مضامین

ایک مینارۂ نور شخصیت

محترم الحاج جناب سید محمد عرفان صاحب

سنے ہائے کون صدائے دل      ملے آہ! کس سے شفائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل      وہ دکان اپنی بڑھا گئے

حضرت مرشدی سے اس نابکار کا تعلق تقریباً ۴۱ سال پرانا ہے۔ جب یہ نالائق کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور حضرت والا بنوری ٹاؤن کراچی میں علم کی روشن شعائیں سمیٹ رہے تھے، اس وقت میرے ایک کالج کے دوست شمس العارفین صاحب (جو ماشاء اللہ اب دینی زیور سے آراستہ بھی ہیں) نے حضرتِ والا سے تعارف کرایا۔ میں اس وقت حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے بیعت تھا لیکن شمس العارفین صاحب نے کہا کہ شیخ کے خلیفہ سے بھی تعلق ہونا چاہیے۔ بہرحال حضرت سے تعارف ہوا اور حضرت والا نے ہفتے میں ایک دن ملاقات کا دے دیا۔ اکثر جمعہ کو بعد نمازِ عصر حضرت سے ملنے نیو ٹاؤن جاتا رہا۔

وہ مجلس بھی بہت پُراستعارہ اور پُرنور ہوا کرتی تھی۔ اکثر حضرت دار الحدیث کے برابر جو باغیچہ ہے اس میں مدرسہ کے مہتمم حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ، ان کے والد گرامی اور بہت سے مدرسے کے اساتذہ تشریف رکھتے تھے۔ میں بھی حضرت کے ساتھ اس مجلس میں بیٹھ جاتا۔ اس مجلس کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ درسِ حدیث کے لیے جب مولانا بنوری تشریف لاتے تو اکثر حضرت والا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آتے۔ اس زمانے میں بھی یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ حضرت استاذ ہیں یا طالب علم۔ اکثر اساتذہ بھی حضرت کے ساتھ طالبعمانہ کی بجائے ہم عصر یا دوست کا برتاؤ کرتے۔

اسی زمانہ میں حضرت والا نے ایک مرتبہ ’’تقریرِ بخاری شریف‘‘ دی کہ اس کی نقل کر کے لاؤ۔ اس ناکارہ نے کتاب کی جلد نکال کر مختلف حصّے کیے، مختلف دوستوں کو دے کر چند دنوں میں نقل کر کے دے دی۔ حضرت نے ملاحظہ فرما کر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔ مجھے جب بھی کسی بات میں مشورہ کرنا ہوتا یا کسی کام میں مشکل ہوتی یا کوئی پریشانی ہوتی صرف حضرت سے عرض کرنے کی دیر ہوتی، وہ تمام کام منٹوں میں ہو جاتے!

ایک مرتبہ مدینہ پاک میں حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت ناساز تھی اس نابکار سے فرمایا: ’’بھائی عرفان! میرا انتقال ہو جائے تو پریشان نہ ہونا، میری ڈائری میں سب عزیز و اقارب کے نمبر لکھے ہیں، ان کو فون کر دینا یا خرم سے کہہ دینا۔ میری بیلٹ میں رقم ہے وہ سب سیلاب زدگان کے لیے ہے (اس زمانے میں پاکستان میں سیلاب سے تباہی بہت ہوئی تھی) باقی میں وصیت لکھ کر آیا ہوں‘‘۔ غرض اس طرح کی باتیں کیں تو میں نے عرض کیا: حضرت میں تو چاہتا ہوں آپ کا سایہ دیر تک سلامت رہے۔ فوراً کہا: ’’بھائی عرفان! یہ آپ نے کیا بات کہہ دی، آپ بھی دنیا داروں کی سی بات کرتے ہیں، اس دنیا میں کیا رکھا ہے؟ یہاں پاخانہ، وہاں پاخانہ، اصل چیز آخرت ہے آخرت، دنیا میں کچھ نہیں‘‘۔

حضرت والا کو امت کی بہت فکر تھی۔ جہاں مسلمانوں پر کوئی تکلیف آتی حضرت والا بے چین ہو جاتے۔ حضرت والا کو جب یہاں کے سیلاب کی خبر ہوئی فوراً متفکر ہوئے، بھائی شاہد، مفتی سلمان صاحب اور دوسرے حضرات کو فون کیے کہ جو لوگ یہاں عمرہ پر آنے کا ارادہ کر رہے ہیں وہ نظرِ ثانی کریں کہ جتنا پیسہ مال لگائیں گے اتنا پیسہ وہ سیلاب زدگان کی امداد میں خرچ کریں۔ اس زمانے میں صدرِ دار العلوم کراچی حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملاقات ہوئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے بھی تصویب فرمائی اور عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا کہ کس طرح انہوں نے اپنے حج کے پیسے اس عورت کو دیے جس پر کئی دن کا فاقہ تھا اور مری ہوئی مرغی اٹھا رہی تھی۔

حضرت والا کی ذات ایک مینارۂ نور تھی جس سے ہر شخص فیض حاصل کر سکتا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ میں سنتوں کا اس قدر اہتمام تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ ہر ہر موقع کی دعائیں پڑھنا آپ کا معمول تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اللہ اکبر، اترتے ہوئے سبحان اللہ کا اہتمام، جوتے پہنتے وقت، اتارتے وقت سنت کا اہتمام، کپڑے بدلتے وقت اہتمام، غرض ہر کام سنت کے موافق کرنے کا بہت زیادہ اہتمام تھا۔ جماعت کی نمازوں میں اول صف کا اور تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام تو آخر وقت تک رہا۔ حرمین شریفین کے سفر میں بھی جہاں بڑے بڑے نوجوانوں کی ہمت ٹوٹ جاتی حضرت والا بہت جوان رہتے۔ بیمار بھی ہیں، چلنے پھرنے سے معذور بھی ہیں لیکن تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام اسی شدت سے ہوتا تھا۔ حضرت پر مدینہ منورہ کی حاضری کا بہت اشتیاق رہتا اور خاص کر وہاں کی موت کا۔ اکثر دوستوں سے، ملنے والوں سے، مشائخ سے فرماتے، دعا کریں مدینے کی موت نصیب ہو۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حضرت کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت رحمہ اللہ کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔ آمین۔

عشقِ حقیقی کر عطا، اے مالک و مولیٰ مجھے      بہرِ مولانا یحییٰ عاشق اسوۂ نبی