میرے شیخ و مرشد … یادیں اور تأثرات
حضرت مفتی سعید احمد صاحب مد ظلہ
پہلی ملاقات:
یہ سن ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ میں ابھی ابھی سفرِ حج سے واپس پاکستان آیا تھا۔ حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب رحمہ اللہ جو جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے استاذ اور ناظمِ دارالاقامہ رہے ہیں، ان کے ایک قریبی عزیز مجھ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے اور کہنے لگے کہ ’’آپ کو کتابیں پڑھانی ہیں؟ ایک جگہ خالی ہے، معہد الخلیل الاسلامی، بہادر آباد، وہاں ایک استاذ کی ضرورت ہے۔ آپ کا ارادہ ہو تو میں آپ کو لے چلوں‘‘۔
میں اس زمانے میں جامع مسجد باب السلام، گل بہار پیتل گلی کا پیش امام تھا اور وہاں کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ حج و عمرے کے لیے تین ماہ کی طویل رخصت کی وجہ سے فی الحال اس مدرسہ سے استعفیٰ دیا ہوا تھا۔ خیال آیا اللہ تعالیٰ اپنے دین کے کام کے لیے قبول فرما لے اور ویسے بھی زمانہ طالب علمی سے ہی کتب پڑھانے کا شوق تھا اور بانی و سرپرست معہد الخلیل حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کا نام بھی سن رکھا تھا۔ آپ سے ملاقات کی تمنا اور خواہش بھی تھی، اس لیے ارادے کا اظہار کر دیا۔ چلنے کا وقت طے کیا اور پھر ہم طے شدہ وقت پر رکشے میں بیٹھ کر بہادر آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ صبح دس، گیارہ بجے کے قریب کا وقت تھا جب ہم معہد الخلیل الاسلامی پہنچے۔
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی… اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے… کی شخصیت، جن سے تھوڑا بہت تعارف حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی مہاجر مدنی رحمہ اللہ کی نسبت سے تھا، آج ان سے میری یہ پہلی بالمشافہہ ملاقات تھی۔ حضرت نے مجھ سے چند سوالات کیے اور اس کے بعد اپنی عظیم دینی درس گاہ ’’معہد الخلیل الاسلامی‘‘ میں تدریس کے لیے مقرر فرما لیا۔ یہ حضرت والا رحمہ اللہ کی کرم نوازی تھی کہ حضرت نے بندہ کو تدریس کے لیے قبول فرما لیا، جبکہ اس سے قبل میرا حضرت سے براہِ راست کوئی تعارف نہیں تھا۔
تدریس کا آغاز:
حضرت کے حکم پر اگلے دن سے ہی اسباق شروع ہو گئے۔ دیگر اسباق کے علاوہ درجہ ثالثہ کا ترجمہ قرآن بھی میرے لیے تجویز کیا گیا، جس میں میرے لیے باعثِ سعادت یہ امر بھی تھا کہ اس جماعت میں الحمد للہ! حضرت کے صاحبزادگان مکرمان اور دیگر بعض قریبی عزیز شاملِ درس تھے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لیے سعادت اور خوش نصیبی کی بات ہے کہ حضرت کے ان قریبی اعزہ کو تعلیم دینے کا شرف حاصل رہا اور اس سے بڑی خوش بختی میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت والا رحمہ اللہ کے دم قدم اور حضرت کی توجہات کی برکت سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کا موقع دیا اور حضرت رحمہ اللہ کے زیرِ سایہ چھبیس سال تک تدریس و افتاء کے امور سے وابستہ رہا۔
