تذکرہ اِک مشفق دل نواز کا
مولانا غلام رسول نقشبندی صاحب
جان کر منجملہ خاصانِ میخانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
جب یہ شعر میری نظر سے گزرا معلوم یوں ہوتا ہے کہ جتنا یہ شعر ہمارے حضرت استاذ المکرم سیدی و مرشدی حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ پر صادق آتا ہے شاید موجودہ زمانہ میں کسی اور پر صادق آتا ہو۔ جگر مرحوم کی زندگی شاعرانہ حیثیت سے اس شعر کی مصداق تھی لیکن ہمارے حضرت رحمہ اللہ کی زندگی ہر حیثیت سے اس کی مصداق تھی۔
محترم قارئین! حضرت استاذ المکرم شیخ الحدیث صاحبزادہ مولانا محمد یوسف مدنی صاحب مدظلہ کا حکم تھا کہ حضرت کی حیاتِ مبارکہ اور زرین دینی و علمی خدمات کے حوالے سے ماہنامہ سلوک و احسان کا جو نمبر شائع ہو رہا ہے اس میں تم بھی تحریر کا کچھ حصہ شامل کرو، اس لیے قلم اٹھانے کی ہمت کرتا ہوں۔
میں جب بھی اپنے مادرِ علمی معہد الخلیل کی مسجد یا مدرسہ کے دفتر کی طرف آتا ہوں تو دل میں بلا مبالغہ یہ خیال آتا ہے کہ شاید حضرت رحمہ اللہ تشریف فرما ہوں گے اور آ جاؤ، آ جاؤ بیٹا، فرماتے ہوئے سینہ مبارک سے چمٹا لیں گے اور یہ عاجز سینہ مبارکہ سے چمٹتا ہوا دست بوسی کرے گا:
مرگِ مجنون پہ عقل گم ہے میرؔ کیا دیوانے نے موت پائی ہے
لیکن ظاہر ہے کہ میرے ان خیالات سے حقائق تو نہیں بدلیں گے۔ بہرحال بلا مبالغہ ہمارے حضرت کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی پاک زندگی کے کمالات اتنے ہمہ جہت ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ حضرت کے کون کون سے کمال پر گفتگو کی جائے اور ان کی زندگی کی کون کون سی جہت کو نمایاں کیا جائے:
دامانِ نگہ تنگ و گلِ حسنِ تو بسیار گل چیں بہار تو ز داماں گلہ دارد
اللہ رب العزت نے ہمارے حضرت کو جن اوصاف و کمالات سے نوازا تھا اس دورِ پُرفتن میں کسی ایک شخصیت کی زندگی میں ان کا جمع ہونا بہت کمیاب ہے۔
یہ عاجز درسِ نظامی کے چوتھے سال یعنی درجہ رابعہ میں معہد الخلیل میں داخل ہوا۔ وجہ اس کی یہ بنی کہ معہد کی تعلیم و تربیت پورے پاکستان میں مشہور تھی۔ بقول صدر الوفاق حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ: ’’اس ادارے کی نظیر پورے وفاق میں نہیں‘‘۔ الحمد للہ یہ اسم بامسمّٰی ہے۔ شروع سے ہی حضرت اقدس کی شفقتیں اور مہربانیاں شروع ہو گئیں۔ اس زمانہ میں معہد میں داخلہ انتہائی اعزاز کی بات ہوتی تھی۔ رہائش کا سلسلہ نہ ہوتا تھا، حضرت اقدس رحمہ اللہ نے نہایت شفقت کا معاملہ کرتے ہوئے اس عاجز کو رہائش کی سہولت بھی عطا کی۔ حتیٰ کہ اس وقت جب شہری طلبہ دوپہر کے کھانے کے لیے مدرسہ میں پیسے جمع کراتے تھے تو حضرت نے مجھے بلا کر فرمایا کہ ’’بیٹا! آپ پریشان نہ ہونا، آپ میرے بیٹے ہیں، اس لیے آپ کے پیسے میرے ذمہ ہیں اور کسی کو میرا نہ بتانا اور یہ پیسے لو اور متعلقہ ذمہ دار کو اپنی طرف سے دے دو‘‘۔ مقصد یہ تھا کہ کسی کو یہ نہ پتہ چل سکے کہ یہ خود پیسے نہیں دے سکتا تاکہ سبکی نہ ہو۔ ایسے مشفق ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔
میری بیعت بچپن سے سلسلہ نقشبندیہ میں مرشدِ عالم حضرت مولانا غلام حبیب نقشبندی رحمہ اللہ سے تھی۔ چونکہ وہ بچپن کا زمانہ تھا، رسمی بیعت تھی تصوف کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہ رکھتا تھا، اتنا تھا کہ میں نقشبندی سلسلہ میں بیعت ہوں۔ معہد میں آنے پر معلوم ہوا کہ ایک اور سلسلہ بھی ہوتا ہے جسے چشتی سلسلہ کہتے ہیں اور اس میں ذکرِ جہری ہوتا ہے، چنانچہ صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز سے پہلے اجتماعی ذکر ہوتا تھا، تو یہ احمق آگے صف میں بیٹھ کر ذکر قلبی کی شکل بنا کر مراقبہ میں بیٹھ جاتا، جس کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھا (ابھی تک ناواقف ہے)۔ ایک دفعہ حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’بیٹا! یہیں حلقۂ ذکر میں بیٹھ کر آپ ذکر کیا کریں‘‘۔ تو اس نالائق نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ میں نقشبندی ہوں، ہم مراقبہ کرتے ہیں، جہری ذکر نہیں کرتے۔ حضرت رحمہ اللہ مسکرائے اور فرمایا: ’’ہاں بیٹا! آپ بیشک ذکرِ خفی کریں لیکن ساتھ اکٹھے بیٹھنے سے فائدہ ہوگا‘‘۔ عاجز ساتھ بیٹھ جاتا لیکن جیسا کہ اوپر بتایا، ابھی تک جعلی صوفی تھا صرف نام کا، اس لیے جب اکٹھے بیٹھنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ کچھ دنوں بعد فقیر نے ذکرِ جہری کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا: ’’بیٹا! آپ تو کہہ رہے تھے کہ میں نقشبندی ہوں تو ذکر جہری کیوں کرتے ہو؟‘‘ فقیر نے عرض کی کہ حضرت مزہ آتا ہے۔ فرمایا: ’’نہیں! اپنے شیخ کے بتائے ہوئے طریقہ کو اختیار کرنے میں ہی بہتری ہے‘‘۔
ایک دن خواب میں میں نے مرشدِ عالم رحمہ اللہ کو دیکھا کہ بہادر آباد کراچی ڈاکخانہ کے سامنے خانقاہ میں بیان فرما رہے ہیں۔ میں گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اپنی جگہ سے بیٹھے بیٹھے فرمایا: ’’تم کہاں ہو؟ تم ادھر آؤ‘‘۔ عاجز بھاگ کر اندر پہنچا اور اتنے میں جاگ گیا۔ یہ خواب حضرت رحمہ اللہ کو بتایا تو حضرت نے فرمایا کہ ’’فرماتے ہیں کہ تم میرے کسی خلیفہ سے تعلق جوڑو‘‘۔ چنانچہ حضرت رحمہ اللہ کے حکم کے مطابق یہ عاجز مرشدِ عالم رحمہ اللہ کے خلیفۂ اجل محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب سے بیعت ہو گیا، لیکن میری ساری روحانی تربیت حضرت والا ہی نے فرمائی، ہر بات بہت پیار سے سمجھاتے۔
ایک دن یہ عاجز بخار میں مبتلا تھا اور ہفتہ کے دن امتحان تھا۔ ساتھی تکرار کے لیے جمعہ کو مدرسہ میں جمع تھے، یہ عاجز بھی تکرار میں شامل ہو گیا، اتنے میں حضرت والا تشریف لائے، مجھے دیکھ کر فرمایا: ’’ارے بیٹا! تم کیوں بیٹھے ہو؟‘‘ عاجز نے عرض کیا: امتحان کی تیاری کر رہا ہوں۔ فرمایا: ’’اٹھو! بخار کتنا ہو رہا ہے اور امتحان کی تیاری کر رہے ہو، تمہارا امتحان بالکل نہیں لینا‘‘۔ چنانچہ عاجز کو اٹھا کر کمرے میں سلا دیا۔ اللہ اکبر! اب بتائیے ایسی مشفق ہستی کو اب آسمان و زمین کہاں ڈھونڈیں گے؟
جمعہ کے دن یہ عاجز باوجودیکہ معہد الخلیل میں جمعہ ہوتا تھا، معہد سے نہا دھو کر عثمانیہ مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھتا تھا۔ حضرت نے کبھی نہیں فرمایا یہاں جمعہ ہوتا ہے، یہاں چھوڑ کر دور کیوں جاتے ہو؟ بلکہ الٹا جمعہ کے دن جب حضرت کا کھانا گھر سے آتا اس نالائق کا انتظار فرماتے کہ اس نالائق کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاؤں اور پھر کھلاتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ یہ حقیر لاابالی پن کی وجہ سے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں دیر کر دیتا، حضرت اس وقت تک کھانا نہیں کھلاتے تھے جب تک میں نہ آ جاتا۔ ایک دفعہ بہت دیر سے آیا، حضرت نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ اتنا فرمایا: ’’بیٹا! میں نے ابھی تک آپ کے انتظار میں کھانا نہیں کھایا‘‘۔ اللہ اکبر! کیا ہی کریمانہ اخلاق تھے۔ کھانا کھاتے ہوئے بسا اوقات کمالِ شفقت سے لقمہ بنا کر میرے منہ میں ڈال دیتے، الحمد للہ فراغت تک سارے معاملات حضرت والا سے مشاورت سے ہی ہوتے تھے۔
جب کشمیر میں مدرسہ کا آغاز کیا تو حضرت والا نے فرمایا: ’’ہمارا معہد الخلیل کشمیر میں بھی بن گیا‘‘ اور اکثر اوقات لوگوں سے فرماتے: ’’میرا یہ بیٹا کشمیر میں معہد الخلیل چلاتا ہے‘‘۔ الحمدللہ آخری وقت تک جانی، مالی، اخلاصی بھرپور سرپرستی فرماتے رہے، اپنے صاحبزادگان اور متعلقین کو بھی متوجہ فرماتے رہے۔ ۲۰۰۵ء میں جب کشمیر میں زلزلہ آیا تو حضرت نے بھرپور تعاون فرمایا، اپنے صاحبزادگان و اقرباء و متعلقین کو وہاں بھیج کر لوگوں کی ہر طرح سے جانی و مالی مدد فرمائی۔
میں جب بھی معہد الخلیل آتا حضرت انتہائی شفقت فرماتے اور فرماتے: ’’بیٹا! آپ معہد کے مستقل ممبر ہو اور جب بھی آؤ معہد میں رہا کرو‘‘۔ جب کراچی آتا تو حضرت خود گھر میں اس حقیر کو بلا کر کھانا کھلاتے۔ بار بار اس گنہگار کو فرماتے: ’’حضرت یہ کھائیے، یہ کھائیے‘‘۔
وصال سے تین سال قبل ۲۰۱۰ء میں دفتر میں بلا کر سلسلہ عالیہ چشتیہ کی نسبت عطا کی۔ فرمایا: ’’اگر آپ سے کوئی ذکر جہری سیکھنا چاہے تو اس کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے سلسلے کے طریق پر ذکر سکھا دینا، میری طرف سے آپ کو اجازت ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی قبرِ مبارک پر بیشمار رحمتیں نازل فرمائے۔