رنگ و نور میں جانے والے محبوب
از: حضرت مولانا مسعود ازہر صاحب مدظلہ
اللہ تعالیٰ نے موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو بھی… اور وہ خود حیّ قیوم ہے… یہ سال کیا شروع ہوا کہ بس رنگ و نور میں جانے والے محبوبوں کا تذکرہ ہی جگہ پاتا ہے۔ وہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے ’’سلسلہ‘‘ سے تھے۔ جی ہاں حضرت شیخ کے خلیفۂ مجاز، اور حضرت شیخ کے سلسلے میں دو کام بنیادی ہیں: (۱) ذکر اللہ کی کثرت، (۲) موت کی یاد۔ یہ حضرات موت کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ موت ایک محبوبہ نظر آنے لگتی ہے، مگر محبوبہ بھی منکوحہ جو غیروں کے ساتھ مشغول نہیں ہونے دیتی۔ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کافی عرصہ اپنے شیخ کی صحبت میں رہے اور خوب رنگ پایا۔ مدینہ منورہ میں قیام تھا اور شیخ الحدیث رحمہ اللہ مہاجر مدنی تھے، سہارنپور اور کاندھلہ چھوڑ کر مدینہ منورہ جا بسے اور اب وہیں آسودہ ہیں، جنت البقیع میں محل مل گیا۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خلفائے کرام کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ ہے۔ حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی ان میں شامل ہیں۔ ماشاء اللہ! تمام صاحبزادے صاحبِ علم اور صاحبِ عمل ہیں اور دینی خدمات میں مشغول ہیں۔
جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے ایام اور حضرت مدنی رحمہ اللہ
جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کا ادارہ حضراتِ اولیاء کا مرکز رہا ہے۔ اپنے طالب علمی کے زمانہ میں وہاں یہ عجیب بات دیکھی کہ بڑے بڑے صاحبِ علم اور صاحبِ نسبت اساتذہ کرام چھوٹی اور ابتدائی کتب بھی پڑھاتے تھے۔ بعد میں یہ سمجھ میں آیا کہ اصل علمی اور روحانی تربیت کا وقت تو بچپن اور ابتدائی جوانی کا ہوتا ہے۔ اس وقت اگر انسان کو باطنی روشنی اور روحانی قوت مل جائے تو دل میں دین کی مضبوط بنیاد پڑ جاتی ہے، جو آگے چل کر مزید طاقتور اور وسیع ہوتی چلی جاتی ہے، اور اگر ابتدائی بلوغت میں کھوٹ رہ جائے تو آگے چل کر اس کی تلافی میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ بنوری ٹاؤن میں بڑے بڑے اساتذہ چھوٹے درجات کی ابتدائی کتابیں پڑھاتے تھے تو بچوں اور نوجوانوں کے قلوب میں دین کی جڑیں جڑ پکڑ لیتی تھیں۔ درجہ اولیٰ اور ثانیہ میں حضرت اقدس مولانا بدیع الزماں صاحب، حضرت اقدس مفتی احمد الرحمن صاحب، حضرت اقدس مولانا سید مصباح اللہ شاہ صاحب، حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب اور حضرت اقدس مفتی محمد جمیل خان شہید رحمهم الله وغیرہ جیسے اکابر حضرات کے اسباق تھے۔
عربی لغت کی ’’بسم اللہ‘‘ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے ہوئی۔ الطریقۃ العصریۃ اور الطریقۃ الجدیدۃ اور ماشاء اللہ اس ’’بسم اللہ‘‘ میں بڑی برکت ہوئی کہ آگے چل کر عربی بول چال میں بڑی آسانی رہی اور عربی تدریس کا موقع بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ پھر فقہ کی دو ابتدائی کتابیں، نور الإيضاح اور قدوری بھی حضرت رحمہ اللہ سے پڑھنے کی سعادت ملی۔ یہ سلسلہ شاید آگے بھی چلتا مگر حضرت رحمہ اللہ نے بہادرآباد کراچی میں اپنا دینی ادارہ معہد الخلیل الاسلامی اور اپنے شیخ کی محبت میں مکتبۃ الشیخ قائم فرمایا اور اسی میں مشغول ہو گئے۔ طالب علمی کے زمانے میں تو ان کا رعب ان کی شفقت پر غالب رہا، ذی وجاہت تھے اور کم وقت کے لیے جامعہ تشریف لاتے تھے۔ سبق کے دوران اصلاحی گفتگو میں زیادہ زور معاملات کی صفائی پر دیتے تھے۔ ترغیب اور واقعات کے ذریعہ طلبہ کے دل میں مالِ حرام کی نفرت، خیانت کی نفرت اور مالِ حلال کے التزام کا بیج بوتے تھے۔
حضرت شیخ ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں لکھا ہے: ’’مہنہ گائوں میں ایک بار حضرت شیخ ابو سعید کی قبر کے سرہانے اپنی عادت کے مطابق تنہا بیٹھا تھا کہ میں نے ایک سفید کبوتر کو دیکھا کہ وہ آیا اور اس کپڑے میں چھپ گیا جو قبر پر پڑا ہوا تھا، میں سمجھا کہ شاید کسی کے ہاتھ سے چھوٹ کر آیا ہوگا کہ یہاں چھپ گیا۔ لیکن میں نے کپڑا ہٹا کر کوئی چیز وہاں موجود نہ دیکھی۔ دوسرے اور پھر تیسرے روز اسی طرح مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک رات میں نے حضرت ابو سعید کو خواب میں دیکھا تو وہ واقعہ ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا: ’’وہ کبوتر میرے معاملے کی صفائی ہے جو ہر روز قبر میں میرے پاس آ کر رہتا ہے‘‘۔ مالی معاملات میں احتیاط، امانت کے التزام اور خیانت سے مکمل پرہیز کے بغیر کوئی انسان ولی اور مجاہد تو درکنار ایک اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا۔ خیانت منافق کی سب سے بڑی علامت ہے اور شیطان اندر ہی اندر دل میں نفاق کی خندق کھودتا ہے اور طرح طرح کی تاویلیں بتا کر انسان کو خیانت پر لاتا ہے، اور جب کوئی انسان خیانت پر آ جائے تو پھر شیطان اس سے بے فکر ہو جاتا ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ کے شیدائی اور روشن پہلو
طالب علمی کے بعد حضرت رحمہ اللہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ پابندی کے ساتھ جامعہ کے دار الحدیث میں جمعہ کی مجلسِ ذکر میں تشریف لاتے تھے اور خود آپ کے علمی ادارے میں بھی حضراتِ مشائخ کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انڈیا کی قید سے رہائی کے بعد کراچی واپسی ہوئی تو حضرت رحمہ اللہ کو ایک نئے انداز پر پایا۔ جہاد فی سبیل اللہ کے شیدائی، دونوں ہاتھ کھول کر انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے، اپنی دعاؤوں اور نصائح سے مجاہدین کو نوازنے والے، مظلوم مسلمانوں کا بے انتہا درد رکھنے والے، کفریہ طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے والے اور مجاہدین کی حد درجہ حوصلہ افزائی کرنے والے۔ ایک بار تنہائی کی ایک مجلس میں اپنے شوقِ شہادت کا ایسا نقشہ کھینچا کہ دل بھر آیا۔ حدیث شریف کے مصداق جو بھی صدقِ دل سے شہادت کا متلاشی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا مقام عطا فرماتے ہیں، خواہ اس کا انتقال اپنے بستر پر ہی کیوں نہ ہوا ہو۔
ان دنوں جب بھی کراچی جانا ہوتا، حضرت رحمہ اللہ ایسی شفقت اور محبت کا معاملہ فرماتے کہ دل ان کی خوردنوازی پر بے حد شرمندہ ہوتا۔ وہ صاف دل، پاک زبان اور صاف معاملہ رکھنے کے عادی تھے اور ان کی کوئی بھی مجلس نفع سے خالی نہ ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے احسانات کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں مغفرت اور رحمت کا مقام نصیب فرمائے۔ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ۔ اللہ تعالیٰ انہیں دارِ آخرت کی ہر خوشی نصیب فرمائے اور وہاں کی ہر تنگی سے ان کی حفاظت فرمائے اور ان کی آل اولاد میں دینِ کامل اور اس کی خدمات کو جاری و ساری فرمائے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