مضامین

مکاتیب حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ

محترم بھائی عتیق الرحمن صاحب! السلام علیکم

خط موصول ہو کر کاشفِ احوال ہوا۔ اللہ جل جلالہ اس کی احسن ترین جزا عطا فرمائیں۔ دیگر احوال یہ ہے کہ جاپان کی جماعت کے تینوں حضرات نوجوان اور ۲ طلباء ہیں۔ اپنی عارضی و فانی تعلیم کو توڑ کر تین تین سال کے لیے دین کی محنت کو سیکھنے پاکستان آئے ہیں۔ ان کی عمریں ۱۸، ۲۱، ۲۳ سال ہیں۔ ان شاء اللہ حضرت کے ہمراہ کراچی آئیں گے تو ملاقات ہو جائے گی۔ مجھے بھی ان کے ساتھ ۲ دن قصور کے علاقے میں گزارنے کا موقع ملا۔ ما شاء اللہ ان کے جذبات قابلِ رشک ہیں۔ ایک ۲۴ گھنٹے کا اجتماع بہاول نگر میں ہوا تھا جس میں نقد ۱۸ آدمی چلہ کے لیے اور باقی وعدے وصول ہوئے ہیں۔ رائے ونڈ کے اجتماع کی تیاریاں خوب زور سے ہو رہی ہیں۔ کاش کہ آپ بھی میرے ہمراہ ہوتے! خیر ان شاء اللہ! آپ وہاں اور ہم یہاں امت کے لیے دعا کرتے رہیں گے۔

اور سنائیے! دوستوں کا کیا حال ہے؟ سب کو میری طرف سے سلام اور دعاؤں کی درخواست۔ کل شام تک حضرت مدظلہ العالی تشریف لے آئیں گے۔ آپ آئندہ خط میں اپنا پتہ بھی تحریر کریں۔ اگر ہو سکے تو یہ کتابیں بھی مجھے بھیجوا دیں: (۱) گلزارِ سنت (۲) ملفوظاتِ حضرت رحمہ اللہ (۳) خصائلِ نبوی حضرت شیخ الحدیث (۴) سوانح حضرت رحمہ اللہ از مولانا نعمانی۔ ان شاء اللہ قیمت ادا کر دوں گا۔

محمد یحییٰ

مکرمی و محترم بھائی عتیق الرحمن صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

خیریت کا طالب بہ خیریت۔ یہاں میوات میں کام کی خوب فضا ہے۔ شہریوں کی بہ نسبت ان کے عوارض بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے اسلاف کی خوبیوں کے حامل ہیں، زیادہ تر دین کے لیے قربانی کے سلسلے میں۔ اللہ کی ذات سے قوی امید کرتا ہوں کہ محلہ کی فضا میری موجودگی کے زمانے سے بہت زیادہ بہتر ہو چکی ہوگی۔ اللہ نے کسی نامعلوم وقت تک کے لیے میرے شرور سے آپ کی حفاظت فرمائی اور مجھے میری اصلاح کے لیے قبول فرمایا۔ کاش کہ اللہ مجھے وہبی طور پر ہی کچھ فکر عطا فرماویں ورنہ کسبی اعتبار سے تو بہت بعید ہے۔ آپ بھی اپنی ہر ہر دعا میں باری تعالیٰ سے درخواست کریں اور اجتماعی دعاؤوں میں بھی مبہم الفاظوں میں اہتمام کریں۔ اللہ ہم سب کو قبول فرماویں۔ آمین۔

