صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کا حالت حیض میں عمرہ کا احرام باندھنے سے اس پر عمرہ کی ادائیگی لازم ہوگئی ہے،اگر وہ مدینہ منورہ جانے سے پہلے پاک ہوکر عمرہ کرکے فارغ نہیں ہوئی تو مدینہ منورہ سے واپسی پرپاکی کی حالت میں اس عمرہ کو مکمل کرلے تو اس کا وہ ہی عمرہ ادا ہوجائے گا ،اس پر دوسرا عمرہ بھی لازم نہیں ہوگا اور نہ کسی قسم کا کوئی دم لازم ہوگا بشرطیکہ ممنوعات احرام میں سے کسی کا ارتکاب نہ کیا ہو۔
لما في اعلاء السنن:
عن عائشة عن النبي صلي الله عليه وسلم قال : الحائض تقضي المناسک کلها إلا الطواف بالبیت. رواه أحمد و ابن أبي شیبة.
(فصل في حكم الحائضة(٧/٣٣٧٠)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :
ثم ذكر أحكامه بـ (قوله :يمنع صلاة) مطلقاً، ولو سجدة شكر، (وصوماً) وجماعاً ... (و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه. كتاب الحيض(١/٢٩٠)