مضامین

حضرت شیخ الحدیث کے لاڈلے خلیفہ

پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب

خلیفۂ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ

حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب ہمارے حضرت شیخ کے لاڈلے خلیفہ، خادم اور عاشق صادق تھے۔ ان سے احقر کا تعارف مدینہ منورہ میں اس وقت ہوا تھا جب وہ ارضِ طیبہ میں مقیم تھے اور احقر بھی مستقل قیام کی نیت سے اس مقدس سرزمین پر حاضر ہوا تھا۔ پھر چھ ماہ کا قیام ہوا اور اکابر بالخصوص مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کے حکم سے راولپنڈی مسجد صدیق اکبر الٰہ آباد میں قیام کیا جو تاحال جاری ہے۔ مدینہ منورہ کے چھ ماہی قیام میں حضرت اقدس صوفی محمد اقبال صاحب، حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب، حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب، حضرت صاحبزادہ مولانا طلحہ صاحب، حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب اور حضرت شیخ کے دیگر بہت سے خلفائے کرام اور خدام کی زیارت اور شرفِ ملاقات نصیب رہی۔ میری زندگی کے وہ ایام بھی بڑے ہی پُر لطف تھے، شاید تحریر میں اس کو ادا بھی نہ کر سکوں۔ اللہ کریم نے چاہا تو کبھی یادِ ایام تحریر کر سکوں گا۔ اس وقت تو اپنے محترم مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب کے بارے میں کچھ تحریر کرنا ہے۔

حضرت مدنی وہ شخصیت تھے، جو دنیا ذلیل کمینی کو تھوک کر اللہ تعالیٰ کے مبارک دین کی طرف آئے اور پھر رب کریم نے ان کو ایسا قبول کیا کہ لوگ ورطۂ حیرت میں ہیں۔ یہ بھی عجیب ہے کہ بعض گلستانِ دین سے انگریزی نحوست کی طرف خود بھی جاتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی اس ’’وادی زقوم‘‘ میں سرگرداں و پریشاں کردیتے ہیں۔ مگر بعض حضرت یحییٰ مدنی کی طرح خوش بخت و خوش نصیب ہوتے ہیں کہ خود اور پورا گھرانہ دین کے انوار سے منور ہوجاتاہے۔

احقر کا حضرت مولانا سے تعارف بڑھتا گیا۔ جب وہ کراچی میں مستقل قیام پذیر ہوئے اور یہاں اپنے حضرت کی منشائے مبارک پر خانقاہی مدرسہ ’’معہد الخلیل الاسلامی‘‘ بنایا تو خود بھی اہتمام سے پڑھانا شروع کیا۔ ان کی برکت سے ان کے تمام صاحبزادگان، داماد اور دیگر رشتہ دار کثیر تعداد میں علومِ نبوت سے منور ہوئے اور آج ان کے ’’معہد الخلیل‘‘ کو پاکستان کے اونچے درجے کے مدارس میں جگہ مل گئی ہے۔ ’’معہد الخلیل‘‘ کے بیشتر اساتذہ اب حضرت کے بیٹے اور خاندان کے افراد ہیں جو سفارشی اور روایتی نہیں بلکہ مستحق ہیں۔

حضرت مدنی کو اللہ تعالیٰ نے مبارک دل عطا فرمایا تھا۔ وہ دین کے ہر شعبہ کے خادم اور ہمدرد تھے۔ مجاہدین خاص کر افغانستان کے طالبان کے ہر طرح معاون تھے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی قدرتی آفات زلزلے آئے تو حضرت بہ نفس نفیس اور ان کی آل و اولاد اس غم میں برابر کے شریک رہتے، ہر طرح کا مالی تعاون کرتے۔ اسی طرح جب سوات، مالاکنڈ آپریشن ہوا، لوگ دربدر ہوئے اور ان جی اوز کی امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو خطرہ پیدا ہوا تو مجھے بڑے درد کے ساتھ فون کر کے توجہ دلائی کہ ان کے ایمان کے تحفظ کا کیا ہوگا؟ احقر نے عرض کیا کہ خیمہ بستیوں میں دینی مکاتب قائم کر کے تدارک ہو سکتا ہے اور اس کے لیے ہم ’’شیخ زکریا ٹرسٹ‘‘ کے تحت معلمین کا انتظام کر رہے ہیں۔ یہ سن کر بے انتہاء خوش ہوئے اور فرمایا: ’’جتنے مکاتب ہوں گے، ان کے وظائف میں دوں گا‘‘۔ چنانچہ تمام مکاتب کے وظائف بھجوائے۔ یہ ان کی خدمت اور درد کا ایک نمونہ ہے۔

