آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
حضرت مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب
ہمارے حضرت رحمہ اللہ کی زندگی کا ہر گوشہ اپنے اندر بہت کچھ نصیحت و ہدایت کا سامان لیے ہوئے ہے۔ جس بھی پہلو کو دیکھئے، ان کی زندگی قابلِ رشک دکھائی دیتی ہے۔ فی الحال میں ان کی محبت و شفقت، خوش مزاجی، وسعتِ قلبی اور اندازِ تربیت سے متعلق کچھ منتشر یادیں دہرارہا ہوں۔
محبت و شفقت:
ہمارے حضرت رحمہ اللہ کے چہرے پر ہمیشہ ایک تازگی اور بشاشت دکھائی دیتی تھی۔ جب کوئی آتا تو مسکرا کر ملتے۔ پیار سے پوچھتے کہ کیا مسئلہ ہے۔ طلبہ، اساتذہ، شاگردوں اور مریدوں کی ہر پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے۔ حضرت کو کبھی یہ گوارا نہیں ہوتا تھا کہ مدرسے سے متعلق کوئی بھی فرد کسی مشکل کا شکار ہو۔ جو ساتھی مدرسے میں محنت اور مجاہدے کے ساتھ وقت گزارتے، حضرت کی محبت اور شفقت ان پر بیش از بیش ہوتی۔ ان کے گھر میں کوئی مسئلہ ہوتا، بیماری یا فوتگی ہوتی تو حضرت اسی طرح معاملہ فرماتے جیسے اپنے گھر اور خاندان کا مسئلہ ہو۔
اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اپنی جیب سے انعامات دیتے۔ اسی طرح مالی لحاظ سے کمزور طلبہ سے تعاون کرتے۔ اساتذہ کرام کو تنخواہوں کے علاوہ بھی ضروریات کے لیے موقع بموقع کچھ نہ کچھ دیتے رہتے۔ پھل، لباس اور دیگر تحائف سے نوازتے رہتے۔ گھر کی، گھر والوں کی، والدین کی سب کی صحت اور خیریت پوچھا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ معہد الخلیل الاسلامی میں حضرت کے زیرِ سایہ سب ایک خاندان کی طرح دینِ مبین کی خدمت میں مشغول نظر آتے تھے اور الحمد للہ اب بھی یہ ماحول اسی طرح برقرار ہے۔ اللہ اسے تاقیامت قائم و دائم رکھے۔
طلبہ پر حضرت کی شفقت ایسی تھی جیسے باپ کی بیٹوں پر۔ کوئی بات سمجھانا ہوتی تو ’’بیٹے‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ ان کے لیے جس سوز اور تڑپ کے ساتھ دعائیں کیا کرتے تھے، اب اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ عام طور پر مہتمم حضرات کو طلبہ کے نام تک معلوم نہیں ہوتے، ان کا تعلق صرف انتظامی امور سے ہوتا ہے اور مدرسے کے تنخواہ دار عملے ہی سے ان کا واسطہ ہوتا ہے، مگر حضرت کی کوشش یہ ہوتی کہ ہر ہر طالب علم کو انفرادی طور پر جانیں۔ خاص کر جو طلبہ محنتی اور وقت کے پابند ہوتے اور ان میں کچھ بننے کا جذبہ ہوتا حضرت انہیں اپنی اولاد کی طرح قریب رکھتے۔
حضرت طلبہ اور مریدین کی بشاشت کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ کسی کو خوش دیکھتے تو خوش ہوتے، پریشان دیکھتے تو پریشان ہو جاتے۔ فرماتے تھے: ’’ہنستا کھیلتا بندہ اچھا، جو چپ چاپ ہے نہ معلوم کس فکر میں ہے‘‘۔ ایک طالب علم خاموش رہتا تھا۔ حضرت اس کے لیے پریشان دکھائی دیے کہ معلوم نہیں کیا بات ہے، بولتا کیوں نہیں؟ اساتذہ سے پوچھ رہے کہ اسے کیا ہو؟ حالانکہ اس کی عادت ہی ایسی تھی۔
ایک بار درجہ حفظ کے قاری صاحب چھٹی پر تھے۔ حضرت نے میری ذمہ داری لگا دی۔ یہ کام میرے لحاظ سے بڑا سخت تھا۔ خیر ذمہ داری انجام دیتا رہا، مگر دل اس کام میں لگتا نہ تھا، ایک ساتھ اتنے بچوں سے پالاپڑ گیا تھا۔ حضرت سے کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی۔ حضرت خود ہی دیکھتے رہے، میرے چہرے سے محسوس کر لیا کہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، وہ ذمہ داری موقوف کر دی۔
اندازِ تربیت:
سبق پڑھاتے ہوئے حضرت یہ چاہتے تھے کہ طلبہ پوری طرح متوجہ رہیں اور ادب سے بیٹھیں، بے توجہی پر حضرت کی طرف سے ڈانٹ پڑتی تھی، اور اگر کوئی بے ادبی کی حرکت کرتا تو پھر حضرت اپنے فاروقی مزاج کے مطابق جھاڑ پلاتے، اکثر کو ایک ہی خوراک عمر بھر کے لیے کافی ہوتی، مگر حضرت یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ طلبہ منہ بسور کر بیٹھیں، حضرت تو خود اس لطف اور مزے سے عبارت پڑھتے اور تشریح کرتے کہ سن کر ہی تراوٹ آ جاتی تھی۔ اس دوران طلبہ کو ذہنی خشکی سے بچانے اور ساتھ ہی تربیت کرنے کے لیے نصیحت آموز واقعات، لطائف اور کبھی کبھی اشعار بھی سنایا کرتے تھے، ہر ہر جملے پر طلبہ مسکرا دیتے اور حضرت کا پرنور تبسم بھی نگاہوں کو خیرہ کیے دیتا۔ کبھی کبھی کسی طالب علم کی ہنسی بھی چھوٹ جاتی، حضرت اس پر بھی برا نہ مناتے، بلکہ نظر انداز کر دیتے تھے۔
اصل میں حضرت کی نگاہ میں سب سے بڑی اخلاقی برائی تکبر اور بڑائی تھی۔ حضرت اسی کو تمام شیطانی برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے۔ طلبہ اور مریدین کے افعال، تاثرات اور بات چیت کے انداز پر حضرت کی نگاہ رہتی تھی کہ کسی میں ام الامراض پیدا نہ ہو، ایسے شیطانی اور متکبرانہ اثرات سے سرزد ہونے والی چیز چاہے ہنسی ہو یا مسکراہٹ یا کوئی جملہ… وہ حضرت کے لیے قابلِ برداشت نہ ہوتا۔ اس کے سوا طلبہ اور اساتذہ کے ہنسی مذاق، بات چیت اور ہنسنے مسکرانے سے حضرت کو خوشی ہوتی تھی۔
ایک مدت تک راقم پر خشوع و خضوع کا بھوت زیادہ سوار رہا تھا، پھر نوبت بایں جا رسیدہ کہ طلبہ کا ہنسنا بولنا بھی کھُلنے لگا۔ ایک دن حضرت کے پاس دفتر میں حاضر ہوا۔ حضرت نے پوچھا: ’’طلبہ پڑھ رہے ہیں یا نہیں؟‘‘ عرض کیا: ’’جی پڑھ رہے ہیں‘‘۔ پھر ذرا رک کر کہا: ’’وہ عبداللہ… وہ بہت ہنستا رہتا ہے‘‘۔ خیالِ خام تھا کہ حضرت کو سن کر غصہ آ جائے گا اور عبداللہ کو پیش کرنے کا حکم ہوگا، مگر حضرت خود ہنس دیے اور فرمایا: ’’ہنسے نہیں تو کیا روئے! سب لوگ آپ کی طرح ’’حضرت‘‘ تھوڑی ہی ہو سکتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر خود پر اتنی شرمندگی ہوئی کہ حد نہیں۔ ایک لمحے میں مرض کا علاج ہو گیا!
وسعتِ قلبی:
راقم ۱۴۰۸ھ (۱۹۸۹ء) میں معہد الخلیل الاسلامی درجہ اولیٰ میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت معہد میں درجہ خامسہ تک تعلیم تھی۔ تین چار ماہ گزرے تھے کہ میں سخت بیمار ہو گیا، علاج معالجے سے کوئی فرق نہ پڑا، تعلیم کا سلسلہ رک گیا یہاں تک کہ کراچی چھوڑ کر آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے پنجاب جانا پڑا۔ حضرت نے جانے کی اجازت دے دی۔ روانگی سے پہلے میں حضرت سے ملنے آیا، حضرت اپنے پرانے دفتر میں لوہے کے جنگلے کے پیچھے حسبِ معمول فرشی نشست پر تشریف فرما تھے۔ مجھے رخصت کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور گلے سے لگا لیا۔ اس وقت حضرت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسی عالم میں حضرت نے فرمایا: ’’بیٹا، تجھ سے بہت دل لگ گیا تھا، دیکھنا مجھ سے کوئی سختی ہو گئی ہو تو معاف کر دینا‘‘۔
اللہ اکبر! حضرت جیسی عظیم شخصیت اور مجھ جیسا ادنیٰ طالب علم، جسے ابھی داخل ہوئے چار ماہ ہوئے تھے، ایسا مشفقانہ برتاؤ! ایسی تواضع، ایسی انکساری! مجھے بھی رونا آ گیا۔ ایسی ہستیاں اب کہاں!
