مضامین

حضرت شیخ الحدیث کی نسبتوں کے امین

مولانا محمد سفیان بلند صاحب
متخصص فی الافتاء، جامعہ دارالہدیٰ گلستان جوہر کراچی

آج سے ۱۸، ۱۹ سال قبل جب درسِ نظامی کا آغاز کیا تو اس وقت مختلف دینی اداروں میں ایک دینی ادارے ’’مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی‘‘ کا تعارف ہوا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اس دینی مدرسہ کے بانی و رئیس حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ ہیں، جن کو بہت سے علماء ’’بڑے مولانا‘‘ اور ’’مولانا مدنی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ حضرت والا سے راقم کا پہلا تعارف تھا۔ زمانۂ تدریس میں اپنے مدرسہ عثمانیہ کے بعض اساتذہ سے (جو حضرت والا سے شرفِ تلمذ رکھتے تھے) آپ کا تبلیغی کام سے تعلق، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی صحبت و خدمت میں رہنا اور طلبہ کا اندازِ تربیت سنا تو محبت عقیدت میں بدل گئی۔

پھر آپ کے ادارے ’’جامعہ معہد الخلیل الاسلامی‘‘ میں خاموش طالب علم کی حیثیت سے آ کر آپ کی مجلس میں شرکت کا موقع ملا اور ایک دفعہ علماء کے ایک وفد کے ہمراہ آپ کی خدمت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ اگرچہ مجھے آپ سے براہِ راست استفادہ کا موقع میسر نہ آیا مگر آپ کے فیضِ جاری سے راقم محروم بھی نہ ہوا۔ آپ کی سوانحِ حیات پر لکھنے والے بہت کچھ لکھیں گے، مجھ جیسا خالی دامن آدمی سوائے صفحات سیاہ کرنے کے کچھ نہیں کر سکتا، مگر میں آپ کی زندگی کے چند گوشوں پر روشنی ڈالنا چاہوں گا، اس میں کوئی ربط اور تسلسل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ یہ آپ کی یادوں کا ’’غبارِ خاطر‘‘ ہے جس کو سپردِ قرطاس کر رہا ہوں۔

– آپ رحمہ اللہ حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ کا یہ ملفوظ نقل کرتے تھے کہ ’’اب تم کو لوگوں کے پیچھے چل کر یہ کام کرنا ہوگا، وہ دور نہیں رہا کہ لوگ خود طالب بن کر آئیں، اب تو خود لوگوں کے پاس جانا ہوگا۔ اور مجھ سے حضرت شیخ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ چپکے چپکے لوگوں کو بیعت کرتے رہو‘‘۔

– ایک موقع پر آپ رحمہ اللہ نے ایک طالب علم سے پوچھا کہ ’’تبلیغ میں وقت لگاتے ہو؟‘‘ اس نے کہا کہ کبھی کبھی مدنی مسجد جانے کا اتفاق ہوتا ہے، ارشاد فرمایا کہ ’’آج کل عدمِ صلاحیت کا زمانہ ہے، استعدادیں کمزور ہیں، آدمی ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتا ہے، لہٰذا طالب علمی کے زمانہ میں پڑھائی پر توجہ دو اور فراغت کے بعد تبلیغ کے لیے، تدریس کے لیے، تصنیف کے لیے بھی وقت نکالو‘‘۔

– آپ کو اپنے شیخِ اول حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ سے بہت ہی عقیدت و محبت تھی، چنانچہ ان کے واقعات سے اپنی مجلس کو تروتازہ رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت جی رحمہ اللہ کا ذکر کردہ ایک قصہ سنایا کہ ’’ایک آدمی بادشاہ کی خدمت میں اخروٹ کا تحفہ لے کر جا رہا تھا تاکہ بادشاہ خوش ہو اور خوب انعام دے، تو راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوئی، اس نے کہا کہ کیا لے کر جا رہے ہو؟ کہنے لگا کہ اخروٹ، اس آدمی نے کہا کہ یہ پیاز شریف لے جاؤ، بادشاہ خوش ہوں گے، وہ دیہات کا رہنے والا پیاز کیا جانے، وہ لے لیا اور بادشاہ کے دربار چل پڑا۔ جب خدمت میں تحفہ پیش کیا تو پیاز کی بدبو سے دربار کا ماحول خراب ہو گیا، بادشاہ کی گستاخی کر بیٹھا، مگر بادشاہ نے پھر بھی انعام دیا کہ خلوص سے لایا ہے‘‘۔ ارشاد فرمایا کہ ’’ہمارے اعمال بھی ایسے ہی ناقص ہیں، ان کی کوئی قیمت نہیں، وہ مجلس کو بدبودار کر دیں گے، مگر ان پر نظر نہ ہو بلکہ خاتمہ پر ہو اور خاتمہ استغفار پر ہو‘‘۔