جب افغان جہاد کی برکت سے روس ٹوٹا تو حضرت مولانا یحییٰ مدنی، ہمارے حضرت کے ایک اور محبوب خلیفۂ مجاز حضرت حافظ صغیر احمد صاحب زید مجدہٗ اور ان کے صاحبزادے حضرت مفتی انیس احمد مظاہری کا روس جانے کا ارادہ ہوا۔ اس میں ان مسلمانوں کی اعانت کی نیت بھی شامل تھی۔ الحمدللہ! ہم چاروں اکٹھے تاشقند، سمرقند اور بخارا گئے اور نصف مہینہ وہاں رہے۔ وہ یادیں بھی عجیب ہیں، ایک رات ہم چاروں ایک کمرہ میں محوِ خواب تھے کہ اچانک ذکرِ جہری کی سریلی آواز سے میری آنکھ کھل گئی، غور سے دیکھا تو حضرت گہری نیند میں ہیں اور ذکر جہری فرما رہے ہیں۔ قریب الموت بھی ان کی یہی کیفیت تھی، جس سے ان کے معالج ڈاکٹر حیران تھے۔ مگر یہ ان کے تعلق مع اللہ کی علامت تھی۔

کراچی آمد کے موقع پر میں ’’معہد الخلیل‘‘ اس لیے حاضر ہوتا تھا کہ ان کی دعا لے لوں۔ تھوڑی دیر کے لیے ضرور میں حاضری دیا کرتا تھا۔ وہ وقت کے معمولی آدمی نہیں تھے بلکہ بہت بڑے ولی تھے، بہت بڑے عاشق تھے اور بہت بڑے دیندار تھے۔ دین کے نام لیوا تو بہت نظرآئیں گے لیکن اس کا عکس پتہ چلتا ہے اس کے ماحول سے، بعض لوگ نام کے تو بڑے دعویدار ہوتے ہیں، لیکن बच्चे انگریزی فیشن میں ہوتے ہیں اور دوسرے مختلف کاموں میں لگے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ سچا دیندار اور عاشق، جس نے حقیقتاً اس دین کو اختیار کیا، انگریزی کو چھوڑ کر، اس دنیا کے ماحول کو چھوڑ کر اس منور ماحول کو اپنایا، ان کی سچائی کی دلیل یہ ہے کہ الحمدللہ ان کے سارے بچے اور ان کا تقریباً سارا خاندان اس نور سے منور اور مزین ہے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے اور بہت بڑی سعادت ہے کہ سچ مچ ان میں دین تھا، ورنہ وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ۔ پھر انہوں نے اپنے علاقے پر، اپنے شہر پر، اس ملک پر عظیم احسان کیا، آج ان کے تلامذہ، ان کے فضلاء جگہ جگہ باغ لگائے بیٹھے ہیں، اللہ کے دین کا کام کر رہے ہیں اور یہ نور پھیلا رہے ہیں، یہ ان کی بہت بڑی کرامت ہے۔ لوگ کرامت کسی اور چیز کو سمجھتے ہیں، یہ ان کی زندہ کرامت ہے۔

