محترم جناب عبدالرحمن صاحب
احقر کی ولادت ۱۴ نومبر ۱۹۸۱ء کو کراچی میں ہوئی۔ خواجہ برادری سے تعلق ہے۔ آبائو اجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ گھریلو ماحول و مزاج کے مطابق عصری تعلیم کی ابتدا ہوئی۔ اسکول سے فراغت کے بعد کالج اور پھر سرسید یونیورسٹی سے الیکٹرونک انجینئرنگ تک عصری تعلیم ہی حاصل کی۔ ساتھ ساتھ قاعدہ اور ناظرہ قرآن شریف مکمل کر چکا تھا۔ اس کے بعد وفاق المدارس کی طرف سے عصری طلبہ کے لیے سہ سالہ منتخب کورس ’’دراسات الدینیۃ‘‘ کی تکمیل جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں کی، اور یہی کورس احقر کے حضرت اقدس رحمہ اللہ سے تعلق کی بنیاد بنی۔ اس کورس کے دوران سن ۲۰۰۸ء میں حضرت اقدس رحمہ اللہ سے احقر کا تعلق قائم ہوا جو تاحیات قائم رہا اور دلی طور پر اب بھی قائم ہے۔
حضرت رحمہ اللہ کی تو ہر ادا ہی نرالی اور عجیب شان رکھتی تھی۔ البتہ ایک خاص واقعہ جس کا تاثر بندے پر بہت زیادہ رہا وہ مرض الوفات کا ہے کہ جب احقر ایک موقع پر حضرت رحمہ اللہ کی عیادت کی غرض سے ٹبہ ہسپتال حاضر ہوا۔ دوپہر گیارہ بجے کا وقت تھا۔ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے حضرت رحمہ اللہ غنودگی کی حالت میں تھے اور دوائیوں کے اثرات کی وجہ سے ہوش مکمل طور پر بحال نہ تھے کہ ایک دم احقر کو دیکھ کر پوچھا کہ ’’کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ مفتی محمد کو بلاؤ وہ مجھے وضو کرائے تاکہ میں نماز ادا کر سکوں‘‘۔ میں نے عرض کیا: نہیں حضرت! ابھی تو گیارہ بجے ہیں۔ لیکن حضرت نے اس کے باوجود بھی مفتی محمد صاحب کو بلوایا اور نماز کے متعلق ان سے کہا۔ اللہ اکبر! اس حالت میں بھی نماز کی اس قدر فکر سوار تھی۔
اپنی زندگی کے آخری رمضان المبارک میں بروز جمعۃ الوداع ۲۸ رمضان ۱۴۳۳ھ بمطابق ۱۷ اگست ۲۰۱۲ء بعد نمازِ جمعہ جامعہ مسجد الخلیل میں احقر کو بلا کر اجازت مرحمت فرمائی اور اپنے ہاتھوں سے احقر کے سر پر دستار باندھی۔ فی الحال احقر شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہے اور گزشتہ تین سالوں سے ’’النخلۃ اسلامک اسکول‘‘ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