نابالغ بچوں کے نام پر یا خاص ان ہی کیلئے جو عیدی یا تحفے تحائف دیے جاتے ہیں وہ شرعاً بچوں کی ملکیت ہوتے ہیں، محض والدین یا سرپرست کے قبضے میں دینے کی وجہ سے اس کی ملکیت والدین کی طرف منتقل نہیں ہوتی، بلکہ والدین اس مال کے محافظ اور امین ہوتے ہیں،لہٰذا والد، والدہ اس مال کے مالک نہیں بنتے اور نہ ہی عام حالات میں وہ اسے اپنی ذاتی ضروریات یا اخراجات میں استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
البتہ اگر والدانتہائی تنگ دست ہو یا مالی مشکلات کا شکار ہو تو بچوں کی ملکیتی رقم سے بقدر حاجت اپنے ذاتی استعمال کیلئے لے سکتے ہیں،لیکن اس میں بہتر یہ ہے کہ بطور قرض لے لیں اور بعد میں اسے واپس کریں یااس رقم کے بقدر مالیت کی کوئی چیز اس کیلئے خرید لیں ۔
لما في القرآن الکریم:
يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل.
ترجمہ:اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔
وفي بدائع الصنائع:
وروي عن جابر بن عبد الله - رضي الله عنه - أن رجلا جاء إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ومعه أبوه فقال: يا رسول الله إن لي مالا وإن لي أبا وله مال وإن أبي يريد أن يأخذ مالي فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنت ومالك لأبيك أضاف مال الابن إلى الأب فاللام التمليك وظاهره يقتضي أن يكون للأب في مال ابنه حقيقة الملك فإن لم تثبت الحقيقة فلا أقل من أن يثبت له حق التمليك عند الحاجة. (باب نفقة الأقارب(٤/٣٠)
وفي البحر الرائق:
الصحيح أن الأب كالقاضي فقد اختلف التصحيح والمعتمد ما في المتون وأطلق في منع إقراض الأب فشمل ما إذا أخذ مال ولده الصغير قرضا لنفسه. (القضاء على المسخر(٧/٢٣)
وفي مجمع الأنهر:
وفي الخلاصة والخزانة: الصحيح أن الأب كالقاضي فقد اختلف التصحيح والمعتمد ما في المتون ويستثنى من عدم جواز إقراض الأب والوصي على المعتمد إقراضه للضرورة كخوف ونهب فيجوز اتفاقا. (فصل قضاء المرأة في غير حد وقود(٢/١٧٣)