مضامین

حضرت اقدس رحمہ اللہ کے چند اوصاف

از: بنت جناب محمد یعقوب

حضرت اقدس رحمہ اللہ میں بے شمار عمدہ اوصاف تھے۔ چند اوصاف جو ہر صادر و وارد کو ضرور متأثر کرتے تھے، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ موت کی یاد:

حضرت رحمہ اللہ موت کو بہت کثرت سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ شاید ہی حضرت کا کوئی بیان یا عمومی مجلس ایسی ہو جو اپنی موت کے تذکرے سے خالی رہتی ہو اور انفرادی طور پر بھی ہر ملنے والے کے سامنے موت کو کثرت سے یاد فرمایا کرتے تھے، خاص طور پر حرمین کے سفر سے پہلے تو حضرت رحمہ اللہ کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، ہر تعلق والے سے اس طرح ملاقات فرماتے گویا یہی آخری بار ملاقات ہے۔ تمام ذمہ داریاں دوسروں کے کاندھے پر ڈال کر جاتے، گویا واپس کبھی ان کو آنا ہی نہیں۔ وصیت نامہ لکھते اور خصوصاً اس میں انتقال ہو جانے کی صورت میں جنت البقیع میں تدفین کا ذکر ہوتا۔

۲۔ امراض کے باوجود علمی اشتغال:

حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت اکثر ناساز رہتی تھی، لیکن پھر بھی ابوداؤد پڑھانے کے لیے تشریف ضرور لاتے رہے۔ مرض الوفات کے سال بھی طلبہ و طالبات کو ’’ابوداؤد شریف‘‘ کا درس دیا، بلکہ ایک بار تو بڑھاپے اور تمام عوارض کے باوجود ۸ بجے سے ۱۱ بجے تک تین گھنٹے مسلسل سبق پڑھایا۔

۳۔ صبر و شکر کی کیفیت:

جب بھی حضرت رحمہ اللہ سے گفتگو ہوتی ان سے طبیعت کے بارے میں جب بھی پوچھا جاتا، ہمیشہ الحمد للہ کہتے اور پھر جو حالت ہوتی وہ بتا دیتے۔

۴۔ معمولات کی پابندی:

حضرت رحمہ اللہ کی حیاتِ مبارکہ میں ان کے معمولات کا اتنا علم نہ تھا جتنا ان کے سانحہ ارتحال کے بعد تعزیتی بیانوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد معلوم ہوا۔ اس وقت شدت سے یہ احساس پیدا ہوا کہ واقعی ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ ایک طالبہ جو حضرت رحمہ اللہ سے بیعت بھی تھی، اکثر مدرسے آیا کرتی تھی وہ کہنے لگی: ’’اگر ہمیں یہ سب پہلے معلوم ہوتا تو ہم ان کی اور زیادہ قدر کرتے۔ افسوس! ہم نے غفلت میں وقت گزار دیا‘‘۔

۵۔ عفو و درگزر:

حضرت رحمہ اللہ میں عفو و درگزر کا وصف نمایاں تھا۔ جب کبھی کسی معاملے میں کوئی کوتاہی ہوتی، حضرت رحمہ اللہ کبھی کبھی از خود تنبیہ فرماتے (اس سے اصلاح ہو جاتی) پھر جب بندی کی طرف سے معافی نامہ جاتا تو نہ صرف درگزر فرماتے بلکہ دلجوئی بھی فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ ’’اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرماۓ‘‘۔

۶۔ ادب و آداب کی اہمیت:

حضرت رحمہ اللہ کے ہاں ادب کی بہت اہمیت تھی اور اس پہلو سے اپنی متعلقین پر بہت کڑی نگاہ بھی رکھتے تھے اور بے ادبی کو بہت زیادہ ناپسند فرماتے تھے۔ طلبہ کی ابے تبے اور بازاری گفتگو کرنے پر بارہا تنبیہ بھی ہوتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ ابوداؤد شریف پڑھانے کے لیے تشریف لائے، طالبات نے صفحات زور سے کھولے، کتاب کی اس طرح بے ادبی پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ بعد میں طالبات نے درخواست لکھ کر معافی مانگی تو راضی ہوئے۔

۷۔ ذوقِ عبادت اور تعلیم و تربیت:

