مجالسِ ذکر کا شیدائی
مولانا غلام مصطفی صاحب
مدیر مدرسہ زکریا گڑھی حبیب اللہ تحصیل بالا کوٹ
ہمارے وہ اکابر جن کی تاریخ کا ایک عظیم حصہ ۱۸۵۷ء کی تحریکِ آزادی سے شروع ہوتا ہے اور دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم اور ان کے فیض یافتہ حضرات کے عظیم علمی و جہادی کارناموں تک پہنچتا ہے، انہی اکابر کی نشانیوں میں سے ایک نشانی حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ تھے، جنہوں نے اکابر سے فیض حاصل کرنے کے بعد کراچی میں معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد رکھی اور دن رات کی محنت اور اپنی خصوصی دعاؤں کے ذریعہ اسے ایک عظیم الشان ادارے میں تبدیل کر کے اپنے اکابر کی روحوں کو خوشی بخشی۔
حضرت رحمہ اللہ کا یہ ادارہ زبانِ حال سے پکار رہا ہے کہ میرا بانی کس قدر پیکرِ اخلاص تھا! ایک ایسا شخص جس کی ساری برادری تجارت اور کاروبار میں مشغول تھی، ان کے درمیان رہ کر خاندانوں کے خاندان کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ کر ان کی زندگیوں کے مقاصد تبدیل کر دیے۔ خصوصاً کراچی کی مقامی آبادی کو جو فیض حضرت کے ادارہ سے پہنچا اس کی مثال نہیں ہے۔ پھر حضرت نے تعلیم اور تربیت کے ساتھ سلوک و احسان کو ایسے جوڑ کر چلایا کہ فضلاء پر دونوں رنگ پختہ طریقے پر چڑھ گئے اور اس کا نظارہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حضرت رحمہ اللہ کی خصوصیات میں ایک بڑی خصوصیت اکابر کو اپنے ادارے میں دعوت دینا اور طلباء کو ان سے استفادہ کا موقع فراہم کرنا ہے۔ دوسری بڑی خوبی حضرت کا اکابرینِ دیوبند اور خصوصاً شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کی تصانیف کی اشاعت کرنا اور دینی اداروں میں مفت تقسیم کا انتظام کرنا ہے۔ حضرت رحمہ اللہ پر لکھنے والے لکھتے رہیں گے اور بہت کچھ لکھا بھی جا چکا ہے، اصل کام کرنے کا یہ ہے کہ حضرت کی زندگی سے جو سبق حاصل ہوا ہے اس کے لیے ہم سب کو حضرت کی روحِ مقدس سے وعدہ کرنا چاہیے کہ ہم حضرت رحمہ اللہ کے مشن کو لے کر جہاں تک ہماری استطاعت ہوئی پھیلائیں گے، ان شاء اللہ!
اکابر کی تعلیمات کا جب مطالعہ کیا جائے تو اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اخلاص اور محبت کے ساتھ دینِ حق کی دعوت چلانا، اس کے لیے تکالیف برداشت کرنا اور جس قسم کی قربانی کی ضرورت پڑے اس کے لیے تیار رہنا، غرض ہر حال میں توحید و سنت کے پرچم کو بلند رکھنا ضروری ہے۔
اس زمانے میں دین کے شعبوں میں کمزوریاں نظر آ رہی ہیں ان کی بنیادی وجہ تعلق مع اللہ کی کمی ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اپنے ادارہ اور متعلقین کو بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ جگہ جگہ ذکر کے حلقے اور مجلسیں قائم کریں۔
جون ۲۰۰۵ء میں حضرت رحمہ اللہ اسی جذبے کے ساتھ مدرسہ زکریا گڑھی حبیب اللہ تشریف لائے۔ اس وقت مدرسہ ہٰذا ایک کرائے کی عمارت میں قائم تھا، جبکہ مدرسہ اپنی زمین پر قائم کرنے کے لیے ایک قطعہ پر بنیاد رکھی جا رہی تھی اور حضرت کا اس موقع پر تشریف لانا ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ حضرت نے تعمیر و ترقی کی دعا کے ساتھ حلقۂ ذکر قائم کرنے کا حکم فرمایا۔ اس کے چند ہی ماہ بعد اکتوبر ۲۰۰۵ء کا شدید زلزلہ آ گیا، جس سے ہماری تحصیل بالاکوٹ اور آزاد کشمیر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ کثرتِ اموات کے ساتھ بہت زیادہ مالی نقصان بھی ہوا جس سے ظاہری طور پر بہت سی رکاوٹیں پیدا ہو گئیں۔ لیکن الحمد للہ! اللہ کے فضل و کرم اور حضرت رحمہ اللہ کی دعاؤں کے صدقے مدرسہ ہٰذا کی زیرِ تعمیر عمارت محفوظ رہی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد مدرسہ اپنی ذاتی عمارت میں منتقل ہو گیا اور الحمد للہ حضرت کی خواہش کے مطابق مدرسہ ہٰذا میں تعلیم و تربیت کے ساتھ مجلسِ ذکر کا حلقہ قائم کر کے حضرت کو جب اطلاع دی تو حضرت نے اس پر بے حد خوشی کا اظہار فرمایا اور اپنی قیمتی دعاؤں سے نوازا۔
آخری دنوں میں حضرت پر مجالسِ ذکر کی فکر کا غلبہ اسی طرح نظر آیا جیسا کہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے آخری ایام میں تڑپ لگی ہوئی تھی اور حضرت شیخ اس مسئلے پر بہت ہی بے چین نظر آتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ اس جہانِ فانی سے رحلت تو فرما گئے لیکن الحمدللہ ان کی نسبی اولادِ صالح کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی اولاد اور مکتبۃ الشیخ سے شائع ہونے والی بے شمار کتب ان کے لیے عظیم صدقۂ جاریہ کی مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت رحمہ اللہ کو اپنے جوارِ رحمت میں بلند مرتبہ نصیب فرمائے اور ہمیں اپنے اکابر کے مشن پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