کسی لڑکی کا اپنےخاوند سے یہ کہنا " تو میرے لیے اللہ ہے "اصلا تو کلمہ کفر ہی ہے ،البتہ اگر کہنے والی نے اس تناظر میں بات کی ہو کہ وہ اللہ کا حکم سمجھ کر شوہر کی اطاعت کرےگی تواس کی وجہ سے لڑکی پر کفر کا حکم نہ لگے گا، اس سے حقیقتا ذات باری تعالی ٰ سے قرار دینا مقصود نہیں ہوگا بلکہ شوہر کی اطاعت اور فرمانبداری مقصود ہوگی ،تاہم آئندہ کے لئے بہر حال اس طرح کے جملہ سے اجتناب ضروری ہے،بہتر ہے کہ لڑکی تجدید ایمان کرکے تجدید نکاح بھی کرلے۔
لما في الدرالمختار:
والمعتمد عدم التفكير كما هو ظاهر المذهب، بل قالوا لو وجد سبعون رواية متفقة على تكفير المؤمن ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها، والخلاف مخصوص بغير فرع الظهيرية. (كتاب الطهارة(١/٨١)سعيد)
وفي شرح فتح القدير:
إذا كان في المسئلة وجوه كثيرة توجب التكفير ووجه واحد يمنعه على المفتي أن يميل إليه ويبني عليه.
(باب حدالشرب(٥/٨٨)دار احياءالتراث العربي)