مضامین

مجموعۂ کمالات و محاسن

حضرت مولانا فضل محمد یوسف زئی صاحب
استاذ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی

نَحْمَدُهُ تَعَالَى وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنُصَلِّي وَنُسَلِّمُ عَلَى نَبِيِّهِ الْكَرِيمِ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔ أَمَّا بَعْدُ!

اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی مخلوق کی خدمت کے لیے اپنے خاص خاص بندوں کو پیدا فرماتے ہیں، وہ بندے جس طرح ہمہ وقت دین کے سارے شعبوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اسی طرح وہ ہمہ وقت مخلوقِ خدا کی خبرگیری میں اور ان کی مادی اور روحانی خدمت میں مشغول رہتے ہیں، یہ لوگ کامل انسان اور کامل اولیاء اللہ ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ اسی قسم کے عظیم انسانوں میں سے ایک تھے۔ سب سے پہلے آپ نے علمِ دین کو خوب محنت اور نہایت پاکیزگی کے ساتھ سیکھا اور بڑی ہمت اور محنت و عقیدت کے ساتھ علمی جواہر پارے حاصل کیے۔ جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں آپ نے وقت کے اکابر علماء و اولیاء اور صلحاء و محدثین سے بھرپور علم حاصل کیا، خصوصاً حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے علوم کے آپ امین رہے اور بڑی عقیدت کے ساتھ حضرت بنوری رحمہ اللہ کی بڑی خدمت کی۔ اسی ادارہ میں آپ نے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ سے علوم حاصل کیے اور ان کے خاص خادم رہے۔

پھر اس علمی میدان میں آگے چل کر حضرت شیخ نے ’’معہد الخلیل‘‘ کے نام سے کراچی بہادرآباد میں ایک عظیم درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ کے اس ادارہ کو قبولیت سے نوازا اور علماء و طلباء کی کثیر تعداد اس علمی مرکز سے فیض یاب ہوئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے اجل خلفاء میں شمار ہوئے۔ اس طرح آپ نے خانقاہی نظام میں بھی کمال درجہ حاصل کیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ جس طرح علمائے ظاہر کے لیے مرجع تھے اسی طرح آپ علمائے باطن کے لیے بھی مرجع بن گئے تھے۔ ان دو شعبوں کے علاوہ حضرت مولانا نے مخلوقِ خدا کی جو مادی خدمات سرانجام دیں وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں۔ آپ نے عام آفات و حادثات، سیلابوں اور زلزلوں میں بے بس مسلمانوں، یتیموں اور بیواؤں کی خوب مالی خدمت کی، اس کے علاوہ حضرت شیخ نے جہاد فی سبیل اللہ سے بھی خاص شغف رکھا اور اس میں بھی انفاق فی سبیل اللہ میں بڑا حصہ لیا۔ آپ نے روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین سے لے کر طالبان افغانستان کے مجاہدین تک سارے مجاہدین کا بھرپور اخلاقی تعاون کیا بلکہ مجھے یاد ہے کہ ہم نے ایک دفعہ طالبان کے دورِ خلافت میں حضرت شیخ کے ساتھ افغانستان کا طویل دورہ کیا۔ حضرت شیخ نے جب اسلامی خلافت اور نفاذِ شریعت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اتنے خوش ہوئے کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ حضرت شیخ کا بڑا کمال یہ تھا کہ ان تمام شعبوں کو کسی نمائش کے بغیر انتہائی خلوص کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے، اسی خلوص کی برکت اور اثر ہے کہ آج حضرت شیخ کا ادارہ ان کے نہایت لائق علماء اور باادب فضلاء اولاد کے ہاتھوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر حضرت شیخ مجموعۂ صفات ہمہ جہت کامل اور مکمل انسان تھے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ:

وَلَيْسَ عَلَى اللَّهِ بِمَسْتَنْكَرٍ      أَنْ يَجْمَعَ الْعَالَمَ فِي وَاحِدٍ

لیکن یہ دنیا چونکہ فانی ہے، اس لیے کسی کے لیے بقاء نہیں اور موت کا کوئی علاج نہیں ہے اور ہر محبوب اپنے محبوب سے آخر جدا ہی ہو گیا ہے:

وَقَدْ فَارَقَ النَّاسَ الْأَحِبَّةُ قَبْلَنَا      وَأَعْيَى دَوَاءَ الْمَوْتِ كُلُّ طَبِيبٍ

چنانچہ فروری ۲۰۱۳ء کو حضرت شیخ نے داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا اور ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے، لیکن:

کون کہتا ہے کہ مؤمن مر گیا      جیل سے چھوٹا، وہ اپنے گھر گیا