مرسلہ: منتسبینِ حضرت والا رحمہ اللہ | جمع و ترتیب: محمد یوسف مدنی
مرسلہ: حضرت حافظ محمد شاہد صاحب
- فرمایا: مجاہدہ دو قسم کا ہوتا ہے: ایک اختیاری، اور دوسرا اضطراری۔ تجربہ یہ ہے جو اختیاری مجاہدہ نہیں کرتا اس کو اضطراری مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
- فرمایا: ہمارے اکابر کے یہاں شریعت مطہرہ کی روشنی میں ’’بزرگی‘‘ کا معیار اپنی چوبیس گھنٹے کی زندگی کا ایک ایک لمحہ سنتِ نبوی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنا ہے، چاہے اس بزرگ کو کسی قسم کا کشف نہ ہوتا ہو اور نہ اس سے کوئی کرامت ظاہر ہوتی ہو۔
- فرمایا: بزرگی مالک کی طرف سے عطا کردہ ایک نعمت ہے، جس کو عطا ہوتی ہے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ (یہ ملفوظ حضرت شیخ مدنی رحمہ اللہ نے اس وقت فرمایا جب یہ عاجز ایک سفر میں حضرت کے ساتھ تھا۔ ایک دینی اجتماع میں بڑے بڑے بزرگانِ دین تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک صاحب فرمانے لگے کہ ہمارے یہاں تو بڑے بڑوں کی بزرگی توڑ دی جاتی ہے)۔
- فرمایا: میں نے اپنے بڑوں میں والد مرحوم کو نماز باجماعت تکبیرِ اولیٰ کا بہت پابند پایا۔ یہاں تک کہ پوری رات درد سے کراہتے دیکھا اور آنے والی صبح کو جماعت کی نماز میں موجود پایا۔
- فرمایا: قصور ہم لوگوں کا ہے، اگر ہم اس طرح ہمت نہ کریں تو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نماز کی اس کھلم کھلا دعوت نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کی نماز، بلکہ نماز ہی سے محروم رہ جاتی ہے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے، ادھر جہاز کی روانگی کا اعلان ہوا اور ادھر نماز کا وقت داخل ہو گیا، حضرت نے جماعت کی نماز کی نیت باندھ لی، اطمینان سے نماز پوری فرمائی تو عملہ کو اپنے ارد گرد کھڑا پایا، افسر نے کہا: حضرت! جہاز پر تشریف لے چلیں، صرف آپ حضرات کے انتظار میں عملہ کھڑا ہے۔ ان کی گفتگو میں ذرا بھی ناگواری نہ تھی بلکہ بہت متاثر تھے۔
- حضرت رحمہ اللہ نماز کے بارے میں اپنے درون اور بیرون ملک اسفار کے واقعات بیان فرماتے، جہاں ایئر پورٹ لاؤنج میں نماز کا وقت ہوا، اذان دی اور جماعت کرائی، دیکھتے ہی دیکھتے مسافروں اور عملہ کی ایک بڑی تعداد جماعت کی نماز میں شامل ہو جاتی۔
- مسلمان معاشرے میں خاص کر دینی کام میں لگے افراد عوام و خواص، مقتداء حضرات و علمائے کرام کو شادی بیاہ میں پھیلنے والی خرابیوں کی طرف متوجہ فرماتے کہ ’’یہ سب پیسے کی بہار ہے، جس نے کیا عوام اور کیا خواص، سب کو شادی بیاہ کی رسومات و خرافات کی دوڑ میں لگا دیا ہے‘‘۔
- مختلف مجالس، انفرادی و اجتماعی ملاقاتوں میں بڑے درد سے فرماتے: میں دن رات گھر بیٹھی بچیوں کے ماں باپ کی تحریرات اور فون پر بچیوں کے رشتوں میں رکاوٹ کی وجہ معلوم کرتا ہوں تو اکثر دوسروں کی طرح جہیز اور دعوت و رسومات کے لیے وسائل کی کمی نکلتی ہے۔ حالانکہ شریعت مطہرہ میں تو معیار ’’دینداری‘‘ ہے۔ باقی حسبِ استطاعت کوئی اپنی بیٹی کو خاموشی سے دیتا ہے تو اس کی خوشی (آج کل باقاعدہ بلا کر دکھانے کی رسم کو سخت ناپسند فرماتے)۔
- فرمایا: چند خاندان سادگی، نمود سے پرہیز اور دعوتوں میں وقت پر کھانا کھلانے جیسے امور پر عزم کے ساتھ کچھ عرصہ جم کر دکھائیں تو معاشرے میں ایک انقلاب برپا ہو جائے۔ اور اس حدیث کے مصداق ایسے افراد بن جائیں: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا (الحديث) — جس نے اچھے کام کی بنیاد ڈالی تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا بھی اجر ملے گا۔
