مضامین

حضرت مولانا محمد داؤد صاحب دامت بركاتہم العالیہ

حضرت مولانا محمد داؤد صاحب رحمہ اللہ

احقر کا سنِ ولادت ۱/۳/۱۹۶۹ء ہے۔ ایبٹ آباد کے نواحی علاقہ کھلیالہ، جبکہ اعوان برادری سے تعلق ہے۔ والد صاحب رحمہ اللہ آرمی سے ریٹائرڈ تھے۔ اپنے گاؤں کے علاوہ قرب و جوار کے دیہاتوں کی غمی خوشی میں شریک رہنے والے اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، گاؤں کی مسجد میں اعتکاف کی سنت زندہ فرمائی، جہاں اعتکاف سے ناآشنائی تھی وہاں بحمداللہ اب مسجد کے علاوہ گھروں میں خواتین بھی اعتکاف کرتی ہیں۔ گزر بسر کھیتی باڑی اور زمینداری پر تھا اس لیے والد صاحب رحمہ اللہ نے مجھ سمیت پانچ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں لگایا، اپنا ہاتھ بٹانے میں کسی کو نہیں لگایا۔ بندہ نے قاعدہ ناظرہ اپنی بڑی ہمشیرہ رحمہا اللہ سے اور ابتدائی چھ پارے اسکول کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی قاری محمد افضل صاحب مدظلہ سے گھر پر ہی حفظ کیے۔ تکمیلِ حفظ ہری پور کوٹ نجیب اللہ جبکہ تجوید نمک منڈی پشاور میں پڑھی۔ درسِ نظامی درجہ سادسہ تک جامعہ انوار الاسلام ایبٹ آباد میں شیخ التفسیر مولانا شفیق الرحمن قریشی زید مجدہم کے زیرِ سایہ پڑھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں تکمیل کی اور عصری تعلیم میں پشاور بورڈ سے ۱۹۸۵ء میں میٹرک کیا۔

دورۂ حدیث والے سال ۱۴۱۳ھ میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ سے بیعت ہوا۔ صفر ۱۴۲۱ھ میں حضرت کی شہادت ہوئی تو بندہ کی دنیا تاریک ہو گئی۔ کئی ماہ حیرانی و پریشانی طاری رہی، ایک دن اللہ جل جلالہ کے کرم کا جھونکا آیا اور ایک نمازی بھائی سجاد کی رہنمائی میں معہد الخلیل کی مسجد میں آخری جمعرات کے اجتماع میں شریک ہوا۔ حضرت رحمہ اللہ کی زیارت سے ہی دل کی دنیا آباد ہو گئی اور قرار آ گیا۔ موقع پاتے ہی آغوشِ تربیت میں لینے کی درخواست کی، حضرت نے قبول فرما لیا۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی کسی بھی ادا کو مجھ کوتاہ کے لیے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

ایک مرتبہ حضرت رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے فرزند اور صاحبزادیوں کے نکاح کے موقع پر ایک لان میں کھانے کی تقریب تھی۔ حضرات و خواتین کے لیے الگ الگ دو حصے متعین تھے۔ تقریب میں بڑے بھی تھے، چھوٹے بھی تھے، بچے بھی، خواتین بھی، آمد و رفت بھی تھی، کھانا بھی لگا، کھایا بھی گیا، ہاتھ بھی دھلے، حضرت شیخ رحمہ اللہ بیٹھے مہمانوں سے سلام و کلام میں مصروف تھے، مگر کیا مجال کہ پورے لان میں ذرا بھی بے ہنگم آواز و شور کا شائبہ تک ہو! بس ایک سکون اور وقار کی گویا چادر تھی جو سب پر تنی تھی اور چاروں طرف وَأَغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ کا ماحول و منظر تھا۔ معہد الخلیل کی ہر تقریب میں یہ کیفیات تو پہلے بھی مشاہدے میں رہیں، لیکن کسی شادی ہال کی تقریب میں ایسا منظر کبھی نہ دیکھا۔

دوسرا موقع یہ ہے کہ حجِ مبارک کے موقع پر حضرت رحمہ اللہ ایک دن روضۂ مبارک پر حاضری دینے جا رہے تھے، بندہ سہما ہوا پیچھے پیچھے چل رہا تھا، اس موقع پر جیسا سلام نصیب ہوا ویسا سلام کبھی نصیب نہ ہوا! سلام عرض کرنے کے بعد حضرت رحمہ اللہ ایک طرف ہو کر ٹھہر گئے اور سینے سے بٹن کھول کر مواجہہ شریف کی طرف متوجه ہو گئے۔ وہ لمحے یاد آتے ہیں تو جسم میں لذت و حلاوت کی شیرینی محسوس ہوتی ہے۔ صاف ایسا لگتا تھا کہ روضۂ مبارکہ سے آنے والا ہوا و انوار سے سینہ بھر رہے ہیں۔ مجھ جیسے کا سمجھنا بھی کیا سمجھنا! البتہ وہ منظر یاد رہے گا۔

بندہ حسبِ معمول بروز پیر ۱۴ محرم الحرام ۱۴۲۸ھ کو مسجد معہد الخلیل میں حاضر تھا۔ حضرت تکبر کی شناعت بیان کرتے ہوئے میری طرف متوجه ہوئے اور مخاطب کر کے غالباً فرمایا: ’’تم میں تکبر تو نہیں؟‘‘ جس سے بندہ چونک گیا اور سارے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ پھر قریب فرما کر اپنے سر مبارک سے ٹوپی اتار کر مجھے پہنائی اور اجازت مرحمت فرمائی۔ بندہ پر گریہ طاری تھا اور مٹنا اپنے بس میں نہ تھا ورنہ مٹ جاتا۔ اتنی بات یاد ہے کہ ایک دعا تلقین فرمائی: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا، اور ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: یہ عشق کا راستہ ہے اکیلے نہ چلنا۔

فی الحال اپنی مسجد و مدرسہ میں امامت و تدریس کی ذمہ داری ہے۔ احقر کی مسجد میں حضرت رحمہ اللہ نے بروز اتوار مجلسِ ذکر جاری فرمائی جو بعد نمازِ مغرب ہوتی ہے، اور روزانہ بعد نمازِ عصر ختمِ خواگاں کی ترتیب رکھی، اور جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے اجتماعی طور پر پوری امت کے مصائب سے حفاظت کے لیے ۱۰۰۰ مرتبہ درودِ تنجینا پڑھنے کی کوشش کا فرمایا، اور مدرسہ میں ہر سبق کے آخر میں دس منٹ درود شریف پڑھنے کی تاکید و تعلیم فرمائی۔ بحمداللہ یہ اعمال جاری ہیں۔

حضرت مولانا محمد داؤد صاحب دامت بركاتہم العالیہ