مضامین

صاحبزادہ حضرت مفتی محمد مدنی صاحب دامت بركاتھم العالیہ

(مدرس معہد الخلیل الاسلامی)

میری ولادت ۳۰ اپریل ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ پنجابی سوداگران دہلی برادری سے تعلق ہے۔ حفظِ قرآن اور درسِ نظامی کی مکمل تعلیم معہد الخلیل الاسلامی میں حاصل کی۔ تخصص فی الفقہ بندہ نے اور بہنوئی مفتی محمد سلمان یاسین صاحب نے جامعہ بنوری ٹاؤن سے کیا۔ بچپن میں حضرت صوفی محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ سے بیعت ہوا۔ حضرت اقدس رحمہ اللہ سے درجہ اعدادیہ کے سال ذکر سیکھا پھر ناغہ ہونے لگا۔ ایک عرصے بعد بار بار درخواست کر کے دوسری بار ماہِ رمضان میں ذکر سیکھا جس پر الحمدللہ بیس سال سے مداومت ہے۔

حضرت اقدس رحمہ اللہ کے کئی حسین نقوش اور متعدد دلکش یادیں دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔ خصوصاً سردی کے موسم میں بوقتِ سحر جس کمرے میں ہم سوئے ہوئے ہوتے تھے، اس کے ایک طرف تہجد کے بعد ذکر بالجہر کی ایمان افروز صدائیں آج بھی گویا سماعت سے ٹکرا رہی ہیں (جن کی حلاوت آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ذکر نمازِ فجر سے پندرہ منٹ پہلے تک جاری رہتا)۔ ہم عصر بزرگوں سے ملاقات کے موقع پر طرفین سے والہانہ اظہارِ محبت، پرانی یادوں کا تذکرہ اور باہمی عزت افزائی و قدردانی کے دلکش مناظر قابلِ صد رشک ہوا کرتے تھے۔

سفرِ حج میں جبکہ مفتی سلمان یاسین بھی ساتھ تھے حضرت اقدس رحمہ اللہ کے کہنے پر صاحبزادہ حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم نے اجازت عطا فرمائی۔ سفرِ حج سے واپسی کے دو ماہ بعد مسجد الخلیل میں بعد از عصر خود بھی اجازت عطا فرمائی۔ غالباً یہ ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ آج کل معہد الخلیل میں تدریس و افتاء سمیت دیگر انتظامی امور کی خدمت سپرد ہے۔

صاحبزادہ مفتی محمد مدنی
مدرس معہد الخلیل الاسلامی