مضامین

!باتیں ان کی یاد رہیں گی

مولانا عبدالملک عتیق صاحب (مدینہ منورہ)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔

سب سے پہلی زیارت:
یہ غالباً ۱۳۹۹ھ / ۱۹۷۹ء کی بات ہے کہ میرے والد ماجد حضرت مولانا قاری نسیم الدین صاحب مدظلہ ریاض مسجد دہلی مرکنٹائل سوسائٹی میں امام و خطیب کی حیثیت سے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ بندہ کی عمر اس وقت چار سال کی تھی، نماز کے وقت جب والد صاحب نماز کی تیاری کرتے تو احقر بھی اپنے والد ماجد کی نقل میں نماز کی تیاری ان کے ساتھ ان جیسی کرتا، گویا کہ میں بھی نماز پڑھنے کے لیے جا رہا ہوں اور پھر انہی کے ساتھ گھر سے مسجد کی طرف نکل آتا۔ والد ماجد مدظلہ کی طرف سے بندہ کے لیے اس وقت یہ تنبیہ ہوتی کہ نماز کا وقت ہے مسجد میں شرارت نہ کرنا۔ ان کی ڈانٹ کا یہ اثر ہوتا کہ نماز پڑھانے کا جو جوش ہوا کرتا وہ بیٹھ جاتا۔

مسجد تو کیا اپنے ہی گھر کے دروازہ کے قریب سیڑھیوں پر کھڑا ہو جاتا، یہ سیڑھیاں مسجد کی طرف جایا کرتی تھیں جو نمازی مسجد کی طرف جا رہے ہوتے ان کو دیکھتا رہتا۔ اتنے میں نماز کھڑی ہو جاتی اور نمازی تیزی کے ساتھ مسجد کی طرف جا رہے ہوتے، تمام نمازیوں میں صرف ایک نمازی ایسے ہوتے جو نماز میں شامل ہونے کی تیزی میں بھی مجھ ناچیز پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے اور تیزی سے مسجد میں داخل ہو جاتے۔ تقریباً ہر روز کا معمول تھا۔ آج بھی اس شفقت اور محبت کا مزہ یاد ہے کیونکہ یہ معمول صرف ایک نمازی کا تھا۔

کچھ دن ایسے ہی گزر گئے، ایک دفعہ احقر اپنے والد صاحب مدظلہ کے ساتھ کسی نماز کے بعد کہیں جانے کے لیے اپنے گھر سے نیچے اترا تو اس شفیق ذات کو اپنے گھر کے نیچے کھڑا دیکھا۔ زور سے چلا کر اپنے والد صاحب سے مخاطب ہوا: ابو! ابو! یہ آدمی مجھے ہر نماز میں جاتے ہوئے پیار کرتے ہیں۔ یہ آواز انہوں نے بھی سن لی اور حسبِ معمول سر پر وہی شفقت بھرا ہاتھ پھیرا اور میرے والد صاحب مدظلہ سے باتوں میں مشغول ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعد میرے والد صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ یہ ایک بزرگ آدمی ہیں، ہمارے گھر کے برابر میں رہتے ہیں، اس لیے مسجد میں آتے جاتے تمہیں پیار کرتے ہوں گے، ان کا نام مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب ہے۔ (اور بھی کچھ فرمایا تھا لیکن اتنا ہی یاد رہا)۔

