مضامین

مختصر سیرت و سوانح حیات حضرت والد ماجد (سال بہ سال)

صاحبزادہ مولانا محمد زکریا مدنی صاحب

سلسلۂ نسب اس طرح ہے: ’’مولانا محمد یحییٰ مدنی بن الحاج شیخ محمد یونس بن الحاج شیخ محمد صدیق بن الحاج شیخ عبدالرحمن رحہم اللہ‘‘۔ جناب شیخ محمد صدیق صاحب کے چھ بیٹے تھے۔ ان میں سے چار حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے تایا تھے اور ایک چچا محمد ایوب تھے۔

۱۹۳۹ء: ولادت بمقام ’’لدھیانہ‘‘، وہیں ابتدائی تعلیم ہوئی، بعمر پانچ برس ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم شروع کی پھر اس کے بعد اسکول میں داخلہ ہوا۔ ایک دو سال بعد تقسیمِ ہند کا سانحہ پیش آیا۔ ہجرت کے بعد کی عسرت کی زندگی کے قصے حضرت والد ماجد رحمہ اللہ بکثرت سنایا کرتے تھے۔ دورانِ ہجرت حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے تایا حافظ عثمان شہید ہوئے اور بڑے بھائی صاحب جناب شیخ ذکر الرحمن رحمہ اللہ (والد محترم مولانا محمد عاصم صاحب و برادران) سکھوں کے حملے میں زخمی ہوئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ پر تلوار لگی۔ یہ خاندان ہجرت کرتے ہوئے لاہور پہنچا۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ سے میں نے سنا کہ ہماری ایک ہمشیرہ تھیں جو لاہور میں وفات پا گئی تھیں، رحمہا اللہ تعالیٰ۔ لاہور میں تقریباً ڈیڑھ ماہ قیام رہا اور ماہِ ذی الحجہ سے پہلے لاہور سے کراچی آمد ہوئی اور پھر مستقل کراچی میں ہی اقامت رہی۔

تعلیم: کراچی آ کر چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔
۱۹۵۶ء: میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور غالباً ملکی سطح پر پوزیشن ہولڈر رہے۔ جس کے بارے میں فرمایا کرتے کہ ’’ہمارا نام اخبارات میں چھپا‘‘۔ اس کے بعد کراچی کے سب سے بڑے اور مشہور ڈی جے کالج میں داخلہ لیا اور انٹر سائنس تک تعلیم جاری رکھی۔

تبلیغی جماعت اور حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ سے تعلق اور بیعت:
اسکول کی تعلیم کے ساتھ ہی تبلیغی جماعت میں سہ روزہ، چلہ اور مزید وقت لگانے کے مواقع ملتے رہے۔
۱۹۵۶ء: کراچی کے ایک سفر میں مکی مسجد میں حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
۱۹۵۹ء: کے اوائل میں رائے ونڈ کے مستقل مقیم ہو گئے۔ اس وقت کے مجاہدات، میلوں بھوک و پیاس کے ساتھ پیدل اسفار، رائے ونڈ میں نمک کے بغیر تیار ہونے والی چٹنی پر گزارا۔ امت کی ہدایت کے لیے آہ و زاری کی فضا خوب بیان فرماتے تھے۔
حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کے علاوہ اکابر و مشائخ حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب، حضرت مولانا عبید اللہ صاحب، حضرت حافظ اسماعیل صاحب، حضرت قاری داؤد صاحب، حضرت مولانا عبدالمنان دھلوی، حضرت میاں جی محراب صاحب، مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہم اللہ وغیرہم کی خصوصی شفقت اور طولِ ملازمت کا شرف حاصل رہا۔
۱۹۶۴ء: حضرت جی رحمہ اللہ کا وصال ہوا۔
۱۹۶۵ء: حبشہ جماعت میں تشکیل ہوئی، جس کے واقعات حضرت والد ماجد رحمہ اللہ مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ اسی سال وہاں سے حجاز واپسی ہوئی۔ غالباً اس سال یا کچھ پہلے یا بعد حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے اپنے قیامِ حجاز کی ترتیب بنا لی تھی یا اس کی تیاری شروع کر دی تھی۔
۱۹۶۶ء: ملکِ شام اور اردن سے ہوتے ہوئے سفرِ پاکستان فرمایا۔ حجازِ مقدس واپسی ہوئی، حضرت جی مولانا انعام الحسن رحمہ اللہ بمعہ حضرت شیخ رحمہ اللہ حجازِ مقدس تشریف لائے ہوئے تھے، وہیں پر الحاج بھائی شیخ شمیم مسعود صاحب بن شیخ سلیم صاحب مدیر مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے توسط سے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے مدرسہ صولتیہ کے دیوان میں بیعت فرمایا اور ذکر کی تلقین فرمائی۔

قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ قیامِ حرمین کے لیے تشریف لاتے رہے۔ اسی دوران حضرت والا کی خدمت میں حاضری، مجالسِ ذکر وغیرہ میں پابندی سے شرکت اور خدمت کی خوب خوب سعادت حاصل رہی۔ اکثر فرمایا کرتے کہ ’’شیخ مجھے بھائی یحییٰ کہہ کر آواز دیا کرتے اور میں فوراً حاضرِ خدمت ہو جاتا‘‘۔ اور حضرت شیخ کی اخیر حیات میں جب حضرت شیخ کا معمول اقدامِ عالیہ میں طویل مراقبہ کا تھا، نیز جنت البقیع تشریف لے جانے کی عادت تھی، ایسے مواقع پر اباجان رحمہ اللہ ساتھ ہوا کرتے۔ ایک موقع پر آواز دی: ’’بھائی یحییٰ!‘‘ عرض کیا: جی حضرت۔ فرمایا: ’’تیرے متعلق یہی خیال تھا کہ تو یہاں ہوگا‘‘ اور حضرت شیخ رحمہ اللہ یہ بھی فرمایا کرتے: ’’پیارے! میرے ساتھ رہا کر، تاکہ تجھے علم کا فائدہ مجھ سے پہنچے یا بزرگی کا‘‘۔

۱۹۶۷ء: مسجدِ نور میں نکاح ہوا۔ نانا جان شیخ عبدالغنی رحمہ اللہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے صحبت یافتہ تھے۔ ان کے حالات بھی بڑے اونچے تھے جو کہ مستقل فرصت مانگتے ہیں۔ ذاکر، شاغل، اللہ والے بزرگ تھے۔ پورا ماہِ رمضان حرم شریف میں اعتکاف فرمانے کی عادت تھی۔ زندگی کا آخری سال بھی پورا ماہِ رمضان اعتکاف فرمایا اور عید کے دن انتقال فرمایا، رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’نکاح کے موقع پر نئے کپڑے بھی نہیں سلوائے بلکہ انہی استعمال شدہ کپڑوں کو دھو کر پہنا‘‘۔ نکاح حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ نے پڑھایا۔
اسی سال بظاہر قیام مدینہ طیبہ میں رہا اور حضرت شیخ رحمہ اللہ سے بیعت کے چند ماہ بعد سہارنپور ماہِ رمضان المبارک گزارنے کے لیے حاضری ہوئی اور ماہِ مبارک کے بعد بھی ایک چلہ حضرت قطب الاقطاب کی خدمتِ عالیہ میں گزارنے کی سعادت حاصل رہی۔

۱۹۶۸ء: ماہِ رمضان سہارن پور گزارنے کی سعادتِ ابدیہ حاصل ہوئی۔ اس یکسوئی والے رمضان کی کیفیت حضرت والد ماجد خوب اہتمام سے سنایا کرتے: ’’معمولات کی پابندی، دوامِ طہارت کے ساتھ دوامِ ذکر اور شیخ کے ساتھ قلبی و جسمانی لگاؤ۔ چلتے پھرتے ہر وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا اللہ پاک دیکھ رہے ہیں، ہر وقت یہی حضوری کی کیفیت تھی۔ بات کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ ایک کاغذ پر لکھ رکھا تھا ’’بات کرنا منع ہے‘‘۔ مسجد میں آگے پیچھے جانا ہوتا تو ایک کاغذ لکھا ہوتا ’’یہ میری جگہ ہے، میں آگے جا رہا ہوں، جب واپس آؤں گا تو آپ کو یہ جگہ خالی کرنی ہوگی‘‘۔

اجازت و خلافت:
اسی ۶۸ء کے رمضان کی اکیسویں شب ’’شبِ قدر‘‘ میں بوقتِ سحر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت حضرت شیخ وہی سبز عمامہ باندھے ہوئے مراقب تھے۔ وہ عمامہ ان پیچوں پر سلا ہوا تھا جو حضرت شیخ رحمہ اللہ کو حضرت سہارن پوری رحمہ اللہ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔

۱۹۶۹ء: حضرت شیخ رحمہ اللہ کا تقریباً دس ماہ حجاز میں قیام رہا۔ اس پورے قیام میں حضرت قطب الاقطاب برکۃ العصر کی خدمتِ مبارکہ اور ہمہ وقت حاضری، گھر سے کچھ بنوا کر حضرت کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل رہی۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس طویل عرصہ میں گھر میں کھانا کھانا یاد نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری اور ان کی مزاج شناسی کو اپنا نصب العین بنا رکھا تھا، اور شیخ کے دل میں اس قدر محبت بٹھائی کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ’’یہ میرے پاس مسجد نبوی میں بیٹھا رہتا ہے، میں اس کی اور اس کی اہلیہ اور اس کے والدین کی طرف سے صلوٰۃ و سلام عرض کرتا رہتا ہوں‘‘۔ اس سال کا رمضان بھی حضرت شیخ الحدیث کی زیر سرپرستی و ہدایات میں گزرا۔

درسِ نظامی اور دینی علوم کی ابتداء:
حضرت شیخ رحمہ اللہ کے مزاج میں علمی رنگ غالب ہی نہیں بلکہ علم اور خاص کر علمِ حدیث میں اشتغال حضرت شیخ کے وجود کے لوازمات میں سے تھا۔ ایک موقع پر کسی کام سے یاد فرماتے ہوئے یوں فرمایا: ’’مولوی یحییٰ! یہاں آئیو‘‘۔ والد ماجد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حاضری دی، بعد میں ساتھیوں سے کہا کہ میں تو مولوی نہیں ہوں۔ ساتھیوں نے کہا: جب شیخ نے فرمایا تو ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ پاک تمہیں مولوی بھی بنا دیں گے۔ بہرحال اس تقدیرِ الٰہی کے ظہور کا وقت آ پہنچا تھا۔
اقدامِ عالیہ میں بسم اللہ: مسجد نبوی علی صاحبہ ألف ألف صلوٰۃ وتحیۃ میں اقدامِ عالیہ میں حضرت شیخ رحمہ اللہ نے دینی تعلیم کی ’’بسم اللہ‘‘ کرائی اور صلوٰۃ و سلام پیش فرما کر بسہولت تکمیل کی دعا بھی فرما دی۔ (۱۹۶۴ء تا ۱۹۶۹ء طویل عرصہ مسلسل قیام مدینہ طیبہ میں رہا)۔

۱۹۷۰ء: شوال (غالباً ۱۳۸۹ھ) حضرت شیخ رحمہ اللہ ہندوستان تشریف لے گئے اور حضرت والد ماجد رحمہ اللہ ہماری والدہ ماجدہ اور بڑی ہمشیرہ کے ساتھ کراچی آ گئے۔
۷۰ء تا ۷۴ء (پانچ سال جو غالباً شوال ۱۳۸۹ھ تا شعبان ۱۳۹۴ھ ہے): محدث العصر شارح جامع ترمذی، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے علوم کے امین حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے آستانے میں حاضری ہوئی اور انہماک کے ساتھ درسِ نظامی کی تکمیل فرمائی۔ حضرت الشیخ سے خاص تلمذ کی سعادت حاصل رہی۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے لیے حضرت محدث العصر بنوری رحمہ اللہ نے ایک خاص نصاب: کلیلہ و دمنہ، المحاسن والاضداد للجاحظ اور بہت سی کتب ترتیب دے رکھی تھیں۔ درجات کی ترتیب کے حضرت والد ماجد رحمہ اللہ پابند نہیں تھے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی نسبت کے سبب خود حضرت محدث العصر بنوری رحمہ اللہ اور دیگر کبار اساتذہ کے منظورِ نظر تھے۔ ایک دفعہ امتحانی پرچہ میں یہ لکھا کہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فقہ حنفی کلی است وفقہ شافعی جزئی است۔ اس پر اساتذہ سے خراجِ تحسین حاصل کیا۔

۱۹۷۳ء: فروری میں مشکوٰۃ کے سال میں ہمارے دادا جان شیخ محمد یونس رحمہ اللہ کا انتقالِ پرملال ہوا، اور بنوری ٹاؤن میں ہی جنازہ اور اکابر علماء بنوری ٹاؤن نے قبر مبارک پر مٹی ڈالنے کا شرف بخشا۔
۱۹۷۴ء: دورۂ حدیث کا سال تھا۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم چالیس ساتھی تھے اور حضرت شیخ بنوری رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کا نام ’’الجامع الصحيح المختصر من سنن رسول اللّٰہ ﷺ وسیرہ وأیامہ‘‘ پر پورے سات دن تک کلام فرماتے رہے۔ ان سات دنوں میں سبق باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ ﷺ اس جملہ سے آگے نہ بڑھا۔ حضرت شیخ بنوری علوم کے ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھے۔ دورانِ سبق شیخ بنوری رحمہ اللہ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ جلدی جلدی میں فرماتے ’’آخیال میں… آخیال میں‘‘ (یعنی سمجھ میں آ گیا)۔ اور سبق میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی طرف خصوصی توجہ فرماتے۔

حضرت مولانا ادریس میرٹھی رحمہ اللہ سے مسلم شریف اور حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ سے جامع ترمذی اور حضرت مصباح اللہ شاہ صاحب رحمہ اللہ سے طحاوی شریف پڑھنے کی سعادت رہی۔ محدث العصر حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ کی طرح حضرت مولانا ادریس میرٹھی رحمہ اللہ بھی امام العصر علامہ انور شاہ رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ شعبان ۱۳۹۴ھ میں وفاقی سطح پر امتحان دیا اور پورے پاکستان میں دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کی۔
۱۹۷۲ء: بڑے بیٹے مولانا محمد الیاس مدنی دامت برکاتہم کی ولادت ہوئی۔ چونکہ حجازِ مقدس کا اقامہ تھا اس لیے حج اور عمرہ کے عنوان سے طویل و قصیر اسفار ہوتے رہے۔
بنوری ٹاؤن میں زمانۂ طالب علمی میں ذکر اور اعتکاف کی فضا بنا رکھی۔ محدث العصر استاذِ محترم حضرت بنوری کی اجازت سے طلبہ کو اعتکاف اور ذکر کی تلقین فرماتے۔ زمانہ تدریس بنوری ٹاؤن میں جمعہ والے دن بعد نمازِ عصر دار الحدیث بنوری ٹاؤن میں مجلسِ ذکر بالجہر منعقد ہوتی۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید اور دیگر اکابر بمعہ مریدین و طلبہ کے شرکت فرماتے۔

۱۹۷۴ء: تعلیم سے فراغت کے بعد رمضان ۱۳۹۴ھ میں اہل و عیال کے ساتھ مدینہ طیبہ واپسی ہوئی۔ غالباً اس وقت حضرت شیخ رحمہ اللہ بھی مدینہ پاک مستقل قیام کے ارادے سے تشریف لا چکے تھے۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے بھی شیخ کی مجلس کی ہمہ وقت حاضری، مجلسِ ذکر، عمومی مجالس اور حرم شریف کی نشست اور خدمت کو روز کے معمولات میں داخل فرمالیا۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ’’اس قیام میں رات کو گھر کھانا کھانا یاد نہیں۔ شیخ کے دسترخوان پر کھانا کھانا ہوتا تھا‘‘۔ مدینہ منورہ قیام کے دوران ایک مدرسہ تحفیظ القرآن کھولا اور حضرت شیخ رحمہ اللہ کے خلیفہ جناب مولانا قاری امیر حسن صاحب بھی اس میں مدرس رہے۔
۱۹۷۵ء: دوسرے بیٹے مولانا محمد یوسف مدنی کی ولادت مدینہ طیبہ میں ہوئی۔
۱۹۷۷ء: تیسرے نمبر پر اس کاتب الحروف کی ولادت مدینہ طیبہ میں ہوئی اور میرا عقیقہ اور تسمیہ بھی شیخ کے دسترخوان اور تجویز کرنے پر ہوا۔

