مضامین

حضرت مفتی محمد سلمان یاسین صاحب دامت بركاتہم العالیہ

(دامادِ حضرت والا رحمہ اللہ، مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)

احقر کی ولادت ذوالقعدہ ۱۳۹۷ھ بمطابق اکتوبر ۱۹۷۷ء میں ہوئی۔ پنجابی سوداگران دہلی برادری سے تعلق ہے۔ مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم الفتحیہ گارڈن میں قرآن مجید حفظ کیا۔ درسِ نظامی از اول تا آخر کی تعلیم معہد الخلیل میں حاصل کی۔ تخصص فی الفقہ کی تعلیم جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی۔ حضرت رحمہ اللہ داخلہ کرنے کے لیے حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ کے پاس مجھے اور برادرم مفتی محمد مدنی کو ساتھ لے گئے تھے۔

اگست ۱۹۸۸ء بمطابق محرم الحرام ۱۴۰۹ھ کو معہد الخلیل میں داخلہ ہوا۔ حضرت رحمہ اللہ کی محبت و شفقت روز بروز بڑھتی رہی۔ اسفار میں بالخصوص حضرت کی خدمت کی سعادت حاصل رہی۔ بروز جمعہ ۲۴ رمضان ۱۴۱۱ھ کو بعد از عصر حضرت رحمہ اللہ سے بیعت ہوا۔ الحمدللہ یہ تعلق تاحیات رہا اور ان شاء اللہ تادمِ آخر رہے گا۔

میری زندگی اور حضرت کے ساتھ رفاقت کا ایک بہت خوش کن واقعہ یہ ہے کہ نوعمری کے زمانہ میں حضرت اقدس رحمہ اللہ نے ایک موقع پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ سے ازراہِ مزاح فرمایا کہ ’’بھائی یاسین صاحب! سلمان آدھا آپ کا ہے، آدھا میرا ہے‘‘۔ اس پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے برجستہ فرمایا کہ نہیں حضرت یہ پورا آپ کا ہے۔ اس پر حضرت رحمہ اللہ نے خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس کا بارہا تذکرہ بھی فرمایا۔

۲۵ ربیع الاول ۱۴۲۶ھ کو بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد الخلیل میں حضرت رحمہ اللہ نے اجازت عطا فرمائی۔ فی الحال معہد الخلیل میں تدریس و افتاء کی خدمت سپرد ہے۔

حضرت مفتی محمد سلمان یاسین صاحب
مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی