یادِ شیخ
مولانا عبید الرحمن رئوفی صاحب
مدرس جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ
سیدی و مرشدی شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ کو آنکھوں سے اوجھل ہوئے آٹھ ماہ ہونے کو ہیں۔ ان آٹھ ماہ میں سینکڑوں بار حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت سے وابستہ ساڑھے تین سالہ مشاہدات و تأثرات کو قلم بند کرنے کے پُرزور جذبے نے انگڑائی لی۔ کبھی تو رہ رہ کر یہ شوق پیدا ہوا کہ صرف اپنے ہی مشاہدات و تأثرات کو زیبِ قرطاس کیا جائے، اور کبھی عزم و ہمت کی بلندی نے پُرزور اصرار کیا کہ حضرت رحمہ اللہ کے اعزہ و اقارب، خلفاء و مسترشدین اور دیگر متعلقین سے تفصیلی انٹرویوز کر کے حضرت رحمہ اللہ کا جامع تذکرہ مرتب کر کے شفیق پورہ قبرستان جا کر حضرت رحمہ اللہ کے حضور پیش کروں۔ اب تک تو کچھ نہیں کر پایا، بداعمالیاں اور نالائقیاں آڑے نہ آئیں تو اللہ کے فضل و کرم سے بڑی امید ہے کہ وہ اپنے ایک پسندیدہ بندے کی تذکرہ نویسی کی خدمت کا شرف بخش ہی دے گا۔ صاحبزادہ حضرت مولانا مفتی محمد مدنی صاحب کے کہنے پر فی الحال یہ چند سطور قلم بند کی جا رہی ہیں۔
درسِ نظامی سے فراغت کے بعد تزکیہ و تطہیرِ باطن کے لیے کسی شیخ اور مربی کے دامن تھامنے کا جذبہ وقتاً فوقتاً انگڑائی لیتا تھا، لیکن نفس کے سوال ’’کہاں جاؤں؟‘‘ کے جواب کی تلاش تکاسل اور تساہل کے نذر ہو جاتی تھی۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات کا مطالعہ شروع کیا تو لسان العصر حضرت اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر دل و دماغ پر سوار ہو گیا:
کورس تو صرف لفظ ہی سکھاتے ہیں آدمی آدمی بناتے ہیں
ملفوظات ہی کی کسی جلد میں حضرت رحمہ اللہ کا یہ ملفوظ نظر سے گزرا تھا کہ ’’اس دور میں شیخ کی صحبت فرضِ عین ہے‘‘۔
تلاشِ شیخ میں پہلے خود ہی اجتہاد کا سوچا پھر ارادہ بدل گیا اور مشورے کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے ایک بزرگ صفت استاذ کے سامنے دل کی بات رکھی، ان کی رہنمائی نے بہادرآباد کا رخ کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ جمعرات کا دن تھا، اپنے استاذ کی رہنمائی ملتے ہی میں نے معہد الخلیل الاسلامی کا رخ کیا۔ راستے میں میں نے نہ جانے ذہن میں کتنے ہی فرضی نقشوں کا تصور کیا۔ میں یہ سوچتا جا رہا تھا کہ معہد الخلیل الاسلامی کوئی عالیشان اور پُرتکلف عمارت ہوگی، لیکن جامعہ کے دروازے میں قدم رکھتے ہی مجھے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف سادگی اور تصنع سے پاک مناظر دیکھنے کو ملے۔ میں عشاء کی اذان کے بعد جامعہ میں داخل ہوا، وضو کرنے کے بعد مسجد میں بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں نماز کھڑی ہو گئی۔ جمعرات کی وجہ سے طلبہ تو تھے نہیں، نمازیوں کی تعداد پچاس کے لگ بھگ ہوگی۔ میں نے تمام نمازیوں پر تجسس بھری نگاہیں دوڑائیں، میری نظروں کو کسی امتیازی حیثیت کی حامل شخصیت کی تلاش تھی۔ نماز کے بعد بھی میری تجسس بھری نگاہیں مسجد کے اطراف میں پھرتی رہیں، لیکن جس فرضی نقشے کا میں نے اپنے دماغ میں تصور کر رکھا تھا اس کا تو یہاں کوئی نام و نشان ہی نہ تھا۔