سن ۱۹۸۷ء سے لے کر اب تک کے اس طویل عرصے میں الحمد للہ کبھی یہ خیال اور واہمہ بھی نہ آیا کہ معہد الخلیل یا حضرت کو چھوڑ کر کہیں اور یا کسی اور کی طرف جایا جائے، بلکہ معہد سے نہایت مضبوط اور قوی تعلق ہوا اور آج تک الحمد للہ یہ دیرینہ رشتہ قائم اور برقرار ہے اور روز افزوں ہے۔ ہمارا یہ چھوٹا موٹا کام اور ہم سے جاری ہونے والی تمام تر دینی خدمات، حضرت والا رحمہ اللہ ہی کا صدقۂ جاریہ ہے۔ یہ حضرت کا ہی صدقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کام میں لگا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان کاوشوں کو قبول فرمائے! ان شاء اللہ! اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ یہ سب ہمارا پڑھنا پڑھانا حضرت والا رحمہ اللہ کے بلندیٔ درجات اور ہمارے لیے حضرت کے صدقے نجاتِ آخرت کا باعث بنے گا۔
حضرت والا رحمہ اللہ کی امتیازی خصوصیات:
ان چھبیس سالوں میں حضرت والا رحمہ اللہ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں جو کچھ میں نے حضرت کے اندر خصوصیات ملاحظہ کی ہیں وہ بہت کم لوگوں میں دیکھی ہیں:
۱۔ حضرت فنا فی الشيخ تھے:
بندہ نے دیکھا کہ حضرت رحمہ اللہ فنا فی الشيخ تھے۔ ہر چیز میں اپنے شیخ و مرشد، شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے اتباع کی کوشش فرماتے تھے۔ اپنے شیخ سے محبت کا یہ حال تھا کہ کوئی بھی معاملہ ہوتا فوراً حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی مثال اور اسوہ کو سامنے لاتے تھے اور پھر فرماتے تھے: ’’بھئی! جو کچھ سیکھا ہے وہ حضرت شیخ سے ہی سیکھا ہے‘‘۔ گویا حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا مزاج، حضرت والا رحمہ اللہ کے اندر اس طرح سرایت کر چکا تھا کہ مشہور مقولہ:
من تو شدم، تو من شدی من تن شدم تو جان شدی تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
کا مصداق کھلی آنکھوں سے نظر آتا تھا۔ اکثر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ساتھ بیتے لمحات کا تذکرہ فرماتے تھے۔
۲۔ شیخ کی خدمت:
حضرت والا رحمہ اللہ نے اپنے شیخ و مرشد کی خوب خدمت کی ہے۔ حضرت فرمایا کرتے تھے: ’’مدینہ منورہ کے قیام کے دوران میرے دس سال ایسے گزرے ہیں کہ اپنے گھر میں کھانا نہیں کھایا‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دسترخوان اور ان کی معیت میں ہی ہر دم ہر قدم رہتے تھے۔ خود حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ بھی اس سفر میں بہت خوشی محسوس فرمایا کرتے تھے جس میں ہمارے حضرت، آپ کے ساتھ شریکِ سفر ہوتے، کیونکہ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے شیخ کی خدمت کرنے اور شیخ کے مزاج کے مطابق شیخ کی راحت کا خیال کرنے کو اپنے اوپر لازم کر رکھا تھا۔
ایک ایسا ہی واقعہ حضرت نے سنایا کہ ایک موقع پر ہمیں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ساتھ خیبر کے سفر پر جانا تھا۔ سخت گرمی کے دن تھے۔ خدام نے عرض کیا کہ حضرت! گرمی کا موسم ہے، آپ کے لیے وہاں ائیرکولر کا انتظام کر دیتے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے سختی سے منع فرما دیا کہ ’’نہیں! اس کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ حضرت کا یہ جواب سن کر ہم خدام کو سخت تشویش لاحق ہوئی کہ اب کیا ہوگا، اتنی سخت گرمی ہے اور حضرت ائیرکولر لگانے سے منع کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم خدام نے حضرت شیخ کی راحت اور آرام کے خیال سے ایک دور کے پیٹرول پمپ سے زیرِ زمین بجلی کی لائن بچھا کر بجلی کا انتظام کیا اور اس بجلی کی مدد سے حضرت شیخ کے کمرے میں ائیرکولر لگا دیا۔ حضرت شیخ کو اس بات کا علم نہ تھا۔ جب حضرت شیخ رحمہ اللہ اپنے مقرر کردہ کمرے میں آرام کے لیے داخل ہوئے اور سخت گرمی میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے حضرت شیخ کا استقبال کیا تو حضرت شیخ رحمہ اللہ نے ان انتظامات کو دیکھ کر بے اختیار فرمایا: ’’پیارے! کام تو تم نے میری مرضی کے خلاف کیا، لیکن جب سخت گرمی کی حالت میں اس کولر کی ہوا جسم پر لگتی ہے تو تمہارے لیے دل سے دعا نکلتی ہے‘‘، اور اتنی دعائیں دیں کہ حد و حساب نہیں۔ بار بار دعائیں دیں اور فرمایا: ’’تم نے میری دنیا کی راحت کا خیال کیا ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں قبر و آخرت میں راحتیں عطا فرمائے۔‘‘
دعا لینا اصل ہے، دعا کروانا نہیں:
یہ واقعہ سنا کر اکثر حضرت والا رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ’’دعا لینا اصل چیز ہے، دعا کروانا نہیں ہے۔ اپنے بڑوں سے آدمی ایسا تعلق رکھے اور ان کی راحت و آرام کا ایسا خیال رکھے اور ان کی ایسی خدمت کرے کہ بے ساختہ خود وہ دعائیں دیں، نہ یہ کہ ان سے دعاؤں کا کہا جائے۔‘‘
۳۔ خدمتِ دین کا جذبہ:
حضرت والا رحمہ اللہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے خدمتِ دین کا جو جذبہ رکھا تھا وہ قابلِ رشک تھا۔ آج لوگ یہ چاہتے ہیں کہ سعودیہ کا اقامہ مل جائے، سعودیہ اور مدینہ کی مستقل وطنیت مل جائے، وہاں رہنے کا موقع مل جائے۔ حضرت رحمہ اللہ کے پاس بھی سعودیہ کا اقامہ موجود تھا۔ حضرت اپنے پورے گھرانے کے ساتھ مدینہ منورہ میں اقامت پذیر تھے اور وہاں کی جنسیہ (نیشنلٹی) ملنے کی نوید بھی سن چکے تھے، اس کے باوجود اقامہ ترک کر کے پاکستان تشریف لائے، جس کی ایک وجہ تو یہ ارشاد فرماتے تھے کہ ’’میں نے مدینے کو اپنی اولاد کی وجہ سے چھوڑا ہے، وہاں کے ماحول میں عظمت کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت مشکل ہو گئی تھی، اس لیے مدینہ پاک سے دور رہ کر عظمتِ مدینہ اور عظمتِ صاحبِ مدینہ کی خاطر مدینہ سے دور رہنے کو ترجیح دی‘‘، اور دوسرا ارادہ ایک منفرد دینی ادارے کا قیام تھا جو معہد الخلیل کی شکل میں وجود پذیر ہوا۔ واضح رہے کہ ہمارے حضرت اعلیٰ دنیوی تعلیم یافتہ تھے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے فیضِ صحبت کی برکت سے علومِ دین کی طرف توجہ ہوئی، اس لیے بڑی عمر میں، جبکہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے خلافت دے دی تھی اور آپ صاحبِ اولاد بھی ہو چکے تھے، اس کے بعد دینی تعلیم کا نصاب پورا کیا۔
معہد الخلیل کی تاسیس:
آپ نے محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے دعائیں لیں۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے اور ان سارے تجربات کے دوران ہی بہادر آباد کراچی میں معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد ڈالی۔ حضرت والا رحمہ اللہ اکثر اس بات کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’یہ مدرسہ دو طالب علموں سے میری رہائش گاہ میں شروع ہوا تھا‘‘۔ ان دو طلبہ میں سے ایک حضرت شیخ الحدیث کے ہم نام اور حضرت کے صاحبزادے مولانا زکریا صاحب اور دوسرے مولانا کامران صاحب تھے۔ الحمد للہ! حضرت والا رحمہ اللہ کے خلوص اور محنت اور لگن کا ثمرہ ہے کہ حضرت کا لگایا ہوا یہ پودا اب ایک تناور اور سدا بہار درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے، جبکہ حضرت تواضعاً ارشاد فرمایا کرتے تھے: ’’یہ میرا مدرسہ نہیں ہے، یہ مدرسی ہے‘‘۔
طلبہ کی تربیت:
حضرت کے اندر خدمتِ دین اور اشاعتِ دین کا اس قدر جذبہ تھا کہ خود تو اس راستے کو اپنائے ہوئے تھے ہی، اپنے طلبہ کو بھی اسی کی اکثر و بیشتر تلقین کیا کرتے تھے۔ حضرت فرمایا کرتے تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ اگر اس مدرسہ میں دو سو طلبہ ہیں تو دو سو مدارس بنیں اور مدرسہ کسی مستقل عمارت کا نام نہیں، آپ چلتے پھرتے مدرسہ بنیں۔ اپنے گھر میں دو لوگوں کو تعلیم دینا یہ بھی مدرسہ ہی ہے۔‘‘
اشاعتی کام:
سلوک و احسان رسالے کا اجراء اور طباعتی ادارہ مکتبۃ الشیخ کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ حضرت رحمہ اللہ پاکستان بھر کے دورہ حدیث تک کے مدارس میں درجہ عالمیہ کے طلبہ و طالبات کو مختلف قیمتی کتب کی ترسیل بڑے ذوق و شوق اور تندہی سے کرتے تھے اور اب بھی حضرت کے بعد یہ کام آپ کے قابلِ قدر باقیاتِ صالحات صاحبزادگان نے جاری رکھا ہوا ہے۔
۴۔ عوام کی خدمت کا جذبہ:
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں اور اولیائے کرام کی یہ خاص صفت ہوتی ہے کہ وہ انسانیت کی فلاح و بہبود خصوصاً امت مسلمہ کے مفاد کے لیے بہت کڑھتے اور غم کرتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ ہم نے اپنے حضرت کے اندر خوب پایا۔ جہاں کہیں امت مسلمہ پر حالات و مصائب آتے: کہیں زلزلہ آ گیا، کہیں سیلاب یا طوفان نے غریب مسلمانوں کو آ گھیرا یا اہل کفر کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے گئے، دیکھنے والی آنکھیں موجود ہیں کہ حضرت والا رحمہ اللہ کس قدر ان کے لیے فکر مندی کا اظہار فرماتے تھے۔ ایسے موقعوں پر حضرت بے چین سے ہو جاتے، ہر وقت انہی سوچوں میں گم رہتے کہ میں ان مفلوک الحال اور مصیبت زدہ مسلمانوں کے لیے کیا کر سکتا ہوں، ان کے حالات کی بہتری اور ان کے دین و ایمان کی فکر فرماتے۔
اگر طاقت ہوتی تو بعض اوقات خود ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا کرتے اور اگر اعذار کی وجہ سے خود نہ پہنچ سکتے تو اپنے معتمدین کو بھیج کر حالات معلوم کرواتے۔ وہاں مساجد، مدارس بنانے میں پیسہ لگاتے۔ کتابوں کی فراہمی میں امداد کرتے۔ مدارس کے لیے تنخواہوں کے انتظام میں لگے رہتے اور اہلِ خیر حضرات کو اس طرف متوجه فرماتے رہتے۔ اسی غرض سے حضرت والا رحمہ اللہ نے روسی استعمار سے چھٹکارا پانے والی ریاستوں کا اپنے رفقاء کار کے ساتھ دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا۔ وہاں کے لیے مساجد، مدارس، دینی کتابوں اور قرآن پاک کے نسخوں کا انتظام کیا۔ حضرت اور حضرت جیسے اکابر ہی کی مساعیِ جمیلہ اور نیک کوششوں سے وہاں کے کتنے ہی مدارس و مساجد آج آباد ہیں، جن کا ثواب آج بھی ان حضرات کو مل رہا ہے۔
۵۔ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً کا مصداق:
ہمارے حضرت رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال کیا تھا کہ آپ ’’تنہا ایک فرد پوری جماعت‘‘ کے مصداق تھے۔ ہم نے حضرت کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب حضرت تنِ تنہا مدرسہ کا انتظام، درس و تدریس، مطبخ کا نظم، ماہنامہ سلوک و احسان، مکتبۃ الشیخ، طلبہ کی تربیت، اساتذہ سے معاملات، یہ سارے امور خود انجام دیتے تھے۔ گویا اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً کا پورا پورا نقشہ اور مثال تھے۔ حضرت نے تنِ تنہا جو کام سنبھالے ہوئے تھے اس کے لیے آج پوری جماعت بھی ناکافی ہے۔
۶۔ فراستِ ایمانی:
اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضرت رحمہ اللہ کو غضب کی فراست اور کمال کی دوربینی عطا فرمائی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مدرسہ میں داخلے کے لیے آنے والوں میں سے کچھ طلبہ کو بلا کسی وجہ کے صرف چہرہ دیکھ کر ہی داخلہ دینے سے معذرت کر لی۔ اکثر دیکھا گیا کہ حضرت کا قیافہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ ایک مرتبہ ایک بڑے ادارے کے مہتمم کا صاحبزادہ، معہد میں حضرت کی خدمت میں داخلے کی غرض سے حاضر ہوا، حضرت رحمہ اللہ نے دیکھتے ہی اسے داخلہ دینے سے معذرت کر لی اور فرمایا: ’’میاں! کسی اور مدرسہ میں داخلہ لے لو۔‘‘ رفقائے کار سب حیرت میں تھے، لیکن بعد میں حالات و واقعات سے ثابت ہو گیا کہ حضرت کا فیصلہ اور حضرت کی نگاہِ فراست درست تھی۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہے: اتقوا فراسۃ المؤمن، فانہ ینظر من نور اﷲ، آپ رحمہ اللہ فراستِ مؤمن کی ایک واضح نظیر اور مثل تھے۔
ذاتی واقعہ:
خود راقم الحروف کے ساتھ ایک ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ ایک مرتبہ ایک بڑے معروف مدرسہ سے بندہ کو بڑی بڑی فوقانی کتب پڑھانے اور بڑی معقول تنخواہ کی پیش کش ہوئی اور الحمد للہ! بندہ کی طبیعت معہد چھوڑنے اور وہاں جانے پر آمادہ نہیں تھی، پھر بھی جب اتفاق سے اسی زمانے میں حضرت والا کے پاس دوسرے کسی کام کے سلسلہ میں گیا تو میرے کچھ کہے بغیر خود سے فرمانے لگے: ’’مولانا! روزی دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کیے جائے، اللہ تعالیٰ خود رزق کے دروازے کھول دیں گے‘‘۔ یعنی ایسا اندازہ ہو رہا تھا جیسے حضرت والا رحمہ اللہ پر میرا یہ معاملہ منکشف ہو گیا ہو، جبکہ میں نے اس کا تذکرہ کسی سے نہ کیا تھا۔ حضرت نے خود ہی ایسی بات کر دی کہ آگے سے کچھ سوچنے کی بات ہی نہیں رہ جاتی۔
۷۔ حق گوئی اور جرأتِ ایمانی:
ہمارے حضرت رحمہ اللہ حق گوئی، بے باکی اور جرأت و دلیری میں بھی اپنی مثل آپ تھے۔ اکثر دیکھا کہ حق بات میں کسی سے ڈرتے تھے، نہ متاثر و مرعوب ہوتے تھے۔ آپ راست گوئی اور جرأت و بہادری میں حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ کی نظیر اور جھلک تھے۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ کے پاس ایک بار وزیرِ اوقاف آیا تو حضرت بنوری رحمہ اللہ نے اس کے غلط اقدام پر اسے کھری کھری سنائی تھی۔ ہمارے حضرت مولانا رحمہ اللہ اس معاملے میں انہی کے نقشِ قدم پر تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا ہی کیوں نہ آپ کے سامنے آ جاتا، کوئی عہدہ، کوئی منصب، کوئی تاجر، کسی کی مالداری کوئی چیز آپ کو متاثر نہ کرتی تھی۔
شادی ہال میں کوئی منکر اور کوئی گناہ کا کام دیکھتے تو کھری کھری سناتے۔ ایک بار ایک شادی ہال میں دورانِ تقریب ایک شخص فوٹو بنا رہا تھا، جبکہ حضرت کا اس تقریب کے میزبان سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ تقریب میں کوئی منکر نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود جب آپ نے ایسا ہوتا دیکھا تو غضبناک ہو کر اس کی طرف لپکے اور اس سے کیمرہ چھین کر اس کی ریل نکلوا کر ریل تڑوا دی اور چند دن کیمرے کو ضبط کرنے کے بعد کیمرہ واپس کر دیا۔
۸۔ مہمان نوازی اور سخاوت:
حضرت والا رحمہ اللہ کا دسترخوان بڑا وسیع تھا۔ خصوصاً رمضان المبارک میں جب اعتکاف کے اندر اہل دل کا مجمع ہوتا تو آپ کی سخاوت دو چند ہو جاتی۔ معتکفین کی خوب خدمت کرتے۔ افطاری میں آبِ زمزم اور مدینہ منورہ کی کھجوروں کا اہتمام فرماتے۔ بہتر سے بہتر افطاری اور کھانا تیار کرواتے۔ تراویح کے بعد مدینہ منورہ کے پودینے کی چائے کا اہتمام ہوتا اور آخری شبِ اعتکاف میں پرتكلف طعام کا انتظام فرماتے۔ حضرت رحمہ اللہ اکابر علمائے کرام اور ان کے اہل خانہ پر بھی خفیہ خفیہ خرچ کیا کرتے تھے۔ ان کو ہدایا بھیجتے رہتے تھے۔
۹۔ ذوقِ عبادت:
حضرت مولانا رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جو ذوقِ عبادت عطا کیا تھا وہ بہت کم لوگوں میں دیکھا گیا ہے۔ خود بندہ کا حضرت کے ساتھ عمرے کے سفر پر جانا ہوا۔ وہاں حضرت کے اندر جو استقامت عبادت کے اندر دیکھی وہ بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔ اس عمرے میں دیکھا کہ آپ رمضان المبارک کے اندر اپنے معمولات پورے فرماتے۔ فرائض و نوافل کا اہتمام فرماتے۔ حرمِ نبوی میں تراویح ادا فرماتے اور مجھ ناکارہ کو حکم فرماتے کہ تراویح کے بعد نوافل میں قرآن پاک سنایا کریں۔ حضرت رحمہ اللہ کئی کئی پارے نوافل میں مجھ سے سنا کرتے۔ پوری ہمت اور بشاشت سے کھڑے ہو کر سنتے۔ اس طرح پوری پوری رات عبادت میں گزر جایا کرتی تھی کہ راتوں کو سونے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اتنا اعلیٰ ذوقِ عبادت پایا تھا حضرت رحمہ اللہ نے۔
اس کے علاوہ فجر کی نماز، جس میں اچھے اچھے لوگ عموماً کوتاہی اور سستی کر جاتے ہیں، حضرت فجر میں جلدی بلکہ اکثر اذان سے پہلے ہی مسجد تشریف لے آتے۔ تمام نمازوں کا باجماعت صفِ اول میں اپنی مخصوص جگہ میں اہتمام فرماتے۔ اذان بھی دے دیا کرتے اور بعض اوقات فجر میں نماز بھی پڑھا لیا کرتے۔ ضعف و پیری کے ایام میں بھی کھڑے ہو کر ہی فرض نماز ادا کرنے کی پوری کوشش ہوتی۔ فجر کی نماز کے بعد ذکر بالجہر کا حلقہ لگتا اس کا بلاناغہ اہتمام فرماتے۔ جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد ۸۰ مرتبہ اس مسنون درود شریف کا اہتمام فرماتے جس کا ’’جامع صغیر‘‘ کی ایک روایت میں سندِ جید کے ساتھ تذکرہ آتا ہے۔ عموماً عصر کی نماز کے بعد مسجد کے صحن میں ایک مخصوص فرشی نشست پر بیٹھ کر تلاوتِ قرآن پاک کرنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔
۱۰۔ علمی قابلیت:
حضرت والا رحمہ اللہ اعلیٰ دنیوی تعلیم یافتہ تھے۔ انگریزی زبان بولنے اور لکھنے پر پوری دسترس حاصل تھی، جبکہ عربی زبان ایسے بولتے تھے جیسے اپنی مادری زبان ہو۔ آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل بڑی عمر میں کی۔ لیکن اس وقت بھی آپ کا حافظہ کمال کا تھا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے امتحانات میں دوسری پوزیشن بھی حاصل کی ہے۔ ’’اصول الشاشی‘‘ کے بارے میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’اصول الشاشی ہمیں ایسی یاد تھی کہ امتحان کے دوران ایسا لگتا جیسے کتاب سامنے کھلی رکھی ہو‘‘۔
تدریس کے شعبے میں جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ آپ شروع میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں مدرس رہے۔ بڑے بڑے علماء آپ کے شاگرد رہے ہیں۔ معہد الخلیل الاسلامی میں اور کتابوں کے علاوہ عموماً شمائلِ ترمذی اور ابوداؤد شریف آپ کے زیرِ درس رہیں۔ عمر کے آخری ایام میں سنن ابوداؤد شریف کا درس دیا کرتے تھے۔
تعلیمی افکار:
الحمد للہ! طلبہ کرام آپ کے درس میں حاضر ہونے کو باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ معہد میں ایک زمانے میں رات کے اوقات میں تعلیمِ بالغاں کورس بھی ہوا ہے۔ آپ بھی اس میں حصہ لیتے ہوئے عقائد کے عنوان پر درس دیا کرتے تھے۔ تعلیم اور انتظام ان دونوں شعبوں میں آپ کا انداز جداگانہ اور منفرد تھا۔ آپ جہاں انتظامی طور پر متصلب اور شیر کی نگاہ رکھنے والے تھے وہاں درس کے دوران انتہائی مہربان اور شفیق استاذ کا روپ پیش کرتے تھے۔ آپ دورانِ درس اکابر اور بزرگوں کے واقعات بھی سنایا کرتے تھے تاکہ طلبہ کا رشتہ اپنے اسلاف سے جڑا رہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’دین کو ایسے انداز میں پیش کرو کہ لوگوں کو دلچسپی محسوس ہو۔ ایسا کیا طریقہ ہو سکتا ہے اس کے بارے میں خود سوچو‘‘۔ مساجد میں درسِ قرآن اور درسِ حدیث کی افادیت کے بھی آپ خوب قائل تھے۔ ریاض الصالحین کا درس دینے کا عموماً مشورہ دیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر فرمایا: ’’یہ دین اور دینی تعلیم مساجد سے نکل کر مدارس اور عمارتوں میں چلی گئی۔ ایک دور ایسا آئے گا کہ ان سب مدارس اور عمارتوں پر پابندی لگ جائے گی اور لوگ دوبارہ مسجدوں میں دینی تعلیم حاصل کرنے جائیں گے‘‘۔
تصانیف:
حضرت رحمہ اللہ نے بقلم خود متعدد مضامین، مختلف جرائد و رسائل میں تحریر فرمائے اور کئی کتابوں کی تالیف میں معاونت کی، لیکن کوئی بھی تالیف سوائے دو کتابوں کے اپنے نام سے شائع نہیں کروائی۔ دو چھوٹے چھوٹے کتابچے بھی اکابر کے اصرار کے بعد اپنے نام سے شائع کیے:
۱۔ زاد الخلیل: یہ صلوٰۃ و سلام کے چالیس صیغوں پر مشتمل کتابچہ ہے۔
۲۔ اپنا محافظ: موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں روزانہ کے معمولات میں شامل کرنے کے چند مسنون و مجرب وظائف اس کتابچے میں شامل ہیں۔
آخری بات:
آج سے ایک سال قبل ہمارے شیخ و مرشد حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اللہ مرقدہ و اعلیٰ اللہ مراتبہ کا اس دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف ہمیشہ کے لیے انتقال ہوا۔ زبان پر اللہ اللہ کا ذکر جاری تھا اور دل اللہ کے حضور میں محوِ استغراق تھا۔ وفات کے بعد آپ کے چہرے سے سکون و اطمینان اور مسکراہٹ و بشاشت عیاں تھی۔ آپ کے جنازے میں علماء و طلبہ کے علاوہ عوام کے بھی ایک بڑے مجمع نے شرکت کی۔ جنازہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں بعد نمازِ عصر ادا کیا گیا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب زیدہ مجدہ نے پڑھائی۔
کیونکہ خواب کی تعبیر کے فن سے بندہ کی مناسبت ہے، اس لیے جان پہچان والے حضرات عموماً اپنے خواب کی تعبیر مجھ سے پوچھ لیا کرتے ہیں اور میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ خود حضرت والا رحمہ اللہ بھی ازراہِ تواضع اپنے خواب کی تعبیر مجھ ناچیز سے بسا اوقات پوچھ لیا کرتے تھے۔ میرے پاس تواتر سے ایسے کئی خواب پیش ہوئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا ہے اور عالمِ برزخ میں آپ کے حالات بہت اچھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت والا رحمہ اللہ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آپ کے جاری کردہ دینی خدمات اور آپ کے سلسلے کو تا قیامِ قیامت جاری و ساری فرمائے، آپ کے صاحبزادگان، خلفائے کرام، تمام احباب و متعلقین اور جملہ پسماندگان کو اپنے دین کی محنت کے لیے قبول فرما کر ہم سب کا خاتمہ اپنی رضا اور ایمان پر فرمائے۔ (آمین ثم آمین)