مضامین

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

مولانا محمد احمد صاحب
مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی

حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ اپنی پیرانہ سالی اور بیماریوں کے باوجود نہایت کٹھن اور مسلسل کام کے عادی تھے اور اپنے تمام متعلقین کے کام میں لگے رہنے کو پسند فرماتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کی زندگی اس شعر کا عملی مصداق تھی:
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر      نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

حضرت رحمہ اللہ کا نظمِ مدرسہ:
حضرت رحمہ اللہ نے تمام عمر علمِ دین کی نشر و اشاعت اور مدرسہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ حضرت رحمہ اللہ کے معمولات بالخصوص اہلِ مدارس کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں، حضرت رحمہ اللہ ’’در و دیوار‘‘ کو نہیں بلکہ اندر کے درد و غم اور دن رات مدرسے کے لیے سوچنے اور کُڑھنے کو مدرسہ قرار دیتے تھے۔ حیرانگی سے فرماتے: ’’میرا ایک مدرسہ جانا ہوا، بیت الخلاء سے بلب غائب تھے، پوچھنے پر بتایا گیا کہ طلبہ بلب چوری کر لیتے ہیں‘‘۔ اس پر حیرت کرتے کہ پھر مدرسہ والے کیا محنت کر رہے ہیں؟

ایک واقعہ:
معہد الخلیل الاسلامی میں بندہ کی تدریس کا پہلا سال تھا۔ درجہ رابعہ میں جب بندہ اپنے گھنٹے کے زیرِ درس کتاب پڑھانے داخل ہوا، تو دیکھا کہ جماعت میں استاذ صاحب نہیں ہیں اور طلبہ سر جھکائے کچھ لکھ رہے ہیں، پوچھنے پر طلبہ نے عرض کیا کہ پچھلے گھنٹے کا ٹیسٹ ابھی چل رہا ہے، پچھلے گھنٹے کے استاذِ محترم نے کہا ہے کہ آپ اپنے گھنٹے سے پانچ دس منٹ دے دیں، تاکہ ہم پرچہ مکمل کر لیں۔ بندہ کو یہ جان کر نہایت حیرت ہوئی کہ پچھلے گھنٹے کے استاذ صاحب بہت دیر پہلے طلبہ کو یونہی چھوڑ کر چلے گئے تھے، طلبہ اس حال میں ٹیسٹ کا پرچہ حل کر رہے تھے کہ نہ اُن پر کوئی نگران تھا اور نہ کوئی استاذ، نیز یہ کہ کتابیں اور کاپیاں قریب رکھی ہوئی ہیں، مگر کوئی طالب علم نہ انہیں کھول کر دیکھتا ہے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھتا ہے، واقعی یہ امانتداری حضرت اقدس رحمہ اللہ کی تربیت کا نتیجہ تھی۔

عقیدہ کا تحفظ:
حضرات علمائے دیوبند کثر اللہ سوادھم کے عقیدہ پر نہایت متصلب تھے اور اپنے آپ کو ان کا اندھا مقلد قرار دیتے، اساتذۂ کرام سے ایک سالہ معاہدہ میں ’’المہند علی المفند‘‘ پر عقیدہ مضبوط ہونے کی شرط تھی اور ہے۔

تربیتِ طلبہ:
طلبہ کا صبح کو مسجد میں جمع ہو کر یٰس شریف پڑھنا، دعا کے بعد جماعتوں میں جانا، تین اسباق کے بعد بیس منٹ ذکر کے لیے مسجد میں جمع ہونا، دوپہر کے کھانے میں آداب کی رعایت اور شام کو قبلِ عصر مسجد میں اکابر کے ملفوظات و سوانح کی تعلیم، معہد الخلیل الاسلامی کے روزانہ کے معمولات ہیں۔ ان میں حضرت رحمہ اللہ وقتاً فوقتاً طلبہ کو ترغیب، ترہیب اور اکابر کے واقعات سناتے، ہر طالب علم کے تعلیمی و اخلاقی احوال سے باخبر رہنے کی سعی فرماتے، ماحول کے لیے غیر موزوں طلبہ کی سرزنش میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے، بسا اوقات دوپہر کے وقت فرماتے: ’’رات سے اٹھا ہوا ہوں، اب تک نہیں سویا، گھر میں لیٹے ہوئے بھی مدرسہ کو سوچتا رہتا ہوں‘‘۔

ماتحتوں کا خیال:
مالی طور پر کمزور طلبہ کی خاموشی سے اعانت فرماتے، اساتذہ و عملہ سے گہرا ربط رکھتے تھے اور ان کے حالات بھی دریافت کرتے رہتے تھے۔

کثرتِ طلبہ:
مدارس کی تنزلی کی وجہ ’’کثرتِ طلبہ‘‘ کو قرار دیتے، لائق طلبہ کی نہایت قدر دانی فرماتے، طلبہ کو خوشخطی، انشائے عربی اور وفاقی پرچہ جات کی تیاری کی خصوصاً ترغیب دیتے تھے، متقی طلبہ کو اپنے قریب رکھتے تھے۔

نظم و ضبط:
مدرسہ کی سہ ماہی و سالانہ تقاریب میں اعلیٰ نظم و ضبط حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت کا آئینہ دار تھا، مختلف متعلقین کو ان کے ذوق کے اعتبار سے مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے اور ہر ایک کا اپنے کام میں لگے رہنا پسند فرماتے تھے۔

بچیاں گھر داری کے لیے ہیں:
اگر دورانِ تعلیم کسی طالبہ کا رشتہ آجاتا اور لڑکے والے شادی کا تقاضہ کرتے تو حضرت رحمہ اللہ کا طبعی تقاضہ یہی ہوتا کہ ضروری تعلیم حاصل ہو چکی، رخصتی کر دو، بچیاں گھر داری کے لیے ہیں۔

نماز کی پابندی: خود بھی نماز کا نہایت اہتمام فرماتے، طلبہ کو وقتاً فوقتاً پہلی صف اور تکبیرِ اولیٰ کے اہتمام کی ترغیب دیتے۔

ڈانٹ ڈپٹ: خداداد رُعب کے مالک تھے، طلبہ کی کوتاہیوں پر ایسی ڈانٹ پلاتے کہ دوسرے کے لیے سبق ہو جاتی۔

الفضل للعلم والعلماء: حضرت رحمہ اللہ نے تمام دینی شعبوں کو بہت قریب سے دیکھا تھا، ان شعبوں میں سب سے اہم علمِ دین کا شعبہ قرار دیتے، طلبہ سے فرماتے: تم صحیح علم حاصل کرو گے تو دین کے تمام شعبوں کو علمائے راسخین میسر ہوں گے، قیامت تک طے ہے الفضل للعلم والعلماء (فضیلت علم اور علماء کے لیے ہے)۔

بیانات: مدرسہ کی تقاریب میں عموماً ان امور کی تاکید فرماتے:
۱۔ اخلاص۔
۲۔ نماز کی پابندی۔
۳۔ سچائی اور دیانتداری۔
۴۔ وقت کی پابندی۔
۵۔ محنت سے علم حاصل کرنا۔

منتخب لوگوں کے لیے: حضرت رحمہ اللہ کے ہاں علمِ دین لولے لنگڑے لوگوں کے سیکھنے کا نہیں، کہ جو بچہ دنیاوی تعلیم کا نہیں رہا تو اسے مدرسہ میں داخل کر دیا، بلکہ علمِ دین کے لیے تو اپنے چہیتے اور ذہین ترین بچہ کو داخل کرنا چاہیے۔

سادگی: حضرت رحمہ اللہ رہن سہن میں سادگی کے قائل تھے، البتہ صفائی ستھرائی کے معاملے میں حساس تھے۔ طلبہ کا میلا کچیلا رہنا یا مدرسہ میں معیاری صفائی نہ ہونا، ناپسند تھا۔

اخلاص: نام و نمود سے دور رہتے تھے، فرماتے: ’’بڑے بڑے دینی کام نام و نمود کی وجہ سے آسمان سے یوں زمین پر گر گئے‘‘۔

سخاوت: حضرت رحمہ اللہ کی سخاوت ایک مائِ جاری تھا جس سے دین کے تمام شعبوں کے ادارے استفادہ کرتے تھے، جس کا ایک نمونہ زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کی امداد کا موقع تھا۔

امتِ مسلمہ کا درد: مسلمانوں کے سیاسی و عالمی مسائل پر گہری نظر تھی، ملک یا دنیا کے کسی گوشہ میں مسلمانوں کی تکلیف پر پریشان ہو جاتے۔

تحقیقی ذوق: احادیثِ مبارکہ اور فقہی جزئیات میں اصل کتب کی طرف مراجعت کا اہتمام فرماتے یا کسی کے ذمہ لگا دیتے کہ فلاں حدیث شریف کا جزئیہ تلاش کریں۔

اشاعتِ کتب: اکابر کی کسی مفید کتاب کی اشاعت کا جب داعیہ پیدا ہوتا تو مسلسل مشاورت اور فکر اس وقت تک دامن گیر رہتی جب تک کہ وہ کتاب چھپ کر سامنے نہ آجاتی، کتب اور مدارس میں مالداروں کے بجائے اہلِ علم کا نام پسند فرماتے تھے۔

تقریبات: وقت کی پابندی کا جو جوہر آپ کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا، دعوتوں میں ’’بوفے سسٹم‘‘ کے بجائے ’’اور لاؤں؟‘‘ کو اصل مہمان نوازی قرار دیتے تھے۔ میز کرسی کے بجائے ’’فرشی نشست‘‘ آپ کی آمد کی معروف شرائط میں سے تھی۔ فرماتے: ہمارے ہاں ’’دس بجے‘‘ کا مطلب ’’دس بجے‘‘ ہی ہوتا ہے، ’’دس بج کر پانچ منٹ‘‘ نہیں ہوتا۔ تصویر کشی والی دعوتوں سے بالکل احتیاط فرماتے تھے۔

ہر شعبے میں انحطاط: حضرت رحمہ اللہ نے دین کے شعبوں میں انحطاط کو بغور دیکھا تھا، فرماتے: ہر شعبے میں انحطاط ہے، مگر جو ہو رہا ہے غنیمت ہے، اس پر اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے۔

تبلیغ: حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی صحبت اور تبلیغ میں عرصۂ دراز تک عملی طور پر کوشاں رہنے کی بنا پر تبلیغی مزاج مثلاً: عملی طور پر سیاست میں حصہ نہ لینا، بیانات میں سیاسی موضوع پر نہ آنا، نماز کا اہتمام، امورِ دینیہ میں تصلب آپ کی طبیعت کا حصہ بن چکے تھے۔ تبلیغی جماعت میں تعطیلات کے دوران جانے والے اساتذہ و طلبہ سے خوش ہوتے اور انہیں دعاؤں کے ساتھ رخصت فرماتے۔

ختمِ نبوت: تحریکِ ختمِ نبوت میں عملاً شامل رہے تھے، اس لیے تحریکِ ختمِ نبوت سے قلبی محبت اور لگاؤ تھا۔ فرماتے تھے کہ میں اپنے مدرسہ میں تبلیغ اور ختمِ نبوت کے علاوہ کسی سیاسی تحریک میں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ حضرت استاذِ مکرم مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کے بیانات کے علاوہ بعض اوقات اساتذہ و طلبہ کے لیے بھی ختمِ نبوت کورس منعقد کروایا۔

تربیتِ اولاد: حضرت اقدس رحمہ اللہ اولاد کی تربیت کے حوالے سے صلاحیتیں کھپا دینے کے قائل تھے اور خود ایسی محنت فرمائی کہ الحمدللہ ساری اولاد کو حافظ، عالمِ باعمل بنا گئے۔

ذکر کی عمومیت: وصال سے تقریباً دو سال قبل حضرت رحمہ اللہ کے جی میں داعیہ پیدا ہوا کہ معہد کے اساتذہ و طلبہ جمع ہو کر ایک وقت میں ذکر کیا کریں، استخارہ و استشارہ کے بعد تیسرے گھنٹے کے بعد بیس منٹ ذکر کے متعین فرمائے۔ درجہ ثالثہ سے دورۂ حدیث تک کے طلبہ کو ذکر کا طریقہ کار بتایا اور یہ معمول الحمدللہ اب بھی جاری ہے، مجازین سے پوچھ گچھ رکھتے کہ کتنے لوگوں کا آپ سے تعلق ہوا، ذکر کے حلقوں پر نہایت مسرت کا اظہار فرماتے، مصلحین کے لیے ’’اکمال الشیم‘‘ اور ’’تربیت السالک‘‘ کا مطالعہ تلقین فرماتے۔

رقتِ قلبی: حضرت رحمہ اللہ نہایت رقیق القلب تھے، دنیا کے تذکرے سے رجوع الی اللہ کی بات نکالنا، اور بات کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو تیرنا دیکھنے میں آتا تھا۔

اللہ کریم حضرت رحمہ اللہ کو اپنے شایانِ شان بدلہ عطا فرمائے، ان کی نسبی و روحانی اولاد کو، حضرت کے گلشن معہد الخلیل الاسلامی اور اس کی شاخوں کو، خانقاہی، رفاہی، تحریری سلسلوں کو شرور و فتن سے حفاظت اور ظاہری و باطنی ترقی نصیب فرمائے اور حضرت رحمہ اللہ کے حق میں اسے صدقۂ جاریہ بنائے۔ وصلی اللہ وسلم علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین۔

مولانا محمد احمد صاحب
مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی