مضامین

اکابر کا سچا عاشق

حضرت مولانا محمد اخلد صاحب (مدینہ منورہ)
نواسۂ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ

حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ ایک عظیم روحانی شخصیت تھے۔ اس روحانی شخصیت کے چلے جانے سے اہلِ معرفت، خصوصاً اہلِ قلوب و علمائے دیوبند (ہندو پاک) ایک عظیم ہستی سے محروم ہو گئے۔ حضرت والا کے انتقال سے جو دھچکا لگا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت رحمہ اللہ اپنے اکابر و اسلاف کا آئینہ تھے۔ ان کو اپنے اکابر سے جو محبت تھی اس کا رنگ ان کی زندگی میں احقر نے اور بہت سے حضرات نے خود محسوس کیا۔ اپنے اسلاف سے محبت اور ان کی صحبت میں رہنے کی وجہ ان کے اقوال و افعال کو اپنی روحِ جسم میں اتارنا ہی ان کی زندگی کا مقصد تھا اور آئے دن اس کی فکر رہتی کہ میرے بڑوں اور اسلاف کا جو مشن تھا کس طرح میں اس کو آگے لے کر چلوں۔

احقر سے جو حضرت کا تعلق تھا وہ بھی میرے (نانا امجد) حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے تعلقِ محبت کی وجہ سے تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب حضرت والا مدینہ تشریف لاتے تو اس احقر سے ملاقات کے لیے از خود تشریف لاتے اور گھنٹوں اپنے اکابر خصوصاً حضرت شیخ رحمہ اللہ کے ملفوظات بیان فرماتے۔ احقر بھی حضرت والا کے اس عمر میں اس قوی حافظہ پر تعجب کرتا اور حضرت والا کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتا۔ حضرت والا کی لسانِ مبارکہ سے اکثر یہ سنا اور حضرت اس احقر سے دعا کے لیے بھی کہتے تھے کہ دعا فرمائیں اللہ ایمان پر خاتمہ فرمائے اور بقیعِ غرقد میں مدفون فرما دے اور آخرت میں ان مبارک لوگوں کے ساتھ اٹھائے۔

حضرت والا کے خدام و محسنین سے معلوم ہوا کہ حضرت والا کی مرضِ وفات میں بھی یہی خواہش تھی کہ مجھے مدینہ لے چلو، مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ شاید اللہ تعالیٰ حضرت والا کے خدام و محبین و مریدین کو آخری لمحات میں محروم نہیں کرنا چاہتے تھے، جس طرح کہ زندگی میں حضرت والا کی محبت و شفقتوں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں محروم نہیں رکھا۔

دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی لقاء کا شوق کہ ہر وقت آخرت کی فکر، ہر وقت رب کی رضا کی فکر، اللہ اکبر! یہ واقعی ایک سچے محب کی علامت تھی۔ واقعی وہ اپنے اکابرین کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی (صلبی و روحانی) اولاد کو حضرت کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ۔