اپنی عملی زندگی کو انہی مقاصد اربعہ کے خطوط پر گزارا اور لاکھوں انسانوں کو ضلالت و گمراہی کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی روشن ڈگر پر گامزن کیا۔

آج کی تاریخ دیکھیں تو ماضیٔ قریب سے تعبیر کرنا پڑے گا اور اپنی گزرتی ہوئی زندگی کے شب و روز کا تسلسل پیشِ نظر رہے تو حال سے تعبیر کر سکتے ہیں کہ ہمارے نہایت ہی مشفق و محسن اور محبوب و مکرم صاحبِ علم و عمل بزرگ، صاحبِ دل اور نور و تقویٰ سے مزین، حال و قال کے حامل ولی اللہ، حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ ہمارے ماحول و معاشرے کے لیے ربِ کائنات کی عظیم نعمت تھے اور علم و عمل کا مینارۂ نور تھے، گفتار و کردار میں ہم آہنگی آپ کی عملی زندگی کا روشن پہلو تھا، تعلیم کے ساتھ تربیت کا اہتمام بلکہ حسنِ انتظام آپ کا نصب العین تھا۔ دین کا احیاء اور دینی علوم کی ترویج و اشاعت آپ کی خواہشات میں مرکزی حیثیت کی حامل چیز تھی۔

حضرت رحمہ اللہ سے کاتب الحروف کو ایک نیازمندانہ اور عقیدت و محبت کا تعلق حاصل رہا ہے، دورانِ ملاقات حضرت کے ایسے ملفوظات نذرِ سماعت ہوتے تھے جو ایک طرف احقر کے دل میں جاگزیں ہو جاتے تھے، تو دوسری طرف اس بات کی بجا طور پر عکاسی کر رہے ہوتے تھے کہ حضرت کے سینے میں ایک ایسا دل ہے جو امت مسلمہ کے لیے ہمدردی و غم خواری کے جذبات لیے دھڑکتا ہے۔

آج سے کوئی بائیس سال پہلے کی بات ہے کہ احقر پہلی بار معہد الخلیل الاسلامی میں ایک جمعرات کی شام کو محفلِ ذکر میں حاضر ہوا تو ختمِ خواجگان اور دیگر اذکار کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے مختصر اور جامع گفتگو ارشاد فرمائی۔ اس کے دوران حضرت رحمہ اللہ نے بڑی اہمیت کے ساتھ فرمایا کہ ’’تقویٰ کا مرکز دل ہے اور ذکر اللہ کے بغیر تقویٰ پیدا ہو ہی نہیں سکتا‘‘۔ یہ بات آج تک اچھی طرح ذہن نشین ہے اور بار بار یاد آتی ہے کیونکہ فرمانِ خداوندی کے عین مطابق دلوں کی اصلاح اور باطنی مسائل کا حل ابتدائی طور پر ذکر اللہ ہی سے ممکن ہوتا ہے اور تقویٰ کی اساس دل کی صلاح و طمانیت ہی پر رکھی جا سکتی ہے، اس لیے حضرت رحمہ اللہ کا فرمان بالکل مدلل و مبرہن ہے۔

اس مجلس میں پہلی بار شرکت سے یہ بات راقم الحروف پر عیاں ہوئی کہ اس مدرسہ میں زیرِ تعلیم طلبہ صرف نصاب کے پڑھنے میں ہی منہمک نہیں ہوتے بلکہ ان کی روحانی تربیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے، یہ دیکھ کر محسوس ہوا کہ واقعی طالب علم کے لیے تعلیم کے ساتھ باطنی تربیت نہایت ضروری اور بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر مدارس اور تعلیم گاہیں اس تربیتی محنت سے خالی ہیں۔

یہ حضرت رحمہ اللہ کا خصوصی بلکہ امتیازی ذوق تھا کہ اپنے ادارہ کے طلبہ کی تعلیم کو معیاری بنانے کی فکر کے ساتھ ان کی عمدہ تربیت کے لیے حتی الوسع کوشاں رہتے تھے اور تربیت بھی ایسی کہ تزکیہ سے ہم آہنگ، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حضرت رحمہ اللہ نے مقاصدِ بعثت کو میراثِ نبوی کا لازمی تقاضا سمجھا اور تعلیم کے فریضہ کے ساتھ تزکیہ کی ذمہ داری کو انجام دینے کی بھی سعی مشکور فرمائی، اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو اس سعی ٔ جمیل پر اپنے شایانِ شان جزائے خیر عطا فرمائے۔

ایک دفعہ احقر حاضرِ خدمت ہوا تو دورانِ گفتگو نہایت متفکرانہ اسلوب میں احقر سے سوال فرمایا کہ ’’مولانا! یہ بتائیے کہ طلبۂ عزیز کی تعلیم پر محنت کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر انداز میں تربیت کیسے ہونی چاہیے؟‘‘۔ میں یہ سوال سن کر سوچنے لگا کہ مجھ جیسا نوآموز مدرس حضرت جیسے عظیم المرتبت شخص کو کیا جواب دے سکتا ہے۔ چنانچہ احقر نے اپنی کم مائیگی اور کم علمی کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ ’’حضرت! اس حوالہ سے تو آپ ہی مجھ سے بدرجہا بہتر تدابیر جانتے ہیں کہ ان طالبانِ علومِ نبوت کی عمدہ تربیت کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘، چنانچہ آپ رحمہ اللہ نے پھر خود ہی فرمایا: ’’دیکھیے! ہم نے اپنے طور پر یہ کوشش کی ہے کہ طلبہ کی تمام جماعتوں کی نشست ایک ہی ہال میں ہو، تاکہ تمام ہی طلباء اور اساتذہ نگاہوں کے سامنے ہوں، اس طرح نگرانی بھی آسان ہوتی ہے اور سب ہی اساتذہ و طلبہ کے احوال ہمہ وقت نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں، اور میں اسی لیے یہیں ایک کنارے پر اپنی نشست بھی رکھتا ہوں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہر طالب علم پر یکساں توجہ رہے‘‘۔

حضرت کی یہ گفتگو سن کر راقم الحروف بہ خوبی محسوس کر رہا تھا کہ حضرت رحمہ اللہ کو طلباء کرام کی تربیت کی بہت فکر رہتی تھی، آج کے اس جدت پسندی کے دور میں جہاں مغرب پرستی کا زور بڑھتا جا رہا ہے، مدارس میں تزکیہ و تصوف کے اسلوب پر محنت نایاب ہو چکی ہے مگر حضرت نے اس اسلوب کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ادارہ میں اس تربیتی محنت کو سکۂ رائج الوقت کے طور پر بہ حسن و خوبی اپنائے رکھا اور بحمداللہ ہزاروں تشنگانِ علومِ نبوت اس مبارک محنت سے مستفید ہو چکے ہیں، بجا طور پر راقم الحروف خیال رکھتا ہے کہ یہ محنت تمام ہی مدارس و معاہد اسلامیہ کی لازمی ضرورت ہے، مگر بات توفیقِ خداوندی سے مربوط ہے:

اللہ اگر توفیق نہ دے، ہر شخص کے بس کا کام نہیں      فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں

علومِ دینیہ کے ساتھ عرفانِ خداوندی کے کچھ اسباق ہی سہی، اگر طالب علم کو پڑھا دیے جائیں تو اس کو اپنی حیثیت و منزلت کا ادراک و شعور ہو جاتا ہے اور احساسِ ذمہ داری بیدار ہو جاتا ہے اور عمل کی ڈگر پر اس کے لیے صرف چلنا ہی نہیں، خوبی کے ساتھ چلنا آسان ہو جاتا ہے۔

احقر نے حضرت رحمہ اللہ سے متعدد ملاقاتوں میں جو کچھ سنا اور سمجھا اس سے یہ بھی ایک دفعہ احساس ہوا کہ آپ رحمہ اللہ صرف طلباء و علماء کے لیے ہی فکر مند نہیں تھے بلکہ عامۃ المسلمین کی صلاح و فلاح کے لیے بھی ایک دردمند دل کے مالک تھے، چنانچہ ایک ملاقات میں ارشاد فرمایا: ’’آج کل ہمارے ماحول میں بیرونِ ممالک سے جو خورد و نوش کی اشیاء درآمد کی جا رہی ہیں، ان میں جو غیر مسلم ممالک کی چیزیں ہیں، ان سے ہمیں گریز کرنا چاہیے، اور اگر ہم چاہیں تو ان کی متبادل اشیاء مسلم ممالک سے درآمد کر سکتے ہیں‘‘۔ چنانچہ بطور مثال حضرت نے کچھ سعودی کمپنیوں کے نام لیے جو بہتر اور معیاری مشروبات اور دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء تیار کرتی ہیں، ہم ان سے درآمد کر سکتے ہیں، تاکہ غیر مسلموں کی چیزوں سے ہم بچ سکیں۔

حضرت رحمہ اللہ کی یہ گفتگو واقعۃً بہت ہی معنویت اور امت مسلمہ کی سچی ہمدردی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکیزہ اور طیب غذاؤں کے نتیجہ میں ہی بندگانِ خدا کو مقبول صالح عمل کی توفیق ملتی ہے بلکہ اعمال قبول ہی جب ہوتے ہیں جبکہ صاحبِ عمل اپنی خوراک و پوشاک میں حرام و مشتبہ سے بچنے کا اہتمام کرتا ہو، چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ارشادِ نبوی ہے کہ ایک آدمی لمبا سفر کر کے جا رہا ہوتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے، پراگندہ حال۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ اٹھا کر فریاد کرتا ہے اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام اور اس کا لباس حرام مال سے تیار ہوا ہے، ایسی صورت میں اس کی فریاد کیوں کر قبول ہو سکتی ہے؟

حضرت رحمہ اللہ کے افکار گویا امت مسلمہ کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو اپنے شایانِ شان جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

احقر راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ اپنے مدرسہ میں تعلیم کے ساتھ تربیت و تزکیۂ نفوس کی محنت کا اہتمام جو حضرت رحمہ اللہ نے اپنے ادارہ میں جاری و ساری رکھا وہ دیگر مدارس کے لیے قابلِ تقلید و قابلِ اتباع اسوہ ہے۔ علاوہ ازیں ایک خاموش مگر فعال انداز میں حضرت نے جو دینی اور رفاہی خدمات انجام دی ہیں وہ ہمارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں بھی حضرت رحمہ اللہ کی طرح بھرپور عملی زندگی گزارنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