مضامین

حضرت مولانا وسیم احمد صاحب

(مدرسِ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

احقر کی ولادت ۱۶ ربیع الثانی ۱۳۹۴ھ بمطابق ۹ مئی ۱۹۷۴ء میں ہوئی۔ پنجابی سوداگران دہلی برادری سے تعلق ہے۔ پانچویں تک عصری تعلیم ’’شمع وہائٹ ہائی سکول‘‘ پیر کالونی میں حاصل کی۔ قرآن پاک حفظ و ناظرہ مدرسہ جامعہ رشیدیہ پیر کالونی میں کیا اور درسِ نظامی کی مکمل تعلیم ’’جامعہ معہد الخلیل الاسلامی‘‘ میں حاصل کی۔

۱۴۰۹ھ میں جبکہ درجۂ اولیٰ کا طالبعلم تھا، اس وقت حضرت رحمہ اللہ سے بیعت ہوا اور حضرت کے وصال تک تقریباً پچیس سال حضرت کے ساتھ رہا۔ ایک واقعہ حضرت رحمہ اللہ کی تواضع کا درج کرتا ہوں: ایک مرتبہ حضرت کے دفتر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ حضرت نے آواز دی: ’’اے بیٹے وسیم!‘‘ میں حاضرِ خدمت ہوا تو فرمایا: ’’بیٹا! محسوس نہ کرنا کہ میں نے تمہیں نام لے کر بلایا اور مولوی نہ کہا‘‘۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اور عرض کیا کہ حضرت! میں آپ کا نیازمند ہوں۔ آپ جس طرح چاہیں پکاریں، بلکہ جب آپ صرف نام سے پکارتے ہیں تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔

رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ کی ستائیسویں شب مسجد معہد الخلیل میں حضرت رحمہ اللہ نے خلافت عطا فرمائی اور اپنے دستِ مبارک سے بندے کے سر پر عمامہ باندھا۔ معہد الخلیل الاسلامی میں تدریس و دیگر ذمہ داریاں نیز جامع محمدی مسجد لیاقت بستی، پیر کالونی میں امامت۔ علاوہ ازیں پیر کالونی میں قائم قرآن پاک حفظ و ناظرہ کے تین مکاتب (۱) مدرسہ عربیہ دار القرآن (۲) مدرسہ باب الاسلام (۳) مدرسہ فاطمۃ الزہراء کی نظامت۔ یہ ہیں آج کل احقر کی ذمہ داریاں۔