گلدستۂ ارشاداتِ حضرت مدنی رحمہ اللہ
از: بنت محمد عثمان
- دورانِ طالب علمی اصلاح کے حوالے سے ایک خط کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’دل کی سختی دور کرنے کے لیے حدیث پاک میں تلاوت کی کثرت اور موت کو یاد کرنا نسخہ تجویز کیا گیا ہے۔ کتاب ’’موت کی یاد‘‘ ہفتہ میں ایک آدھ دفعہ تھوڑی سی دیر پڑھ لیا کرو اور تعلیم سے فارغ وقت میں روزانہ ہی کچھ قرآن شریف کی تلاوت کیا کرو۔ جب وقت زیادہ ملے تو زیادہ تلاوت کیا کرو اور اس کو اپنے لیے دوا سمجھا کرو‘‘۔
- ایک بار خشیت پر دوام حاصل کرنے کے لیے دریافت کیا تو ارشاد فرمایا: ’’کبھی کبھار خوف کا پیدا ہو جانا کافی ہے۔ ہر وقت یہ حالت بڑوں کی بھی نہیں رہتی، ورنہ سارے دینی و دنیاوی کام ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے‘‘۔
-
دعا میں رونے کی کیفیت حاصل نہ ہونے کی شکایت عرض کی تو تسلی دی اور فرمایا: ’’دعا میں رونا آنا، آنسو بہانا امرِ اختیاری نہیں اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔ حدیثِ پاک میں اس کا یہ حل بتایا گیا ہے کہ اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت ہی بنا لینا کافی ہے‘‘۔
شیطان لا تعداد طریقوں سے انسان کو ورغلاتا ہے۔ انسان کی رگوں میں غصہ کے وقت خون کی طرح دوڑتا ہے۔
نہ چت کر سکے نفس کے پہلوان کو — تو یوں ہاتھ پاؤں بھی خالی نہ ڈالے
ارے اس سے کشتی تو ہے عمر بھر کی — کبھی تو گرا لے کبھی وہ گرا لے
- نماز کے اہتمام کے بارے میں ایک خط میں جواباً فرمایا: ’’نماز میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ مکروہ وقت ہو جائے۔ اگر نماز کے اوقات میں کوئی مہمان آ جائے، چاہے قریبی رشتہ دار ہو، نماز کے لیے اٹھنے پر وہ ناراض ہوں یا مذاق اُڑائیں، اس کا خیال نہ کرو اور ان سے معذرت کر لو کہ میں نے نماز نہیں پڑھی ابھی پڑھ کر آتی ہوں‘‘۔
- زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ ’’کچھ وقت گھر کا کام کرو اور کچھ وقت تعلیم کو دو، سارا وقت تعلیم کو دینا صحیح نہیں‘‘۔
- حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی تو امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے استاذ امام وکیع رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا اور ایک بار فرمایا کہ ہر فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ۷ مرتبہ ’’يا قويهُ‘‘ پڑھ لیا کرو اول و آخر درود شریف۔
- شادی کی ابتدا میں مدرسہ میں تدریس کی درخواست دی تو فرمایا: ’’ابھی مناسب نہیں، ابھی تو شادی کا پہلا سال ہے، گھر پر توجہ دو۔ شوہر اور گھر والوں کے مزاج اور گھریلو امور کو سمجھ کر سلیقے اور خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کرو۔ پہلے شوہر کا دل جیت لو پھر ان شاء اللہ پڑھا بھی لینا‘‘۔
- فرمایا: ’’شوہر کو راضی رکھنے کی خوب کوشش کیا کرو۔ تمہاری کامیابی اور اللہ کی رضا اسی کے ساتھ ہے۔ ایسا رویہ رکھو کہ شوہر کا دل تمہارے ہاتھ میں ہو‘‘۔
- بعض امورِ خانہ کی وجہ سے میرے شوہر کو بلا کر سمجھایا کہ عورت کے لیے ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں دوسروں کا دخل نہ ہو اور وہ خود کو محفوظ بھی سمجھے۔ اگر گھر علیحدہ ممکن نہ ہو تو باورچی خانہ تو جلد علیحدہ کر دو۔ آگ ایک ہوگی تو گھر میں بھی آگ لگے گی۔
- اکثر اس کی تاکید فرماتے کہ گھر پر بھی مدرسہ بناؤ، محلے کی بچیوں کو قرآن شریف پڑھاؤ۔ حضرت والا کو گھر گھر قرآنی مکاتب کا اہتمام تھا کہ اس کے لیے میرے شوہر کو بھی کئی بار فرمایا کہ اس کو گھر پر لڑکیوں، بچیوں کو پڑھانے کے لیے انتظام کر کے دو۔
- لمبے اوراد و وظائف کی کبھی تلقین نہ فرماتے، بلکہ ایک موقع پر فرمائش کی تو فرمایا: ’’فرائض، صبح شام کی مسنون دعائیں، سنتوں کا اہتمام، کثرتِ تلاوت، نوافل حسبِ توفیق، بس یہی کافی ہے‘‘۔
- فرمایا: ’’یہ صبح شام کی تسبیحات بہت بڑی چیز ہے، سب کچھ اسی سے ملے گا‘‘۔
- ایک بار بندی کے شوہر نے عمرہ سے واپس آ کر حضرت والا کی خدمت میں کچھ تبرکات پیش کیے تو قبول فرمالیا۔ مگر جب یہ عرض کیا گیا کہ حضرت جی! آپ کی طرف سے طواف ادا کر کے آیا ہوں، اس پر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا: یہی کام کی چیز ہے، اسی کی ضرورت ہے، یہ تو احسان ہے۔ غرض بڑی دعائیں دیں۔
- کسی بھی کام کو شروع کرنے کے بعد اس پر استقامت کی بڑی تاکید فرماتے، حتیٰ کہ دین کے ایک کام کو کرنے کے لیے پہلے سے جاری دینی کام کو چھوڑنا بھی گوارا نہ تھا۔ ایک بار تجوید کے کورس کی اجازت مانگی تو ارشاد فرمایا: ’’جو مدرسہ میں پڑھانے کا کام چل رہا ہے اور گھر پر بچیوں کا مدرسہ ہے، اس کا حرج نہ ہو تو اجازت ہے، جو کام چل رہا ہے اس کو ہرگز نہ چھوڑنا‘‘۔
-
کسی بھی مسئلے میں عاملوں کے پاس جانے سے منع فرماتے اور کئی بار فرمایا کہ ’’یہ عمل کر لو ہر جادو اور ہر قسم کے اثرات کا توڑ ہے اور سب سے محفوظ رکھنے والا ہے‘‘۔ بڑے اہتمام سے عمل بتایا کہ یہ آٹھ چیزیں ہیں:
(۱) ۳ بار درود شریف
(۲) اعوذ بالله، بسم اللہ پڑھ کر ۳ بار سورۃ الفاتحہ
(۳) بسم اللہ کے ساتھ آیۃ الكرسی ۳ بار
(۴) بسم اللہ کے ساتھ سورۃ الكافرون ۳ بار
(۵) بسم اللہ کے ساتھ سورہ الاخلاص ۳ بار
(۶) بسم اللہ کے ساتھ سورہ الفلق ۳ بار
(۷) بسم اللہ کے ساتھ سورہ الناس ۳ بار
(۸) درود شریف تین بار۔
یہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر اس طرح دم کرو کہ تھوک کی کچھ چھینٹیں بھی ہاتھ پر آئیں، پھر دونوں ہاتھوں کو مل کر چہرے اور سارے جسم پر پھیرو اور پانی کی بڑی بوتل پر دم کر لو اور یہی پانی پیو۔ - ایک موقع پر دوسرا عمل ارشاد فرمایا کہ ’’روزانہ ایک وقت مقرر کر کے منزل پڑھ لیا کرو۔ بس ان شاء اللہ یہ دو عمل ہر سحر، اثر، جادو کا توڑ ہیں کبھی کسی عامل کے پاس ہرگز جانے کی ضرورت نہیں‘‘۔
تقریباً ۱۲ سال کا عرصہ میرے محترم حضرت جی رحمہ اللہ کی شفقتیں نصیب ہوئیں، آپ کے احسانات لاتعداد ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، بس چند باتیں تھیں جو تحریر کر دیں کہ اللہ والوں کی باتیں اور یادیں ان کی مجلس کا بدل ہیں۔ جس طرح حضرت والا کے فیوض و برکات کو آپ کی حیاتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے عام فرمایا آپ کی وفات کے بعد بھی عوام الناس اور مریدین کے لیے مشعلِ راہ ہوں اور حق تعالیٰ کی رحمتوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ ہوں۔