مضامین

حضرت مولانا محمد عظیم معین صاحب

(مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

احقر کی ولادت ماہِ رجب ۱۴۰۷ھ بمطابق مارچ ۱۹۸۷ء میں ہوئی۔ قوم یوسف زئی پٹھان ہے اور آبائی تعلق ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیس کے شہر اندور سے ہے۔ تقسیمِ ہند کے موقع پر دادا محترم ہجرت فرما کر پاکستان آ گئے تھے۔ قاعدہ اور ناظرہ قرآن شریف مکہ مسجد حیدرآباد کالونی کراچی میں ہوا۔ پھر گھرانے کے مزاج و ماحول کے مطابق عصری تعلیم کے لیے ’’ہیپی ہوم انگلش میڈیم اسکول‘‘ میں داخلہ ہوا۔ وہاں پرائمری مکمل کرنے کے بعد والدہ مرحومہ کی دیرینہ خواہش پر مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم فتحیہ (گارڈن) میں داخلہ ہوا اور اللہ پاک نے قرآن شریف حفظ کرنے کی سعادت بخشی۔ تکمیلِ حفظ کے بعد جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں داخلہ ہوا اور درجہ متوسطہ تا دورۂ حدیث شریف یہیں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد حضرت مفتی محمد شاہد صاحب مدظلہ (خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ) کی زیرِ نگرانی معہد الشیخ زکریا للافتاء والارشاد میں تخصص فی الفقہ الاسلامی کا کورس کیا۔

حضرت اقدس رحمہ اللہ کے دیدار و زیارت کا سلسلہ تو اس دن سے جس دن حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے درجہ متوسطہ کے لیے داخلہ فارم دیا، ہو گیا تھا۔ باضابطہ ارادت کا تعلق درجہ ثالثہ میں ہوا جب پہلی مرتبہ حضرت اقدس رحمہ اللہ سے ذکر سیکھنے کے لیے گیا۔ اور پھر تعلق مضبوط ہی ہوتا چلا گیا۔ حضرت نے ساری زندگی بیٹوں کی طرح رکھا۔ بارہا فرماتے کہ ’’بیٹا عظیم! میں تمہیں اپنے بیٹوں کی طرح ہی سمجھتا ہوں‘‘۔ اور دسیوں دفعہ یہ فرمایا کہ ’’بیٹا عظیم! نہ جانے کیا بات ہے میں تمہیں دیکھتا ہوں تو میرا دل محبت سے بھر جاتا ہے‘‘۔

۱۴۳۳ھ کے رمضان المبارک کی چوبیسویں شب کو حضرت رحمہ اللہ نے حجرہ میں طلب فرمایا۔ حاضر ہونے پر حضرت اقدس رحمہ اللہ نے برابر سے ایک دستار اٹھائی اور اپنے دستِ مبارک سے بندہ کے سر پر باندھتے ہوئے فرمایا: ’’بیٹا! رمضان المبارک کی اکیسویں شب میں حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مجھے اپنے حجرہ میں بلا کر ایک مصلیٰ دیتے ہوئے اجازت عطا فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تم سے جو حسنِ ظن پیدا کر دیا ہے اس پر اعتماد کرتے ہوئے میں تمہیں حضرت شیخ کے سلسلے سے بیعت کرنے کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔ یہ سیاہ کار حیران و پشیمان زمین تکتا رہا، جسم پر کپکپی تھی، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ حضرت نے ماتھے پر پیار کیا اور فرمایا: ’’تین باتوں کی نصیحت کرتا ہوں: ایک تو یہ کہ ذکر کبھی نہیں چھوڑو گے۔ دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو ہمیشہ حقیر سمجھو گے۔ تیسرا یہ کہ سلسلے کو پھیلانے کی سعی کرو گے، اور جو بیعت کا کہے اسے بیعت کرو گے‘‘۔

فی الحال معہد الخلیل میں تدریس و دیگر خدمات مفوض ہیں۔