بے کیف سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
از: بنت جناب مردان شاہ بخاری
كيسى بے کیف سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے
جس طرح ہماری زندگی میں خوشیوں کے لمحات آتے ہیں، اسی طرح غموں کی تاریکیاں بھی آتی رہتی ہیں۔ مگر کچھ غم تو ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ میرے حضرت جی رحمہ اللہ کو ہم سے جدا ہوئے تقریباً ایک سال ہونے کو ہے لیکن آج بھی ان کو ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں، کہ حضرت جی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وہ ہاتھ جو ہماری ہر پریشانی اور خوشی میں دعا کے لیے اٹھते تھے وہ شفیق و محسن رہنما آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔ دنیاوی اعتبار سے بڑی بڑی پریشانیاں آئیں جن کا حل ہونا بظاہر مشکل لگتا تھا، لیکن جب میں حضرت جی کو بتا دیتی تو وہ بہت فکر مند ہو جاتھے اور ساتھ ہی دعا فرماتے تو مجھے قلبی سکون مل جاتا کہ حضرت جی کہہ رہے ہیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ مسئلہ حل ہو ہی جائے گا اور حقیقتاً وہ مسئلہ بغیر کسی نقصان کے حل ہو جاتا تھا۔
صاف معاملہ، تدریسی شفقت اور عملی سادگی
حضرت جی انتہائی صاف دل، پاک زبان اور صاف معاملہ رکھنے والے تھے۔ خاص طور پر معاملہ صاف رکھنے کی تلقین فرماتے، جس کی عملی تفسیر آپ خود تھے، کہ جب مدرسہ کی کینٹین سے معلمات یا طالبات کی دعوت کرتے تو رقم فوراً بھیج دیتے تھے۔ حضرت جی رحمہ اللہ کی کوئی مجلس نفع سے خالی نہ ہوتی تھی، جب بھی بات ہوتی تو ماحول میں ایسا محسوس ہوتا کہ حضرت جی سمیت ہر چیز اللہ کا ذکر کر رہی ہے۔ نماز کو اول وقت میں ادا کرنے کی بہت تلقین فرماتے۔ ابتدائی درجات کے متعلق جب بات ہوتی تو سختی کرنے سے منع فرماتے ہوئے کہتے: ’’بیٹی! یہ بچیاں بے دین ماحول سے آئی ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، پیار سے سمجھاتی رہیں، ساتھ میں دعا بھی کرتی رہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور فضل فرمائیں گے‘‘۔
مجھے ایک جسمانی تکلیف سال بھر رہی، حضرت جی کی صحت دو تین سال سے ناساز تھی تو میں نے ان سے اپنی بیماری کا ذکر نہ کیا، کیوں کہ کوشش یہ ہوتی تھی کہ حضرت جی کو کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جس سے وہ فکر مند ہو جائیں۔ بہرحال ڈاکڑی علاج بہت کروایا لیکن افاقہ نہ ہوا۔ پھر حجامہ کروایا تو اس ڈاکٹر نے کہا کہ آپ فلاں عامل کے پاس چلی جائیں تو آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔ یہ ایسی بات تھی کہ حضرت جی سے مشورہ کیے بغیر نہیں کر سکتی تھی، حضرت جی سے بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ ’’کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے، میں آپ کو عمل بتاتا ہوں وہ کریں ان شاء اللہ تکلیف ختم ہو جائے گی‘‘، پھر واقعتاً وہ تکلیف جو سال بھر سے تھی ختم ہو گئی۔
وقت کی پابندی اور اخلاقیات کی پاسداری
