مضامین

ہمارے حضرت کی چند ادائیں اور اکابرین کے تأثرات

مولوی عبداللہ گل

حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا فرمان ہے: ’’میری قدر دانی جتنی میرے بڑوں نے کی، میرے چھوٹوں نے نہیں کی‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’مجھ پر یہ فقرہ حرف بحرف صادق آ رہا ہے‘‘ (آپ بیتی: ۱۶۹)۔ مرشدی محبوبِ اکابر حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اللہ مرقدہٗ واعلیٰ اللہ مراتبہٗ بھی اس جملے کے کامل مصداق تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کے انتقالِ پُرم ملال اور سائبانِ شفقت کے زوال کو ایک سال ہونے کو ہے۔ حضرت نے اپنے مرشد و مربی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خلافت کا حق ادا کیا۔ اکابر کے منشاء پر عمل اور ان کے مسلک و مشرب کی اتباع ان کی زندگی کا خلاصہ تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اکابر کے منشاء پر عمل حقیقی تعلق اور محبت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ والا مزاج پایا اور ان کی اتباع کا عملی نمونہ پیش کیا۔

اعتدال بین الشؤون الدینیۃ (دین کے تمام شعبوں کو برحق سمجھنا) اور اعتزال عن المسائل الاختلافیۃ (مسائلِ اختلافیہ سے اپنے آپ کو بچانا) حضرت کا اپنے شیخ کی اتباع میں خاص شیوہ تھا، جیسا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مجھے مسائلِ اختلافیہ میں جنگ و جدل اور نزاع سے بہت نفرت ہے اور اختلافِ علماء کو رحمت سمجھتا ہوں‘‘ (آپ بیتی: ۳۴۹)۔

حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’جس کا میرے مدرسے سے جتنا زیادہ تعلق ہوگا اس کا مجھ سے اتنا زیادہ تعلق ہوگا‘‘۔ حضرت کا بھی یہی مزاج تھا، چنانچہ وہ طلباء جو چھٹیوں میں حضرت سے ملنے آتے تھے ان کا حضرت سے تعلق بہت بڑھ جاتا اور حضرت رحمہ اللہ کو ان کی یہ ادا بہت پسند آتی۔

حضرت رحمہ اللہ اولاد کی تربیت کے حوالے سے بھی کافی محتاط تھے۔ فرمایا کرتے: ’’اگر ایک آدمی بخاری پڑھانے لگ جائے اور اولاد کی تربیت نہ کر سکے تو وہ بے کار ہے‘‘۔ اور یہ سب ان کی اپنے مرشد کی حقیقی صحبت کی برکت تھی جیسا کہ انہوں نے اپنی معروف کتاب ’’آپ بیتی‘‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا ہے: لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ۔

رسم و رواج کی بیخ کنی پر خوشی اور شادیوں میں جانے سے اکتاہٹ ہوتی تھی۔ اگر کوئی زیادہ اصرار کرتا تو حضرت رحمہ اللہ کا جانا چند شرائط پر موقوف ہوتا:
۱۔ وقت کی پابندی کی جائے گی۔
۲۔ اپنے ساتھ چند ساتھی لاؤں گا۔
۳۔ غیر شرعی کام نہیں ہوگا، مثلاً: تصویر، مووی، گانے وغیرہ۔
۴۔ فرشی نشست کا بھی اہتمام ہوگا۔

کوئی شخص حضرت سے ملاقات کے لیے آتا اور بے مقصد زیادہ دیر بیٹھتا تو مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت سفارشوں کے خلاف تھے، اس لیے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’سفارش اب سفارش نہیں رہی، بلکہ بار اور حکم کے درجے میں رہ گئی ہے‘‘۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا بخاری میں مقولہ ہے: ’’ہدیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو ہدیہ تھا، اب تو رشوت ہے‘‘۔

یہ حضرت کی صفاتِ محمودہ کی چند جھلکیاں تھیں جن کی بنا پر حضرت محبوبِ اکابر بنے اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا اول الذکر مقولہ ان پر صادق آتا ہے:
فدا ہوں آپ کی کس کس ادا پر      ادائیں لاکھ اور بے تاب دل ایک

اپنے تبلیغی سفر کے دوران اکابرین و علماء سے ملاقات ہوئی، ان کے حضرت رحمہ اللہ کے بارے میں تأثرات قارئین کی نذر کرتا ہوں:

۱۔ حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی صاحب: حضرت ایک چھپے ہوئے ہیرے تھے، ان کی راتوں کے نالے کام آ گئے۔

