مضامین

مبشرات و منامات

حضرت مولانا محمد یوسف مدنی صاحب مدظلہ

الحمدللہ! ویسے تو بلا مبالغہ بیسیوں مرتبہ حضرت رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھا اور دیکھتا رہتا ہوں، جن سے خاصی تسلی اور اطمینان رہتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ کے ایک خلیفۂ مجاز بزرگ نے فرمایا کہ ’’یہ حضرت مرحوم کی روحانی قوت اور بندہ کی طرف توجہ کی علامت ہے‘‘، واللہ اعلم۔ ان میں سے چند خواب ذکر کیے جاتے ہیں:

  1. بارہا خواب میں دیکھا کہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ ہمارے درمیان گھر میں اور کبھی مدرسہ میں واپس آ چکے ہیں اور (خواب ہی میں) مجھے سخت حیرت ہو رہی ہے کہ ہمیں تو اباجان کے انتقال کا سخت مغالطہ لگ گیا، یہ تو واقعۃً حیات ہی ہیں۔
  2. گزشتہ سال شعبان رمضان کے سفرِ حجاز میں ۴ مرتبہ حضرت کو خواب میں دیکھا۔ ایک مرتبہ دیکھا کہ آپ شہید ہو گئے۔ اور ایک مرتبہ جس روز مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے روانگی تھی، دیکھا کہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی قبر برادرم مفتی محمد سلمان یاسین سلمہ اللہ کے پسر زادہ عزیزم ثوبان مرحوم کی قبر کے برابر جنت البقیع میں ہے (جیسا کہ حضرت کی تمنا تھی)۔ اچانک قبر کھلی تو دیکھا کہ حضرت والد صاحب آرام سے لیٹے ہوئے ہیں اور فرمایا: ’’مجھ کو تو کچھ خبر ہی نہیں ہوئی کہ میرے اوپر کیا کچھ گزری؟ میری تو ابھی آنکھ کھلی ہے‘‘۔
  3. ۱۹ صفر کی رات خواب دیکھا کہ میں نیند میں ہوں اور مجھ کو پتہ چلتا ہے کہ حضرت کو ہم نے دفن تو کر دیا، لیکن وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں اور اس کے کچھ اس طرح کے شواہد و مؤیدات سامنے آئے کہ خواب ہی میں یہ فیصلہ کیا کہ بیدار ہو کر مفتیانِ کرام سے استفتاء کریں گے کہ کیا ایسی حالت میں حضرت کو جو حیات ہیں، مزید تکلیف سے بچانے کے لیے حضرت کی قبر کشائی درست ہے۔ چنانچہ حضرت کی قبر کشائی ہوئی تو دیکھا کہ جسم اور کفن پر خون کے دھبوں کی شکل میں شہادت کے ظاہری آثار موجود ہیں اور حضرت نے آنکھیں بند کیے ہوئے بس اس قدر فرمایا: ’’الحمدللہ! میں خیریت سے ہوں‘‘۔
  4. ایک روز بعد نمازِ فجر آنکھ لگی تو دیکھا کہ مدرسہ کے باہر تحفظِ ختمِ نبوت کا جلسۂ عام ہے۔ قریب ہی میں ایک کمرے میں حضرت والد صاحب ختمِ نبوت کے سلسلہ میں بیان فرما رہے ہیں اور ساتھ میں یہ عاجز اور مفتی سلمان یاسین صاحب بھی موجود ہیں۔ دعا شروع کرانے سے قبل حضرت نے فرمایا کہ ’’باہر والے احباب کو بھی کہہ دو کہ دعا میں شریک ہو جائیں‘‘۔
  5. ایک صالح عالمِ دین نوجوان نے براہِ راست اس عاجز کو اپنا خواب سنایا کہ انہوں نے حضرت والد صاحب کے وصال سے چند روز قبل دیکھا کہ آپ سرورِ کائنات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے ہیں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پھیلائے یوں محسوس ہوا کہ گویا فرما رہے ہیں: ’’ہمارے پاس آ جاؤ‘‘۔ (سبحان اللہ! کس قدر عظیم بشارت ہے)۔ سبحان اللہ! کیسے باعثِ تسکین و فرحت خواب ہیں جن کی تعبیر بالکل واضح ہے۔
  6. بندہ کی ہمشیرہ نے اپنا خواب ذکر کیا کہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے اور ڈاڑھی، بھنوں کے بال بالکل صاف ستھرے گھر تشریف لائے اور سب گھر والوں کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اتنے میں اذان کی آواز سنائی دی تو واپس چل دیے، اس پر ہم رونے لگے۔ تو کسی نے کہا کہ ان کو مسجد میں اعمال کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے (اللہ اکبر! اس بوریہ نشین نے ساری زندگی مسجد و مدرسہ کا ٹاٹ بن کر ذکر و تلاوت اور تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا تھا)۔

حضرت مولانا محمد داؤد صاحب کے منامات

  1. بندہ نے خواب دیکھا کہ کچھ اکابر جمع ہیں جن کو میں پہچان رہا ہوں، ان میں حضرت شیخ مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی موجود ہیں۔ بندہ سوچ رہا ہے کہ یہ کیسے عظیم لوگ ہیں جب دنیا سے رحلت کر جاتے ہیں تو پیچھے کیسا اندھیرا چھا جاتا ہے! پھر دیکھا کہ وہ کسی اہم معاملہ پر مشورہ کر رہے ہیں تو بندہ سوچتا ہے کہ یہ لوگ یہاں آ کر بھی ہم زندوں کے لیے سوچتے اور صلاح مشورے کرتے ہیں۔ اتنے میں حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ بھی تشریف لاتے ہیں وہ حضرت شیخ کی ملاقات کی غرض سے تشریف لاتے ہیں، ان کے ہاتھ میں عصا بھی ہوتا ہے، ان کے آتے ہی حضرت شیخ کھڑے ہو جاتے ہیں اور معانقہ فرماتے ہیں تو بندہ پیچھے سے حضرت مفتی صاحب کی پیٹھ دونوں ہاتھوں سے ادب سے دباتا ہے تاکہ حضرت شیخ سے خوب سینہ ملائیں۔
  2. بروز جمعہ خواب دیکھا کہ معہد الخلیل مسجد میں سو کر اٹھ رہا ہوں اور چادر سر اور منہ پر ڈالنے میں حضرت شیخ کی نقل اتار رہا ہوں کہ سامنے نظر پڑی تو دیکھا حضرت شیخ سفید چادر اوڑھے بندے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ نظر پڑتے ہی فرطِ مسرت سے میں نے دو مرتبہ بلند آواز سے الحمدللہ کہا کہ حضرت دوبارہ تشریف لے آئے ہیں اور فوراً اٹھ کر ملاقات کے لیے آگے بڑھا تو حضرت ملنے کے لیے کھڑے ہونے لگے جس سے مجھے شرمندگی ہونے لگی کہ حضرت کھڑے ہو رہے ہیں ملنے کے لیے، اور آنکھ کھل گئی۔
  3. بندہ نے خواب دیکھا کہ حضرت شیخ حج کر کے واپس تشریف لائے ہوئے ہیں، محراب کی جگہ تشریف فرما تلاوت فرما رہے ہیں، نماز کا وقت ہے، نمازی بھی ہیں…
  4. چند دن ہوئے خواب دیکھا کہ حضرت شیخ کی بلند نشست بنی ہوئی ہے، نہایت سفید چادر بچھی ہوئی اور سفید گاو تکیے لگے ہوئے ہیں… حضرت نے پوچھا: ’’گھر سے کتنی مرتبہ اترتے ہو؟‘‘ تو بندہ نے پانچ نمازوں کے لیے ۳ مرتبہ اترنے کا عرض کیا۔
  5. خواب میں دیکھا کہ مولانا محمد یوسف مدنی زید مجدہم تشریف لا رہے ہیں اور بالکل ہوبہو حضرت شیخ کی چال ڈھال اور رعب، بلکہ حضرت شیخ ہی لگ رہے ہیں اور دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک بہت ہی روشن اور پُر نور شعاعوں والی ہیں۔
  6. بندہ کے پانچ بیٹے بیٹیاں ہیں… آٹھ سالہ بچی نے خواب دیکھا کہ ہم سارے گھر والے حضرت شیخ کی قبر پر بیٹھے تھے کہ قبر ہلنے لگی اور حضرت شیخ نے فرمایا: ’’چلو! میرے گھر کھانا کھانے کے لیے‘‘، چنانچہ ہم سب حضرت کے گھر گئے… محمد یحییٰ کی بسم اللہ کرائی اور ہاتھ ملایا اور فرمایا: ’’بہت اچھا بچہ ہے، بڑا ہوگا‘‘۔
  7. بندہ نے خواب دیکھا کہ حضرت شیخ کے مرقد مبارک پر حاضر ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت شیخ کی قبر مبارک چاروں طرف سے بالکل صاف شفاف آئینہ بنی ہوئی ہے، جس میں ٹیک لگائے ہوئے حضرت شیخ دور سے نظر آ رہے ہیں اور مسلسل بندہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

مولانا عبدالملک عتیق صاحب (مقیم مدینہ منورہ) فرماتے ہیں کہ بندہ نے صبح کی نماز کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضرت اقدس رحمہ اللہ اپنی قبرِ مبارک میں تشریف فرما ہیں اور قبر شریف تاحدِ نگاہ انتہائی کشادہ ہے۔ طلوعِ شمس سے پہلے کا وقت ہے، حضرت اقدس اپنی قبر شریف میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے ہیں… حضرت نے احقر کو دیکھا اور پھر سلام اور مسکراہٹ کے تبادلے کے بعد حضرت اقدس اپنی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو گئے اور احقر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

مولانا محمد عظیم معین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز بعد نمازِ ظہر قیلولہ میں دیکھا کہ امتحانات کے اختتام پر مسجد میں طلبہ نے پنسل کا کچرا، کاغذ اور سیاہی وغیرہ چیزیں چھوڑ دیں جس کی وجہ سے مسجد بہت خراب ہو گئی… مولانا محمد یوسف مدنی صاحب نے فرمایا کہ ’’اب کچھ بہتر ہو گیا، مسجد میں جا کر اپنا معمول پورا کر لیتے ہیں‘‘۔ بندہ مسجد چلا گیا… مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضرت اقدس موجود ہیں اور مسجد صاف دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ حضرت اقدس آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنی نشست گاہ پر پہنچ گئے… پھر قرآن منگوایا اور بندہ سے پوچھا: ’’سورۂ طٰہٰ کی کس آیت سے تلاوت چھوڑی تھی؟‘‘…