فدائے ختم نبوت
از: شاہینِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ
مولانا محمد یحییٰ مدنی ۱۹۳۹ء میں مردم خیز دھرتی لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، تقسیمِ ملک کے بعد آپ کا گھرانہ کراچی میں منتقل ہوا۔ مولانا یحییٰ مدنی آغازِ جوانی سے تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ تبلیغی جماعت کے امیرِ ثانی حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کے آپ مریدِ صادق اور عاشقِ زار تھے۔ حضرت جی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد برکۃ العصر، ریحانۃ الہند حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے آپ نے تجدیدِ بیعت کی اور پھر خلیفہ مجاز بنے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے کراچی میں آپ میزبان اور تمام تر پروگراموں کے گویا انچارج ہوتے تھے۔
آپ کو بڑی عمر میں دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہوا۔ ۱۹۷۴ء میں دورہ حدیث شریف کیا، مجاہدِ ختم نبوت حضرت مولانا مفتی جمیل خان اور آپ دورہ حدیث شریف کے ساتھی تھے اور خوب بھائی چارہ اور تعلقِ خاطر کا مخلصانہ و محبانہ تعلق تھا، جسے دونوں حضرات اپنی اپنی عمر میں نبھاتے رہے۔ جب آپ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی تب جامعہ کے بانی شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ، مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ، مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمہ اللہ جیسے حضرات جامعہ کے اُفق پر اپنے علم کے گلشن کو صدا بہار کیے ہوئے تھے۔ مولانا محمد یحییٰ مدنی نے ان سب حضرات سے اکتسابِ فیض کیا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں مجاہدانہ کردار
آپ کے دورہ حدیث شریف کے سال حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے امیر ہونے کے ناتے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کل پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ پورے ملک میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء برپا تھی جو پاکستان کی تاریخ میں پُر امن جدوجہد کی آئینہ دار تھی۔ حضرت مولانا مفتی جمیل خان، حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے کراچی میں تحریک کے بانکپن کو قائم رکھنے کے لیے شب و روز ایک کر دیے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد کراچی کی مساجد میں پہنچ جاتے اور نماز کے بعد ایمان پرور بیانات سے لوگوں کے جذبہ ختم نبوت کو خوب رنگ و روغن کرتے، یوں بیسیوں مساجد میں ہزارہا لوگوں کو تحریک کے لیے متحرک کرتے۔ بلا مبالغہ ۲۹ مئی سے ۷ ستمبر تک لاکھوں لوگوں کو آپ حضرات نے تحریک ۱۹۷۴ء کے لیے سرگرمِ عمل کر دیا۔ مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ اکثر خود راقم کے سامنے بڑے مزے سے اس تحریک کی آپ بیتی کی داستانِ عشق و وفا بیان کرتے، تو خود بھی گلوگیر ہو جاتے اور سامعین کو بھی نمناک کر دیتے۔
نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جیسے فرائض کا تعلق رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمالِ مبارکہ سے ہے اور ختم نبوت کا تعلق خود ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اعمال کی بجا آوری اعضاء سے تعلق رکھتی ہے، جس طرح اعضاء پر جان مقدم ہے، تمام فرائض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا مسئلہ مقدم ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی کمال سے ہے اور پھر قادیانیت کا وجود ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی ہے (معاذ اللہ)۔ اس کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ جو شخص جتنا بڑا عاشقِ رسول ہو گا، اسے اتنا زیادہ قادیانیت سے نفرت اور ختم نبوت سے والہانہ عشق ہو گا۔ یہی حال میرے ممدوح حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی کا تھا، آپ فدائے ختمِ نبوت تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کراچی سے ٹرین کے ذریعہ جو وفد ۲۶ اپریل کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی میں شرکت کے لیے روانہ ہوا مولانا محمد یحییٰ مدنی اس وفد کے امیر تھے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا مفتی نظام الدین، مولانا مفتی محمد جمیل خان کے بعد قدرت نے آپ کو کراچی میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا منادی بنا دیا۔
عقیدۂ ختم نبوت سے والہانہ عشق اور معہد الخلیل کی خدمات
آپ نے ختم نبوت کانفرنس شاہی مسجد لاہور، ختم نبوت کانفرنس چناب نگر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی اجلاس، مجلس شوریٰ منعقدہ خانقاہ سراجیہ میں بارہا شرکت فرمائی۔ مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمہ اللہ کے بعد آپ کراچی مجلس کے سرپرست چنے گئے۔ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے خدام آپ کی مثالی محبتوں کا محور و مرکز ہوتے تھے۔ بارہا اپنے ادارہ معہد الخلیل بہادرآباد میں ختم نبوت کے عنوان پر کورس کراتے، طلباء و طالبات میں بیان ہوتے۔ آپ کی محبتوں کا یہ عالم ہوتا کہ بیان کے پورے دورانیہ شریکِ محفل رہتے، اپنے اساتذہ، طلباء، فرزندانِ گرامی و عزیز و اقارب، متوسلین، منتسبین، شاگردوں اور نمازیوں کو فرداً فرداً ذاتی طور پر ان پروگراموں میں شرکت کا پابند کرتے۔
سہ ماہی پروگرام جو ایک شادی ہال گل بہار لان بہادرآباد میں منعقد ہوتا اس کی آپ ہمیشہ صدارت فرماتے، آپ نے معہد الخلیل بہادرآباد کراچی کو حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کے نام سے معنون کیا۔ آپ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصانیف کو اہتمام کے ساتھ اپنے ادارہ سے شائع کر کے عام کیا۔ آپ نے بیک وقت تدریس، تبلیغ، بیعت و ارشاد، محافلِ ذکر و بیان، دینی اداروں کے قیام و سرپرستی، نشر و اشاعت، چھوٹوں کی سرپرستی، غرضیکہ نامعلوم کتنے خیر کے کام تھے جو آپ نے جاری کر رکھے تھے۔ ہر سال حج پر جانا آپ کی زندگی کا گویا معمول قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال ختم نبوت کانفرنس چناب نگر حج سے کچھ ہفتے پہلے منعقد ہوئی۔ آپ کانفرنس میں آغاز سے قبل تشریف لائے، اختتام پر تشریف لے گئے، آپ نے بیان بھی فرمایا، ایک اجلاس کی صدارت کو بھی عزت بخشی، کانفرنس پر سدابہار نظر آتے تھے۔
آپ کی ایک ایک ادا سے عشقِ رسالت مآب ٹپکتا تھا۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے بیسیوں حفظ و کتب کے وفاقی طلباء کو آپ نے اپنے ہاتھوں سے اسناد دیں۔ اس دوران آپ کی طبیعت پر بے نفسی و محبت کا ایسا غلبہ ہوا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری سے فرمایا کہ آپ مدرسہ ختم نبوت کے طلباء میں میرا نام بھی شامل کریں، رجسٹرِ داخلہ میں میرا نام ضرور درج کریں۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری پر رقت طاری ہو گئی کہ حضرت آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس وقت تو آپ کو شیخ الکل اور رأس المال کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن آپ کا اصرار اس حد تک بڑھا کہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے نہ صرف وعدہ کیا، بلکہ مدرسہ کے صدر المدرسین مولانا غلام رسول دین پوری کو تعمیلِ ارشاد کے لیے بھی فرمایا۔
غرض مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ خوبیوں اور خیر کا منبع و چشمہ تھے، آپ سے حق تعالیٰ نے بہت ہی کام لیا، وہ کیا گئے تاریخ کا ایک سنہری باب مکمل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صحیح معنوں میں حضرت کے علوم کا وارث بنائے اور کارہائے خیر کو جاری رکھنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