جناب الحاج محمد عرفان صاحب
احقر کا سنِ ولادت ۲۴ جولائی ۱۹۵۴ء ہے۔ ہندوستان کی ریاست جودھ پور کے علاقہ لاڈنوں اور ڈیڈوانہ کی سادات فیملی سے تعلق ہے۔ سن ۱۹۷۴ء میں گورنمنٹ کالج فارمین ناظم آباد کراچی سے B.Sc کی تعلیم حاصل کی، گورنمنٹ کالج فار ایجوکیشن قاسم آباد کراچی سے ۱۹۷۶ء میں B.Ed کی تعلیم پائی، گورنمنٹ کالج اسلامیہ کالج کراچی سے ۱۹۷۸ء میں L.L.B کی ڈگری حاصل کی اور D.H.M.S کی تعلیم ۱۹۹۱ء میں جناح ہومیوپیتھک کالج کراچی سے حاصل کی۔
اس نابکار کا حضرت سے تعلق ۱۹۷۲ء میں قائم ہوا، تب احقر کالج میں جبکہ حضرت جامعہ بنوری ٹاؤن میں زیرِ تعلیم تھے۔ تعلق کا ذریعہ مفتی شمس العارفین صاحب (جو کہ میرے مخلص دوست اور کلاس فیلو تھے بعد ازاں عصری تعلیم کو خیرباد کہہ کر وہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں دینی تعلیم کے لیے چلے گئے) بنے۔ یہ نابکار حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے بیعت تھا، مفتی شمس العارفین صاحب نے مجھے ایک بار کہا کہ حضرت شیخ الحدیث کے خلفاء میں سے بھی کسی سے تعلق ہونا چاہیے۔ چنانچہ مفتی صاحب کے کہنے پر حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں ہفتے میں ایک دن حاضر ہونے لگا۔ زندگی کے آخری سالوں میں حضرت اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’بھائی عرفان سے ہمارا تعلق چالیس سال پرانا ہے‘‘۔
اسی زمانہ میں اس نابکار نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو خط تحریر کرنے کی تمنا کی تو حضرت رحمہ اللہ نے بہت مختصر خط لکھنے کا حکم فرمایا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی مصروفیات بہت ہیں۔ اس سیاہ کار نے ایک نہایت مختصر خط حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھا جس کا جواب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے حضرت رحمہ اللہ کے توسط سے دیا، جو درجِ ذیل ہے:
باسمہٖ سبحانہ
عنایت فرمايم جناب عرفان صاحب بوساطت بھائی یحییٰ کراچی!
بعد سلام مسنون، آپ کا محبت نامہ بھائی یحییٰ کی وساطت سے ملا، انہی کی وساطت سے جواب لکھوا رہا ہوں۔ معمولات کی پابندی ترقی کا زینہ ہے اور نفس کے قابو میں کرنے کا طریقہ بھی۔ بغیر خواہش بغیر دل چاہے بھی معمولات کی پابندی ہو، کہ اس سے دل بھی لگنے لگے گا اور نفس بھی ان شاء اللہ قابو میں آجائے گا۔ امتحان میں آپ کی کامیابی کے لیے دل سے دعا کرتا ہوں، کام تو کرنے ہی سے بنتا ہے، محض دعا سے اگر کام چل جاتا تو سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کس کی دعا ہوگی؟ دنیا میں کوئی بھی کافر نہ رہتا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی اور دعاؤوں کی شدت پر لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ قرآن پاک میں وارد ہوا ہے۔
آپ نے یہ نہ لکھا کہ سستی کی وجہ سے کھانا کھانے کی ہمت نہیں ہوتی، دعا کر، کہ بغیر کھائے پیٹ بھر جائے گا؟ دنیا کے کاموں میں کبھی سستی نہیں ہوتی، دین کے کاموں میں سستی ہوتی ہے؟ جیسے کھانا، پینا بدن کی غذا ہے ویسے ہی یہ اوراد و وظائف روح کی غذا ہیں۔ محض دعا بالکل کافی نہیں، البتہ معین ضرور ہے۔
فقط والسلام
حضرت شیخ الحدیث صاحب
بقلم حبیب اللہ
حضرت کے ساتھ بیتا ہر لمحہ ہی یادگار ہے، ان کی ہر ادا ہی دل میں اترنے والی تھی:
فدا ہوں آپ کی کس کس ادا پر؟
۱۹۹۰ء کے رمضان میں حضرت رحمہ اللہ نے طلباء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ عمرہ ادا فرمایا۔ جمعہ کی رات حضرت رحمہ اللہ نے صرف طلبہ کو جمع کیا، میں اٹھ کر جانے لگا تو فرمایا: ’’بھائی عرفان! آپ نہ جائیں۔ آپ بھی ان (طلبہ) میں شامل ہیں‘‘۔ خدا کی قسم کھا کر فرمایا: ’’میں صرف تم لوگوں کی وجہ سے یہاں آیا ہوں اور تم سے خوش ہوں، شاید تم میں سے کسی کی دعا قبول ہو جائے‘‘۔
اس سے پہلے ۴ رمضان بروز جمعہ کو حضرت رحمہ اللہ نے اعلان فرمایا تھا کہ تمام ساتھی عصر کی نماز کے بعد بقیع کے گیٹ پر جمع ہو جائیں، ہم جمع ہو گئے، تھوڑی دیر کے بعد حضرت تشریف لائے، پھر بقیع میں مختلف مقابر و مزارات کی تفصیلی سیر کروائی۔ حضرت رحمہ اللہ میں سنت کے اتباع کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، ہر ہر عمل میں سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش فرماتے اور آخر میں جب اعذار نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا، جماعت کی نماز اور تکبیرات کا اہتمام قابلِ دید تھا۔
۲۹ رمضان المبارک ۱۴۲۱ھ بمطابق ۲۰۰۰ء میں معہد الخلیل الاسلامی میں حضرت رحمہ اللہ نے اجازت عطا فرمائی۔ حضرت نے بلوایا، حضرت اس وقت اپنے معتکف میں تشریف فرما تھے، اپنے سر سے ٹوپی اتار کر اس ناکارہ کو پہنائی۔ فی الحال یہ نابکار پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہا ہے۔