پیار بھرے نقوش:
یہ پہلا تأثر تھا جو یاد رہ گیا، یہ پیار بھرے، شفقت بھرے نقوش تھے جو اب تک اتنے گہرے ہیں، تادمِ تحریر بھی ان کے پیار کی لذت محسوس ہو رہی ہے۔ اس تعارف کے بعد حسبِ معمول جب بھی یہ شفیق ذات مسجد کی طرف جاتی تو اب شفقت کے ساتھ ساتھ جانبین سے مسکراہٹ کا تبادلہ ہوتا اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہا۔ لیکن اس دوران حضرت اقدس رحمہ اللہ نے مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد رکھی جس میں حضرت اقدس مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ تشریف لائے تھے، حضرت اقدس رحمہ اللہ کی شفقت کہ انہوں نے میرے والد صاحب مدظلہ سے فرمایا کہ مدرسہ کی افتتاحی تقریب میں اس بچہ نے بھی تلاوتِ قرآن کریم کرنی ہے، لہٰذا ان کے حکم پر اس ناکارہ نے بھی تلاوتِ قرآن کریم میں حصہ لیا اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی، اس وقت احقر کو صرف سورۂ فاتحہ ہی یاد تھی۔

جب احقر حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کر چکا تو ایک دن میرے والد صاحب مدظلہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا بچہ کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟ والد ماجد مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کے ہاں پڑھانے کا ارادہ ہے، ان کے ہاں شہری بچوں کے لیے اچھا ماحول ہے، امید ہے کہ وہاں پڑھ جائے گا۔ والد صاحب مدظلہ نے تو اسے جواب دے دیا اور احقر سوچتا ہی رہ گیا کہ یہ کون شخصیت ہیں۔ اس مجلس سے اٹھنے کے بعد والد صاحب مدظلہ سے احقر نے پوچھا کہ اب میں نے کہاں پڑھنا ہے؟ اور وہ کون آدمی ہیں جن کے بارے میں آپ اپنے دوست کو بتا رہے تھے؟ حضرت والد صاحب مدظلہ نے جب تفصیل سے مجھے سمجھایا تو حضرت اقدس رحمہ اللہ کی شفقت یاد آ گئی اور خوب اطمینان ہو گیا۔

مدرسہ معہد الخلیل میں داخلہ:
عید الفطر کے چوتھے دن ۴ شوال المکرم کو صبح دس بجے کے لگ بھگ والد صاحب مدظلہ کے ہمراہ حضرت اقدس رحمہ اللہ کے پاس داخلہ کے لیے حاضری ہوئی، حضرت اقدس رحمہ اللہ اپنے گھر کے سامنے مسجد رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے، دو چار اور لوگ بھی ساتھ تھے۔ جب احقر نے حضرت اقدس رحمہ اللہ کی زیارت کی تو تمام ماضی کی یادیں اور وہ شفقتیں یاد آ گئیں۔ حضرت والد ماجد مدظلہ تو حضرت اقدس رحمہ اللہ سے باتوں میں مصروف ہو گئے۔ احقر یہی سوچتا رہ گیا کہ مدرسہ کہاں ہے؟ اس وقت تک مدرسہ کی عمارت میں تعلیم شروع نہیں ہوئی تھی، حضرت اقدس رحمہ اللہ کے گھر کے سامنے مسجد رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم میں تعلیم ہوا کرتی تھی۔

حضرت اقدس رحمہ اللہ کے مہمان خانہ میں قیام:
بندہ کا گھر دور ہونے کی وجہ سے داخلہ رہائشی ہوا، لیکن یہاں نہ تو باقاعدہ مدرسہ کی عمارت تھی اور نہ ہی دار الاقامہ، لہٰذا یہاں بھی حضرت اقدس رحمہ اللہ کی شفقت کہ انہوں نے اس ناچیز کو اپنی اولاد کی طرح اپنے گھر میں رکھا اور گھر کا ایک کمرہ جو مہمانوں کے لیے استعمال ہوا کرتا تھا، ناچیز کی رہائش کے لیے مختص کر دیا۔ صبح سات بجے سے عشاء کی نماز تک تو اپنی تعلیمی مصروفیات میں ہوتے اور پھر اس کے بعد حضرت اقدس رحمہ اللہ کے گھر کے ایک فرد کی طرح گھر میں رہتے۔ کھانا بھی حضرت اقدس رحمہ اللہ کے گھر سے آتا تھا اور حضرت اقدس رحمہ اللہ خود ہی اٹھا کر گھر کے اندر سے لایا کرتے تھے۔ میری عمر چونکہ چھوٹی تھی اس لیے گھر کے باورچی خانہ سے کھانا لانے اور پھر کھانے کے بقیہ برتن وغیرہ لیے جانے میں احقر حضرت اقدس رحمہ اللہ کا معاون ہوا کرتا۔ بڑی بھاری اور محتاط چیزیں تو حضرت اقدس رحمہ اللہ اٹھاتے اور چھوٹی چھوٹی تمام چیزیں لانا بندہ کے ذمہ ہوتا۔

اور اس ناکارہ کو اچھی طرح یاد ہے کہ صبح نماز کے وقت حضرت رحمہ اللہ احقر کو نہایت ہی شفقت سے بیدار کیا کرتے اور فرماتے کہ ’’جاؤ مسجد میں تلاوتِ قرآن کریم میں مشغول ہو جاؤ‘‘۔ جب یہ ناچیز ان کے حکم کے مطابق عمل کرتا تو بہت خوشی کا اظہار فرماتے اور خوب دعائیں مرحمت فرماتے اور نہایت خوش ہو ہو کر اپنی ہفتہ واری پیر کی مجلس میں (जो اس وقت حضرت رحمہ اللہ کے گھر کے اندر باغیچہ میں ہوا کرتی تھی) اس کا ذکر فرماتے، اور ایک دفعہ اس ناکارہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ’’جب بھی فجر سے پہلے مسجد میں گیا اس بچہ کو تلاوتِ قرآن کریم کرتے ہوئے پایا‘‘۔

ناشتہ کا سامان اندر گھر سے لے کر آنا احقر کی ذمہ داری تھی۔ احقر اندر سے ناشتہ کا سامان لا کر دسترخوان میں رکھتا رہتا اور حضرت اقدس رحمہ اللہ دسترخوان میں بیٹھنے تک میرے لیے ناشتہ تیار کر کے اپنے دستِ مبارک سے چائے وغیرہ نکال کر رکھتے اور فرماتے کہ ’’میرے پاس بیٹھو!‘‘ اور پھر اپنے پاس بٹھا کر ناشتہ کرواتے۔ اتنی دیر میں طلبائے کرام مدرسہ میں حاضر ہو جاتے اور احقر جلدی جلدی گھر کے اندر برتن پہنچا دیتا اور وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر مدرسہ کے روزانہ کے معمول سورۂ یٰسین شریف کے پڑھنے میں شریک ہو جاتا۔

احقر نے درجہ اعدادیہ میں نو سال کی عمر کے لگ بھگ داخلہ لیا اور درجہ سادسہ تک مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی میں حضرت اقدس رحمہ اللہ کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے مدرسہ معہد الخلیل کے بنیادی اغراض و مقاصد میں اولاً تربیت اور پھر بعد میں تعلیم کو معیار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلباء جو تعلیمی لحاظ سے کمزور تھے لیکن تربیت کے حوالہ سے قابلِ اطمینان تھے، ہمیشہ ان کی پذیرائی فرماتے اور تعلیمی کمزوری پر ہمیشہ ہمت بندھاتے۔ ہمارے دینی مدارس میں تربیت کا فقدان بہت بڑا المیہ ہے، جس کا تدارک نہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی قابلِ اطمینان توجہ دی جا رہی ہے۔

البتہ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے اس کمی کا شدت سے احساس فرمایا اور اپنے مدرسہ معہد الخلیل میں تربیت کا عنوان مقدم رکھا اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ (جن کی حیثیت اپنے اکابر متقدمین و متاخرین میں مسلم تھی) کی ذات کو خوب قریب سے دیکھا اور طویل صحبت اٹھائی اور خوب پڑھا اور پھر خوب پڑھایا اور ان کی جانشینی کا حق ادا کر دیا۔ پورے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں علمی و خانقاہی حلقوں میں مدرسہ معہد الخلیل تربیت کے عنوان سے مقدم اور ممتاز سمجھا جاتا ہے اور الحمد للہ ثم الحمد للہ حضرت اقدس مولانا سعید احمد صاحب مدظلہ اور صاحبزادگان حضرت اقدس مولانا محمد الیاس صاحب اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب زید مجدھما حضرت اقدس رحمہ اللہ کے مشن کی تکمیل فرما رہے ہیں۔