– ایک مرتبہ آدابِ طعام ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ کا ذکر آیا تو ان کا ملفوظ نقل کیا کہ ’’چاولوں کے تناسب سے گوشت کھاؤ، یہ نہیں کہ گوشت ہڑپ کر جاؤ اور بعد میں کھانے والے بوٹیاں ڈھونڈتے رہیں‘‘۔ پھر خود ارشاد فرمایا کہ ’’مولوی اور بزرگ بعد میں بننا، پہلے انسان بنو، اور انسان اللہ والوں کی صحبت سے بنتا ہے‘‘۔

– ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ عجیب آدمی تھے، آخرت کا نقشہ اس طرح کھینچتے تھے کہ گویا سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کو آخرت میں پھینک دیتے تھے۔ آپ کی دعا میں بڑی رقت تھی، آپ کی دعا میں آدمی رو پڑتا تھا‘‘۔

– ارشاد فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے تین اہم جزو ہیں:
۱۔ عقائد یعنی ایمانیات۔
۲۔ اعمال یعنی عبادات و معاملات و معاشرت جن کو اعمالِ ظاہرہ بھی کہا جاتا ہے۔
۳۔ سلوک و احسان یعنی اخلاق و تزکیہ جن کو اعمالِ باطنہ بھی کہا جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہی تینوں کاموں کے لیے مبعوث ہوئے، آدمی کی محنت اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اول کے لیے متکلمین نے زندگی وقف کر دی، دوم کے لیے فقہاء و محدثین نے جانیں لگا دیں اور سوم کے لیے صوفیائے کرام نے زندگی کھپا دی، یہ بہت ہی نازک اور باریک جزو ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت صرف لفظی نہ تھی، بلکہ عملی بھی تھی، چنانچہ ہر شخص کلمہ پڑھ کر زندگی بھی یکسر بدل دیتا اور آگے دعوت دینے والا بن جاتا تھا، اگر فقط لفظی دعوت ہوتی تو کافروں کو کلمہ پڑھنے پر اعتراض نہ ہوتا، مگر یہاں تو سارا معاملہ عمل کا ہے‘‘۔

میرے مرشدِ ثانی عارف باللہ حضرت مولانا مفتی محمد واجد علی بیگ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت والا رحمہ اللہ ہمارے زمانہ میں جامعہ بنوری ٹاؤن کے ’’بزرگ طالب علم‘‘ شمار ہوتے تھے، آپ نے بڑی عمر میں جامعہ میں داخلہ لیا تھا، آپ کی رہائش حضرت مولانا عبدالقیوم چترالی رحمہ اللہ کے کمرہ میں تھی۔ طبیعت کے فیاض تھے، طلبہ کی مالی امداد بھی خوب فرماتے تھے۔ مجھے آپ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے: جب جامعہ کی مسجد میں ’’فضائلِ اعمال‘‘ کی تعلیم شروع ہوئی تو بعض لوگوں نے اس کو بند کروانا چاہا۔ اس وقت جامعہ کی مسجد میں تبلیغ کا کام بالکل اجنبی تھا، آپ رحمہ اللہ نے اساتذہ و اکابر سے ملاقات کر کے اس کے جاری رہنے پر زور لگوایا۔ الحمدللہ! آپ کی محنت رنگ لائی اور جامعہ میں آج تک تعلیم ہی نہیں بلکہ تمام تبلیغی اعمال کا سلسلہ جاری ہے، اس سب کا ثواب حضرت والا رحمہ اللہ کو جاتا ہے، ہم پر بھی آپ بحیثیت ایک بڑے طالب علم کے شفقت فرماتے رہے۔

