حضرت حافظ محمد شاہدصاحب
(دامادِ حضرت والا رحمہ اللہ، ناظمِ شعبۂ حفظ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)
احقر کا تعلق دہلی برادری سے ہے۔ حفظِ قرآن سمیت مکمل تعلیم معہد الخلیل الاسلامی میں حاصل کی۔ شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ میں حضرت رحمہ اللہ کے دامنِ شفقت سے وابستگی کا شرف حاصل ہوا۔ الحمدللہ! اس وقت سے اخیر حیات تک سفر و حضر میں خوب رفاقت حاصل رہی۔ کم و بیش ۳۳ سالہ صحبت میں احقر نے حضرت رحمہ اللہ کو اپنے اکابر و مشائخ کا سچا عاشق اور پیروکار پایا۔ اکابر کی ایک ایک ادا کو مشعلِ راہ بنانے اور اسے اپنے اندر سمونے کا حضرت شیخ رحمہ اللہ میں والہانہ جذبہ تھا۔ اپنے متعلقین و مسترشدین کی تربیت و اصلاح میں اپنے مشائخ کے واقعات اور ملفوظات کو مدِ نظر رکھتے۔ رجال سازی اور تربیت و اصلاح میں حضرت رحمہ اللہ کو خاص ملکہ سے نوازا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نامور علماء و مشائخ سمیت مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ افراد اپنی اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے حضرت رحمہ اللہ اور آپ کے قائم کردہ ادارہ جامعہ معہد الخلیل کی طرف رجوع کرتے تھے۔ دینی طلبہ پر حضرت رحمہ اللہ خصوصی شفقت فرماتے۔
ماضی کی حسین یادوں میں سے ایک حسین یاد یہ ہے کہ ایک بار شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کے خلیفۂ اجل مفتی اعظم حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کراچی ائیرپورٹ پر مختصر وقت کے لیے اترے۔ بغیر پیشگی اطلاع کے حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ معہد الخلیل تشریف لائے، معہد کی مسجد کے ٹوٹے فرش پر جلوہ افروز ہوئے۔ ہمارے حضرت رحمہ اللہ سے بڑی محبت و شفقت کا اظہار فرماتے رہے، والہانہ انداز سے اکابر کے واقعات و ملفوظات سناتے رہے اور معہد الخلیل الاسلامی اور اس کے متعلقین کو خوب خوب دعاؤوں اور توجہات سے نوازتے رہے۔
معہد الخلیل کے احاطے میں رمضان المبارک ۱۴۲۱ھ کی ستائیسویں شب کو حضرت رحمہ اللہ نے اجازت مرحمت فرمائی۔ فی الحال احقر معہد الخلیل میں شعبۂ حفظ کی نگرانی کی خدمت پر مامور ہے۔
حضرت حافظ محمد شاہد
ناظمِ شعبۂ حفظ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی