مضامین

صاحبزادہ حضرت مولانا محمد یوسف مدنی صاحب دامت بركاتھم العالیہ

احقر کی ولادت ۳۱ مارچ ۱۹۷۵ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ پنجابی سوداگران دہلی برادری سے تعلق ہے۔ ابتداً مدینہ منورہ میں قیام کی سعادت حاصل رہی۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دَر کی حاضری خوب یاد ہے اور حضرت شیخ کا سُرخ و سفید نورانی چہرہ بھی۔ اس عاجز کی بسم اللہ شیخ القراء حضرت قاری فتح محمد صاحب رحمہ اللہ نے کرائی۔ قاعدہ اور ابتدائی سپارہ وہیں پڑھا۔ اس کے بعد حضرت والد صاحب رحمہ اللہ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے تو بندہ کی عمر اس وقت پانچ سال تھی، یہاں مکی مسجد میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ پھر از اول تا آخر جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں ہی تعلیم حاصل کی۔

زمانۂ طالب علمی میں غالباً درجہ ثالثہ میں تھے کہ حضرت پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمہ اللہ نے خوب دھواں دھار تقریر فرمائی اور طلبہ کو حضرت رحمہ اللہ سے نہ صرف یہ کہ بیعت ہونے کی ترغیب دی بلکہ اسی مجلس میں بیعت بھی کروا دیا، یہ عاجز اسی وقت بیعت ہوا۔ ۱۹۹۲ء میں درسِ نظامی سے فراغت کے موقع پر ماہانہ مجلس میں حضرت صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ اور حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے اجازت عطا ہوئی۔ بندہ پر خوب گریہ طاری رہا۔ اس کے علاوہ حضرت رحمہ اللہ نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے تعویذ و وظائف کی بھی اجازت مرحمت فرما رکھی ہے۔

الحمدللہ تمام حیات حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی رفاقت اور تدریسی و دیگر خانگی امور میں سرپرستی اور مکمل رہنمائی حاصل رہی۔ حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے تربیتی نظر خوب رہتی تھی، مگر پیار و شفقت اور اعتماد بھی بے انتہا تھا۔ زمانۂ طالب علمی ہی میں اپنے ساتھ سلوک و تصوف کی مختلف مجالس میں اہتمام سے لے جاتے، بالخصوص حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری تو خوب یاد ہے۔

مدرسہ کی اصلاحی مجلس میں طویل عرصہ کتاب پڑھنے کی ذمہ داری اس گناہگار کے ذمہ کر رکھی تھی، تا وقتیکہ کسی عذر کی بنا پر خود بندہ نے معذرت کی۔ وقتاً فوقتاً بندہ کے تعلیمی اشتغال پر بڑی خوشی اور حوصلہ افزائی کے کلمات فرماتے رہتے تھے۔ اس لیے بفضلہ تعالیٰ محبت و عقیدت تاحیات رہی۔ چنانچہ بحمداللہ حضرت رحمہ اللہ کی حیات ہی میں اپنی تمام عمر کی ٹوٹی پھوٹی نفلی عبادات حضرت کو ایصالِ ثواب کر لی تھیں اور اس کا بار بار استحضار بھی کرتا رہتا تھا۔ اب بھی اس عاجز و دیگر احباب کا یومیہ مخصوص ایصالِ ثواب کا معمول ہے۔ بفضلہ تعالیٰ زندگی کے سارے نشیب و فراز میں رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ کو مدِنظر رکھا۔ حضرت رحمہ اللہ بندہ سے جسمانی خدمت لینے میں عام طور پر احتیاط ہی فرماتے تھے۔ اس محرومی کا ہمیشہ قلق رہے گا۔ خوب یاد ہے کہ ایک مرتبہ اپنا اگالدان صاف کرنے کے لیے دیا، بندہ حمام میں لے گیا (اور عقیدت و محبت کے غلبہ میں اسے دھو کر پی گیا)۔

اب سے تقریباً آٹھ سال قبل نقشبندی سلسلہ میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب دامت برکاتہم سے اصلاحی تعلق قائم کر کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اسباق پر محنت شروع کی۔ ۲۰۱۱ء کے سالانہ اجتماع میں حضرت والا نے اجازت مرحمت عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت الحاج نثار احمد خان فتحی رحمہ اللہ (خلیفۂ مجاز حضرت شیخ القراء قاری فتح محمد صاحب رحمہ اللہ) نے بھی اپنے سلسلہ میں خلافت عطا فرمائی۔ یہ بزرگوں کا حسنِ ظن اور محض فضلِ خداوندی ہے ورنہ ظاہر کے اعتبار سے انتہائی بدعمل اور باطنی حالت کتے سے بھی بدتر ہے۔ اللہ جل جلالہ آئندہ بھی ستاری کا معاملہ فرما کر درگذر فرمائے اور بزرگوں اور بڑوں کے سامنے رسوائی سے بچائے۔

بندہ آج کل تعلیمات اور اساتذہ و طلبہ میں والد ماجد رحمہ اللہ کے مزاج کے مطابق تعلیمی، اخلاقی ترقی کے لیے ممکن حد تک کوشاں رہتا ہے۔ اللہ جل جلالہ مجھ نااہل کی دستگیری فرمائے۔

صاحبزادہ مولانا محمد یوسف مدنی
نائب مہتمم جامعہ معہد الخلیل الاسلامی