یہاں چند واقعات ذکر کرتا ہوں جن سے تعلقِ شیخ اور تربیتِ مرشد کا اندازہ ہوتا ہے، یہ بکھرے موتی ہیں جن میں سے ہر موتی میں وعظ و نصیحت ہے:

– قیامِ مدینہ منورہ کے زمانے کا واقعہ ہے کہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی رحمہ اللہ کے صاحبزادے حضرت مولانا آفتاب عالم میرٹھی تشریف لائے اور حضرت والا رحمہ اللہ کو دیکھا تو ’’ارے مولانا!‘‘ کہہ کر معانقہ کیا۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے دیکھ لیا، فوراً طلبی ہوئی، پوچھا کہ ’’یہ کون ہیں؟ ان سے تیرا کیا تعلق؟‘‘ حضرت والا رحمہ اللہ نے عرض کیا کہ ’’حضرت مولانا بدرعالم صاحب رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں اور خط لے کر آئے ہیں‘‘۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے خط لے لیا اور ملاحظہ کیا اور اطمینان کا اظہار فرمایا۔ یہ تربیت کا انداز تھا اور شیخ کو حق ہوتا ہے کہ مرید کے خطوط کو پڑھ لے، تاکہ اس کی صحیح تربیت ہو سکے۔

– حضرت شیخ رحمہ اللہ کے ہاں ہر لمحہ اور ہر لحظہ آدمی کی تربیت ہوتی تھی۔ آپ کی نگاہِ مرشد ہر وقت مرید کی ہر شے کی اصلاح کرتی تھی، چنانچہ کتاب کی عبارت پڑھنے کا بھی انداز خوب تھا۔ حضرت والا رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ہاں جس طرح اردو کتاب سنانے کا معمول تھا، اس کو ہر کوئی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ عبارت کے الفاظ کی درستگی کا بڑا خیال تھا، کتاب پڑھنے والا قاری جب کتاب کی عبارت پڑھ کر سناتا تو ہر حرف کے زیر زبر بالکل درست ہوتے، آواز کہاں بلند کرنی ہے، کہاں پست کرنی ہے، کہاں رکنا ہے، کہاں جملہ کو آگے ملانا ہے، ان سب کا دھیان ہوتا، قاری الفاظ کو اٹھاتا تھا، الفاظ تیزی سے بھی پڑھتا کہ کم وقت میں زیادہ کتاب ہو جاتی اور صاف صاف بھی کہ ہر سننے والا سمجھ لیتا‘‘۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کا یہ مزاج ان کے خلفائے کرام میں بھی منتقل ہوا، چنانچہ راقم کو بخوبی یاد ہے کہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کے ہاں دورۂ حدیث کے سبق میں ’’طحاوی شریف‘‘ کی عبارت بالکل اسی انداز میں پڑھی جاتی اور اگر اس کے خلاف کوئی طالب علم پڑھتا تو اس کو تنبیہ کی جاتی، اسی لیے حضرت والا رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’عبارت میں مہارت پیدا کرنی ہو تو تنہائی میں جا کر کتاب کی عبارت بآوازِ بلند پڑھتے چلے جاؤ‘‘۔

– حضرت شیخ رحمہ اللہ کے ہاں وقت کی پابندی کا بہت لحاظ کیا جاتا، حضرت والا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت شیخ رحمہ اللہ کے خادم مولوی نصیر صاحب کے ذمہ کھانے کا انتظام تھا، جب کبھی ایک دو منٹ بھی تاخیر ہو جاتی تو حضرت شیخ رحمہ اللہ جن کی نگاہِ مرشد سے کوئی چھپ نہیں سکتا تھا، مولوی نصیر صاحب کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھتے تو ارشاد فرماتے کہ ’’دسترس خوان بچھاؤ، مجھے مولوی نصیر کی ضرورت نہیں‘‘، یہ تربیت کا انداز تھا‘‘۔ حضرت والا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’آپ کے اس طریقۂ تربیت پر ہم خدام بسا اوقات ہنس پڑتے، آپ کے ہاں بڑا تیقظ تھا، اسی لیے مریدین بھی متیقظ رہتے‘‘۔