مخلصانہ تنقید یا اعتراض پر بھی حضرت کو ذرا تکدر نہ ہوتا۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ حضرت کی مرضی اور طبیعت کے خلاف کوئی مشورہ دیا گیا، حضرت نے ذرا بھی برا نہ منایا۔ مشورہ عقلی لحاظ سے درست لگا تو مان لیا ورنہ مسترد کر دیا، مگر اس اعتراض کرنے والے کی غیر موجودگی میں اس کی تعریف کی۔ ایک بار کسی خاص مسئلے پر دو تین اساتذہ کو بلایا اور ساری بات سامنے رکھ کر پوچھا: ’’آپ حضرات کی کیا رائے ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’جیسے آپ کو بہتر لگے‘‘۔ حضرت نے اس جواب کو پسند نہ کیا اور فرمایا: ’’دیکھو! مولانا… سے میں جب مشورہ کرتا ہوں وہ اپنی رائے ضرور دیتے ہیں، میری رائے کی تغلیط بھی کیا کرتے ہیں، اگرچہ میں ان کی رائے کو مسترد بھی کر دیتا ہوں، مگر پھر بھی جب ان سے مشورہ مانگتا ہوں تو وہ اپنی رائے ضرور بتاتے ہیں‘‘۔ یہ جملے حضرت نے ان استاذِ محترم کی تعریف میں کہے (جو راقم کے بھی استاذ اور معہد کے شروع کے اساتذہ میں سے ہیں)۔ غرض حضرت اختلافِ رائے اور تنقید و اعتراض کو جو مخلصانہ ہو، نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
حضرت رحمہ اللہ بذاتِ خود بہت ہی ذہین اور عقلمند انسان تھے۔ عقل و دانش اور ذہانت کا یہ عالم تھا کہ اچھے اچھے سمجھ دار لوگ حضرت سے معاملہ کرتے تو خود کو طفلِ مکتب اور کم عقل و کند ذہن محسوس کرتے۔ حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ اکثر ہم حیران رہ جاتے۔ حساب کتاب میں حضرت کا ذہن کمپیوٹر کی طرح کام کرتا تھا۔ نمونے کے طور پر خود پر بیتا صرف ایک دلچسپ واقعہ نقل کرتا ہوں:
درجہ ثالثہ کے بعد راقم نے درجہ رابعہ کی کتب خرید لیں۔ بعد میں تعلیمی سال شروع ہوا تو حضرت نے ہمارے درجے کے تمام طلبہ کو رابعہ کا مکمل نصاب مفت ہدیہ کیا۔ راقم یہ ہدیہ لے کر سوچنے لگا کہ گھر میں موجود نصاب کا کیا کیا جائے، یہ کتب کسی اور مکتبے کی تھیں اور ان کی طباعت و جلد بندی اچھی تھی نہ حاشیہ۔ حضرت کے پاس جا کر عرض کیا: ’’حضرت میں تو پہلے ہی کتب خرید چکا تھا‘‘۔ حضرت نے فرمایا: ’’جہاں سے کتب لی تھیں، ان کی رسید ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’جی ہاں‘‘ اور رسید لا کر دکھا دی۔ حضرت نے ایک نظر ڈالی اور رسید واپس کر کے فرمایا: ’’کتابیں لا دینا، ان کے پیسے لے لینا‘‘۔
راقم پورے ہفتے معہد میں قیام کرتا تھا، جمعرات کو گھر جاتا تھا، جمعرات کو گھر جا کر ہفتے کو ان کتابوں سمیت حاضر ہوا۔ حضرت نے کہا: ’’ہاں مولوی اسماعیل؟ کتنے پیسے ہوئے تھے؟‘‘ بندے نے جیب ٹٹولی تو رسید غائب تھی۔ حافظے سے کام لے کر احتیاط کے ساتھ ایک کاغذ پر فہرست بنائی کہ فلاں کتاب اتنے کی، فلاں اتنے کی۔ حضرت نے کہا: ’’جمع کرو‘‘۔ راقم نے جمع کر کے کاغذ حضرت کو دے دیا۔ حضرت نے نگاہ ڈالتے ہی فوراً کہا: ’’غلط جمع کیا ہے، کل رقم اتنی ہو گی‘‘۔ پھر دوسری نگاہ ڈال کر کہا: ’’مولوی صاحب! شرح جامی تم نے اتنے کی لکھی ہے، اُس رسید پر تو اتنے کی تھی، نور الانوار اتنے کی لکھی ہے، رسید پر تو اتنی کی تھی، اور بھئی مجھے تو یاد ہے اُس رسید پر کل رقم یہ لکھی تھی‘‘۔ یہ کہہ کر حضرت نے کاغذ پر اپنے حافظے سے کل رقم لکھ دی۔ اس دوران اچانک مجھے دوسری جیب میں رسید مل گئی، دیکھا تو کتابوں کی الگ الگ قیمت بھی من و عن وہی تھی جو حضرت نے بتائی اور کل قیمت بھی۔ حضرت کو رسید دکھائی تو مسکرا کر فرمایا: ’’واہ مولوی صاحب! بوڑھے کا حافظہ جوان ہے اور جوان کا بوڑھا‘‘۔ حضرت کی ذہانت، حافظے، باریک بینی، لطافتِ طبع اور خوش مزاجی کے ایسے واقعات اتنے ہیں کہ انہیں جمع کیا جائے تو ایک الگ کتاب بن جائے۔
حضرت کو یہ دھن تھی کہ کس طرح بندوں کا رشتہ اللہ سے جڑ جائے۔ اس کے لیے حضرت کے نزدیک سب سے پہلے علمائے امت کی اصلاح ضروری تھی۔ حضرت کی زندگی کے آخری تقریباً تیس سال مسلسل اسی محنت اور کوشش میں گزرے کہ کس طرح اللہ والے علماء پیدا ہوں۔ معہد الخلیل الاسلامی کے قیام کے پیچھے اصل جذبہ یہی کارفرما تھا، اس لیے جب مدرسے کے طلبہ و اساتذہ میں سے کسی کو ذکر و عبادت کی طرف متوجہ دیکھتے تو بہت خوش ہوتے، ان کے لیے خصوصی دعائیں کرتے تھے۔ مدرسے میں پیر کی مجلسِ ذکر اور ہر اسلامی مہینے کے اعتبار سے آخری جمعرات کی مجلسِ درود شریف میں ایک عجیب ہی سماں ہوا کرتا تھا، ایسی روحانیت کی بہار اترتی تھی جیسے جنت کی ہوا آ رہی ہو۔ حضرت ان طلبہ سے بہت خوش ہوتے تھے جو ان مجالس میں پابندی سے شریک ہوتے تھے، خاص کر جو آخری جمعرات کو رات کو بھی رکتے تھے اور آخر شب کے معمولات میں شامل رہتے تھے۔
شوقِ عبادت:
حضرت کی زندگی میں ہمت اور مجاہدہ ہر ہر قدم پر دکھائی دیتا ہے، بلکہ جوں جوں حضرت کے بڑھاپے اور نقاہت میں اضافہ ہوا، ویسے ویسے مجاہدہ بھی بڑھتا چلا گیا۔ آخر تک نماز باجماعت کا اہتمام فرماتے رہے، ذکر و تلاوت اور تمام معمولات اسی طرح پورے کرتے رہے جیسے پہلے کیا کرتے تھے۔ بیماری سے بے حال ہوتے مگر چین مدرسے ہی میں جا کر ملتا تھا۔
حضرت کی وفات کے بعد راقم حسن ابدال سے کراچی آیا، صاحبزادہ مولانا محمد اسماعیل مدنی صاحب کے ہمراہ مرقد پر حاضر ہوا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس خاک کے ڈھیر تلے وہ ہستی سورہی ہے جس کے چہرے کے انوارات دل کی اندھیر نگری میں اجالا کر دیتے تھے! آہ! وہ چہرہ ہمیشہ کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو گیا! راقم کہے بغیر نہ رہ سکا:
ملیں گے رہبر کئی مگر، نہ ملے گا ویسا، چلے گئے وہ
ہیں آدمی تو بہت جہاں میں، مگر وہ انساں؟ چلے گئے وہ
کمی نہیں ہے کسی بھی شے کی مگر یہ دنیا بدل چکی ہے
کہ اب نہیں وہ سروں پہ سایا، ہے جگ پرایا، چلے گئے وہ
وہ دردِ دل کی متاع دے کر، وہاں گئے ہیں جہاں سے کوئی
کبھی نہ لوٹا، کبھی نہ پلٹا، کبھی نہ آیا، چلے گئے وہ
وہ دستِ شفقت تھا جب مرے سر، میں سمجھا شاید سدا رہے گا
نہ قدر ان کی میں کرسکا تب، جو ہوش آیا، چلے گئے وہ
ہاں واقعی! حضرت چلے گئے مگر ایک روشن زندگی کا نمونہ ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ اللہ ہمیں اس سے سبق لینے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ اپنے شایانِ شان رحمت اور کرم کا معاملہ فرمائے، آمین ثم آمین۔