مضامین

عرضِ مرتب

عرضِ مرتب

مدیر کے قلم سے

الحمدللہ! آج ہمیں ماہنامہ سلوک و احسان کا خصوصی شمارہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے جو اس کے بانی و سرپرست حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح و احوال کے لیے مختص ہے۔ چھبیس سال قبل اس مجلہ کی اشاعت کا بیڑا انہوں نے ہی اٹھایا تھا اور ایک طویل عرصہ اس سے متعلقہ تمام ہی ذمہ داریوں کو خود بڑی محنت اور انتھک جدوجہد کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ ان کا اس مجلہ سے بنیادی مقصد معاشرے میں بالعموم اور مدارس و مراکزِ دینیہ میں بالخصوص سلوک و تصوف کی محنت کو اجاگر کرنا تھا، جو موجودہ تمام کارہائے خیر کے لیے روح کا درجہ رکھتی ہے۔

حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ نے وسطِ شہر کے ایک مدرسہ میں عوامی اجتماعات اور عمومی جلسے جلوسوں سے دور گوشہ نشینی کی زندگی گزاری، مگر اس کے باوجود برکۃ العصر قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے اللہ جل شانہ نے ان کو غیر معمولی عظمت و رفعتِ شان عطا کر رکھی تھی، اس عظیم القدر شخصیت کے نقوشِ حیات کو منظرِ عام پر لانا بہر صورت مفید بلکہ ضروری معلوم ہوتا تھا۔ اسی پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کاوش کی گئی ہے۔ اس موقع پر ان کے شیخ برکۃ العصر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ یہاں ذکر کرنا عین مناسب معلوم ہوتا ہے، جو انہوں نے ایک عظیم بزرگ شخصیت کے وصال کے بعد ان کے جلیل القدر عالمِ ربانی صاحبزادے کو اپنے تأثرات میں تحریر فرمایا:

’’کسی کی وفات پر ماہناموں کے نمبر نکالنا یہ بھی ایک فیشن سا ہو گیا ہے، نمبر نکال دینے سے مرنے والے کا حق ادا نہیں ہوتا، جانے والے نے شریعت اور طریقت کی جو خدمت انجام دی اس کو آگے بڑھانا اس مزاج کے آدمی پیدا کرنا بہت زیادہ ضروری ہے‘‘۔

بفضلہ تعالیٰ اس بات کی حتی الامکان بطورِ خاص کوشش کی گئی ہے کہ خلافِ واقع کوئی بات یا غلو کا پہلو کسی تحریر میں نہ ہو، بلکہ سیدھے سادے انداز میں صاحبِ سوانح کی حیاتِ طیبہ کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے کہ خود حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی تکلف و تصنع ناپسند تھا اور یہی شریعت کا مزاج ہے۔ اس کے علاوہ مضامین میں غیر معمولی تکرار کو ختم کر دیا گیا ہے، پھر غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے بعض مضامین کی تلخیص بھی کی گئی ہے، بعض مضامین شامل نہیں کیے جا سکے جس پر ہم ان اصحابِ مضامین سے معذرت خواہ ہیں۔

شکریہ اور تشکر

آخر میں ادارہ سلوک و احسان ان تمام احباب کا شکر گزار ہے، جنہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اس خصوصی شمارے کے لیے مضامین ارسال فرما کر ہماری اس جدوجہد میں بھرپور حصہ ڈالا، بالخصوص ان اکابر کی شفقت کو کیسے بھلایا جائے جن کی پوری زندگی اشاعتِ دین کی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔

اس کے علاوہ یہ عاجز جملہ برادران بالخصوص مولانا محمد اسماعیل مدنی سلمہ اللہ کا شکر گزار ہے، جنہوں نے اس شمارے کی طباعت میں بھرپور عملی جدوجہد کی۔

  • حسبِ سابق مولانا محمد عظیم صاحب نے کمپوزنگ کا بیڑا اٹھایا اور مضامین کی ترتیب میں خوب معاونت کی۔
  • مولانا عبید الرحمن رؤوفی صاحب (مدرسِ جامعہ بنوریہ) نے بعض حضرات کے زبانی تأثرات کو مضامین کی شکل میں ڈھال کر اس کارِ خیر میں بھرپور حصہ لیا۔
  • معہد کے فاضل برادران مولانا محمد حارث و مولانا معاذ احمد نے از سرِ نو پروف ریڈنگ کی مخلصانہ محنت انجام دی۔
  • فاضلِ معہد مولانا اسماعیل ریحان صاحب کے مشورے بھی معاون و مفید ثابت ہوئے۔

فجزاہم اللہ خیر الجزاء! اللہ جل شانہ جملہ معاونین و دیگر مخلصین اور محبین کو دنیا و آخرت کی تمام خیرات سے مالا مال فرمائیں۔

دعا

آخر میں دعا ہے کہ اللہ جل شانہ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما کر ہمیں اس سے عملی سبق لینے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اس کو حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لیے باعثِ رفعِ درجات بنائیں۔ اس شمارے میں نادانستہ کوئی غلطی ہو گئی ہو تو محض اپنے فضل و کرم سے اس سے درگزر فرمائیں۔

يا اللہ! اس سے مقصود آپ ہی کی رضا ہے، آپ قبول فرما لیجیے۔

ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم۔ آمین!

محمد یوسف مدنی
۱۷ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۵ھ