– مریدِ کامل کی شان ہے کہ مرغوبابِ شیخ کو اپنا مرغوب بنائے، اسی سلسلے کا ایک قصہ ہے کہ حضرت والا رحمہ اللہ کو اگر بتیوں کا دھواں ناگوار محسوس ہوتا تھا، اس لیے اس کو استعمال نہ فرماتے تھے بلکہ اس سے کوفت ہوتی تھی مگر حضرت شیخ رحمہ اللہ کی صحبت کی برکت سے یہ کیفیت ختم ہو گئی اور اپنی مجلس میں اگر بتی رکھواتے۔

– طلبہ کو کھیل کود سے منع نہ فرماتے تھے، بلکہ کھیل کود کو ان کی جسمانی ورزش کا حصہ قرار دیتے، لیکن اس حوالے سے ایک نہایت قیمتی بات ارشاد فرماتے کہ ’’کھیل کود میں پوائنٹ کے لیے دیانت داری کو ہاتھ سے نہ جانے دو، بلکہ دوسرے کا پوائنٹ بڑھ جائے تو خوش دلی سے قبول کرو، مگر اپنے ہاتھ سے دیانت نہ جانے دو‘‘۔

– اپنے زمانۂ طالب علم کا ایک واقعہ سنایا کہ ’’میں نے سب سے پہلے جو کتاب چھپوائی وہ حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ کی بخاری شریف کی تقریر کتاب العلم تھی‘‘۔ اس وقت آپ رحمہ اللہ درجہ سادسہ یا درجہ سابعہ کے طالب علم تھے، اس میں عمدہ طباعت، عمدہ کاغذ کو ملحوظ رکھا اور قیمت صرف پانچ روپے رکھی۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے ہاں مدینہ منورہ جانا ہوا تو بہت خوش ہوئے، مگر پوچھا کہ ’’تم نے قیمت کم کیوں رکھی؟ حالانکہ ہمارے سہارنپور میں یہی کتاب ناقص کاغذ اور طباعت کے باوجود آٹھ روپے میں مل رہی ہے‘‘۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’حضرت! مجھے تجارت کرنا مقصود نہیں‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ’’ایسا کب تک کرو گے، ابھی تو جذبے میں آ کر چھاپ لو گے مگر بعد میں اس کے چھاپنے کی نوبت بھی نہ آئے گی۔ اگر مناسب نفع کے ساتھ بار بار شائع کرواؤ گے تو کوئی بوجھ نہ رہے گا‘‘۔

– حضرت والا رحمہ اللہ کو طلبہ اور اساتذہ سے بے انتہا محبت تھی، فرماتے تھے کہ ’’اساتذہ میرا ایک بازو ہیں تو طلبہ دوسرا بازو ہیں، اساتذہ اگر میرا بنیان ہیں تو طلبہ میری قمیص ہیں، میں دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں اپنی ہر خوشی میں، ہر مبارک تقریب میں‘‘۔ یہ صفت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب مہاجرین و انصار کے بارے میں ایسے ہی ارشادات فرمائے، یہ آپ کا اتباعِ سنت ہے کہ مزاج بھی نبوی مزاج جیسا بنایا۔

حضرت والا رحمہ اللہ کا دینی مزاج اور زندگی کے بعض رہنما اصول:
– ایک دعوت میں تشریف لے گئے، میزبان نے کھانے کا انتظام میز کرسی پر کیا تھا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ہم نیچے بیٹھ کر کھائیں گے‘‘۔ میزبان نے عرض کیا کہ حضرت! میں نے فتویٰ لیا ہے، میز کرسی پر کھانا جائز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہم مہمان ہیں، نیچے کھلا سکتے ہو تو خیر ورنہ ہم جاتے ہیں‘‘۔ یہ آپ کا دینی مزاج تھا جو ہر وقت پیشِ نظر تھا۔

– ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’مفتی وہ ہے جس سے مسئلہ پوچھو تو وہ اس کا حوالہ بتا سکے کہ یہ مسئلہ فلاں کتاب میں فلاں باب کے تحت مل جائے گا، مسئلہ کا ازبر ہونا بہتر ہے مگر ضروری نہیں‘‘۔ سفرِ حج میں عام معمول یہ تھا کہ ’’معلم الحجاج‘‘ سے استفادہ کرتے، فرماتے کہ ’’علمی مشغولیت سے فائدہ ہوتا ہے‘‘، گویا سفر کو علمی مصروفیات کے ساتھ گزارتے۔

– معاملات میں نہایت پکے اور صاف تھے، اور اس میں کوئی رعایت نہ فرماتے، ایک عزیز نے ایک مہینہ کے لیے رقم ادھار مانگی تو پورے ایک ماہ بعد اس سے فرمایا کہ ’’بھائی! آج ایک مہینہ ہو گیا ہے‘‘۔ وہ کچھ ناراض ہوا مگر آپ نے اپنے مزاج کے مطابق معاملات کی بات ارشاد فرمائی۔

– ایک طالب علم سے چند کچوریاں منگوائیں، اس طالب علم کے والد وہاں موجود تھے، جب وہ لے کر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے اس کی رقم دے دی تو اس طالب علم نے لے لی۔ اس کے والد نے بعد میں کہا کہ حضرت سے کیوں رقم لی؟ اس نے کہا کہ میں حضرت کے مزاج کو جانتا ہوں، اب پیسے نہ لیتا تو آئندہ حضرت مجھ سے کبھی نہ منگواتے۔

– صفائیٔ معاملات کا موضوع آپ کے ہاں بہت اہم تھا، ساتھ ساتھ اپنے مسائل اور پریشانیوں کا حل وظائف کی بجائے اعمال سے کروانے پر ترغیب دیتے۔ ایک صاحب نے اپنا ایک مسئلہ ذکر کیا تو فرمایا کہ ’’پانچ وقت نماز تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام کرو اور اپنے اوپر جبر کر کے دو ہفتہ تک منزل پڑھو‘‘۔ ایک ہفتہ کے بعد ان صاحب سے معمولات کا پوچھا تو اس نے کہا کہ منزل تو نہیں چھوٹی مگر نماز کی پابندی نہ رہی تو ارشاد فرمایا کہ ’’میں کیا جادوگر ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جادو کر دوں؟‘‘

– ارشاد فرمایا کہ ’’میرا مزاج یہ ہے کہ کام بھی ہو جائے اور سادگی بھی باقی رہے‘‘۔ حضرت والا رحمہ اللہ نے اپنا ذوق و مزاج ایسا بنایا تھا کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ ہو، آدمی کی دینی تربیت ہو جائے اور سادگی کا حسن بھی قائم رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ظاہری ٹیپ ٹاپ اور نمود و نمائش کو پسند نہ فرماتے تھے، اپنے پاس موجود مہیا اسباب و وسائل کے ساتھ آدمی اپنی ضرورت کے بقدر ان کو صرف کرے، زیادہ کے چکر میں نہ پڑے۔ ان صفات کے ساتھ زندگی گزار کرنا آسان اور سہل ہو جاتا ہے۔

جامعہ دارالہدیٰ کراچی کے سرپرست:
اپنے زمانۂ تخصص فی الافتاء کے زمانے میں صدر جامعہ دارالہدیٰ کراچی و رئیس دارالافتاء حضرت مولانا مفتی عبدالحمید ربانی صاحب رحمہ اللہ کی زبانی آپ کے مناقب و خدمات کا تذکرہ سننے کو ملا، آپ ہی اس ادارے کے سرپرست تھے۔ آپ نے اپنی طرف سے اس ادارے کے ساتھ بھی خلوص و تعاون کا سلسلہ جاری رکھا، جامعہ دارالہدیٰ کراچی کی تمام خدمات کا صدقۂ جاریہ حضرت والا رحمہ اللہ کے نام بھی جاری ہے۔ راقم دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے بالاخانوں کی سیر کروائے، پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور آپ کے ادارے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ آمین۔

مولانا محمد سفیان بلند صاحب
متخصص فی الافتاء، جامعہ دارالہدیٰ گلستان جوہر کراچی