حضرت جی رحمہ اللہ وقت کی پابندی کی بہت تلقین فرماتے تھے اور یہ پابندی ان کی اپنی زندگی میں بھی نظر آتی تھی، وہ اس طرح کہ مدرسہ کی کوئی تقریب ہوتی یا گھر کی، تقریب کے آغاز کا جو وقت بتایا جاتا تھا اسی وقت تقریب کا آغاز ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ غالباً ششماہی امتحانات بنین و بنات کے شروع ہونے والے تھے تو حضرت جی نے آخری دن کے پرچے کے متعلق فرمایا: ’’جن معلمات اور اساتذہ کرام کا آخری پرچہ ہے وہ اسی دن مدرسہ میں پرچہ چیک کر کے جائیں، تاکہ نتائج کا اعلان وقت پر کیا جا سکے‘‘۔ پھر آخری پرچے کے دن ابھی ہمارے تمام پرچے چیک بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت جی نے اپنی کتاب سنن ابو داؤد شریف کے پرچے چیک کر کے بنات بھجوا دیے۔ اخلاقیات پر خصوصی توجہ دیتے تھے، آپس کی گفتگو میں ’’ابے، او، یار‘‘ وغیرہ جیسے الفاظ سخت ناپسند فرماتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اگر کوئی طالبہ یا طالب علم ذہنی اعتبار سے کمزور ہے وہ تو مدرسہ آ سکتا ہے، لیکن اخلاقی اعتبار سے کوئی شکایت ہو اور سمجھانے کے باوجود بھی درستگی نہ آئے تو وہ کہیں اور چلا جائے یہاں اس کی ضرورت نہیں‘‘۔
معلمات کے لیے شفقتیں اور دلنشین خواب
طالبات، معلمات اور خالاؤں کے ساتھ بہت ہی شفقت کا معاملہ فرماتے۔ ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا: ’’آپ معلمات کا یونیفارم اور عبایا کتنے تک کا آ جائے گا؟‘‘ میں نے عرض کیا: حضرت! تقریباً دو ہزار روپے کا تو فرمایا: ’’ہر معلمہ کے لیے تین ہزار روپے بھیج رہا ہوں، یہ میری طرف سے تمام معلمات کے لیے ہدیہ ہے‘‘۔ سالانہ چھٹیاں ہونے سے پہلے پورے مدرسے کی دعوت کرتے۔ تمام انتظامات کی خود نگرانی کرتے کہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔ پھر تمام معلمات کو مالی ہدیہ دیتے یا پھر سال کے آغاز میں دیتے… جن دنوں حضرت جی رحمہ اللہ کا وصال ہوا، بندی ذہنی طور پر بہت پریشان تھی تو بندی نے خواب میں حضرت جی رحمہ اللہ کو غالباً احرام باندھے ہوئے بہت خوبصورت باغ میں ایک درخت کے نیچے چند بزرگ ہستیوں کے ساتھ اطمینان کے ساتھ باتوں میں مصروف دیکھا، تو ایک قلبی اطمینان ہوا کہ حضرت جی رحمہ اللہ اپنے رب کے پاس بہت اچھی جگہ پر ہیں۔ مثل اس شعر کے:
جو تھے نوری وہ گئے افلاک پر
مثل تلچھٹ کے رہ گیا میں خاک پر
حضرت جی رحمہ اللہ جب حیات تھے تو اس بات سے دل کو تسلی رہتی تھی کہ حضرت جی دعا فرمائیں گے تو ان شاء اللہ ہماری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔ اب جبکہ میرے روحانی والد و شیخ ہمارے درمیان موجود نہیں تو دل پر بے چینی طاری ہے، ان کی جدائی پر دل کٹنے لگتا ہے، آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتیں اور فیصلے ہوتے ہیں، جس کے آگے انسان کچھ نہیں کر سکتا سوائے رضا بالقضا کے۔ اللہ تعالیٰ حضرت جی رحمہ اللہ کو ان کے احسانات و شفقتوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے، انہیں اپنے جوار میں بلند مقام عطا فرمائے اور حضرت جی رحمہ اللہ کی آل و اولاد اور متعلقین میں ان کی خدمات کو تا قیامت جاری و ساری فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