مضامین

ایک عظیم مصلح و باریک بین مربی

مولانا احسان اللہ تونسوی صاحب
سابق مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی

یوں تو اس معمورۂ کائنات نے اپنی آفرینش سے لے کر آج تک مختلف الوان و اقسام اور متنوع مزاج و خصائص کے لوگ دیکھے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے دنیا میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک اس کے ماتھے کا جھومر بنے رہتے ہیں:
ہرگز نمیرد آں کس کہ دلش زندہ شد بہ عشق      ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

ہمارے حضرتِ اقدس مولانا محمد یحییٰ المدنی نور اللہ مرقدہ وبرد اللہ مضجعہ بھی انہی ہستیوں میں سے ایک تھے۔ آپ بذاتِ خود ایک انجمن، ایک ادارہ، ایک عظیم مصلح اور مدبر تھے۔ آپ نے اپنے مقصد کی سچی دُھن اور لگن کے ساتھ ایک کمرے سے شروع ہونے والے ایک مکتب کو ایک جامعہ تک پہنچایا اور لفظِ مربی آپ کی ذاتِ بابرکات پر کما حقہ صادق آتا ہے کہ کسی چیز کو ابتداء سے مناسب خوراک اور ماحول مہیا کر کے اس کو درجۂ کمال تک پہنچانا آپ کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔

راقمِ اثیم نے کچھ عرصہ معہد الخلیل الاسلامی میں تدریسِ کتب میں خدمت کی ہے۔ اس دوران حضرت اقدس کو قریب سے دیکھنے اور آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ حضرت کا باقاعدگی کے ساتھ جامعہ میں موجود رہना گویا کہ وہاں معتکف ہیں، اور پھر ہر ہر شعبہ کی نگرانی اور دھیمے انداز میں اصلاح و تربیت، یہ ایسی چیزیں ہیں جو بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔ راقم اس موقع پر کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہے جو بندۂ حقیر کے سامنے یا بندہ کے ساتھ پیش آئیں جن سے حضرت اقدس رحمہ اللہ کی شخصیت کا مربیانہ پہلو سامنے آتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ حضرت کا اندازِ تربیت کیا تھا۔ واضح رہے کہ آپ رحمہ اللہ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ چھوٹے مدرسین کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ چنانچہ بندہ کو بھی بکثرت اسی لفظ سے بلاتے تھے۔ اس لفظ کی مٹھاس آج تک محسوس ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ راقم متوسطہ کی جماعت کو سبق پڑھا رہا تھا، دورانِ درس بندہ نے کہا: ’’میں نے آپ کو فلاں بات پڑھا دی ہے‘‘۔ اس دوران حضرت رحمہ اللہ کا گذر ہوا، تو حضرت میری بات سن کر گزر گئے۔ بعد میں جب آپ کے دفتر میں کسی کام سے جانا ہوا تو فرمایا: ’’بیٹے! احسان اللہ! اظہار نہیں ہونا چاہیے بلکہ یوں کہنا چاہیے ’آپ یہ بات پڑھ چکے ہیں‘‘‘۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ حضرت رحمہ اللہ راقم کے لفظ ’’میں‘‘ کی اصلاح فرما رہے ہیں۔ مجھے دلی طور پر خوشی محسوس ہوئی اور آئندہ اس طرح کے طرزِ تکلم سے بچنے کی کوشش کی۔

اسی طرح کا ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب راقم مولوی خلیل الرحمن صاحب رحمہ اللہ (جو بعد میں شہید ہو گئے تھے) کے ساتھ حضرت کی خدمت میں موجود تھا۔ مولوی خلیل الرحمن صاحب کا تدریسِ عربی اور تجوید کے لیے تقرر ہو گیا تھا، کیونکہ وہ سعودی عرب میں تیرہ سال رہ چکے تھے اور فصیح اور عامیانہ عربی گفتگو پر قدرتِ تامہ رکھتے تھے۔ بہرحال دورانِ گفتگو حضرت رحمہ اللہ نے ایک کتاب مولوی خلیل الرحمن صاحب کو دکھائی اور فرمایا کہ ’’یہ کتاب بھی آپ کو مطالعہ کے لیے دی جائے گی‘‘، تو مولوی خلیل الرحمن صاحب نے کہا: ’’یہ کتاب میرے پاس پڑی ہے‘‘۔ اس پر حضرت نے فرمایا: ’’بیٹے! کتاب کے لیے پڑی کا لفظ استعمال نہیں کرتے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کتاب میرے پاس رکھی ہے یا موجود ہے‘‘۔

اسی طرح کے اور کئی واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت رحمہ اللہ اپنے پاس آنے جانے والے ماتحتوں کی کس طرح تربیت فرماتے اور اصلاح طلب امور کی کس پیارے طریقے سے اصلاح فرماتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میدان میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات سے خوب کام لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ خداوندِ عالم نے آپ کو اس کام کے لیے چن لیا تھا اور یہ آپ کے اخلاصِ نیت، جہدِ مسلسل اور مراقبہ دائمہ کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف آپ کی ساری اولاد بیٹے اور بیٹیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہیں، بلکہ ہزاروں تشنگانِ علم و عمل اس چشمۂ فیض سے سیراب ہو کر دوسروں کو بھی فیض یاب کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کے لگائے ہوئے گلشن جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کی حفاظت فرمائے اور اسے حضرت رحمہ اللہ کے لیے اور آپ کے آباء و اجداد کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور تاقیامِ قیامت یہ چمن یونہی لہلہاتا رہے، برگ و بار لاتا رہے۔ وایں دعائے من واز جملہ جہاں آمین باد:
اے خدا ایں جامعہ را قائم بدار      فیض او جاری بود لیل و نہار

مولانا احسان اللہ تونسوی صاحب
سابق مدرس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی