آج ان کا سراپا اپنے سامنے نہ پاکر
برادرِ کبیر محترم الحاج جناب شیخ عطاء الرحمن صاحب
برادرِ صغیر حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ عصری تعلیم سے فراغت پاکر کچھ احباب کی ترغیب و تشویق سے دعوت وتبلیغ سے وابستہ ہوئے۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ سے تعلق نے اس وابستگی کو والہانہ لگائو بلکہ مقصدِ حیات میں تبدیل کردیا۔
ایک بار وہ ایک لمبی تشکیل میں چل رہے تھے۔ عید الفطر قریب آنے پر والد صاحب نے مجھے انہیں لینے کیلئے بھیجا۔ پُرمشقت، طویل سفر کر کے میں رائے ونڈ پہنچا۔ رائے ونڈ سے مقامِ تشکیل کا پتہ معلوم کر کے میں ایک بار پھر عازمِ سفر ہوا۔ کسی دور دراز گائوں میں ان کی تشکیل تھی، اس گائوں میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ان کی جماعت تو یہاں سے روانہ ہو چکی ہے۔ پے در پے سفر کی مشقت سے چور جسم کے ساتھ گائوں در گائوں پوچھ پوچھ کر بالآخر میری ملاقات ان سے ہوہی گئی۔ عید گھر پر گزارنے کی تمنا کا میں نے اظہار کیا تو انہوں نے میرے ہمراہ گھر لوٹنے سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ ’’یہ عید میں راہِ خدا میں گزارنے کا عزمِ مصمم کر چکا ہوں اور اپنی تشکیل مکمل کر کے ہی واپس لوٹوں گا‘‘۔ ان کی جماعت کے ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ جب تک مقامِ تشکیل سے کوئی جماعت نہ نکلتی تب تک وہ وہاں سے روانہ نہ ہوتے۔
اپنی تعلیم کی طرف رُخ کرنے سے پہلے ہی وہ ہمارے خاندان میں اپنی مولویانہ وضع قطع اور رہن سہن کی وجہ سے ’’مولوی یحییٰ‘‘ سے مشہور ہوگئے تھے۔ اس آوازۂ خلق کی بدولت اللہ نے واقعی انہیں ’’مولوی یحییٰ‘‘ بنا دیا۔ زندگی بھر بڑی محبت کے ساتھ ہم ہمیشہ اکٹھے مل جل کر رہے۔ باہمی ہم آہنگی اور بھائی کی حسنِ معاشرت و اخلاق کی وجہ سے ہماری اخوت دوستی کے رنگ میں رہی۔ معاملات میں ان کی صفائی بڑی متأثر کن تھی اور یہ چیز انہیں اپنے شیخ کی صحبت سے ملی تھی۔
بعض دفعہ ضرورت کے موقع پر وہ اپنے شیخ حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ سے قرضہ لینے جاتے تو شیخ بلاجھجھک پوچھتے: ’’کب دو گے؟‘‘۔ بھائی ایک تاریخ بتا دیتے، پھر مقررہ تاریخ کے آنے سے ایک دن پہلے ہی قرضہ واپس لوٹا دیتے۔ اپنے شیخ سے ان کی بڑی وارفتگی تھی۔ شیخ کے ہاں حاضری کے موقع پر رات کا کھانا شیخ کے ساتھ کھاتے اور ہمہ وقت خدمت میں لگے رہتے۔ عمر میں تو میں ان سے بڑا ہوں لیکن علم و عمل میں وہ مجھ سے بڑے تھے۔ کسی بھی قسم کے معاملے میں باہمی مشورے میں ان کی رائے قولِ فیصل ہوا کرتی تھی۔ اللہ نے انہیں ایک رعب عطا فرمایا تھا۔ ان کی وجاہت نے بہت کم ہمیں ان کے آگے لب کشائی کا موقع دیا۔
مجھ سے کہا کرتے تھے: ’’بھائی صاحب! میری موت کا آپ کو بہت دکھ ہوگا‘‘۔ آج ان کا سراپا اپنے سامنے نہ پاکر واقعی دل بہت دکھتا ہے۔ ان کی یاد بہت ستاتی ہے۔ سفر سے واپسی یا کسی اور خوشی کے موقع پر میں ان کے یہاں حاضر ہوتا تو مجھے کہتے: ’’بھائی صاحب! آپ نہ زحمت کیا کریں، میں خود آپ کے پاس آیا کروں گا‘‘۔ بارہ سال قبل میرا بائی پاس ہوا تو از اول تا آخر ہر مرحلے کی نگرانی بھی کی اور اپنی رہنمائی اور مشوروں سے بھی مستفید فرماتے رہے۔
ہمارے خاندان میں صفائی معاملات اور دینداری کو انہی سے تقویت ملی۔ ہمارے علاقے کو انہوں نے ہی دینی رنگ میں رنگا۔ تقریبات میں شریعت کے خلاف رسم و رواج کو کبھی انہوں نے پنپنے نہ دیا۔ کسی تقریب میں اگر کوئی نوجوان دین کے خلاف اپنی انا کو تسکین پہنچانے کی ضد کرتا تو بس اتنا ہی کہنے کی دیر ہوتی تھی: ’’چچا جی (بھائی) بھی آئینگے‘‘۔ بس یہ دھمکی ہی کافی ثابت ہوتی تھی، وہ نوجوان اپنی ضد پر قائم رہنے کی جرأت نہیں پاتا تھا۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے اور کل روزِ محشر ہمیں ان کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین۔