مضامین

للٰہیت کے پیکر

للٰہیت کے پیکر

مخدوم و مکرم حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ نے ابتداء میں دنیاوی تعلیم حاصل کی، پھر وہ دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ ایک عرصہ تک حضرت مولانا رائے ونڈ میں مقیم بھی رہے۔ باطنی اصلاح کے لیے پہلے انہوں نے حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ سے تعلق قائم کیا۔ ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد وہ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے خلافت سے بھی سرفراز فرمائے گئے۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی چلتی پھرتی یادگار تھے۔

جامعہ بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا رحمہ اللہ جب اونچے درجات میں زیرِ تعلیم تھے تب میں بھی جامعہ میں نچلے درجات کا طالب علم تھا۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی طرف سے اجازتِ بیعت اور اپنی للٰہیت، عبادت اور انابت و تواضع کی وجہ سے حضرت مولانا رحمہ اللہ کی طلبہ تو طلبہ، اساتذہ بھی عزت کرتے تھے۔ اساتذہ ان سے بہت خوش تھے۔ ہم تو مولانا کو طالب علم کے بجائے ایک استاذ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ طلبہ میں ان کی شخصیت ہی ایسی نظر آتی تھی کہ کوئی نووارد انہیں استاد ہی خیال کرتا تھا۔ زمانہ طالبعلمی کے دوران میں نے حضرت مولانا رحمہ اللہ میں تواضع، عبادت، انابت اور غریب طلبہ کی خفیہ مالی اعانت کا بارہا مشاہدہ کیا ہے۔ لائق و فائق اور نادار طلبہ مولانا رحمہ اللہ کی سخاوت کا خاص مصرف ہوا کرتے تھے۔

امتحانات میں پوزیشنیں حاصل کرنے کی وجہ سے احقر پر بھی حضرت مولانا رحمہ اللہ کی نظرِ سخاوت پڑ گئی۔ اس دور میں مالی اعتبار سے میں بھی کمزور تھا، چنانچہ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے بارہا رازدارانہ انداز سے میری بھرپور مالی معاونت کی۔ وقتاً فوقتاً شفیق باپ کی طرح پوچھتے رہے: ’’کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟ کوئی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بتانا‘‘۔ والد ماجد حضرت قاری عبد الحلیم رحمہ اللہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی بڑی عزت کرتے تھے۔ میرے نانا حضرت خدا بخش صاحب رحمہ اللہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے: ’’یہ (حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمہ اللہ) بڑی قربانی سے دینی تعلیم کی طرف آئے ہیں۔ اس دور میں تاجروں کی اولاد شاذ و نادر ہی دینی اداروں کا رُخ کرتی ہے۔ تجارت پیشہ خاندان سے وابستگی کے باوجود مولانا کا دینی تعلیم کی طرف آنا لائقِ تحسین ہے‘‘۔

دینی تنظیموں اور دینی اداروں کے لیے حضرت مولانا رحمہ اللہ کی شخصیت ایک شجرِ سایہ دار تھی۔ تمام دینی تنظیموں کے ساتھ حضرت مولانا رحمہ اللہ کا بھرپور مادی و روحانی تعاون شاملِ حال رہا۔ دین کی کسی بھی نوعیت کی جدوجہد سے وابستہ کسی بھی کارکن کی حضرت مولانا رحمہ اللہ بھرپور حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔

پرانی بات ہے، حضرت مولانا رحمہ اللہ کے مدرسہ معہد الخلیل الاسلامی کے سامنے ایک شخص رہتا تھا۔ اس نے معہد کے طلبہ اور اساتذہ کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ مختلف حیلوں بہانوں سے وہ شخص مدرسہ کے متعلقین کو تنگ کرتا تھا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا تو میں نے کہا: ’’حضرت! اس طرح کے بددماغوں کا دماغ درست کرنا مجھے خوب آتا ہے، اجازت ہو تو اسے ایک اصلاحی سبق پڑھا دوں؟‘‘ اس پر حضرت مولانا نے بڑے متواضع اور اپنائیت بھرے لہجے میں کہا: ’’نہیں بھئی! جھگڑے اور ہاتھ کے استعمال کے بجائے پیار و محبت اور زبان سے ہی یہ مسئلہ حل ہو جائے تو بہتر ہے۔ میں بھی دعا کرتا ہوں، آپ سے بھی دعا کی درخواست ہے‘‘۔ یہ مولانا کی نیکی، حسنِ اخلاق اور دعاؤں کی برکت ہی تھی کہ اگلے چند دنوں میں وہ بددماغ سخت مخالف حضرت مولانا کی مخالفت ترک کر بیٹھا۔

اپنے دیرینہ نیازمندانہ تعلق کی بنیاد پر ایک بار میں نے بے تکلفی سے اپنے مدرسہ جامعہ بنوریہ کے لیے اشیاء خورد و نوش کی کسی بھی جنس میں تعاون کی درخواست کی تو ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ کر حضرت مولانا رحمہ اللہ نے بات ختم کر دی تھی۔ اگلے دن حضرت مولانا رحمہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا آٹے کا بھرا ٹرک جامعہ میں کھڑا دیکھ کر حیرت و استعجاب کی انتہا نہ رہی۔ آٹے سے بھرے ٹرک کے ساتھ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی درخواست بھی موصول ہوئی کہ ’’کسی کے سامنے اس کا اظہار نہ کیا جائے‘‘۔

حضرت کے قائم کردہ مکتبہ ’’مکتبۃ الشيخ‘‘ کی مطبوعات سے جامعہ کے طلبہ تقریباً ہر سال ہی بلا قیمت استفادہ کرتے ہیں۔ بلا تکلف اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے کچھ ساتھیوں نے حضرت مولانا رحمہ اللہ کی سخاوت کی وجہ سے انہیں خوب لوٹا۔ مجھے حضرت مولانا رحمہ اللہ کی جس صفت نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کے کردار و گفتار میں رچی بسی ہمہ وقت کی للٰہیت تھی۔ وہ چلتے پھرتے للٰہیت کے پیکر تھے۔ ان کی ایک ایک ادا سے مہکتی للٰہیت اور عبدیت و انابت کی خوشبو کو نابکار سے نابکار شخص بھی محسوس کر سکتا تھا۔

اللہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کو غریقِ رحمت کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