جیسے وہ میرے چھوٹے بھائی ہوں
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ
صدر دار العلوم کراچی
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔
اما بعد، جناب مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے میرا تعارف تو بہت قدیم ہے کیونکہ ان کے برادرِ بزرگ جناب حافظ فیروز الدین صاحب دام مجدہم میرے حفظ قرآن کے ساتھی رہے ہیں۔ ہم نے ایک ہی استاد کی سرپرستی اور رہنمائی میں پہلی تراویح سنائی تھی اور آج تک ان سے برادرانہ تعلق بڑھتا ہی چلا گیا ہے۔ اس وجہ سے مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے مجھے تعلق ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میرے بھی چھوٹے بھائی ہوں۔ مجھے اپنے لڑکپن کا وہ منظر بھی یاد ہے جب ان کے منجھلے بھائی جناب ذکر الرحمن صاحب مرحوم کی شادی ہوئی تو آج کے مولانا اور اس زمانے کے لاڈلے بچے محمد یحییٰ مدنی کو شہ بالا بنا کر دولہا کے ساتھ ان کے گھوڑے پر سوار کیا گیا تھا۔
لیكن یہ تعارف تعارف ہی رہا، ملاقاتوں کی نوبت اس وقت سے آئی جب مولانا مرحوم نے ایک بہت قابلِ قدر تعلیمی ادارہ معہد الخلیل قائم کیا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کہ ان کے اس ادارے میں تعلیم کے ساتھ دینی تربیت کا بھی بطورِ خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ تعلق بھی بڑھتا رہا۔ ایک مرتبہ میں نے ان کو مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام میں ریاض الجنۃ کے قریب نفل نماز کے قیام میں اس طرح دیکھا کہ وہ خشوع اور بے خودی کے ایسے عالم میں تھے کہ مجھے اس پر آج تک رشک آتا ہے۔
گلگت کے قریب مشہور پہاڑ نانگا پربت کے دامن میں ایک بہت ہی قابلِ رحم بستی علی پور جو چند انتہائی غریب گھرانوں پر مشتمل تھی اور وہاں کے بے یار و مددگار لوگ اور ان کے بچے ہر قسم کی تعلیم سے محروم تھے کوئی ادنیٰ اسکول بھی وہاں نہیں تھا۔ وہاں مجھے اپنے کنبہ کے ساتھ جانا ہوا، برف باری اور بارش کے شدید طوفان کے نتیجے میں نیرنگیٔ تقدیر سے پانچ صبر آزما دن گزارنے پڑے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے کنبہ سمیت ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے نکال لیا تو کراچی آکر بندہ نے کوشش کی کہ اس بستی کی دیگر بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ وہاں ایک مکتب قرآن بھی قائم کیا جائے۔ تو مکتب قرآن کے حوالے سے سب سے پہلا عطیہ مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ ہی نے پیش کیا تھا۔
سب سے آخر میں جب ۱۴۳۳ھ میں اپنے چند اہلِ خانہ کے ساتھ حج کی سعادت نصیب ہوئی تو مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ بھی حجاج کے ’’الخیر گروپ‘‘ میں ہمارے ساتھ تھے۔ اگرچہ ہماری قیام گاہوں میں خاصا فاصلہ تھا، لیکن نماز میں آتے جاتے بکثرت ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہر مرتبہ ان سے مل کر مسرت ہوئی، لیکن یہ دیکھ کر دل دُکھا کہ وہیل چیئر ان کے لیے لازمۂ سفر بن چکی تھی، ان کو وہیل چیئر پر دیکھ کر دل کو بہت دکھ ہوتا تھا۔ حج سے واپسی کے بعد اچانک یہ خبر مل کر دل کی کیفیت ناقابلِ بیان ہوگئی کہ وہ اس دارِ فانی اور یہاں کی تکلیفوں سے آزاد ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
الحمدللہ مولانا موصوف نے اپنے سات صاحبزادے اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لیے چھوڑے ہیں جو سب ماشاء اللہ حفاظِ قرآن اور علمائے دین ہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ اپنے والد ماجد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھاتے جائیں گے۔ یہ مضمون بندہ نے مولانا موصوف کے صاحبزادے عزیز القدر مولانا محمد یوسف مدنی صاحب دام مجدہم کو املاء کرایا ہے۔ ان کیلئے اور ان کے سب بھائیوں اور بہنوں کے لیے اور مولانا مرحوم کے تمام شاگردوں اور متوسلین کے لیے دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو تمام مقاصدِ حسنہ میں کامیابی عطا فرمائے۔ واللّٰہ المستعان۔
(حضرت مولانا مفتی) محمد رفیع عثمانی مدظلمہم
۹ ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