احقر کو الحمد للہ مدرسہ معہد الخلیل سے سب سے بڑا فائدہ یہی ہوا کہ حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ کو خوب پڑھا (احقر کو حضرت شیخ کی زیارت کی سعادت بھی حاصل ہے) اور ان کے تذکرہ میں چونکہ تمام اکابرین متقدمین و متأخرین کے تذکرے خود بخود آ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے اکابرین علمائے دیوبند رحمهم اللہ کے مسلک و مشرب اور مزاج و مذاق کو سمجھنا آسان ہو گیا۔ ہمیں اپنے بنیادی مقاصد تک پہنچنے کے لیے اب ان کی سوانح کو سبقاً سبقاً پڑھانے کی ضرورت ہے (الحمدللہ، ماشاء اللہ مدرسہ معہد الخلیل میں یہی طریقۂ کار رائج ہے) تاکہ اہلِ مدارس اپنی حقیقت کو پہچان کر اپنے اکابرین کے بنیادی مقاصد کو آگے بڑھا سکیں۔ دعا ہے کہ رب کریم ہمارے اربابِ مدارس کو اس کا فہم و شعور عطا فرمائے۔ آمین۔

احقر نہ تین میں نہ تیرہ میں:
دورانِ طالب علمی اس ناچیز کی حالتِ زار تو یہ تھی کہ احقر نہ تین میں تھا اور نہ تیرہ میں۔ نہ تو تعلیمی لحاظ سے قابلِ اطمینان اور نہ ہی تربیت و اخلاق کے حوالے سے، اس لیے کسی درجہ سے میں بھی اس قابل نہ تھا کہ مدرسہ کے مقاصد میں کوئی کردار ادا کرتا، لیکن قربان جاؤں حضرت اقدس رحمہ اللہ کی بے پناہ اور بے انتہا شفقتوں پر اول تا آخر یہاں تک کہ دنیا سے پردہ فرمانے تک ہمیشہ میرے لیے سراپا شفقت بنے رہے اور ہر موقع پر ہمیشہ شفقت کا معاملہ فرمایا۔ آج سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ کس تحمل مزاجی کے ساتھ اس ناچیز کو برداشت کیا اور صرف اس امید پر کہ شاید یہ ناکارہ کام کا بن جائے۔ آج تک تو نہ بن سکا، لیکن امید ہے کہ آخرت میں حضرت اقدس رحمہ اللہ کی اس معمولی نسبت کی لاج رکھ کر اللہ رب العزت ضرور درگزر کا معاملہ فرما دیں گے۔

احقر کی طرف سے تو ہمیشہ حضرت رحمہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کوتاہی رہی، لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے کسی درجہ میں کوئی کمی آئی ہو، باوجود میری بے پناہ نالائقیوں کے ہمیشہ ہر موقع پر حضرت رحمہ اللہ نے یاد رکھا۔ رمضان شریف، عاشورۂ محرم، عید الفطر و عید الاضحی یا سال کے اور متفرق مواقع میں خصوصیت سے یاد فرماتے اور خوب مادی ہدایا عنایت فرماتے۔ حضرت اقدس کے دل کے آپریشن کے موقع پر احقر ایک بزرگ رحمہم اللہ کے ہمراہ ہسپتال عیادت کے لیے حاضر ہوا، میری حاضری پر بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں اور اپنا معمول پورا فرمایا۔ اور یہ سلسلہ طالب علمی کے دور سے آخری ملاقات تک جاری رہا۔ یہ حضرت رحمہ اللہ کی عنایات اور مہربانیاں ہی ہیں، ورنہ یہ نالائق اس قابل نہ تھا اور نہ ہے۔

مدرسہ معہد الخلیل کے رسمی تعلیمی دورانیے کے بعد (مدرسہ سے چلے جانے کے بعد) جب تک پاکستان میں رہا خود ہی فون کرتے، احقر کو اپنے پاس بلواتے اور کسی قدر خدمت کا موقع عنایت فرما کر حسبِ معمول مادی ہدایا سے خوب نوازتے، اور جب پاکستان سے باہر مدینہ منورہ میں مقیم رہا، مجھ سے فون پر بات فرماتے اور میری ہر طرح کی نالائقی کے باوجود میرے لیے خوب دعائیں فرماتے اور میری ٹوٹی پھوٹی معمولی سی دینی خدمات پر ہمت افزائی فرماتے اور پھر کسی نہ کسی طرح کئی واسطوں سے ہدایا دینے کا معمول پورا فرماتے اور احقر سوچتا ہی رہ جاتا کہ میری نالائقیوں کے باوجود حضرت اقدس رحمہ اللہ کس قدر حقوق کی ادائیگی کی فکر فرماتے ہیں۔ ان حقوق کی فکر تو مجھے کرنی چاہیے تھی۔ الغرض میری بے التفاتی اور بے توجہی جتنی بڑھتی اتنی ہی حضرت اقدس رحمہ اللہ کی عنایات اور توجہات میں اضافہ ہوتا اور احقر شرم سے پانی پانی ہو جاتا۔

جب حضرت اقدس رحمہ اللہ کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوتی تو فوراً فون کر کے احقر کو یاد فرماتے اور ناکارہ کو اپنی خدمت کی سعادت مرحمت فرماتے، بعض اوقات تو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے مدینہ منورہ میں حاضری کے بعد کئی دنوں تک حرمِ نبوی (مسجد نبوی) صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کی نوبت نہ آتی، پھر بھی احقر کو اس حالت میں بلوا کر جو خدمت میرے لائق ہوتی وہ سپرد فرما کر حسبِ معمول اپنی طرف سے ہدایا کا ضرور اہتمام فرماتے۔ جب کوئی قریبی مدینہ منورہ حاضر ہوتا تو اس کے ہاتھ سلام و پیغامات اور حسبِ معمول ہدایا روانہ فرماتے اور کبھی احقر معمولی سا ہدیہ دینے کی سعادت حاصل کر لیتا تو اگلی ملاقات پر اس کا بھرپور شکریہ ادا فرماتے، ہدیہ تو معمولی سا ہوتا اور اس کا شکریہ اس سے کہیں زیادہ ہوتا اور ساتھ ساتھ فرماتے: ’’آئندہ نہ کیجیو‘‘۔ احقر عرض کرتا میرا بھی دل چاہتا ہے تو فرماتے: ’’آپ تو مدینہ منورہ میں ہیں، بس میرے لیے دعا کیجیواور سلام کا اہتمام کر لیو، بس میرے لیے یہی کافی ہے‘‘۔