- فرمایا: حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے قیامت میں اپنے تعلق والوں کو اپنے جھنڈے تلے جمع ہونے کی جو بشارت ارشاد فرمائی، امید ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضلِ خاص سے ہمیں بھی جمع فرما دے گا (راقم الحروف کی اپنے لیے بھی اس کریم ذات سے یہی دعا ہے)۔ اکثر فرماتے: ’’مالک کا کتنا کرم ہے کہ اس نے بہت سی اعلیٰ صفات کا حامل ایک انسان (یعنی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ) دکھایا اور طویل صحبت عطا فرمائی‘‘۔ اور اکثر مکمل شرح صدر کے ساتھ فرماتے سنا گیا کہ: ’’کتنے ہی جدت پسند اور ہم عصروں کے نمونے میرے سامنے پیش کر دو، میں اپنے اکابر نور اللہ مراقدہم کے نظریات سے ذرہ برابر بھی ہٹنے والا نہیں‘‘۔
- کوئی وسیلہ بند ہونے پر کسی کو متفکر دیکھتے تو یوں سمجھاتے: ’’بیٹا! ایک در بند ہوتا ہے مالک کی طرف سے ستر در کھل جاتے ہیں‘‘۔
- فنائیت و محبتِ شیخ کا یہ عالم کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا اندازِ گفتگو، گفتگو کے وقت چہرے کا اتار چڑھاؤ تک محفوظ فرمایا، بلکہ ہمیں یوں فرماتے: ’’غور سے دیکھو! حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو ہم نے اس طرح واقعات سناتے، ڈانٹتے، شفقت فرماتے، تربیت فرماتے اور قریب فرماتے ہوئے دیکھا‘‘ گویا جس طرح جانثار صحابہ کرام رضوان الله عليهم اجمعين نے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں کو اپنے اندر سمونے کی ساری عمر کوشش فرمائی، حضرت مدنی رحمہ اللہ نے اس پر مکمل پیروی کر کے دکھائی۔
- فرمایا: جو ہمارے مشن کو آگے بڑھائے، اس میں کسی طرح جڑے، اس کو ہم سے دعا کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں، ان شاء اللہ وہ ہماری دعاؤں میں شامل ہے۔ اکثر فرماتے: ایک ہے دعا کرانا اور ایک ہے دعا لینا، اکابر کی منشا کے مطابق چلنے والا خود بخود ان کی دعائیں لے لیتا ہے۔
-
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا تذکرہ اکثر آبدیدہ ہو کر فرماتے اور ترنم سے پڑھتے:
دیر و حرم میں روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا — مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کروں
کبھی یہ شعر پڑھتے:
جس گل پہ دل دیا ہے جس پھول پر فدا ہوں — یا وہ بغل میں آئے یا جاں قفس سے چھوٹے
اکثر ترنم سے پڑھتے:
غمِ عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا
- فرمایا: میں نظام الدین مرکزِ تبلیغ میں حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کے گھنٹوں مسلسل ہونے والے بیانات کو لکھتا، دورانِ تقریر اگر حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ مجھے کسی کام سے بھیجتے تو بیان کو روک کر میرا انتظار فرماتے، میری واپسی پر بات دوبارہ شروع فرماتے۔ اس کے علاوہ حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی تقریر کے اختتام پر اللہ کے راستے میں رخصت ہونے والی جماعتوں کو ہدایات دینا، ان کے رخ اور منزل کا تعین کرنا اور آنے والے مہمان و مشائخ کو کھانا کھلانے جیسی ذمہ داریوں کا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈالتے۔
- اکثر سنا کہ ہم اور حضرت مولانا عمر پالنپوری رحمہ اللہ مل کر حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کے مہمانوں کے کھانے کے ذمہ دار ہوتے، لیکن مجال نہ تھی کہ ہم حضرت کے دسترخوان پر بیٹھ جائیں، مرکز میں مجاہدہ ایسا کہ ایک کے بعد ایک ذمہ داری اس طرح سر انجام دیتے کہ کھانے کا بھی ہوش نہ رہتا۔ حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ کے سر پر تیل لگاتے اور بدن دباتے تو حضرت پیار سے ’’ارے لونڈو!‘‘ کبھی ’’ارے پیارو!‘‘ کے شفقت آمیز الفاظ سے مخاطب فرما کر قصے، واقعات اور تربیتی فقرے سناتے۔ کبھی فرماتے: ’’ارے لونڈو! ہے تم میں کوئی رجلِ رشید جو دعاؤوں کے ذریعے آج کی رات اپنے رب کو رو رو کر اس بات پر منا لے کہ سارے عالم میں ہدایت پھیل جائے‘‘۔
- فرمایا: جب میں مدینہ منورہ طویل قیام کے بعد کراچی آیا تو قبرستان جانے کے لیے جنازے کے ساتھ میت بس تک جاتا تو مجھے پہچانتے نہ تھے اور آواز دے کر کہتے ’’مولوی صاحب ایک طرف ہو جاؤ‘‘ اور دوسروں کو ’’آئیے بھائی صاحب‘‘ اور ’’آئیے شیخ صاحب‘‘ کہہ کر چڑھا لیتے اور میں سوار ہونے سے رہ جاتا۔ اکثر یہ شعر پڑھتے:
نصیحت گوش کن جاناں کہ از جاں دوست ترا دانند — جوانانِ سعادت مند، پندِ پیر دانا را
- فرمایا: شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ہاں نہ رہنا آسان تھا اور نہ ان کو چکر دینا آسان۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اپنے لوگوں کی پوری پوری نگرانی فرماتے اور ان کے تعلقات وغیرہ کو جانچ کر اعتماد فرماتے تھے۔
- اکثر ’’الحمد للہ‘‘ کے ساتھ فرماتے کہ ہمارے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ وصال سے پہلے ہم سے خوش اور راضی رہے۔
مرسلہ: مولانا محمد عظیم معین صاحب
- فرمایا: معمولات کی پابندی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔
- فرمایا: جب مسجد سے نکل کر گھر کی طرف جاتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ سامنے والے گھر کو فلاں صاحب نے تعمیر کیا تھا، وہ اب اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ اس کے برابر والے گھر کو فلاں صاحب نے تعمیر کرایا تھا، وہ انتقال کر چکے ہیں۔ اس کے برابر گھر کو فلاں صاحب نے تعمیر کرایا تھا، وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے۔ ایک ایک کر کے گھروں کو دیکھتا ہوا گھر جاتا ہوں۔ تو معلوم ہوا کہ یہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ آج ہم چلتے پھرتے دیکھ رہے ہیں، کل دوسرے دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہاں فلاں صاحب رہتے تھے، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔
- فرمایا: ایک بات کہتا ہوں جو لاکھوں میں ایک ہے، اسے اپنے پلو سے باندھ لو کہ: ’’کام ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے شروع ہوتا ہے، پھر اللہ پاک بندے کی محنت اور خلوص پر اس میں برکت ڈال دیتے ہیں‘‘۔ دیکھو! حضرت جی مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ نے چند افراد سے کام شروع کیا، لیکن اخلاص کے ساتھ تھا اللہ پاک نے قبولیت بخشی۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ ایک کمرے میں چھ افراد کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کہ بھائی! بتاؤ اب کیا کرنا ہے؟ اس کام کو چھ براعظم میں پھیلانا ہے۔ ان کے دور میں تو نہیں، لیکن آج دیکھ لو، چھ کے چھ براعظم میں تبلیغ کا کام بحسن و خوبی ہو رہا ہے۔ اس لیے کام کرو کام، اگر تم پہلے ہی یہ چاہو کہ جی صاحب، پہلے ایک دار العلوم میرے لیے قائم کر دیا جائے، جس کی شاہانہ سی عمارت ہو، وغیرہ وغیرہ تو پھر بیٹھے ہی رہو گے۔ دو طالب علم کو ساتھ لو ایک چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر کام شروع کر دو۔ اللہ تعالیٰ اس کو خود ہی بڑھا دیں گے۔
- فرمایا: اللہ کا نام اگر تین باتوں کے ساتھ لیا جائے تو مکمل فائدہ دیتا ہے:
1. دھیان: اس بات کو سوچے کہ میں کس ذات کا نام لے رہا ہوں، جس نے مجھے پیدا کیا۔
2. عظمت: یہ سوچے کہ کتنی عظیم الشان ذات ہے، خالقِ کائنات و خالقِ ارض و سما۔
3. محبت: اللہ کے انعامات کو سوچے کہ بچپن سے لے کر اب تک کتنے لاکھوں کروڑوں انعامات اس کی جانب سے ہر وقت میری طرف ہو رہے ہیں۔
- فرمایا: حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی کے دور میں تبلیغی کام میں وہ جوش و خروش ہوا کرتا تھا اور ایسی فتوحات ہوتی تھیں کہ ہمیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ عنقریب ہم دہلی کے لال قلعہ میں جماعتوں کی تشکیل کر رہے ہوں گے اور اللہ کے دین کی تبلیغ کریں گے۔
- زندگی کے اخیر ایام میں اپنے متعلقین کو کثرت سے اس مراقبہ کا حکم فرمایا کہ درود شریف پڑھتے وقت یہ سوچو کہ میں تو روضہ اقدس پر کھڑا ہوا ہوں اور درود شریف کے پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوارات کی بارش حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر ہو رہی ہے اور اس انوار کی بارش کی چند چھینٹیں ہم پر بھی پڑ رہی ہیں اور ہم اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔
- ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: بیٹا! کھانا تو ضرورت کی چیز ہے، اس میں زیادہ مبالغہ نہ ہونا چاہیے۔ اچھا ملے تو شکر کرنا چاہیے، لیکن اس کی تعریف میں زیادہ مبالغہ آرائی سے کام نہ ہو کہ واہ کیا کڑاہی تھی! کیا لذیذ تھی! ایسی تھی ویسی تھی۔ بس کھا لیا، اللہ کا شکر ادا کرو اور اپنے کام میں لگو۔
- فرمایا: جب حضرت جی تقسیم ہند کے بعد پہلی مرتبہ ایک بڑے قافلے کے ساتھ چھ ماہ کے لیے حج پر تشریف لے گئے تو مجھے نظام الدین میں بیان کے لیے مقرر فرمایا۔ چھ ماہ بعد جب واپسی ہوئی اور حضرت بیان کے لیے پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا: ’’بیت اللہ کے ہزاروں چکروں کے بعد اللہ پاک نے یہ بات دل میں ڈالی اور جمائی کہ مسلمانوں کے دین کی حفاظت ان کی معاشرت کی حفاظت میں ہے۔ اگر مسلمانوں کا طرزِ معاشرت محفوظ ہو گا تو دین بھی محفوظ رہے گا۔ اگر معاشرت محفوظ نہ رہی تو دین بھی باقی نہیں رہے گا‘‘۔
- فرمایا: ہم حضرت جی کے یہاں دسترخوان پر خدمت میں مقرر ہوتے تھے اور مہمانوں کا ایک ہجوم ہوتا تھا، ایک دسترخوان خالی ہوتا نہیں تھا کہ دوسرا بھر جاتا تھا۔ بڑے بڑے لوگ حضرت کے مہمان ہوا کرتے تھے اور حضرت انہیں پیار بھرے انداز سے کہتے: یہ لیجیے! ڈاکٹر صاحب۔ یہ لیجیے! پروفیسر صاحب۔ خوب آؤ بھگت ہو رہی ہوتی اور ہماری مجال نہ ہوتی تھی کہ عرض کر دیں کہ حضرت ہم بھی کھانا کھا لیں! جب سارے مہمان فارغ ہو جاتے تو پھر حضرت جی! ہمیں آواز دیتے (پیار بھرے انداز میں) او لونڈو! آؤ بیٹھ جاؤ، اور پھر حضرت جی ہمارے ساتھ کھانا کھاتے۔
- فرمایا: حضرت شیخ رحمہ اللہ کے یہاں تکلفات نہیں ہوا کرتے تھے۔ دس دس آدمی دسترخوان پر بٹھا دیے جاتے اور اتنے یہ فارغ ہوتے مزید دس آ جاتے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ مہمانانِ گرامی سے فرماتے: حضرت کھائیے! اگر وہ یہ کہہ دیتے کہ نہیں بس اب نہیں، تو فوراً فرماتے: اچھا پھر ہاتھ دھو لیجیے۔
- فرمایا: حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ ہر چیز میں انگریز کی مخالفت کرتے ہیں، آخر کوئی تو ایسی چیز بھی ہو، جو آپ کو انگریز کی پسند ہو؟ فرمایا: ہاں! ایک چیز مجھے انگریز کی پسند ہے اور وہ یہ کہ ان کے گوشت کے بھنے ہوئے کباب میرے سامنے لائے جائیں۔ بس یہ مجھے پسند ہیں۔
- ایک مرتبہ دو تین دن کی غیر حاضری کے بعد حاضر ہوا تو بڑی لَے سے یہ شعر پڑھا:
نہیں ملنا، نہیں ملنا، کہیں ہم مر نہ جائیں گے — خدا کا شکر ہے پہلے محبت آپ نے کم کی
اور پھر فرمایا کہ ہم نے تو اپنے ایسے بڑے دیکھے ہیں جو چھوٹوں سے ایسی محبت فرمایا کرتے تھے کہ ان کے ناز برداشت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو علی میاں نے کافی عرصہ تک خط نہ لکھا تو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے علی میاں کو خط لکھا اور شروع میں یہ شعر لکھا (بڑی لَے سے پڑھ کر سنایا):
حماقت دیکھیے لکھتے ہیں خط ہم اُن کی جانب میں — جواب دینا بھی ہمیں جن کو عیب معلوم ہوتا ہے
- ایک مرتبہ استفسار کیا کہ حدیث شریف: رَبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ میں ’’أشعث، أغبر‘‘ اور ’’مدفوع بالأبواب‘‘ کی قید اتفاقی ہے یا لازمی؟ تو ارشاد فرمایا: ’’یہ قید اتفاقی ہے۔ اصل تو قلب کی حالت کی بات ہے‘‘۔
- مسجد کی جدید تعمیر کے دوران جب اس کے بیسمنٹ ہال کی تعمیر مکمل ہوئی تو فرمایا: مسجد کی صرف بنیاد اور بیسمنٹ ہال کے لیے ساٹھ لاکھ روپے اپنے پاس سے دے چکا ہوں۔ اللہ ہی محض اپنے فضل و کرم سے کام مکمل کرا دے۔
- ایک مرتبہ رمضان المبارک میں سیلاب زدگان کے بارے میں فرمایا: الحمدللہ! اب تک ستر لاکھ روپے بھیج چکا ہوں۔ اللہ اپنے فضل سے قبول فرما لیں گے۔
ابو داؤد شریف کے سبق کے دوران چند یادگار ملفوظات