اوراد و معمولات اور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نمازِ باجماعت آپ کا شعار تھا۔ آخری عمر میں شدید اعذار کے باوجود مسجد میں تشریف لے جاتے اور طلباء کو بھی بارہا نمازِ باجماعت اور تکبیرِ اولیٰ کی ترغیب دیتے تھے۔ اس بات پر بھی نظر رکھتے تھے کہ کون پہلی صف میں ہے؟ کون مسبوق ہے؟ ذکر اللہ کی بہت زیادہ کثرت کرتے تھے۔ سبق کے دوران بھی ان کی زبانِ مبارک سے کلمہ طیبہ بار بار سنا جاتا۔ بیانوں میں بھی ذکر اللہ کی ترغیب بہت ہوتی۔

حضرت رحمہ اللہ طلبہ کے ساتھ ساتھ طالبات کو بھی مطالعہ، تکرار اور حاضری کی پابندی کی ترغیب دیتے تھے اور امتحان کے قریب محنت کرنے پر زور دیتے اور یہ بھی فرماتے کہ ’’ہمارا ہر دن امتحان ہونا چاہیے، روز کا سبق روز یاد ہونا چاہیے‘‘۔ پھر جب نتیجہ آتا اور تقریب منعقد ہوتی اس وقت بھی قیمتی نصائح فرماتے تھے اور مرض الوفات کے سال میں آخری بیان سہ ماہی امتحان کی تقریب میں فرمایا، جس میں ایک کتاب کا اقتباس پڑھا جس سے معلوم ہوا کہ بقائے دین کی بجز اس کے اور کوئی صورت نہ تھی کہ دینی تعلیم کے ذریعہ مسلمانانِ ہند کے دین کی حفاظت کی جائے اور تعلیم و تربیت کے راستے سے ان کی بقاء کا سامان کیا جائے…

۸۔ حضرت رحمہ اللہ کی شفقتیں اور ضیافت کا اہتمام:

مدرسہ بنات کو شروع ہوئے تین سال کا عرصہ بیت چکا تھا اور بندی کی ہم جماعت مدرسہ ہٰذا میں تدریسی شعبے سے منسلک تھیں، اس وقت بفضلہ تعالیٰ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ مدرسے میں جاکر خدمت کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں درخواست دی جو بفضلہ تعالیٰ قبول کی گئی اور چند دنوں کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے از خود بندی کو فرمایا: ’’آپ کا تقرر ہو گیا ہے‘‘، اس وقت بہت زیادہ قلبی مسرت ہوئی۔ بعد میں عمومی مجالس جو اساتذہ و معلمات کی ہوتیں اس میں نصائح فرماتے اور حاضری کی پابندی پر خصوصیت سے زور دیتے تھے۔

کتابوں کا ہدیہ: جب بندی درسِ نظامی میں زیر تعلیم تھی اس وقت حضرت کی طرف سے کتابیں بطورِ ہدیہ آتی رہتی تھیں۔ خصوصاً دورہ حدیث کی بعض بڑی شروحات بھی شامل تھیں۔ ایک بار حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے معلمات کو قرآن پاک اور چند دینی کتب بھی بطور ہدیہ کے ملیں۔
ضیافت کا اہتمام: جب کبھی حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے ضیافت کا اہتمام ہوتا تو اس کا خاص اہتمام فرماتے اور انٹرکام پر پوچھتے کہ ’’سب امور طے شدہ پروگرام اور وقت کے مطابق ہو رہے ہیں؟ اور کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح گرمی کے موسم میں معلمات اور بعض اوقات تمام طالبات کے لیے بھی آم ضرور بھجواتے اور شروع سال میں عیدی کے عنوان سے بھی معلمات کو کچھ رقم عنایت فرماتے تھے۔ ایک بار حضرت رحمہ اللہ نے عیدی کا لفافہ بھجوایا تو اس پر نام کے ساتھ ’’سلمها الرحمن‘‘ کا دعائیہ کلمہ لکھا ہوا تھا، جو ہمارے لیے بڑی سعادت کی بات تھی۔

۹۔ بے مثال تواضع اور متوسلین و متعلقین کی فکر:

حضرت رحمہ اللہ میں بے مثال تواضع تھی۔ انٹرکام پر دورانِ گفتگو بار بار دعاؤوں سے نوازتے۔ سابقہ سالوں میں جب حالات بہت زیادہ نازک ہو گئے تو حضرت رحمہ اللہ نے ’’یا حفیظ‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ مرتب فرمایا، جس کو کثیر تعداد میں تقسیم کروایا، طلبہ و طالبات، معلمین و معلمات کو جمع کر کے فرمایا: ’’ہم ظاہری حفاظت کا بھی اہتمام و انتظام کریں گے، لیکن آپ سب بھی اس کتابچے کو ضرور پڑھیں‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی بدولت اس کتابچے کو بے حد قبولیت عطا فرمائی۔