دل نواز ادائیں
حضرت مولانا شیخ ازہر اقبال نقشبندی صاحب مدظلہ
مہتمم مدرسہ معہد الفقیر الاسلامی کراچی
حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ اس امت کے اولیائے کبار میں اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے اجل خلفاء میں سے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ کی زندگی آج کے زمانے میں مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ جس قدر امت کی اصلاح کی فکر اور اخلاقِ حسنہ سے اللہ نے حضرت رحمہ اللہ کے مبارک قلب کو مزین فرمایا تھا وہ قابلِ دید تھا۔ چند واقعات جو حضرت رحمہ اللہ کے اس عاجز کو یاد ہیں سپردِ قلم کرتا ہے:
۱۔ ایک مرتبہ اس عاجز کے شیخ حضرت مولانا ذوالفقار نقشبندی رحمہ اللہ کراچی تشریف لائے ہوئے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ ان سے ملاقات فرمانا چاہتے تھے تو اس عاجز کو فون کیا۔ فون کال زیادہ آنے کی وجہ سے عاجز کا فون سائلنٹ (Silent) تھا اور حضرت رحمہ اللہ نے کئی مرتبہ فون کیا اور عاجز نے نہیں اٹھایا۔ جب بالمشافہہ ملاقات ہوئی تو بجائے ناراض ہونے کے مسکرائے اور فرمایا: ’’اب آپ پر جرمانہ ہوگا‘‘۔
۲۔ ایک مرتبہ اعتکاف کے دنوں میں حضرت رحمہ اللہ سے ملاقات کے لیے عاجز حضرت رحمہ اللہ کی مسجد میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت بیماری کی حالت میں تھے، مگر اعتکاف کا معمول اسی طرح جاری اور اسی طرح سالکین کی تربیت میں مشغول۔ اس بیماری کی حالت میں بھی حضرت رحمہ اللہ نے شفقت فرمائی اور خوب ٹائم بھی دیا اور دینی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کیا۔ امت کی اصلاح کی فکر کا عجیب شوق و جذبہ تھا کہ ہر دین کا کام کرنے والے سے بے حد محبت فرماتے تھے۔
۳۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں عاجز کو بلوایا اور فرمایا کہ ناشتہ میرے ساتھ کرنا۔ عاجز جب معہد الخلیل حاضر ہوا تو حیران رہ گیا کہ اس بڑھاپے اور بیماری اور اساتذہ کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مدرسے کے امتحان کی نگرانی خود فرما رہے تھے۔ امتحان ہال میں ہی عاجز کے ساتھ ملاقات کی اور بڑے شوق سے پورے مدرسے کا نظام اور اساتذہ کا تعارف کرایا۔ پھر اپنے ساتھ گھر میں لے گئے اور پُر تکلف ناشتہ کی دعوت بھی کی اور پھر شفقت کی انتہا یہ تھی کہ عاجز کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں ناشتہ تناول فرمایا۔ جو بزرگوں کے حالات سنا کرتے تھے حضرت رحمہ اللہ کی زندگی میں آنکھوں سے دیکھ بھی لیے۔
اللہ حضرت رحمہ اللہ پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی نشانیاں جو حضرت مولانا یوسف صاحب مدظلہ، حضرت مولانا الیاس صاحب مدظلہ اور حضرت مفتی محمد مدنی مدظلہ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں، اللہ ان کو اور حضرت کے تمام متعلقین کو حضرت کے اس اصلاحی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
مولانا شیخ ازہر اقبال نقشبندی صاحب
مہتمم مدرسہ معہد الفقیر الاسلامی کراچی