- فرمایا: میرے استاذ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے جب بخاری کا سبق شروع کرایا تو سات دن تک صرف بخاری کے نام پر بحث کی۔ بخاری کا پورا نام الجامع الصحيح المسند المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه ہے۔ استاذِ محترم نے ہر ہر جزء کو تفصیل سے بیان کیا۔
- فرمایا: اللہ کی مدد انسانوں کے اعمال پر آتی ہے۔ باطل ہمیشہ چیزوں سے کامیاب ہوا ہے اور حق ہمیشہ انسانوں سے کامیاب ہوا ہے۔ باطل ہمیشہ چیزوں میں آگے بڑھता ہوا ترقی کرے گا اور جلد یا بدیر یہ چیزیں انسان کے حق میں نقصان کی زیادتی ضرور کریں گی۔
- فرمایا: دنیا میں تین چیزیں ہیں: (۱) زور (طاقت) (۲) زر (مال) (۳) زاری (اللہ سے آہ و زاری)۔ بعض اوقات زاری پہلی دو چیزوں پر فوقیت لے جاتی ہے۔
- فرمایا: بعض حضرات اصحاب الرائے کہتے ہیں کہ بانیِ تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ چودھویں صدی میں طریقۂ تبلیغ کے مجدد تھے۔
مرسلہ: مولانا محمد داؤد صاحب
- حرمین کے بارے میں فرمایا کہ بحمداللہ وہاں اور افریقہ اور انڈیا اور مختلف جگہوں میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے متعلقین خوب کام کر رہے ہیں۔ خوب کام ہو رہا ہے۔ کام کے متعلق فکرمند پایا۔
- بندہ نے عرض کیا کہ کبھی اپنے کو بہت اچھا سمجھنے لگتا ہوں اور کبھی بہت ہی ناپاک اور برا، فرمایا کہ اچھائی تو معمولات و مراقبہ کے اثرات سے بسا اوقات محسوس ہوتی ہے، ایسے میں یہ دھیان کیا جائے کہ میرا تو کچھ بھی نہیں، سب اسی کی عطا ہے۔
- فرمایا: کام تو آپ لوگوں کو ہی کرنا ہے، ہم تو بس جانے ہی والے ہیں۔
- حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کے حالات کا تذکرہ فرمایا: قدرے دبلے پتلے بدن اور نکلتے ہوئے قد کے تھے۔ میں نے تو نہیں دیکھا، چھوٹا تھا۔ مفتی ولی حسن رحمہ اللہ نے دیکھا تھا۔ ظاہری حسن سے بھی اللہ نے مالا مال کیا تھا۔ بذل المجهود پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ سے تقریظ لکھوانا تھی، یہاں میں ہی رابطہ میں تھا اس لیے مدینہ منورہ سے حضرت کا حکم حضرت بنوری رحمہ اللہ کے پاس پہنچا۔ حضرت مجھے مجلس تحقیق میں اوپر لے گئے اور ایک فارسی کی کتاب نکالی اور اس میں دکھایا، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا ملفوظ: أريد أن آخذ شعرة من جسدك لأستظل به يوم القيامة۔ یہ درجہ تھا کہ شیخ مرید سے کہہ رہا ہے۔ پھر مخاطب کر کے فرمایا:
مشک آن باشد که بوید نه که عطار بگوید
- حضرت رحمہ اللہ نے حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا کہ اتنے متوکل تھے کہ افطار سے دو منٹ پہلے بھی کچھ آ جاتا تو دے دیتے تھے، اتنی دیر روکے رکھنا بھی گوارا نہیں تھا۔ اپنے بدن کے کپڑے بھی اپنے خادمِ خاص شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کو دے دیے کہ میں تم سے عاریتاً لے کر پہن لوں گا تاکہ اپنے رب کے پاس اس حال میں پہنچوں کہ اپنے ہاتھ میں کچھ نہ ہو۔
- ’’ملفوظات حضرت مفتی محمود گنگوہی رحمہ اللہ‘‘ منگوا کر ایک ملفوظ پڑھا کہ تین وجوہات سے شیطان سارا کیا کرایا ضائع کر دیتا ہے: (۱) مشتبہ لقمہ سے (۲) ناجنس کی صحبت سے (۳) ارتکابِ معصیت سے۔ اور قبض کے متعلق فرمایا کہ ایک وقت فترۃ کے زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بھی آیا کہ جی چاہا کہ اپنے کو پہاڑ سے گرا دوں، حالانکہ آپ معصوم تھے۔
- فرمایا: بندہ کے خسر حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے بیعت تھے۔ پورا ماہِ مبارک اعتکاف سے رہے اور عید کی رات اللہ کو پیارے ہو گئے۔
- رائے پور خانقاہ کا سنایا کہ حافظ شاہد ساتھ تھے، جہاں پر پتہ پتہ سے اللہ اللہ کی آواز آتی تھی۔ حضرت نفیس شاہ صاحب رحمہ اللہ کی نظم کے چند قطعات سنائے:
دل ناصبور سے کیا کہوں… ابھی حشر میں بڑی دیر ہے… ابھی دور روزِ شمار ہے
شاہ صاحب رحمہ اللہ عجیب چیز تھے۔ بڑی بچی جو حافظ شاہد کے نکاح میں ہیں۔ ان کے نکاح کے موقع پر تشریف لائے تو مولانا زبیر صاحب رحمہ اللہ نے یہی نظم سنائی تھی۔
- فرمایا: ایک علمی و فقہی اشکال ہوا کہ نفلی صدقہ نفلی حج سے افضل ہے، لیکن امام اعظم و امام اعمش تو ہر سال حج کرتے تھے؟ پھر فرمایا کہ حج میں عالمی اجتماع ہوتا ہے، اہل رائے مل بیٹھتے ہیں، کام کی نوعیتیں اور تقاضے سامنے آتے ہیں وغیرہ۔ چنانچہ فرمایا کہ بہت سوں سے ملاقات رہی، بڑی خوشی ہوئی، گویا کہ افضلیت کا دار و مدار احوال و افراد پر مبنی ہے۔
- ایک امریکی عالمِ دین تشریف فرما تھے، بہت ہی روح پرور مجلس تھی، ایک متعلق ملے اور سفرِ حج کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: یہ تو مبارک ہی مبارک ہے۔ جو کمی ہے وہ ہماری طرف سے ہے۔ بیمار ہوئے تو بیماری لے کر گئے، کچھ اور ہوا تو اپنی ہی کوتاہی ہے۔ ورنہ یہ سفر تو خیر ہی خیر ہے۔ ایک غیر ملکی طالب علم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے پوچھا گیا اس سفر کے بارے میں تو کہنے لگا: الحمد لله على حرها وبردها۔
- فرمایا: تین باتوں کا دعا میں خیال رکھنا اور بہ تضرع و الحاح دعا مانگنی ہے: ایک تو پوری امت کے لیے، عجیب حالات ہیں۔ دوسرا اس مدرسہ (معہد الخلیل) کے لیے، اللہ قبول فرمائے۔ اور تیسرا یحییٰ کی بھی کچھ تمنائیں ہیں (اور یہ فرماتے ہوئے آبدید ہ ہو گئے) اللہ ہی قبول فرمائے۔
- حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز تو مجمع البحار ہے، تلاوت اس میں، ذکر اس میں، تسبیح اس میں، سراپا تواضع و عاجزی اس میں، نماز ہی میں غفلت کیسے؟ توبہ توبہ۔ اور فرمایا کہ بس دو چیزوں پر محنت کرو: نماز اور دعا، اور دعا تو مسنون دعائیں بھی ہیں اور اپنی دعائیں بھی ہیں، لیکن دعا کی اصل یہ ہے کہ اس سے مانگا جا رہا ہے۔ ایک مانگنا ہوتا ہے اور ایک پڑھنا ہوتا ہے، جیسے کوئی صاحب مالدار ہوں یہ بھی معلوم ہو کہ سخی ہیں اور دل بھی بڑا رکھتے ہیں تو یہ شخص کتنی امید سے سوال کرے گا۔
- فرمایا کہ عجیب حال ہو گیا ہے کہ بات حال سے قال پر آ گئی ہے۔ بات اچھی، تقریر اچھی، سب کچھ اچھا، لیکن اندر کچھ نہیں، ملکی حالات وغیرہ کے کچھ تذکرے کے بعد فرمایا: کہ بس سب سے بڑی بات لا الہ الا اللہ (اور اپنے مخصوص لہجے سے ذکر فرمایا) اور فرمایا کہ سب سے احسن اور احوط اور سب سے اسلم راستہ یہی ہے، وہ مل گیا تو سب کچھ مل گیا۔ من له المولى فله الكل۔ پھر حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمہ اللہ کا شعر پڑھا:
کوئی تجھ سے کچھ کوئی کچھ مانگتا ہے — میں تجھ سے یارب ہوں طلبگار تیرا
اور پھر محمود و ایاز کا واقعہ سنایا کہ محمود نے جب کہا کہ جسے جو چاہیے وہ لے لے۔ کسی نے سونا، کسی نے چاندی، کسی نے کچھ لیا۔ ایاز سے پوچھا کہ تو نے کچھ نہیں لیا؟ تو ایاز نے محمود کے سر پر ہاتھ رکھ دیا کہ مجھے تو آپ چاہییں۔
مرسلہ: مولوی عبداللہ گل
- مسائلِ مناسک میں اگر کسی مسئلے کے جواب میں دم آتا ہے تو فرماتے: ’’بھئی! دم آ گیا اور دم سے دم نکلتا ہے‘‘۔
- سفرِ حج میں طبیعت کے علیل ہونے کے باوجود جب کمرے میں تشریف فرما ہوتے تو فرماتے: بھئی! معلم الحجاج لے آؤ، علمی مشغولیت سے فائدہ ہوتا ہے۔
- فرمایا: تبلیغی جماعت کے پھیلنے کا راز یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے امت کی نبض پکڑ لی اور دیکھا کہ امت لے کر خوش ہے دے کر خوش نہیں۔
- فرمایا: پہلے جماعتوں کی نقل و حرکت تہجد کے وقت ہوتی تھی اور ہم ۳۳، ۳۳ میل بھوکے پیدل چلتے تھے۔ اور رائے ونڈ میں جماعتوں کو رخصت میں کرتا تھا۔
- ایک مرتبہ رائے ونڈ کا پرانا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا: جس دن ہم کو گُڑ مل جاتا تو ہم کہتے ہماری عید ہو گئی! اور فرمایا کہ جب میں پہلی بار وہاں گیا تو ایک شور مچ گیا کہ کراچی کا مہمان آیا ہے، تو مٹی کے برتن میں گُڑ لا کر پیش کیا گیا۔
- فرمایا: سفر تیقظ کا نام ہے۔
- ایک مرتبہ مسائل و ضروریات کو پورا کرنے کا نسخہ بتلایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کو سکھا گئے کہ نہ زر سے، نہ زور سے بلکہ مسلمان کا کام زاری سے ہوتا ہے۔