پاکستان آتے جاتے رہنا:
حضرت شیخ سے مستقل معاش اور پھر مستقبل کے لائحہ عمل کے متعلق جب دریافت کیا تو فرمایا کہ ’’میرے اکابر کا اصل مشغلہ تو پڑھنا پڑھانا رہا‘‘۔ چنانچہ پاکستان قیام کے دوران جامعہ بنوری ٹاؤن میں اعزازی مدرس رہے۔ قدوری اور الطریقۃ العصریۃ و دیگر کچھ اسباق آپ کے سپرد رہے۔
۱۹۷۹ء: چوتھے بیٹے مفتی محمد مدنی کی ولادت مدینہ پاک میں ہوئی۔
۱۹۸۰ء: مستقل پاکستان آنا ہوا۔
۱۹۸۲ء: یہاں تحفیظ القرآن کے نام سے قاعدہ، ناظرہ، حفظ کا مدرسہ کھولا۔ حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ نے اس مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
۱۹۸۳ء: کتب کی ابتدائی تعلیم شروع کرائی گئی۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے آخری حیات میں اہم مقاصد میں ذکر اذکار اور اعتکاف کرا کے تزکیہ نفس کرانا تھا۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے اسی مقصد کو زندگی کا اولین نصب العین بنائے رکھا۔ امسال سے چار، پانچ سال تک مسجد عالمگیر میں پورے ماہ کا اعتکاف فرمایا کرتے۔ ایک مجمع ساتھ ہوتا۔ گرمیوں کی راتیں تھیں پوری رات تراویح ہوا کرتی۔ ہر تین راتوں میں ایک قرآن پاک تراویح میں ختم ہوتا تھا۔
۱۹۸۴ء تا ۱۹۸۶ء: اللہ پاک نے مدرسہ کے لیے مستقل مکان عنایت فرمایا اور مدرسہ اس مکان میں منتقل ہوا۔ درجاتِ قاعدہ، ناظرہ، حفظ کے علاوہ درجۂ ثالثہ تک درجاتِ کتب کی تعلیم شروع ہوئی۔
۱۹۸۷ء: اس مکان کے ایک حصہ میں تعمیر ہوئی۔ تقریباً دو سال یا اس سے زائد وقت تعمیرِ مسجد میں لگا۔ مسجد کی تعمیر اور اس کے لیے جدوجہد اور رات دن اسی مشغلہ میں لگے رہنے کے علاوہ دن میں مجالسِ ذکر اور درس و تدریس کا عمل بھی زور و شور سے جاری رہا۔ یہ زمانہ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے شباب کے عروج کا تھا۔