۲۔ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب (رائے ونڈ والے): حضرت میرے محسن تھے۔ اور فرمایا ۱۹۶۲ء کی بات ہے کہ حضرت اقدس رحمہ اللہ رائے ونڈ کے منبر پر ہوتے تھے، انہوں نے مجھے وصول کیا اور ان کی ترغیب پر چلہ اور پھر چار ماہ مکمل کیے۔ پھر رائے ونڈ کا طالب علم بن گیا اور فرمایا کہ سب ان کی برکت سے ہے۔

۳۔ حضرت مولانا احسان الحق صاحب: (جب معہد الخلیل سے تعلق کا بتایا تو) فرمایا: مرحباً مرحباً! جب حضرت سے تعلق تھا تو جب بھی کوئی کام ہو ضرور آؤ۔ حضرت تو ہمارے بڑے تھے۔

۴۔ مولانا جمیل صاحب (استاذ الحدیث رائے ونڈ): بڑے آدمی تھے، اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔

۵۔ مولانا فضل الرحمن صاحب (قائد جمعیت – ف): حضرت کا نام سن کر ایک سرد آہ بھری اور فرمایا: بڑے اللہ کے ولی تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

۶۔ مولانا سمیع الحق صاحب (قائد جمعیت – س): حضرت کی بڑی روحانی شخصیت تھی، اور ان کے بعد مدرسے کے احوال دریافت فرمائے۔

۷۔ قاری یٰسین صاحب (مہتمم دار القرآن فیصل آباد): حضرت کو اللہ نے بہت اونچا مقام دیا، لیکن متواضع انسان تھے۔

۸۔ مفتی طیب صاحب، مولانا زاہد صاحب (جامعہ امدادیہ فیصل آباد): حضرت کا مدرسہ حضرت کی محنت کی برکت سے ایک انوکھا اور منفرد اصلاحی ادارہ ہے۔

۹۔ مفتی نذیر احمد شاہ صاحب (مہتمم جامعہ فاروق اعظم فیصل آباد): میں نے اور حضرت نے ایک ساتھ دورۂ حدیث مکمل کیا۔ حضرت دورے سے ہی اللہ کے ولی تھے۔ ذکر و اذکار کرنے والے تھے، عربی لباس میں ملبوس رہتے۔

۱۰۔ مولانا اکرم طوفانی صاحب (مجاہد ختمِ نبوت) و مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب: حضرت اقدس ہمارے بہت بڑے سرپرست تھے، ان کے جانے سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا، جو اب پُر نہیں ہو سکتا۔

۱۱۔ مولانا محمد منظور صاحب (استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان، ہم سبق حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ): معہد الخلیل تو ہمارا گھر ہے۔ حضرت تو ہمارے بزرگ تھے، بہت کچھ کما کر گئے، اور سلوک و احسان اپنے سرہانے سے اٹھا کر فرمایا: یہ میرے سرہانے رکھا رہتا ہے۔

۱۲۔ مولانا محمد عابد صاحب (خلیفہ مولانا عبداللہ بہلوی رحمہ اللہ، ملتان کی معروف روحانی شخصیت): حضرت کے ساتھ تعلق کی بنا پر اکرام سے پیش آئے اور بہت تعریفی کلمات کہے، فرمایا: حضرت سے ہمارا بہت پرانا تعلق تھا اور بڑی شفقتیں فرماتے تھے۔

۱۳۔ مفتی عبداللہ صاحب (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس): حضرت کا نام سن کر بڑے واقعات سنائے اور فرمایا: تصوف کے امام تھے اور تصوف کے مسائل میں ان سے پوچھتا تھا۔

۱۴۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب (نظام الدین انڈیا): حضرت سے ہمارا بہت پرانا تعلق تھا اور تبلیغ میں ہم سے بھی پرانے تھے۔ اور فرمایا: میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ جیسا حضرت کا تعلق تھا اس تعلق میں کمی نہیں آنی چاہیے۔

۱۵۔ حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب (خلیفہ مفتی رشید احمد لدھیانوی): حضرت سے ہمارا بہت پرانا تعلق تھا، ہمارے بڑے تھے، ہمارے مدرسے میں ذکر و اذکار کی مجلس کا اہتمام کرتے تھے اور مجھے ان سے بہت محبت تھی۔

۱۶۔ حضرت الحاج بھائی یامین (سرپرست جامعہ عثمانیہ بہادرآباد کراچی): ہم نے ایک ساتھ میٹرک کیا لیکن انہوں نے بڑی قربانیاں دیں اور ہم سے کہیں آگے نکل گئے۔

مولوی عبداللہ گل