مہربان عمِّ مکرم و شیخِ معظم
حضرت مولانا محمد عاصم صاحب
عمِّ مکرم سیدی و مرشدی حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کے زیرِ شفقت اس ناکارہ کی اب تک کی زندگی گزری ہے، سفر و حضر میں رفاقت کا شرف ملا ہے۔ مکی مسجد سے حفظِ قرآن کی تکمیل پر حضرت رحمہ اللہ نے مجھے درسِ نظامی کی تحصیل کے لیے جامعہ بنوری ٹاؤن میں خود داخلہ دلوایا، تب حضرت رحمہ اللہ جامعہ میں مدرس تھے۔ حضرت سے میں نے ’’مختصر القدوری‘‘ اور ’’نور الإيضاح‘‘ پڑھی ہے۔ اس زمانہ میں ہر پیر کو حضرت رحمہ اللہ مجلسِ ذکر و اصلاح سجایا کرتے تھے۔ یہ ناکارہ بڑے اہتمام سے اس مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا۔ طالب علمی کے زمانہ میں درجہ ثالثہ کے سال میں نے حضرت کے دستِ اقدس پر بیعت کی۔ دورانِ تعلیم ہی حضرت نے اپنے قائم کردہ ادارے معہد الخلیل الاسلامی میں تدریس کے لیے میرا تقرر فرما دیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۹۰ء سے لے کر آج تک چوبیس سال کے لگ بھگ ہو چکے ہیں کہ معہد میں تدریس کی خدمت سے وابستگی قائم ہے۔
تقریباً چالیس سالہ رفاقت میں میں نے حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت میں چند صفات کا بطورِ خاص مشاہدہ کیا ہے۔ حضرت رحمہ اللہ میں مردم شناسی بہت تھی، منٹوں میں سامنے والے کو پہچان لیتے تھے۔ قوتِ فہم تیز تھی۔ کسی کی غلطی پر تنبیہ کرنی ہوتی تو عمومی اسلوب میں تنبیہ فرماتے۔ نماز کا بڑا اہتمام تھا، زندگی بھر کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھی۔ شدید تر بیماری اور ضعف بھی اس میں رکاوٹ نہ بن سکا۔ شاید مرضِ وفات کی آخری چند نمازیں بیٹھ کر پڑھی ہوں گی۔ اپنے بزرگوں اور مشائخ کے آپ عاشقِ زار تھے۔ حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کا نامِ نامی زبان پہ آتا تو فرماتے کہ ’’اس نام میں گلاب جامن جیسی حلاوت ہے‘‘۔ رمضان المبارک کی آخری تراویح (تیسویں شب کو) آخری دس سورتوں سے پڑھواتے اور فرماتے کہ ’’ہمارے اکابر کا یہی معمول رہا ہے‘‘۔ عید الاضحی کے موقع پر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے مشائخ کی طرف سے متعدد قربانیاں کرتے۔
شریعت کی حدود کی پاسداری بھی آپ کی شخصیت کا ایک تابناک پہلو ہے۔ اس بارے میں آپ ہر طرح کی رواداری اور مداہنت سے کوسوں دور تھے۔ کسی منکر پر نکیر سے اغماض برتنا حضرت رحمہ اللہ کے مزاج کے خلاف تھا۔ شریعت سے متصادم کسی بھی رسم اور خواہش کی آپ کی موجودگی میں تکمیل ممکن نہ تھی۔ اس بارے میں احقر کے کئی مشاہدات ہیں۔ متعدد بار میں نے فرماتے ہوئے سنا کہ ’’شریعت اصل ہے اور تصوف شریعت کا حسنِ جمال ہے‘‘۔ میرے خیال میں حضرت رحمہ اللہ کی سب سے پسندیدہ صفت ہر معاملے میں ان کا شریعت کو مقدم رکھنا ہے۔ وہ علم دوست تھے۔ علماء کے بڑے قدردان تھے۔ کئی بار فرماتے ہوئے سنا: إِنَّمَا الْفَضْلُ لِلْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ (فضیلت تو علم اور علماء ہی کے لیے ہے)۔ اپنا قائم کردہ دینی ادارہ معہد الخلیل آپ کو دل و جان کی طرح عزیز تھا۔ یہ مدرسہ ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اکثر سوچتے رہتے تھے کہ مدرسے میں کیا کمی ہے؟ اور کیا کیا ہونا چاہیے؟ مدارس میں طلبہ کو سہولیات کی فراہمی میں آپ اعتدال پر خود بھی عمل پیرا تھے اور اس کی تلقین بھی فرمایا کرتے تھے۔ طالب علمی کے زمانے کو آپ مجاہدے کا زمانہ قرار دیتے تھے۔ سادگی آپ کا شعار تھا۔ مدارس کے نظم و نسق اور تعلیم و تربیت میں اپنے اکابر کی خوشہ چینی آپ کو محبوب تھی۔ اس بارے میں جدت طرازی آپ کو پسند نہ تھی۔ کہا کرتے تھے کہ ’’جس کا جتنا تعلق مدرسے سے ہوگا اتنا ہی وہ میرے متعلقین میں شمار ہوگا‘‘۔
ویسے تو حضرت رحمہ اللہ تمام اعزہ و اقارب کے لیے ایک سائبان تھے، لیکن مجھ پر حضرت رحمہ اللہ خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔ بہت سے نجی معاملات میں بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا کرتے تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مجھ سے فرمایا کہ ’’تمہاری شادی میں ہی کرواؤں گا‘‘، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
حق تعالیٰ شانہ کی ذاتِ اقدس پر حضرت رحمہ اللہ کا اعتماد اور توکل حد درجے کا تھا۔ اسباب کی حد تک کسی ناممکن چیز کے بارے میں بعض دفعہ فرماتے کہ ’’ایسا ہوگا‘‘، چنانچہ اللہ اپنے بندے کے کہے ہوئے کی لاج رکھ لیتے اور ویسا ہو جاتا۔ ’’معہد الخلیل‘‘ کی مسجد کی بنیاد رکھنے سے قبل حضرت رحمہ اللہ کی معیت میں ہم تیس کے لگ بھگ افراد عالمگیر مسجد میں رمضان المبارک کا اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال حضرت نے فرمایا: ’’بھئی! اگلے سال ہم اپنی مسجد میں اعتکاف کریں گے‘‘، تب اپنی مسجد کا کوئی وہم و گمان ہی نہ تھا، تاہم اگلے سال واقعی ہمارا اعتکاف اپنی مسجد میں ہوا۔ اللہ حضرت رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائیں اور ہماری طرف سے انہیں بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرمائیں۔