كوئی جائیداد کسی کے نام کرنے سے ملکیت کا حکم
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گذارش ہے کہ درج ذیل صورت حال کے مطابق شرعی رہنمائی فرمائیں: تفصیل واقعہ: * سن ء میں میرے والد مرحوم نے اپنی ذاتی رقم سے ایک دکان خریدی۔ * یہ دکان میرے نانا سے خریدی گئی، مگر بیع نامہ کے بجائے گفٹ ڈیڈ بنوائی گئی۔ * گفٹ ڈیڈ میری والدہ کے نام صرف ٹیکس / قانونی مجبوری کی وجہ سے بنوائی گئی، تاکہ کاغذات میں یہ ظاہر ہو کہ نانا نے اپنی بیٹی کو دکان ہبہ کی ہے۔ * والد مرحوم کی نیت والدہ کو حقیقی طور پر ہبہ کرنے کی نہیں تھی، بلکہ یہ صرف دستاویزی معاملہ تھا۔ * دکان کا قبضہ، تصرف اور مکمل اختیار ہمیشہ والد مرحوم کے پاس رہا: * کرایہ والد مرحوم وصول کرتے رہے * دکان کے متعلق تمام فیصلے وہی کرتے رہے * والدہ کو کبھی مکمل شرعی قبضہ یا آزادانہ تصرف نہیں دیا گیا۔ * والد مرحوم کے ذمے قرض واجب الادا تھا۔ * والد مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی اس دکان کو بیچ کر قرض ادا کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، بلکہ قرض خواہوں کو بھی یہ بات بتادی تھی کہ: "إن شاء اللہ میری دکان فروخت ہو جائے گی تو میں قرض ادا کر دوں گا"، اور وہ عملی طور پر دکان کی فروخت کی کوششوں میں مصروف بھی تھے۔ * اب والد مرحوم کے انتقال کے بعد بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونہ کہ دکان گفٹ ڈیڈ میں والدہ کے نام ہے، اس لیے یہ والد مرحوم کی وراثت میں شامل نہیں۔ شرعی سوالات: * کیا ایسی صورت میں محض گفٹ ڈیڈ بن جانے سے شرعاً والدہ اس دکان کی مالک بن جاتی ہیں، جبکہ نہ ہبہ کی نیت تھی اور نہ مکمل قبضہ دیا گیا؟ * کیا شرعاً اس معاملے میں کاغذی دستاویز کو دیکھا جائے گا یا اصل نیت، رقم اور تصرف کو؟ * کیا یہ دکان شرعاً والد مرحوم ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور ان کی وراثت میں شامل ہوگی؟ * کیا اس دکان کو بیچ کر والد مرحوم کا قرض ادا کرنا ناگزیر بلکہ لازم ہے؟ * ایسی صورت میں والدہ کا شرعی حق کیا بنتا ہے جبکہ دکان کا تصرف ان کے پاس کبھی نہیں رہا؟ * کیا والد مرحوم کا انتقال سے پہلے دکان بیچ کر قرض ادا کرنے کا واضح ارادہ شرعی فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ براہ مہربانی قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ قانونی یا کسی اور مجبوری کی بنیاد پر شوہرکا کا غذات میں دوکان یا مکان بیوی کے نام کردینے سے وہ جگہ بیوی کی ملکیت نہیں ہوجاتی ۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کےوالد نے اس دوکان کو صرف قانونی تقاضہ کے مطابق بیوی کے نام کیا تھا مزید یہ کہ مذکورہ دوکان میں بدستور تصرف والد ہی کا تھا اور اس سے اپنا عمل دخل بھی ختم نہیں کیا تھا ،تو یہ دوکان انہی کی ملکیت رہے گی۔لہذا شوہر کے انتقال ہونے کے بعد یہ دوکان ان کی میراث میں شامل ہوگی نہ کہ بیوی کی ملکیت اور بیوہ کو میراث کے ضابطہ کےمطابق اور ورثاء کی تفصیلات سامنے رکھ کر حصہ ملے گا۔ لما فی الفتاوى الهندية - (4 / 377) ولايتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا هكذا في المحيط والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة فالصريح أن يقول اقبضه إذا كان الموهوب حاضرا في المجلس ويقول اذهب واقبضه إذا كان غائبا عن المجلس ثم إذا كان الموهوب حاضرا وقال له الواهب اقبضه فقبضه في المجلس أو بعد الافتراق عن المجلس صح قبضه وملكه قياسا واستحسانا.
الفتاوى الهندية - (6 / 447) التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف…ثم بالدين… ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث........
فقه البیوع (1/227-226): و ما ذکر نا من حکم التلجئة یقاربه ما یسمی فی القوانین الوضعیة "عقودا صوریة" (Ostensible Contracts) و تسمی فی بلادنا Benami Contracts ، و هی أن تشتری أرض باسم غیر المشتری الحقیقی، و تسجل الأرض باسمه فی الجهات الرسمیة، و ذلك لأغراض ضریبیة أو لأغراض أخری، و لکن المشتری الحقیقی هو الذی دفع ثمنه. و عدة من القوانین الوضعیة تعترف بکونها صوریة، و بأن العبرة فیما بین المتعاقدین بالعقد الحقیقی المستتر……………… وعلی هذا الأساس أفتی علماء شبه القارة الهندیة بأن مجرد تسجیل الأرض باسم أحد لا یستلزم أن یکون هو مالکا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم یدفع الثمن، و إنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجیل لا یعنی أنه وهب له الأرض. فتویٰ نمبر :34643
دارالافتاء :معہد الخلیل الإسلامی بہادر آباد کراچی۵
اقارب کا ہبہ کرنا کے احکام |