میرے دماغ میں یہ تھا کہ حضرت رحمہ اللہ کوئی بھاری بھرکم شخصیت ہوں گے، سر پر امتیازی شان کا عمامہ ہوگا، ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہوگا۔ کسی مرید سے عارضی تعلق بنا کر میں حضرت والا کا مزاج معلوم کروں گا کہ میں ابھی زیارت کر لوں یا بعد میں کسی مناسب وقت میں۔ میں نے یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ مجھے ایک طویل انتظار کرنا ہوگا، پھر جھجکتے اور شرماتے ہوئے میں بھی مصافحہ کے لیے اپنی کوئی جگہ بنا لوں گا۔ نمازی ایک ایک کر کے جا رہے تھے اور مسجد خالی ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا شاید حضرت والا یہاں نہ ہوں، کہیں سفر پہ ہوں، یا شاید ان کا گھر مدرسہ سے دور ہو۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں بیٹھا تھا کہ ایک طالب علم پر میری نظر پڑی۔ سلام کرنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا: حضرت کا گھر کہاں ہے؟ اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: میں حضرت کی زیارت کی غرض سے آیا ہوں۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا: وہ دروازے کے ساتھ جو نماز کی نیت باندھ رہے ہیں، وہ ہیں بڑے حضرت۔ میں اپنے سارے وجود کے ساتھ اس طرف متوجہ ہو گیا جس طرف کا مجھے اشارہ ملا تھا۔ میری نظروں کے سامنے پہلی صف کے دائیں کنارے پر ایک جاذبِ نظر بزرگ شخصیت نماز کی نیت باندھے کھڑی تھی۔ سادہ لباس زیبِ تن کیے، کپڑے کی سادہ ٹوپی سر پہ سجائے ان کی ایک ایک ادا سے سلف کی زاہدانہ زندگی کے تابندہ نقوش میرے دل و دماغ پر ابھرنے لگے۔ بلااختیار میری زبان پر یہ اشعار جاری ہو گئے:
خدا یاد آئے جن کو دیکھ کر وہ نور کے پتلے نبوت کے یہ وارث ہیں، یہی ہیں ظلِ رحمانی
یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر انہی کے اتقاء پر ناز کرتی ہے مسلمانی
انہی کی شان کو زیبا نبوت کی وراثت ہے انہی کا کام ہے دینی مراسم کی نگہبانی
رہیں دنیا میں اور دنیا سے بالکل بے تعلق ہوں پھریں دریا میں اور ہرگز نہ کپڑوں کو لگے پانی
اگر خلوت میں بیٹھے ہوں تو جلوت کا مزہ آئے اور آئیں اپنی جلوت میں تو ساکت ہو سخندانی
نماز سے فارغ ہو کر آپ مسجد میں ہی تفسیر عثمانی سامنے رکھ کر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا اور دائیں طرف بیٹھ گیا۔ حضرت رحمہ اللہ نے خود ہی مجھ سے تفصیلی حالات دریافت کیے۔ جب میں نے اپنی تدریس کا بتایا تو فرمایا: ’’دینی علوم کی تدریس بڑی عظیم نعمت اور بہت بڑا اعزاز ہے۔ اگر کوئی بادشاہ اپنی ساری سلطنت بمع سازوسامان کے تمہارے حوالے کر دے اور دینی علوم کی تدریس چھوڑنے کا کہے تب بھی تدریس نہ چھوڑنا‘‘۔ اٹھتے وقت میں نے کوئی نصیحت طلب کی تو فرمایا: ’’اتنی اہم نصیحت تو کر دی ہے‘‘۔ اگلے دو تین دنوں بعد میں بیعت کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا: ’’صحبت بہت ضروری ہے، اس کے بغیر جو کچھ بھی ہے، محض چرب زبانی ہی ہے‘‘ اور پھر بیعت فرما لیا۔