کئی سالوں سے حضرت اقدس رحمہ اللہ کی مدینہ منورہ آمد کے موقع پر احقر عرض کرتا کہ ہمارے مدرسہ اور گھر پر ضرور تشریف لائیں، میری اس گزارش پر بھرپور کوشش فرماتے لیکن اپنی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے بالآخر عذر فرما دیتے، لیکن ۱۴۳۳ھ کے شعبان و رمضان شریف کے سفرِ عمرہ کے موقع پر آخرکار حضرت رحمہ اللہ نے یہ سعادت بھی عنایت فرما دی۔ مختصر قصہ یوں ہوا کہ شبِ جمعہ بعد نمازِ عشاء حضرت رحمہ اللہ سے بندہ نے گزارش کی، حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے، ہفتہ کے دن نمازِ فجر کے بعد آپ کے یہاں آئیں گے، فجر کے بعد فوراً یہیں حرمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں لے لینا اور آپ کے ساتھ ہی مسجدِ قباء میں حاضری دے کر نماز ادا کر کے آپ کے گھر ناشتہ کر لیں گے‘‘۔ اس موقع کو غنیمت جان کر احقر نے اپنے جامعہ دار العلوم کراچی کے دو اساتذہ حضرت مولانا مفتی عبدالرؤوف سکھروی صاحب مدظلہ اور حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب مدظلہ کو بھی عرض کر دیا (یہ حضرات بھی ان دنوں مدینہ منورہ میں موجود تھے)۔ ان حضرات نے بھی شفقت فرمائی اور اس طرح یہ تمام حضرات احقر کے غریب خانہ پر جمع ہو گئے۔ حضرت اقدس رحمہ اللہ نے جلد ہی ناشتہ سے فراغت کے بعد احقر کے ہاں آرام فرمایا اور اس ناچیز کے ساتھ وادیٔ بیضاء کہ جہاں کششِ ثقل کی وجہ سے ہر چیز ایک ہی سمت کی طرف کھنچی چلی آتی ہے کی طرف تشریف لے گئے۔ اس کے بعد ایک متحف (میوزیم) پر بھی حضرت اقدس رحمہ اللہ کے ساتھ جانا ہوا اور پھر اذانِ ظہر کے وقت حضرت اقدس رحمہ اللہ کو مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پہنچا دیا۔ غرض جس سعادت کے لیے ایک عرصہ تک تمنا کرتا تھا آخرکار وہ سعادت بھی عنایت فرما گئے۔

وفات سے قبل آخری حج میں مدینہ منورہ آمد کے موقع پر حسبِ معمول راقم کو بلایا اور اپنی مرتب کردہ کتاب ’’تنویر الافہام‘‘ کے تقریباً ڈھائی ہزار نسخے عنایت فرمائے کہ یہ حرمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد کتب خانوں میں بیچ دیے جائیں۔ ان میں سے تو دو تہائی فوری طور پر بک گئے اور اس کی طے شدہ رقم حضرت اقدس رحمہ اللہ کو دیدی گئی۔ یہ حضرت رحمہ اللہ سے میری آخری ملاقات تھی، اس آخری ملاقات میں جب حضرت رحمہ اللہ کے ہاں کمرہ میں حاضری ہوئی تو حضرت رحمہ اللہ آرام فرما رہے تھے اور احقر انتظار میں بیٹھا تھا کہ یکایک حضرت اقدس رحمہ اللہ کی آنکھ کھلی میرا نام لے کر فرمایا کہ ’’آ گئے‘‘ احقر نے عرض کیا: جی ہاں! حاضر ہے۔

اس وقت جو بات فرمانی تھی وہ فرمائی اور پھر بندہ نے جانے کی اجازت لینی چاہی اس وقت حضرت اقدس رحمہ اللہ کی حالت روتے روتے قابو سے باہر ہو گئی اور عجیب رقت طاری تھی، انتہائی لجاجت سے فرما رہے تھے کہ ’’بیٹا عبدالملک! میرے لیے یہ یہ دعا کیجیو‘‘۔ احقر سر جھکا کر حضرت رحمہ اللہ کے ارشادات پر اثبات میں جی جی عرض کرتا رہا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دعا کے لیے احقر عرض کرتا، لیکن یہ انداز تو حضرت اقدس رحمہ اللہ کا قدیم مشفقانہ انداز تھا۔ اکثر دعا کے لیے یہی انداز اختیار فرماتے تھے۔ احقر اسے آپ کا حسنِ ظن کے سوا اور کچھ عنوان نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد حضرت اقدس رحمہ اللہ نے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ بہرحال چلے جانے والے جا رہے ہیں اور جاتے رہیں گے، مگر ان کی باتیں یاد رہیں گی۔