۱۹۸۸ء: رسالہ ماہنامہ سلوک و احسان کا اجراء ہوا۔ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمہ اللہ خلیفۂ اجل حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی دعاؤوں اور اپنے اصحاب و احباب کے مشورہ کے بعد اس کی ترتیب شروع ہوئی۔ اس وقت سے تقریباً ستائیس سال مسلسل ماہانہ اشاعت کا عمل جاری ہے۔ اسی سال ۱۹۸۸ء مطابق ۱۴۰۹ھ رمضان المبارک میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے معتمد خاص اور خلیفۂ اختصاص حضرت صوفی محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ مہاجر مدنی نے تشریف لا کر معہد الخلیل الاسلامی کو زینت بخشی۔ پورا ماہ اعتکاف رہا۔ اکابرین مشائخ و اہل علم کی آمد سے عجیب انوار و برکات کا ظہور ہوا تھا۔
۱۹۸۹ء مطابق ۱۴۱۰ھ: حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب، داماد حضرت مولانا سلمان صاحب، حضرت مولانا شاہد صاحب و دیگر اکابر تشریف لائے اور معہد الخلیل کی بہاروں میں خوب اضافہ رہا۔ اسی سال نصف شعبان کے قریب حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے مدرسہ کے اساتذہ، طلبہ، مریدین و خدام کے ہمراہ ایک ماہ کا سفرِ عمرہ کیا۔
۱۹۹۱ء مطابق ۱۴۱۱ھ: مدرسہ میں حدیث پاک کی مشہور کتاب مشکوٰۃ المصابیح کا سال تھا۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے خادمِ خاص کاتبِ خطوط اور معتمد بااختصاص حضرت مولانا حبیب اللہ مظاہری رحمہ اللہ کو حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے مدینہ پاک سے خاص مشکوٰۃ المصابیح کی تدریس کے لیے دعوت دی۔ یہ سال حضرت والا کے اسباق کا رہا۔ مشکوٰۃ شریف کے بعد حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے طحاوی شریف پڑھائی۔ امسال ۱۴۱۲ھ میں درجہ رابعہ میں معہد الخلیل الاسلامی کے طالب علم نے پورے ملک پاکستان میں وفاق کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
۱۹۹۲ء شوال ۱۴۱۲ھ: دورۂ حدیث شریف کا سال تھا۔ امسال حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کا اشتغالِ علمی اور خاص کر کتبِ حدیث کی درس و تدریس خوب بڑھ گئی تھی۔ صحاحِ ستہ ایک خاص انداز میں ہوئی۔ پہلے ترمذی شریف مکمل ہوئی۔ پھر اس کے بعد بخاری شریف مکمل ہوئی۔ شعبان ۱۴۱۳ھ میں سال کی تکمیل ہوئی۔ اسی شعبان میں ہی حضرت صوفی اقبال صاحب مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے معہد الخلیل کو شرفِ زینت بخشی۔ حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے دورۂ حدیث کی تکمیل پر تقریبِ شکرِ منعم منعقد فرمائی۔ امسال برادران مولانا محمد الیاس مدنی اور مولانا محمد یوسف مدنی کی حضرت صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دستِ مبارک سے دستار بندی ہوئی اور حضرت نے انہیں اپنی اور حضرت والد صاحب رحمہ اللہ دونوں کی طرف سے اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔

۱۹۹۳ء: اواخر میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کی والدہ ماجدہ (میری دادی صاحبہ) کے انتقالِ پر ملال کا حادثۂ فاجعہ ہوا۔ حضرت شاہ ابرار الحق رحمہ اللہ خلیفۂ مجاز حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ نے بعد نمازِ ظہر نمازِ جنازہ عالمگیر مسجد میں پڑھائی۔
۱۹۹۳ء کے اواخر مطابق شعبان ۱۴۱۴ھ: بانیٔ جامعہ کی انتھک محنت اور بے لوث قربانیوں سے درجہ سادسہ میں وفاق المدارس کے تحت سالانہ امتحان میں ملکی سطح پر اول اور درجہ ثانیہ میں ملکی سطح پر سوم پوزیشنیں معہد الخلیل الاسلامی کے طلبہ کے نصیب میں آئیں۔
۱۹۹۵ء: امسال کاتب الحروف دورۂ حدیث میں شریک تھا اور حضرت والد ماجد رحمہ اللہ سے سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، شمائل ترمذی پڑھنے کی سعادت حاصل رہی۔
۱۹۹۶ء رمضان ۱۴۱۷ھ: معمول کے مطابق حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اہتمام سے ماہِ مبارک کے معمولات میں اپنے مریدین و تلامذہ و احباب کے ساتھ مصروفِ عمل رہے۔ اخیر عشرہ میں دل کی تکلیف ہوئی اور اعتکاف موقوف کر کے ڈاکٹر کے یہاں جانا ہوا۔
ذیقعدہ ۱۴۱۷ء: سفرِ حج کی تیاری آخری مراحل میں تھی۔ اس عاجز کی اس سفر میں ہمرکابی کی ترتیب تھی لیکن حضرت نے اعذار و امراض کے سبب اس سفر کو ملتوی فرما دیا۔ پھر حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے اپنے اعذار و امراض کے باوجود افغانستان کا سفر فرمایا اور ذی الحجہ ۱۴۱۷ء کی عید الاضحی کی نماز سے قبل خطبۂ عید پڑھا اور امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے نمازِ عید الاضحی پڑھائی۔

۱۹۹۷ء (۱۴۱۷ھ – ۱۴۱۸ھ): حضرت والد ماجد رحمہ اللہ مختلف ڈاکٹروں سے علاج، ٹیسٹ، ای سی جی اور دوا اور پیدل چلنے اور پرہیز وغیرہ کا خیال فرماتے رہے۔ طبیعت میں پہلے کی طرح ہمہ وقت صحت اور کام سے نہ تھکنا وغیرہ امور کے مقابلہ میں کچھ کمی آ گئی تھی۔
۱۹۹۸ء جنوری مطابق شوال ۱۴۱۸ھ: اکابر علماء حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ، فقیہ العصر حضرت مفتی عبدالستار صاحب رحمہ اللہ و دیگر اکابر سے مشوروں کے بعد مدرسۃ البنات کا قیام اور اس کے بنیادی نکات اور اصول قیامِ عمل میں آئے۔ پہلے ہی سال درسِ نظامی شعبہ بنات کے چاروں درجات میں تعلیم ہوئی۔ اسی سال ذی الحجہ ۱۴۱۸ھ میں حج بیت اللہ کی سعادت کے لیے مفتی سلمان یاسین صاحب کے ساتھ تشریف لے گئے۔ اسی سال ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء دل کا آپریشن (بائی پاس) ہوا۔
۱۹۹۹ء: حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے احقر اور برادرم مولانا محمد یوسف مدنی کو ہماری والدہ صاحبہ کے ساتھ حجِ بیت اللہ کی سعادت کے لیے بھیجا اور امسال خود حج پر تشریف نہیں لے گئے۔
۲۰۰۰ء مطابق ۱۴۲۱ھ: ماہِ رمضان المبارک میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ نے مجالسِ ذکر پھیلانے کے لیے انتھک محنت اور اس کی ترویج کو خوب جذبہ و محنت کے ساتھ نصب العین بنا رکھا۔ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب، مولانا محمد عاصم صاحب، حافظ محمد شاہد صاحب، الحاج شیخ محمد نقی صاحب، الحاج بھائی عبدالکریم صاحب، الحاج بھائی عرفان صاحب کو اسی ماہ میں اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔
۲۰۰۲ء: اس سال حج سے واپسی کے بعد ۱۴۲۳ھ سے کئی ماہ تک علیل رہے۔ علاج کی تشخیص، امراض و اعذار اور دواؤں کے ری ایکشن کی وجہ سے بھی بیماری طول پکڑ گئی اور بالکل صاحبِ فراش رہے۔ مسجد و مدرسہ آنا معطل رہا۔ رمضان میں اسی بیماری ہی میں سفرِ مدینہ طیبہ بہ نیت تدفین فی البقیع کیا۔ اس سال شوال ۱۴۲۲ھ میں معہد الشیخ زکریا پنجاب کالونی کا قیام عمل میں آیا۔
۲۰۰۳ء – ۲۰۰۶ء: یہ سال بھی امراض کے ہجوم میں گزرے۔ تدریسی سرگرمیاں بھی نسبتاً کم ہو گئیں۔ ۲۰۰۵ء کے رمضان میں ملک پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ آیا۔ حضرت والد ماجد نے اپنے پسر اکبر مولانا الیاس مدنی، مولوی اسماعیل کو بطورِ خاص اس تعاون کی مہم پر روانہ فرمایا اور خود ہی نگرانی بھی فرماتے رہے۔
۲۰۰۶ء: امسال کے اواخر میں ۱۴۲۷ھ ماہ ذی القعدہ میں حج بیت اللہ کی سعادت کے لیے تشریف لے گئے۔ حج کے بعد سے طبیعت میں اٹھاؤ شروع ہوا اور اپنی صحت اور توانائیوں کو مجلسِ ذکر اور اس سلسلہ کے پھیلانے میں وقف فرما رکھا۔
۲۰۰۷ء تا ۲۰۰۸ء: سفرِ عمرہ اور حج کے اسفار جاری رہے۔ معهد الخلیل کی تیسری شاخ مرکز الامداد اللہ والا ٹاؤن کا قیام عمل میں آیا۔

۲۰۰۹ء: شعبان ۱۴۳۰ھ میں سفرِ عمرہ ہوا۔ شوال ۱۴۳۰ھ میں معہد الرشید بلوچ کالونی مدرسہ کا افتتاح ہوا اور درس و تدریس کا عمل شروع ہوا (یہ معهد الخلیل کی پانچویں شاخ تھی)۔
۲۰۱۰ء: شعبان ۱۴۳۲ھ حسبِ معمول سفر مدینہ طیبہ فرمایا۔ وسطِ رمضان میں واپسی ہوئی۔ شوال ۱۴۳۲ھ میں وہی توانائی اور جواں مردی کے ساتھ تندہی کے ساتھ امورِ مدرسہ میں مصروفیت رہی۔ چند سال سے عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ ابتدائے مدرسہ اور اختتامِ مدرسہ طلبہ اور اساتذہ کی مجالس میں عموماً آبدیدہ ہو جاتے اور یوں بھی اکثر فرمایا کرتے کہ ’’پھر مل بیٹھنا نصیب ہو یا نہ ہو‘‘۔
۲۰۱۱ء: حج بیت اللہ کی سعادت کے لیے تشریف لے گئے۔ حج کے بعد جواں ہمتی کے ساتھ درس و تدریس وغیرہ امورِ مدرسہ انجام دیے، صحت بھی پہلے سالوں کے مقابلہ میں اچھی رہی۔ مسجد کی توسیع اور تعمیرِ جدید پر بطورِ خاص توجہ فرمائی (جو تقریباً ۹ ماہ میں مکمل ہوئی)۔
۲۰۱۲ء (شعبان ۱۴۳۳ھ): معمول کے مطابق عمرہ کا سفر فرمایا۔ وسطِ رمضان میں واپسی ہوئی۔ یہ رمضان ۲۰۱۲ء آپ کی حیات کا آخری رمضان ثابت ہوا۔ آخری عشرہ کا اعتکاف اور اس کی بہاریں عروج پر رہیں۔
۲۰۱۳ء (شوال ۱۴۳۴ھ): عالی ہمتی کے ساتھ مہماتِ مدرسہ، داخلے، اساتذہ کی تقرریاں وغیرہ شروع فرمائیں۔ امسال اپنی صحت سے بڑھ کر اسباق بھی پابندی اور وقت کو بڑھا کر پڑھائے۔ وسطِ ذیقعدہ ۱۴۳۳ھ حجِ بیت اللہ کی سعادت کے لیے گئے۔ اخیر صفر تک درس و تدریس میں مشغولیت رہی اور اخیر صفر ۱۴۳۴ھ میں کچھ کمزوری کے سبب کھانا پینا چھوٹ گیا۔ شروع ربیع الاول میں ٹبہ ہسپتال میں داخلہ ہوا۔ پھر اگلے دن پیشاب نہ آنے کے سبب دوبارہ داخلہ ہوا۔ وہاں سے آغا خان اسپتال منتقلی ہوئی۔ ۲۰ ربیع الاول بروز ہفتہ گھر واپسی ہوئی۔ ۳ ربیع الثانی بوقت گیارہ بجے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ بعد عصر نمازِ جنازہ اور بعدِ مغرب شبِ جمعہ میں تدفین ہوئی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ۔

صاحبزادہ مولانا محمد زکریا مدنی صاحب