- مسجد نبوی میں پوچھا گیا کہ مکاشفہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: مکاشفہ وغیرہ سب ظنی چیزیں ہیں ان پر شریعت کا مدار نہیں۔ اور ان میں سے بسا اوقات استدراج بھی ہوتا ہے۔
- فرمایا: سالک کے لیے ترقی کا سبب شیخ سے محبت ہے۔
- فرمایا: (الحمدللہ! حضرت پر اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز و اکرام کیا کہ حضرت دو مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے) ایک مرتبہ جب داخل ہوا تو عصر کے بعد کا وقت تھا تو خیال آیا کہ نماز کا وقت تو نہیں ہے تو دل میں نیت کی کہ اے اللہ! زندگی میں بالفرض عصر کی جو نماز بھی قضا ہو گئی اس کی نیت کرتا ہوں۔ اور نیت باندھ لی (اللہ اکبر! یہ حضرت کا علمی استحضار تھا کہ بعد عصر نوافل کی نیت نہ باندھی)۔
- فرمایا: حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: میں تمہیں قطب بننے کا طریقہ نہ بتلاؤں؟ عرض کیا: جی ضرور۔ تو فرمایا: جس منکر کام کو تم ہوتے ہوئے دیکھو تو اس کی ضد معروف شروع کر دو، منکر بھی ختم اور تم قطب بھی بن جاؤ گے۔
- فرمایا: میرے دعوت میں جانے کے چار اصول ہیں: (۱) کوئی غیر شرعی کام نہ ہو (۲) میں ایک جماعت کے ساتھ آؤں گا (۳) فرشی نشست ہو (۴) کھانا خود نہیں نکالوں گا۔
- فرمایا: میری خواہش ہے کہ موسمِ حج و شعبان و رمضان میں مکہ و مدینہ میں دو دار الافتاء بناؤں، جس میں اپنے مدرسے کے دو مفتی بٹھاؤں جو لوگوں کی ضرورت کو پورا کریں۔
- فرمایا: بزرگ وہ ہوتا ہے جس کی بزرگی کی بیوی قائل ہو۔
مرسلہ: جناب محمد ظہیر عباس
- فرمایا: بس اٹھتے بیٹھتے ہر وقت درود شریف پڑھتے رہو، بس میں بھی بیٹھے ہو تو بجائے اس کے کہ ادھر ادھر کی باتیں کرو درودِ پاک پڑھتے رہو، یہ ایسا واحد عمل ہے کہ جو قبول ہے، اس کی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔
- فرمایا: میں ایک دفعہ پنجاب والدین کے پاس گیا تو میری درخواست پر حضرت نے مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ ’’وہاں پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے رہنا، سیاست سے دور رہنا، نہ کسی کی مخالفت نہ حمایت‘‘۔
- فرمایا: نصیحت اس کو کی جائے جو نصیحت کا طالب ہو۔
- فرمایا: آج کہہ لو ان کو (جو دین داری کو اختیار کرتے ہیں) کہ یہ دقیانوسی ہیں، بہت جلد پتہ چل جائے گا، جب موت آئے گی۔
- فرمایا: آج جتنے بھی حالات آ رہے ہیں ان سب کا حل صرف اللہ پاک کی طرف رجوع ہے۔
- فرمایا: قرآن و حدیث کی تعلیم کسی مستند استاذ سے، جس کا استاذ اس کی گواہی دے، اس سے حاصل کرو، جو اٹھتا ہے وہی قرآن کی تفسیر لکھ دیتا ہے، فلاں ڈاکٹر صاحب، فلاں بھی ڈاکٹر، قرآن کی تعلیم کسی مستند عالمِ دین سے حاصل کرنی چاہیے:
بے عشقِ محمد کے جو پڑھتے ہیں بخاری — آتا ہے بخار اُن کو بخاری نہیں آتی
- فرمایا: آج کل اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کرا کر ہم ناسور پیدا کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سکھاؤ۔
- فرمایا: (لوگ کہتے ہیں) ہم اپنے بچوں کو اس لیے مدرسے میں داخل نہیں کرواتے کہ پھر روزی کہاں سے ملے گی؟ اس کے لیے پریشانی کی ضرورت نہیں، روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
- اعتکاف میں فرمایا کرتے: آپس میں تعارف اور دوستی سے پرہیز کریں اور آپس میں باتیں نہ کریں، نوجوان دیوار کے ساتھ ٹیک لگا نہ بیٹھیں۔ تلاوت کا ماحول بنائیں، رات کو جگہ جگہ ایک حافظ کے پیچھے دو دو تین تین مقتدی کھڑے قرآن پاک کی تلاوت سن رہے ہوں۔ ایک موقع پر فرمایا: ’’ہمارے ہاں تو رگڑائی ہوتی ہے‘‘۔
- فرمایا: آج کل ہر جگہ عورتوں کی کثرت ہے، بے پردگی ہے کہ ایئر پورٹ وغیرہ پر اپنا کام کرانے کے لیے بھی عورتوں کے پاس جانا پڑتا ہے ایسے موقع پر نظریں نیچی کرنے کا خاص اہتمام کریں۔
- فرمایا: یہ کیا؟ (الماری سے) قرآن پاک ایک ہاتھ سے اٹھاتے ہیں (یہ تو بے ادبی ہے) بلکہ بڑے ادب کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے قرآن پاک کو (الماری سے) لو اور پھر چومو! سینے سے لگاؤ! اور پھر پڑھو!
- عرض کیا: حضرت جی! یونیورسٹی میں لڑکیاں بار بار آ کر (پڑھائی سے متعلق سوالات پوچھتی ہیں) تو فرمایا: ’’اگر کام کی بات پوچھے تو نظر نیچی کر کے جواب دے دو اور اگر فضول بات پوچھے تو کہہ دو کہ کسی اور سے پوچھ لو‘‘۔
- ایک موقع پر حضرت عشاء کے بعد کچھ مریدین کو ذکر سکھا رہے تھے، ایک نیا آدمی آیا اس نے بھی ذکر سیکھنے کی درخواست کی تو اس کو فرمایا: ’’پہلے تیسرا کلمہ، درود شریف اور استغفار کی تسبیحات پڑھا کریں پھر‘‘۔
- فرمایا: اگر کوئی رات کے وقت دعوت پر بلائے تو اس سے معذرت کر لیں اور کہہ دیں کہ بھائی! صبح فجر کی نماز میں مشکل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو شریعت چلتی ہے۔
- فرمایا: جب گھر سے نکلیں تو پہلے سے طے کر لیں کہ ظہر کی نماز مجھے جماعت سے کہاں ملے گی؟ عصر کی نماز جماعت سے کہاں ملے گی؟ (وغیرہ)۔
- فرمایا: میں ایک کتاب دیکھ رہا تھا، اس کے اندر انہوں نے لکھا تھا کہ آدمی کو اتنی جلدی دوسرے کو معاف کر دینا چاہیے کہ جتنی جلدی وہ چاہتا ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے۔ اور اسی دن میں ایک آدمی سے ناراض ہوا تھا اپنے ہی بچوں میں سے۔ فوراً بلایا میں نے اور پھر میں نے اس کو معاف کر دیا، کیوں کہ آدمی अपने ساتھی کو اتنے جلدی معاف کر دے کہ جتنا وہ چاہتا ہے کہ اللہ پاک مجھے معاف کر دے۔
- فرمایا: بیعت کا معنی ہیں عہد کرنا، ایک پختہ ارادہ کرنا، کسی اللہ کے بندے کے سامنے کہ دیکھو میں عہد کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ان باتوں کو کروں گا اور ان باتوں کو نہیں کروں گا۔ بس اسی کا نام بیعت ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے…
- رسالہ ’’سلوک و احسان‘‘ کے متعلق فرمایا: یہ بہت سے مشائخ کی صحبتوں کا بدل ہے۔ چُن چُن کے مقالے اس میں جمع کیے جاتے ہیں۔ آج اخبار میں کتنے پیسے ضائع کیے جاتے ہیں۔ ایک رسالہ اپنے لیے جاری نہیں کرا سکتے اور اپنے ساتھیوں کے لیے جاری نہیں کروا سکتے۔ شاید کسی کے دل پے کوئی بات لگ جائے اور اس کی زندگی بدل جائے۔ اس کا بھی ارادہ کریں۔ یہاں کے جو ذمہ دار ہیں رسالہ کے ان سے رابطہ کریں اور پورا سال گھر بیٹھے رسالہ حاصل کریں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔
- فرمایا: چھوٹا بچہ ہے، سانپ ٹھٹھرا پڑا ہوا ہے، اس کا ہاتھ اس پر لگتا ہے، جانتا نہیں کہ سانپ کیا ہوتا ہے، وہ بڑا خوش ہوتا ہے، بڑی اچھی چیز ہے، غلیل بھی بنا سکتا ہوں، کھلونا بھی بنا سکتا ہوں۔ لیکن ایک بڑا آدمی ہو، جاننے والا ہو وہ تو قریب ہی نہیں جائے گا کہ یہ ابھی تو ٹھٹھرا پڑا ہے سردی کی وجہ سے، اگر اس میں گرمی پیدا ہو گئی تو یہ مجھے ابھی ڈس لے گا، ابھی مجھے ختم کر دے گا۔
- فرمایا: کتنے بیمار ہوتے ہیں، اپنے رشتہ دار ہیں، اپنے ہی والدین ہیں، بہن بھائی ہیں لیکن ان کی تیمار داری کے لیے وقت نہیں ہے۔ کیوں؟ ہم جو ہیں دکاندار ہیں، کیوں؟ ہم ملازم ہیں۔ ہمارے ذمہ اور بھی کام ہیں۔ چلو اس کو برداشت کر لیں گے لیکن اس کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دکان کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ایسے ایسے بھی ہیں کہ گھروں میں تو شادیاں ہو رہی ہیں اور خود موجود نہیں ہیں۔ گھر میں ولیمہ ہو رہا ہے خود موجود نہیں… ایک ہندو انبالہ میں بہت مالدار تھا کہتے ہیں کہ جب جان نکلنا شروع ہوئی تو پیروں سے ہوتی ہوئی حلق تک آ گئی… (آخر تک دردناک و عبرت ناک قصہ بیان فرمایا)۔