چند تعزیتی خطوط
حضرت مولانا سمیع الحق صاحب (مہتمم جامعہ دار العلوم حقانیہ)
محترمی و مکرمی صاحبزادہ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ و جمیع وابستگان
سلام مسنون!
حضرت مخدوم و مکرم مولانا رحمہ اللہ کا سانحۂ ارتحال علمی و دینی حلقوں کے لیے عظیم نقصان ہے۔ حضرت کے جانے سے خیر و برکت کے میدانوں میں بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے ذریعہ اسے پُر فرما دے اور ان کے صدقات جاری و ساری رہیں، اور ان شاء اللہ رہیں گے۔ دار العلوم میں ایصالِ ثواب کیا گیا۔ ہم سب اور ہماری جماعت جمعیۃ علماء اسلام شریکِ تعزیت ہیں۔ کراچی آنا ہوا تو تعزیت کے لیے حاضری دوں گا، ان شاء اللہ۔
والسلام
سمیع الحق
خادمِ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب (خانقاہ سراجیہ کندیاں)
بخدمت اقدس حضرت مولانا محمد الیاس مدنی صاحب مدظلہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مزاج گرامی۔ حضرت اقدس حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کا دنیا سے سفر فرما جانا ہم تمام مسلمانوں کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ حضرت کی شفقتوں اور دعاؤوں سے ہم محروم ہو گئے ہیں۔ آج یوں لگتا ہے کہ حضرت کی رحلت کے بعد سے سلاسلِ روحانی کی بساط ہی لپٹ گئی ہے۔ خانقاہیں آباد رہیں گی بیعت و ارشاد کے سلسلے چلते رہیں گے، لیکن حضرت جیسی عظیم ہستی شاید دنیا میں نظر نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو ہماری طرف سے بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے اور درجات کی بلندیوں سے سرفراز فرمائے اور آپ کا فیضان، آپ سے فیض پانے والوں، آپ کی مسندِ مبارک پر بیٹھنے والوں کے ذریعہ تا قیامت جاری فرمائے…
والسلام
فقیر خلیل احمد عفی عنہ
خانقاہ سراجیہ، ۱۷ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ
حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب (مہتمم القاسم اکیڈمی نوشہرہ)
مخدوم مکرم برادرِ معظم حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب و شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف صاحب زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے والد گرامی قدر حضرت اقدس حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کا سانحۂ ارتحال صرف آپ کے والد کا سانحۂ ارتحال نہیں، بلکہ یتیموں، مسکینوں، غریبوں، طالب علموں، بے سہارا لوگوں، بیواؤں اور مزدوروں، خدام و کارکنوں کے سرپرست، ناداروں کے غم خوار، فقراء کے غم گسار اور طالبانِ علومِ نبوت کے ایک عظیم خدمت گزار کا سانحۂ ارتحال ہے۔ لاریب آپ بھی، آپ کے برادران بھی، آپ کے خاندان کے افراد بھی، معہد کے ہر استاذ، طالب علم اور تشنگانِ علوم بھی تعزیت کے مستحق ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہم بھی تعزیت کے مستحق ہیں، غرباء، فقراء بھی تعزیت کے مستحق ہیں۔ وہ ایک خاموش معاون تھے۔ مہتممین حضرات تو چندے لیتے ہیں وہ تو چندے دیا کرتے تھے۔ اپنی تعریف، مدح سرائی، خود ستائی سے نفرت تھی…
لاریب آپ کے نسبی والد تھے، مگر ہم سب کے روحانی والد تھے۔ جامعہ ابو ہریرہ میں حضرت کے انتقال کی خبر حد درجہ رنج و قلق اور دکھ و درد کے ساتھ سنی گئی۔ فوری طور پر تعطیل کر کے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا… ہمیں اپنے غم میں شریک سمجھیں، تعزیت قبول کر لیں۔
والسلام
عبدالقیوم حقانی
۴ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ / ۱۶ فروری ۲۰۱۳ء
حضرت مولانا زبیر احمد صدیقی صاحب (مدیر جامعہ فاروقیہ شجاع آباد)
بخدمت اقدس برادرم حضرت مولانا محمد یوسف صاحب، حضرت مولانا حافظ محمد شاہد صاحب زید شرفہ و برادران و متعلقین و متوسلین و اساتذہ معہد الخلیل الاسلامی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کل بذریعہ گشتی فون پیغام کراچی سے کسی صاحب نے استاذ العلماء شیخِ طریقت مربی و مرشد حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی وفات حسرتِ آیات کے سانحہ جانکاہ کی اطلاع دی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس مادہ پرستی اور بے دینی کے دور میں حضرت ان معدودے چند ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی ملاقات و زیارت، صحبت اور حصولِ فیض، فکرِ آخرت، زہد اور یادِ الٰہی کا باعث بنتی تھی۔ یقیناً انہی خدا ترس شخصیات کی بدولت ہم جیسے سیاہ کار دنیا میں سر اٹھائے پھرتے ہیں… حضرت کا وصال علمی اور تزکیہ کے حلقوں میں کسی بھی بڑے حادثہ سے کم نہیں…
والسلام
زبیر احمد صدیقی
مدیر جامعہ فاروقیہ شجاع آباد
حضرت مولانا حافظ سعید الرحمن صاحب (مہتمم جامعہ دار العلوم السعیدیۃ)
مکرمی و محترمی جناب مولانا محمد یوسف صاحب مع دیگر برادران و جملہ مدرسین و اراکین معہد الخلیل الاسلامی کراچی زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ کرے مزاج گرامی بخیر ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دست بدعاہوں کہ آپ ہمیشہ سرسبز و شاداب رہیں۔ آمین۔ محترمی! ہمیں آپ کے مشفق والد محترم معہد الخلیل الاسلامی کے بانی و مہتمم شیخ الحدیث اور جامعۃ الرشید کے سرپرست حضرت مولانا یحییٰ مدنی کی موت کی خبر سن کر بے انتہا دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم نامور بزرگوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے انتہائی اخلاص، محنت اور دلی تڑپ کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور علومِ نبوت پھیلانے میں دن رات زبردست محنت کی، وہ ہر نیک عمل میں شریک رہتے مگر کسی صورت اپنا نام نمایاں کرنے سے گریزاں رہتے تھے…
فقط، والسلام
(مولانا) حافظ سعید الرحمن الخطیب
مہتمم جامعہ دار العلوم سعیدیہ اوگی
حضرت مولانا مفتی محمد عبدالمجید فاروقی (صدر و شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ مظفر گڑھ)
مخدوم و مکرم حضرت مولانا محمد یوسف مدنی رحمہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ کریم کا بھیجا ہوا دین ابد تک رہنے کے لیے آیا ہے اور آخری پیغمبر کی نبوت بھی ابد تک رہے گی۔ اس دین کی حفاظت اللہ کریم اپنے چُنے ہوئے انسانوں کے ذریعے فرماتے ہیں، کبھی ایک جماعت حفاظتِ دین کے لیے متعین کی جاتی ہے تو کبھی وہی کام شخصیات سے لیا جاتا ہے کہ ایک فرد اتنا کام کر لیتا ہے جو بڑی جماعت بمشکل انجام دے سکتی ہے… ہمارے حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ بھی ان علماء ربانیین میں سے تھے جنہوں نے برکۃ العصر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے فیوض و برکات سے اپنے دامن کو بھرا، پھر اس کو پورے عالم میں پھیلانے کے لیے اللہ کریم نے ان کو قبول فرمایا… دو سال قبل زیارت کے لیے ان کے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں حاضری ہوئی تھی۔ ضعف و پیرانہ سالی میں اس قدر کام میں مشغول دیکھا کہ ہم کوتاہ بینوں کی عقل دنگ رہ گئی…
طالبِ دعا:
(شیخ الحدیث مولانا) عبدالمجید فاروقی