مضامین

عظیم روحانی شخصیت

حضرت مولانا مفتی عبدالحمید ربانی صاحب
مہتمم جامعہ دار الہدیٰ کراچی

شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی شخصیت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی عظیم، مشہور، روحانی و علمی شخصیت تھی۔ بندہ نے حضرت والا رحمہ اللہ میں زہد، تقویٰ، انکساری، فنائیت، بے نفسی اور سبقت الی الخیر جیسی صفات کو واضح پایا۔ آج ہم ان کے فیض سے محروم ہو گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

حضرت والا رحمہ اللہ سے بندہ کا تعارف دورۂ حدیث کے سال ہوا، جب حضرت والا کی طرف سے جامعہ اسلامیہ امدادیہ کے دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی آپ بیتی، حضرت مولانا محمد عاقل صاحب دام مجدہم کی سننِ ابو داؤد شریف کی تقریر اور زاد الخلیل حضرت والا کی طرف سے ہدیہ میں دیے گئے۔ پھر ہم کراچی آ گئے اور جامعہ فاروقیہ کراچی میں تخصص فی الافتاء کے زمانہ میں آپ کا اسمِ گرامی بہت سنا اور غائبانہ طور پر دل ہی دل میں آپ سے متعلق ایک عظیم روحانی شخصیت کا تأثر قائم ہوتا رہا۔ اس تأثر میں مزید پختگی اس وقت بھی ہوئی جب جامعہ فاروقیہ کراچی میں تدریس اور افتاء کی خدمت کے زمانہ میں وہاں سے تعلیم پانے والے ہمارے دو طالب علم ساتھی (مولوی عبدالرحمن صاحب کوہستانی اور مولوی نثار احمد صاحب) کا تقرر جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں ہوا، تو ان صاحبان سے حضرت والا رحمہ اللہ کے بارے میں عقیدت اور محبت کی باتیں اور مدرسہ اور مدرسہ کے باہر کے معاملات میں آپ کی للٰہیت کے واقعات سننے کو ملتے تھے۔

کچھ عرصہ بعد جب آپ کے دو لائق صاحبزادگان حضرت مولانا محمد الیاس مدنی اور حضرت مولانا محمد یوسف مدنی زید مجدہم کی وساطت سے حضرت والا رحمہ اللہ سے براہِ راست تعلق ہوا تو آپ سے متعلق سابقہ تمام خیر اور عقیدت کے تصورات جہاں کھلی آنکھوں سے دیکھنے کو ملے وہیں آپ سے دلی عقیدت اور احترام میں کئی گنا اضافہ ہوا، بلکہ اس کے بعد سے بندہ حضرت والا رحمہ اللہ کو اپنے روحانی سرپرست کی حیثیت سے سمجھتا اور حضرت والا رحمہ اللہ بھی بندے سے انتہائی شفقت اور محبت کا برتاؤ فرماتے تھے۔ جزاہ الله تعالی عنی خير الجزاء۔

یوں تو حضرت والا رحمہ اللہ کی شخصیت ہمہ گیر نوعیت کی اور خلقِ خدا کے لیے خیر کے جذبات رکھنے والی اور نفع رساں تھی۔ حضرت والا دین کے کاموں میں ہمیشہ صفِ اول میں رہے، چاہے وہ علمی خدمت ہو یا تبلیغی خدمت، تاہم بندے کے پیشِ نظر حضرت والا رحمہ اللہ کی جو دو صفات ذکر کرنا ہے، ان میں سے ایک بھلائی کے کاموں میں آپ کی پیش قدمی اور انفاق فی سبیل اللہ میں مسارعت کی صفت ہے، اور دوسری صفت آپ کی تربیت کا عمدہ اسلوب ہے۔ حضرت والا رحمہ اللہ کی پہلی صفت کا مشاہدہ بندہ کو بارہا ہوا، چنانچہ زلزلہ زدگان و سیلاب زدگان کی امداد کے موقع پر آپ نے اپنے صاحبزادگان حضرت مولانا محمد الیاس مدنی اور حضرت مولانا محمد یوسف مدنی مدظلہما اور بندے کے ہاتھوں ایک خطیر رقم صرف فرمائی۔ آپ نے ہمیں تاکید فرمائی کہ ہم ان علاقوں میں مساجد کا انتظام کریں، جتنے مکاتبِ قرآنیہ کی ضرورت ہو وہ قائم کریں، ان میں اساتذہ کا تقرر کریں اور وہاں قرآن کریم مہیا کریں اور ان تمام اساتذہ کرام کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی ذمہ داری آپ نے خود اٹھائی۔ یہ آپ کا دین کے لیے خرچ کرنے کا جذبہ تھا جو آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بھی ہے۔