برائے مہربانی آپ رائے ونڈ کے پتے پر جماعت کے تفصیلاً حالات کا نقشہ کھينچ کر روانہ کریں۔ اپنی ملازمت کے بارے میں بھی تحریر کریں۔ بھائی عبدالغفار کی خیریت سے بھی مطلع کریں۔ بغیر کسی تردد کے آپ کے مطالعہ میں میرے گھر کے جو حالات ہوں وہ بھی تحریر کریں۔ حالات تو اللہ کی ذات عالی سے بنتے ہیں، فیصلے ان ہی کے دربار سے ہوتے ہیں۔ میں بھی ان کے فضل کی درخواست کروں گا۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے آزمائے گا اور غیب پر یقین رکھنے والوں ہی کے لیے راستے کھولتے ہیں۔ حلقہ میں ہر خاص و عام طریقہ سے میرا سلام کہہ دیں اور اگر کوئی پتہ چاہے تو فیروز سے پتہ لے کر دے دیں۔ آپ کو تفصیلی خط آپ کے جواب پر لکھوں گا سب کی طرف سے۔ اپنا پتہ بھی تحریر کریں۔

محمد یحییٰ

از بمبئی: مکرم و محترم بھائی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

طالبِ خیر بخیریت ہے۔ امید ہے جناب معہ تمام احباب کے خیریت سے ہوں گے۔ الحمدللہ! یہاں پر وقت بہت ہی خوب گزر رہا ہے۔ بندہ کے حالات بھائی اقبال ظفر صاحب کی زبانی معلوم ہو گئے ہوں گے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو معہ دیگر رفقاء کے دونوں عالم میں احسن کامیابی نصیب فرمائیں۔ یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ امتحان سے فارغ ہو کر محمد جمیل (جاپانی) جو کہ جاپان براستہ ہندوستان جانے والے ہیں کے ہمراہ تشریف لاویں ہم دونوں کا ساتھ ہو جاوے گا۔ اگر ارادہ ہو تو جلد اس پتے پر تحریر فرمائیں۔ غالباً بمبئی کا قیام بہت ہی مختصر ہے۔

بھائی ابراہیم عبدالجبار صاحب سے آپ ضرور مل لیں وہ محمد جمیل کے بھیجنے کے متعلق متفکر ہیں، ایک پنتھ دو کاج ہو جائیں گے۔ یہاں کا پتہ C/O 227 Jama Masjid bombay ہے۔ اقبال مظفر صاحب، مکرم بھائی احمد حسین صاحب، قمر صاحب، عبدالباری صاحب گھر آ گئے ہوں۔ مکرم بھائی محمد یامین صاحب، عبدالخالق، مکرم صلاح الدین صاحب، صالحین صاحب کی خدمت میں درجہ بدرجہ سلام و دعاؤوں کی درخواست۔ اگر آنا ہو تو فوراً خط لکھیں ایک یہاں اور ایک دہلی کے پتے پر، کیونکہ مجھے آپ کے ہمراہ کچھ چیزیں منگانی ہیں۔ فقط دعاگو و دعا جو

بخدمت جناب حضرت امیر صاحب قبلہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بفضلہ تعالیٰ میں بالکل خیریت سے ہوں اور آپ کی معہ پوری جماعت کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ تمام ساتھی بالخصوص بھائی عتیق، عبدالخالق، عبدالغفار، عبداللہ خوب مستعدی سے آپ کی سرپرستی میں کوشش کر رہے ہوں گے۔ بھائی عتیق صاحب نے خوب ذمہ داری کا ثبوت دیا ہوگا اور آپ اور ساتھیوں کے جوڑ کے ساتھ جا رہے ہوں گے اور چلا رہے ہوں گے۔ اللہ پاک انہیں تمام صلاحیتیں عطا فرمائے کہ جن کی اس کام کو ضرورت ہے اور جو صحابۂ کرام کے نوجوانوں میں تھیں۔

حضرت میرے لیے خصوصی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں کی حقیقی برکات سے مستفید فرمائے اور اپنے دین کے احیاء کے لیے مجھ ناقص کی حقیر جان و مال کو بھی قبول فرما لے تو اس سے کیا بعید ہے۔ یہاں حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب کی امارت میں خوب کام ہو رہا ہے۔ ملکوں کے اندر کی جماعتوں کے لیے خوب کوشش ہو رہی ہے، دعاؤوں کی سخت ضرورت ہے۔ فرید صاحب کے علاوہ امسال نظام الدین سے حضرت مولانا عبید اللہ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں۔ حرم شریف میں مغرب کے بعد بنگالی، اردو، عربی کے اعتبار سے مختلف حلقوں میں دعوت، عشاء کے بعد روزانہ مشورہ، فجر کے بعد پھر ایک جگہ جمع کر کے مفصل بیان، دوپہر کو ناشتہ کے بعد سے ظہر تک مدرسہ صولتیہ کی مسجد میں تعلیم، عصر کے بعد باب الزیارۃ میں اجتماع کے بعد مختلف محلوں اور معلمین حضرات جہاں گشت کے لیے بھیجتے وہاں جماعتوں کی روانگی۔ جدہ میں جہاز کے آتے اور جاتے وقت حجاج میں خوب کام ہو رہا ہے۔ مدینہ منورہ میں مکہ کی طرح مسجد نبوی میں کام، جمعرات والے دن شہداء کی مسجد میں اجتماع اور شب گزاری۔ ہفتہ، عشرہ، بیس روز اور چلہ کے لیے وادیٔ فاطمہ، وادی الہادی، طائف، حجاز وغیرہ میں جماعت کی روانگی۔ جو حضرات کام کو لے کر آگے بڑھتے رہیں، دعاؤوں کے سخت محتاج ہیں۔ بھائی صالحین، بھائی عاشقین، حافظ یوسف، بھائی نسیم سے سلام ودعا کی درخواست۔ فقط

محمد یحییٰ

حضرت والا کے دیگر خطوط (بنام ظہیر عباس صاحب)

خط نمبر ۱ (نکاح کی ترغیب کے متعلق):

’’عزیز گرامی قدر و منزلت، أصلْحَكَ اللهُ وَإيَّايَ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اللہ جل جلالہ میری اور آپ کی رضا کے ساتھ اصلاح فرمائے۔ فکر پیدا ہونا یہ بھی اسی کا فضل ہے۔ ان شاء اللہ امید بنتی ہے کہ دستگیری ہوگی۔ نام لکھنے کے باوجود آپ کی صورت کا نقشہ ذہن میں نہ آ سکا۔ اصلاح اصل تو اللہ جل جلالہ کی توفیق اور دعاؤوں سے ہوتی ہے لیکن کچھ اعمالِ اختیاریہ بھی کرنے پڑتے ہیں۔

بہت مناسب ہے نکاح ہو جائے اور رخصتی بھی ہو سکے تو ضرور کر لیں۔ والدین سے شرم کی کوئی بات نہیں۔ ایک پرچہ پر لکھ کر والدہ یا والد کو دے دیں کہ کالج اور دوستوں میں ماحول بہت خراب ہے، اس لیے پاکدامن رہنے کے لیے اہلِ علم اس زمانہ میں جلد نکاح کو کہتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو والد/ بڑے بھائی/ چچا کو مجھ سے ملا دیں‘‘۔

خط نمبر ۲ (شہوت کے غلبے اور باطنی اصلاح کے متعلق):

پیر و جمعرات کا روزہ رکھتے رہیں، ان شاء اللہ ضرور فائدہ ہوگا اور نیت اس کی بھی کریں کہ جوشِ شہوت کو توڑنے کے لیے رکھ رہا ہوں۔ مزید یہ کہ غذا میں پیٹ تو ضرور بھریں تاکہ کمزوری اور کسی کام سے رکاوٹ نہ ہو، لیکن شہوت ابھارنے والی چیزوں کا استعمال بہت کم کر دیں مثلاً انڈا، چکن تکہ، مچھلی اور نفس کو ابھارنے والی اشیاء۔ انٹرنیٹ کا دیکھنا نہ دیکھنا ایک اختیاری فعل ہے۔ دو رکعت نفل صلوٰۃ التوبہ پڑھ کر سچے دل سے رونے کی صورت بنا کر خوب اللہ سے معافی مانگیں اور آج سے ہرگز ہرگز انٹرنیٹ کے قریب نہ جائیں۔