تقریباً چار سالہ نیازمندی کے دوران راقم کو حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ لگاؤ، للہیت و انابت، معاملات کی صفائی، حسنِ تربیت، سادگی، حرمین شریفین سے گہری عقیدت، اسلام میں تصلب، فنا فی الشیخ اور زہد سمیت دیگر قابلِ رشک صفات کے مشاہدات اور تأثرات ملے ہیں۔ قطب الاقطاب برکۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کے سیرت خوانوں کو ان کی یاد ستاتی اور وہ میرے حضرت رحمہ اللہ کی مجلس میں آتے تو ان کو تسکینِ خاطر کا وافر حصہ مل جاتا۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی پندرہ سالہ رفاقت نے انہیں اپنے شیخ کے رنگ میں خوب رنگ دیا تھا۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے مطابق اسلام: عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق کا مجموعہ ہے۔ عقائد اور عبادات پر عمل درآمد تو بہت دیکھنے کو مل جائے گا البتہ معاملات، معاشرت اور اخلاق کی صفائی نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
کراچی میں ایک صاحب ہیں، عالم فاضل ہیں ایک بڑا مکتبہ چلا رہے ہیں۔ بڑی اونچی خاندانی نسبت رکھتے ہیں، ایک بہت بڑے دینی ادارے کے ممتاز استاذ اور اس ادارے کے ایک وقیع شعبے کے نگران ہیں۔ زبان میں مٹھاس اتنی ہے کہ دل موہ لیتے ہیں۔ بڑے متواضع ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے کو بھی حضرت کہہ کر پکارتے ہیں۔ ایک پوش علاقے میں عالیشان بنگلے میں رہائش پذیر ہیں۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے خاص عقیدت کا دم بھرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے فراغت اس ناکارہ کو صاحب کے پاس لے گئی۔ صاحب نے انٹرویو لیا اور ممتاز قرار دے کر جامع صغیر، سیرِ کبیر اور سیرِ صغیر برائے تصحیح حوالے کر دی۔ اجرت کے بارے میں فرمایا کہ جلد طے کر لیں گے۔ پانچ ماہ تک یہ دماغ سوز محنت چلتی رہی۔ صاحب کو بروقت کام ملتا رہا۔ اس دوران کئی بار شرفِ باریابی کی سعادت حاصل ہوئی۔ صاحب ہر بار معمولی سی رقم تھما دیتے اور زبانِ حال سے انتظار کا کہہ دیتے ہیں۔ معمولی معاوضے کی کئی قسطوں کی وصولی کے باوجود آج بھی ڈھائی ہزار کی وصولی باقی ہے۔ کاش! ڈرائنگ روم کی آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے معاملات کی صفائی پر ڈھائی ہزار خرچ کر دیے جائیں تو زیادہ بہتر ہو!
رجب ۱۴۳۱ھ کے آخری جمعہ کو ناکارہ حضرت رحمہ اللہ کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ دورانِ زیارت تصنیف و تالیف کا ذکر چھڑ گیا۔ حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دو رسالوں کا اردو ترجمہ کرنا ہے، کوئی اچھا سا مترجم دیکھو‘‘۔ میں نے عرض کیا: حضرت! کچھ کتابوں کا ترجمہ تو میں بھی کر چکا ہوں۔ فرمایا: ’’پھر کل آ جاؤ اور اپنا کوئی ترجمہ بھی لیتے آنا‘‘۔ اگلے دن قبل از ظہر یہ ناکارہ ’’العلماء العزاب‘‘ کا اردو ترجمہ ’’امتِ مسلمہ کے محسن علماء‘‘ لے کر حاضرِ خدمت ہوا تو حضرت رحمہ اللہ نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا رسالہ ’’جزء الاختلاف فی صفۃ الصلاۃ‘‘ کو اردو کا لباس پہنانے کا حکم فرمایا۔ خدمت کا موقع پا کر شاداں و فرحاں اٹھنے لگا تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’جو اجرت آپ دوسری جگہوں سے لیتے ہیں وہی اجرت آپ کو یہاں سے ملے گی‘‘۔ میں نے عرض کیا: حضرت! اس خدمت کی ناکارہ کو تفویض ہی اس کا معاوضہ ہے۔