یہ دنیا ہے ہی فانی، یہاں کوئی کیا کر سکتا ہے، یہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ رہے تو اور کون رہے گا! سب نے جانا ہے، لیکن آج ان کے جانے کے بعد یہ رونق، یہ بہار بڑھ رہی ہے، یہ بعد الوفات ان کی کرامت ہے، اور ان کی یہی چاہت تھی۔ میں جب بھی ان سے ملا میں نے انہیں اس درد میں دردمند دیکھا کہ میرے بچے اس کام میں لگے رہیں، میرے شاگرد لگے رہیں، بس یہی کڑھن اور یہی درد ان کی زبانِ مبارک سے ہم سنتے رہتے تھے۔ یہ روح کا تعلق بھی بڑا عجیب ہوتا ہے، وہ میرے پیر بھائی بھی تھے، مشفق اور مہربان بزرگ بھی تھے، غمخوار بھی تھے اور آج ان کی جدائی جیسے ان کی اولاد و متعلقین کے لیے باعثِ ہزار صدمہ ہے، ہمارے لیے بھی ہے۔ ایسے ہی لگتا ہے جیسے ہمارا اپنا کوئی خاص الخاص ہم سے جدا ہوگیا۔ الحمدللہ ان کی وہ کڑھن اور تڑپ اور محنت آج زندہ ہے۔ اللہ اس میں اور ترقی دے۔

اس دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں: ایک سعادت مند اور نیک بخت، اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں شامل فرمائے۔ اور ایک بد قسمت اور بدبخت۔ جو خوش نصیب ہیں، خوش بخت ہیں وہ اپنے مقصد کو پہچان جاتے ہیں، ہمارے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔ اور ان لوگوں نے الحمدللہ اپنے مقصد کو پہچانا اور اپنی زندگی گزاری اور ایسا کر گئے کہ قیامت تک اس کا پھل صدقہ جاریہ کی صورت میں ان کے لیے رواں دواں ہے، یہ تھمنے والا نہیں ہے قیامت تک اس کی شاخیں پھیلیں گی، ان کے لیے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے گا۔ اور انہوں نے دو کمال کیے کہ صرف صدقہ جاریہ پر اکتفاء نہیں کیا کہ اور لوگ کریں اور میں قبر میں اس کا پھل کھاؤں۔ ہم نے انہیں اس زمانے میں دیکھا جب ان کی صحت اچھی تھی ۔ میں مدینہ منورہ الحمدللہ ایک بار مسلسل چھ مہینے رہا، اپنے حضرت کی خدمت میں، تو حضرت مولانا وہاں ’’بھائی یحییٰ‘‘ کے نام سے سب میں مشہور تھے۔

اپنے شیخ سے اتنا عشق اور اتنی محبت، اللہ ہمیں اس کا ایک ذرہ عطا فرمائے اور اس کے بغیر آدمی بڑھ بھی نہیں سکتا۔ انسان اندھا ہو جائے اپنے شیخ کی محبت میں۔ حضرت گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ ’’ایک طرف اگر حضرت جنید و شبلی بیٹھے ہوں اور دوسری طرف ہمارے حضرت حاجی امداد اللہ صاحب تشریف فرما ہوں تو ہم آنکھ اٹھا کر بھی حضرت جنید و شبلی کو نہ دیکھیں‘‘۔ یہ محبت اور عشق کی بات ہے، یہ بات ہم نے حضرت مولانا یحییٰ مدنی میں دیکھی۔ اتنا عشق تھا حضرت شیخ کے ساتھ اور حرمین کمانے کا ذوق۔ حضرت شیخ کو عبادت کا اور وقت کو وصول کرنے کا ذوق تھا، وقت نہیں ضائع کرتے تھے، بہت زیادہ اپنے اوقات اللہ کی یاد، عبادت اور ترویجِ دین میں مشغول رکھتے تھے، ایک لمحہ نہیں ضائع ہونے دیتے تھے۔ اور یہی بات ان کے خواص میں بھی تھی جن میں حضرت مولانا (یحییٰ مدنی) بھی تھے۔ ان کو بھی عبادت کا اتنا ذوق تھا۔ روحانی طاقت ایسی تھی کہ ہر سال عمرہ اور حج کے موقع پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ پھر وہاں جوان ان کے ساتھ تھک جاتے تھے لیکن وہ نہیں تھکتے تھے۔ عبادات میں انہوں نے اپنی زندگی پگھلا دی تھی۔ انہوں نے اپنا سارا وجود اسی میں لگایا۔ خود بھی اللہ کی یاد و عبادت کا بہت اہتمام کیا:

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

اللّٰهم ارزقنا بمنّک وکرمک یا أکرم الأکرمین