جہاں تک حضرت والا رحمہ اللہ کی طرف سے عمدہ تربیت دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حضرت والا رحمہ اللہ کے تمام بچوں اور بچیوں کا حافظِ قرآن کریم اور عالمِ دین ہونا شاہدِ عدل ہے اور باہر کے حلقے میں عامۃ الناس میں عمدہ تربیت کے سلسلے میں حضرت والا رحمہ اللہ کا بلند مقام اظہر من الشمس ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت والا رحمہ اللہ کے روحانی فیض سے خلقِ کثیر فیضیاب ہوئی۔

جامعہ دار الہدیٰ گلستانِ جوہر کراچی کے ساتھ بھی حضرت والا رحمہ اللہ کا شفقت بھرا تعلق رہا ہے۔ ہمارے جامعہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر آپ ضعف اور پیرانہ سالی کے باوجود تشریف لائے، حضراتِ اساتذہ، طلبہ اور حاضرین سے گفتگو فرمائی، ان کے لیے دعائیں فرمائیں، اس وقت جامعہ میں زندگی کی بنیادی ضروریات گیس، بجلی اور پانی کی نعمت بھی نہ تھی۔ حضرت والا رحمہ اللہ نے اپنی طرف سے اساتذہ کے لیے تین ماہ کی تنخواہوں کا انتظام فرمایا، پھر اپنے ادارے جامعہ معہد الخلیل میں وہاں کے اساتذہ و طلبہ کے سامنے جامعہ دار الہدیٰ کراچی کے حالات سنائے اور فرمایا کہ ’’حیرانی ہوتی ہے کہ کراچی جیسے روشنیوں کے شہر اور ترقی یافتہ علاقے میں انتہائی پسماندگی میں یہ ادارہ دینی کام میں مصروف ہے، یہ بہت خوشی کی بات ہے‘‘۔ بندہ نے حضرت والا رحمہ اللہ سے ادارہ کی سرپرستی کی درخواست کی تو آپ نے اس کو قبول فرما لیا اور بہت دعائیں دیں۔ بلاشبہ جامعہ دار الہدیٰ کراچی آپ کے دیگر خیر کے کاموں میں سے ایک ہے اور یہ آپ کا صدقۂ جاریہ ہے۔

ایک موقع پر حضرت والا رحمہ اللہ نے بندے سے پوچھا کہ آپ کے ہاں سالانہ کتنے فتاویٰ جات کے جوابات دیے جاتے ہیں؟ بتلایا گیا کہ پہلے سال تقریباً پندرہ سو اور دوسرے سال تقریباً دو ہزار، تو اس پر مسرت کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ’’حیرانی ہوتی ہے کہ اس ادارے نے اتنے مختصر وقت میں ترقی کر لی‘‘۔

بندے نے حضرت والا رحمہ اللہ سے متعلق اپنی یادداشت میں سے یہ مختصر سطور لکھی ہیں ورنہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت سے متعلق محبت اور عقیدت کے بہت سارے انمٹ جذبات دل میں ہیں، جو بلاشبہ آپ کی عظیم شخصیت کا فیض ہیں۔

آپ کی وفات کا سانحہ صرف آپ کی اولاد، تلامذہ اور جامعہ معہد الخلیل الاسلامی تک ہی نہیں ہے، بلکہ جامعہ دار الہدیٰ کراچی اور دیگر جامعات بلکہ عالمِ اسلام کا سانحہ بھی ہے۔ آپ کی وفات سے جامعہ کو بھی صدمہ ہوا۔ ہمارا ادارہ ایک مشفق سرپرست اور روحانی باپ سے محروم ہو گیا، ہم آپ کی شفقتوں اور مہربانیوں سے محروم ہو گئے۔ جامعہ کی انتظامیہ، تمام اساتذہ و طلبہ اس دکھ کی گھڑی میں حضرت والا رحمہ اللہ کے صاحبزادگان کے ساتھ ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا رحمہ اللہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے، آپ کے فیض کو تاقیامت جاری و ساری فرمائے، آپ کے ادارے کا اقبال بلند ہو اور آپ نے دین کی خدمت کے جو نقوش چھوڑے ہیں، ان نقوش پر رہتے ہوئے آپ کے لائق فرزندگان کو وسیع پیمانے پر دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