کام تو یہ چار سے پانچ ماہ کا تھا لیکن شوق اور عقیدت نے قلم کو ایسی تندہی، جانکاہی اور خود فراموشی فراہم کی کہ تین سو ستر صفحات کی قلمکاری، کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ میں ایک چلہ سے بھی کم وقت صرف ہوا۔ رمضان کے آخری عشرے میں دورانِ اعتکاف بعد از تراویح میں نے مسودہ پیش کیا تو ’’اللہ قبول فرمائے‘‘ کہہ کر وصول فرمایا اور فرمایا: ’’باقی بات عید کے بعد ہی ہوگی‘‘۔ اگلے دن بعد از عصر تعلیم سے فراغت پر فرمایا: ’’بھئی! مولانا عبید الرحمن ہیں؟‘‘ یہ ناکارہ پھرتی سے حاضر ہوا تو فرمایا: ’’بھئی! اپنا اور کمپوزر کا حساب ابھی لکھ کر دوو‘‘۔ میں نے کمپوزر کے حساب کی پرچی دی تو فرمایا: ’’اپنا بھی حساب لکھو‘‘۔ میں نے عرض کیا: حضرت! یہ تو میرا اپنا کام ہے۔ فرمایا: ’’نہیں! میں اس لائن کا آدمی نہیں ہوں‘‘۔ دھڑکتے دل کے ساتھ انکار کیا تو جیب سے قلم نکال کر فرمایا: ’’لو بیٹا! یہیں بیٹھ کر لکھو‘‘۔ میں پیچھے کی طرف سرکا تو قرآن کھولتے ہوئے فرمایا: ’’افطاری سے پہلے اپنا حساب لکھ کر دو‘‘۔ ایک صاحبزادے کو سفارشی بنانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس معاملے میں سفارش کے بجائے فی الفور لکھ کر پیش کرنے کا حکم فرمایا۔
اب ڈانٹ کے خوف سے تھرتھراتے قلم کے ساتھ کچھ نہ کچھ چارہ ناچار لکھنا ہی پڑا۔ کمپوزنگ کے معاوضے کے علاوہ حضرت نے جیب میں جتنی رقم تھی، تھما دی۔ اگلے دن سحری کے دسترخوان پر بیٹھا ہی تھا کہ حضرت نے آواز دے کر اپنے ساتھ بٹھایا۔ سحری سے فراغت پر تین ہزار مزید عطا فرمائے اور فرمایا: ’’اب ہمارا حساب بیباق ہوا‘‘۔ یہ بھی فرمایا کہ ’’فارغ ہو کر ذکر سیکھنے کے لیے آ جانا‘‘۔ چنانچہ اسی دن بعد از ظہر حضرت نے ذکر کی تلقین فرمائی۔
حسنِ معاشرت و اخلاق اور باہمی الفت و محبت کا حضرت رحمہ اللہ بڑی کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے۔ اس بارے میں حضرت رحمہ اللہ نے اپنے متعدد واقعات بھی سنائے۔ ایک بار فرمایا:
– ’’اس بار حرم میں ایک صاحب سے اس کے بھائی کی خیریت دریافت کی تو اس نے کہا: وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں مل کر نہیں آیا۔ خون ہی سفید ہو گئے! ایک وقت تھا، یہیں محلے میں ایک کرایہ دار مالک مکان کے دروازے پر سارے دن بیٹھا روتا رہا کہ میں حج پر جا رہا ہوں، کرایہ کی کمی بیشی میں اور ادائیگی میں ہماری تلخی ہوتی رہی ہے، مجھے معاف کر دو تاکہ میرا حج قبول ہو‘‘۔
– ’’ایک بار یہاں ایک صاحب اعتکاف میں بیٹھے تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیوی کو مار کر آئے ہیں۔ میں نے فوراً کان سے پکڑ کر نکال دیا کہ جاؤ! پہلے بیوی سے معافی مانگ کر آؤ‘‘۔
دورانِ اعتکاف باہمی بات چیت کی بڑی سختی سے بارہا ممانعت فرماتے تھے۔ آخری عشرے کی راتوں کے بارے میں بارہا فرماتے تھے: ’’بس پوری رات ایک قرآنی فضا بنی رہے، مسجد تلاوت سے گونجتی رہے‘‘۔ رومال وغیرہ منہ پہ ڈال کر رب سے مناجات اور آنسو بہانے کی تلقین بھی سینکڑوں بار سنی۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی متعدد مجالس میں حضرت رحمہ اللہ کے یہ الفاظ تو گویا اب بھی کانوں میں گونج رہے ہیں: ’’اپنی معاشرت بدلو، معیشت بدلو، مسجدوں کو آباد کرو، شکل و صورت، رہن سہن، وضع قطع، چال چلن، لباس اور غمی خوشی سنت کے سانچے میں ڈھالو۔ اخلاق سنوارو، معاملات صحیح کرو۔ خود بھی دین سیکھو اور اپنی اولاد کو بھی دینی تعلیم دلوالو۔ ہر گھر میں ایک عالم و حافظ تو ضرور ہو۔ ایک بچے کو تو دینی تعلیم کے لیے وقف کرو، اس کا خرچہ خوشدلی سے یہ سوچ کر اٹھاؤ کہ یہ ہماری ہی آخرت بنا رہا ہے۔ اور لوگ تو چندے کی اپیل کرتے ہیں، میرا چندہ یہ ہے کہ آپ میں سے ہر ایک روزانہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دینی تعلیم کے لیے ہمیں دے‘‘۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے دورانیے کے علاوہ اس ناکارہ کو ماہانہ اجتماع میں ناشتے کے دسترخوان پر حضرت رحمہ اللہ کے ملفوظات سے استفادے کا موقع ملتا۔ معہد الخلیل کی جدید تعمیر جن دنوں جاری تھی ان دنوں ایک صبح فرمایا: ’’تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، کسی کے سامنے میں نے ہاتھ نہیں پھیلایا‘‘۔ اپنے مصلے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ’’اللہ اسی پر بیٹھے بیٹھے دے رہا ہے‘‘۔ حضرت رحمہ اللہ کے آخری حج کے سال یہ ناکارہ بھی حج پر تھا۔ میں مکہ مکرمہ میں تھا تو حضرت رحمہ اللہ مدینہ منورہ تھے۔ بدقسمتی تھی کہ جس صبح میں مدینہ منورہ پہنچا اسی صبح حضرت رحمہ اللہ سوئے مکہ رختِ سفر باندھ چکے تھے۔ مدینہ منورہ میں زیارت سے تو محرومی رہی۔ فون پر رابطہ کیا تو فرمایا: ’’یہاں خود کو درود شریف پڑھنے میں تھکاؤ۔ مسجدِ نبوی (علی صاحبہ الف الف تحیۃ) ساری کی ساری مواجہہ شریف کے ہی حکم میں ہے۔ ہر حاضری پر میرا سلام بھی پیش کر دیں تو بڑا احسان ہوگا‘‘۔ چنانچہ ہر حاضری پر حضرت رحمہ اللہ کا سلام پیش کرنے کی بھی توفیق ملتی رہی۔ اس توفیق کا حضرت رحمہ اللہ کو بتایا تو فرمایا: ’’یہ تو آپ کا مجھ پر ایسا احسان ہے کہ جس کا بدلہ نہیں چکایا جا سکتا‘‘۔ مدینہ منورہ میں آٹھ روزہ قیام کے بعد مکہ مکرمہ واپسی ہوئی تو پھر بھی زیارت اور خدمت کا موقع نہ مل سکا۔ بڑی آرزو تھی کہ حضرت کو ایک طواف کرا دوں لیکن:
بسا آرزو کہ خاک شد
ایک بار فرمایا: ’’ہم تو اللہ کو کہتے ہیں: ’’اے اللہ! نہ تو پہلے کچھ کیا ہے اور نہ ہی آئندہ امید ہے، بس وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ کا ہی سہارا ہے اور اسی سہارے پر قبر میں اتریں گے‘‘۔
معہد الخلیل کو حضرت رحمہ اللہ نے خونِ جگر اور بڑی آہ و زاریوں سے سینچا۔ ایک بار فرمایا: ’’اس مدرسے کی بنیاد کا مقصد راسخین فی العلم، اولیاء اللہ اور داعیانِ دین پیدا کرنا ہے، ڈاکٹر اور محقق نہیں۔ علمی مضبوطی کے لیے ہر ماہ طلبہ کا جائزہ اور للہیت پیدا کرنے کے لیے روزانہ پچیس منٹ ذکر کے لیے وقف ہوں‘‘۔ یہ بھی فرمایا کہ ’’میں بعض دفعہ ساری ساری رات کروٹیں بدل بدل کر مدرسے کی ترقی کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں‘‘۔ فرمایا: ’’تصوف کا خلاصہ ہے بے چینی پیدا ہونا۔ حسی طور پر تو وہ مل نہیں سکتے، بس لقائے محبوب کی بے چینی ہی مقصود ٹھہری‘‘۔ بڑا عرصہ ہو گیا تھا ناکارہ کی آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکے تھے۔ رمضان المبارک میں بعد از ختمِ خواجگان حضرت رحمہ اللہ نے طویل دعا فرمائی، زبان سے جب یہ الفاظ نکلے: ’’اے خدا! تو بخش دے، تو بخش دے، تو بخش دے گا تیرا کچھ بگڑے گا نہیں اور ہمارا کام بن جائے گا‘‘۔ یہ الفاظ ہچکیوں کے ساتھ اس درد و سوز سے گونجے کہ عَيْنَانِ هَطَّالَتَانِ تَسْقِيَانِ الْقَلْبَ بِذَرُوفِ الدَّمْعِ کا سماں بندھ گیا۔ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے بجائے مدارسِ دینیہ کے در و دیوار حضرت رحمہ اللہ کی عقیدت کے محور تھے۔ ایک بار فرمایا: ’’افسوس ہے کہ آج کل اچھے خاصے، دیندار مسلمان بھی اپنے بچوں کو مدارس کے بجائے اسکولوں اور کالجوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ دینی تعلیم دیے بغیر بچے کو اسکول کی طرف دھکیلنا تو اسے جہنم کی طرف دھکیلنا ہے‘‘۔
مغربیت اور اسلامیت کی کشمکش پر بعض دفعہ ان کی زبان سے ایسے مومنانہ کلمات سننے کو ملے جو تا دیر دل و دماغ پر اپنا خوشگوار اثر چھوڑے رہے۔ گزشتہ سے پیوستہ رمضان کی ستائیسویں شب کو حضرت رحمہ اللہ نے ایک بچے کی بسم اللہ کروائی۔ پہلے اس سے رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي دعا پڑھوائی پھر فرمایا: کہو ’’الف سے اللہ، با سے بندہ، تا سے تیرا‘‘۔ اے اللہ! میں بندہ تیرا۔ ایامِ اعتکاف میں سینکڑوں بار حضرت کی زبانِ مبارک سے یہ شعر سنا:
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھا رہوں تصورِ جاناں کیے ہوئے
ایک بار احقر خانقاہ میں اپنے ہی خیالات میں گم صم تھا کہ حضرت پاس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ’’آپ حدیث کی کوئی کتاب پڑھا چکے ہیں؟‘‘ تب تک احقر نے کوئی حدیث کی کتاب پڑھائی نہیں تھی۔ اب تو الحمدللہ صحیح مسلم، جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد کی تدریس کی توفیق مل چکی ہے۔ جواب نفی میں پا کر فرمایا: ’’آپ سے حدیث کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ کرانا تھا‘‘۔
یہ ۶ شعبان بروز ہفتہ ۱۴۳۰ھ کی بات ہے۔ راقم مدرسے سے گھر جا رہا تھا۔ موبائل کی گھنٹی بجی، پہلی بار اسکرین پر حضرت رحمہ اللہ کا نام دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ بر لبِ سڑک موٹر سائیکل روک کر کال وصول کی تو سلام کے بعد رس گھولتے یہ کلمات کانوں میں پڑے: ’’حضرت! میں یحییٰ مدنی عرض کر رہا ہوں، دس شعبان کو میں حجازِ مقدس روانہ ہو رہا ہوں۔ ایک ماہ بعد دس رمضان کو واپسی ہوگی۔ دعاؤوں میں یاد رکھیں اور اعتکاف کی ترتیب ضرور بنائیں۔ آپ کا چونکہ مجھ سے تعلق ہے اس لیے سوچا کہ آپ سے بات کر لوں‘‘۔ اللہ! اللہ! یہ تواضع، ذرہ نوازی اور ایک ناکارہ و آوارہ مسترشد و نیازمند کی عزت افزائی۔ متعدد بار اس ناکارہ سے تاکیداً فرمایا کہ ’’میرے لیے حسنِ خاتمہ کی دعا فرمائیے‘‘۔
سستی، غفلت اور نالائقیاں و آوارہ گردیاں زندگی جب اجیرن کر دیتیں، بداعمالیوں کی ظلمت جب دل اور آنکھوں کو اندھیرے میں دھکیل دیتی، زمین باوجود اپنی کشادگی کے جب تنگ ہوتی ہوئی دکھائی دیتی، اپنا وجود جب ایک بوجھ بن جاتا، حرص و لالچ سے جب دل کی دھڑکنیں اپنا توازن کھو بیٹھتیں، دماغ پر ٹینشن کے مہیب سائے منڈلانے لگتے اور زندگی جب اپنی چاشنی بلکہ مفہوم سے ترسنے لگتی تو سکون، نور اور زندگی سے لطف اندوز ہونے بلکہ آبِ حیات پانے کے لیے میں معہد الخلیل کا رخ کرتا۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی مسجد کے سامنے بعد از عصر حضرت تفسیر عثمانی سامنے کھولے جلوہ افروز دکھائی دیتے۔ آہ! وہ آگے کی طرف ذرا جھک کر مصافحہ کے لیے ہاتھ پیش کرنا، وہ دل آویز مسکراہٹ، وہ اپنائیت بھری باتیں اور ملفوظات۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر
مولانا عبید الرحمن رئوفی صاحب
مدرس جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