مضامین

نقوشِ رفتہ

جناب حافظ محمد سلمان
دامادِ حضرت والا

چمن کے تخت پر جس دم شہ گل کا تجمل تھا      ہزاروں بلبلیں تھیں اِک شور تھا غل تھا
جب آئے دن خزاں کے، نہ تھا بجز خار کے گلشن میں      بتاتا باغباں رو رو کے، یہاں غنچہ یہاں گل تھا

حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب میرٹھی نے جب قطب الارشاد حضرت اقدس گنگوہی رحمہ اللہ کی سوانح لکھنے کا ارادہ فرمایا اور اس سلسلہ میں حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ سے معاونت کی درخواست کی تو حضرت کا جواب تھا: ’’اس مہتم بالشان کام کی سرانجامی زیادہ تو اس وجہ سے مشکل ہے کہ حضرت قدس سرہ السامی کی حیات میں کبھی خیال بھی نہ گزرا تھا کہ خدام کو یہ وقت دیکھنا نصیب ہوگا، جس میں حضرت مخدوم العالم دارالنعیم کو مسکن بنائیں گے اور خدام کو سوانح لکھنی پڑے گی۔ یہ سانحہ اپنے وقوع سے بیشتر متیقن ضرور تھا کیونکہ خدا کے سوا ہر چیز کے فنا پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، مگر اس تیقن کی یادداشت نہ تھی۔ اس پیش آنے والے وقت کا علم و اذعان ایسا تھا جیسا کہ ہر شخص کو اپنی موت کا علم و اذعان ہے کہ یقین ہونے میں کوئی شک نہیں، مگر ذہول اور غفلت اس کی جانب سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کا کبھی دھیان بھی نہیں آتا اور ایسا حال ہو رہا ہے گویا موت آنے والی ہی نہیں‘‘۔ (تذکرۃ الرشید ص: ۴)

بس کم و بیش یہی کیفیت ہم خدام حضرت الشیخ مولانا محمد یحییٰ صاحب مدنی رحمہ اللہ کی رہی۔

زبان گنگ، قلم حیران، فکر منجمد ہے کہ اپنے شیخ و مرشد، اپنے محب و محبوب استاذ، اپنے مشفق و مہربان سائبانِ ہستی حضرت رحمہ اللہ کی بابت کہاں سے لکھنا شروع کریں، کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں، عقل و فکر متحیر ہے کہ کیا اور کیوں کر لکھا جائے۔

مؤلف تذکرۃ الخلیل حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی رحمہ اللہ نے ایک جگہ تحریر فرمایا: ’’ایک ہرے بھرے باغ میں ہزارہا قسم کے پھول ہوتے ہیں، جن میں ہر ایک کا رنگ دوسرے سے جدا اور ہر ایک کی بو دوسرے سے الگ ہوتی ہے، لیکن اگر بلبل صرف گلاب کی پتیوں پر صدقے اور واری ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے پھول، پھول نہیں، یا ان کی بوئے خوش چہچہانے کے قابل نہیں۔ اسی طرح امتِ محمدیہ کے ہزاروں ہزار سردارانِ ملت میں سلف و خلفا ہر بزرگ ایک جدا دلربائی لایا ہے، جس کے میٹھے تذکرہ سے روح کو فرحت پہنچتی ہے، مگر باوجود اس کے بندہ ناچیز گلستان رشیدی کے ایک خاص نونہال کے تذکرہ کی طرف صرف اس لیے متوجہ ہوا کہ میری پیاس بجھانے اور ہر آن وہر لمحہ مجھ پر ایک خاص احسان فرمانے میں اس مقدس ہستی کو خاص دخل تھا۔

اس لیے جس طرح کسی دلق پوش بے نوا فقیر سے پوچھا جائے گا کہ تجھے سب سے پیارا کون ہے تو وہ کہے میرا باپ، اسی طرح مجھ سے اگر کوئی سوال کرے گا کہ تیرے نزدیک بزرگ تر کون ہے؟ تو میرے روئیں روئیں سے یہی نکلے گا کہ مولانا خلیل احمد رحمہ اللہ۔ الخ‘‘ (تذکرۃ الخلیل ص: ۱۸)

اس جگہ اگر راقم سید الطائفہ حضرت اقدس مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ کے نامِ نامی کی جگہ اپنے حضرت اقدس رحمہ اللہ کا نام مبارک تحریر کرے، تو ان شاء اللہ اس میں تعبیر کی غلطی ہوگی نہ مبالغہ۔ لہذا یہ چند بے ربط اور بے ترتیب باتیں ہیں جو زمانہ رفتہ میں وقوع پذیر ہو کر دل و دماغ پر اپنے نقوش چھوڑ گئیں۔ حدیث پاک میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ۔ قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ، فَيَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبُوهُ۔ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ۔ (مشكوة المصابيح)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت فرماتے ہیں تو جبرئیل کو بلا کر فرماتے ہیں کہ میں اپنے فلاں بندے سے محبت رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل یہ سن کر اس بندہ کو محبوب رکھتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندہ سے محبت رکھتا ہے لہذا تم سب بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور پھر اس بندہ کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

اس حدیثِ پاک کی روشنی میں علماء فرماتے ہیں کہ وہ محبت جو مقبولانِ الہی میں پہلے آئے اور بعد میں عوام کے دل اس طرف متوجہ ہوں وہ درحقیقت محبت الہیہ کا ثمرہ ہوتی ہے۔ اور جو محبت عوام الناس سے ہی شروع ہو اس کے مقبولیت عند اللہ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔ ہم نے اپنے حضرت رحمہ اللہ کو اس حدیث پاک کی تطبیق کا عملی نمونہ پایا۔ حضرت بلاشبہ محبوبِ اکابر تھے اور ساری زندگی بڑوں کی محبوبیت میں گزار دی، آپ کے اصاغر آپ کو نہ پہچان سکے جتنا آپ کو آپ کے بڑوں اور اہل اللہ نے پہچانا۔

انٹر کی تعلیم مکمل کر کے بستی نظام الدین دہلی پہنچے تو حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ کی خدمت و صحبت کے ساتھ ساتھ حضرت جی کے چہیتے اور محبوب بن گئے۔

حضرت جی رحمہ اللہ کی نگاہِ محبت کی بنا پر حضرت کے رفقاء حضرت مولانا عبید اللہ صاحب، حضرت مولانا قاضی عبد القادر صاحب، میانجی محراب، میاں جی عبد الله صاحب، حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب، حاجی بشیر صاحب رحمهم اللہ و حضرت حاجی عبد الوهاب زید مجدہم وغیرہ وغیرہ بھی آپ کے ساتھ اسی محبت اور لاڈ کا معاملہ فرماتے جس کے واقعات حضرت رحمہ اللہ بڑے لطف اور حسرت کے ساتھ سنایا کرتے تھے۔

حضرت جی رحمہ اللہ کے ۱۹۶۵ء میں وصال کے بعد جب حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے رجوع فرمایا تو وہاں بھی وہ ہی شانِ محبوبیت ملی، جس کا اثر اخیر تک خانوادہ ٔ شیخ کے حضرت رحمہ اللہ سے محبت اور بے تکلفانہ انسیت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ حضرت رحمہ اللہ خود بتایا کرتے تھے کہ ’’میں نے دس سال مدینہ منورہ میں اس طرح گزارے کہ رات کا کھانا اپنے گھر میں نہیں کھایا (حضرت شیخ کے دستر خوان پر خدمت فرمائی)‘‘۔

۱۹۷۰ء میں حضرت شیخ رحمہ اللہ سے خلافت و اجازتِ بیعت سے سرفراز ہونے اور گھریلو تقاضے بڑھ جانے کے باوجود حضرت شیخ رحمہ اللہ کے مشورہ سے جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن میں درسِ نظامی کی تکمیل کے لیے تشریف لائے تو حضرت بنوری، حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمهم اللہ وغیرہ کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر سنایا کرتے تھے کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ کی دورانِ درس اکثر توجہ میری طرف ہوتی۔ تو ایک موقع پر ایک طالب علم نے اعتراض کیا کہ حضرت (بنوری) تو بس اسی کو سبق پڑھاتے ہیں، تو شیخ بنوری نے سن کر اس طالب علم سے ناراضگی کے ساتھ فرمایا: میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں؟ میری مرضی میں جس کو دیکھ کر سبق پڑھاؤں۔

۱۹۸۲ء میں جامعۃ العلوم الاسلامیۃ میں تدریس کے ساتھ ساتھ معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد رکھی تو حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی، حضرت قاری فتح محمد صاحب اور دنیا بھر کے اکابر کی تواتر سے آمد اور دعائیں جو آپ کے شاملِ حال رہیں اور الحمدللہ آج تک ہیں۔

۱۹۸۸ء میں رسالہ ’’ماہنامہ سلوک و احسان‘‘ کا اجراء فرمایا تو حضرت مولانا فقیر محمد صاحب اور دیگر اکابرین کے دعائیہ کلمات آپ کی سوانح کا حصہ بن گئے۔ الغرض یہ بلا تردد حقیقت ہے کہ آپ کی قدر اور محبت جتنی آپ کے بڑوں اور اکابر اہل اللہ نے فرمائی ہم اصاغر آپ کی حیاتِ مستعار میں اس سے زیادہ ناقدر شناس رہے۔

حضرت کا ایک وصفِ ممتاز اپنے بڑوں کے ساتھ حسنِ ادب تھا، اپنے جملہ اکابر سے عموماً اور اپنے سلسلہ کے اکابر سے خصوصاً عشق فرماتے تھے۔ جبکہ اپنے روحانی والد، شیخ و مرشد حضرت اقدس برکۃ العصر رحمہ اللہ پر فریفتہ، اور جان و دل سے فدا اور فنا تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ’’جب تک شیخ زندہ رہے ہم بڑے بہادر تھے، ہم شیر تھے، ہماری کمر بڑی مضبوط تھی‘‘۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ پر اس وارفتگی کا ہی نتیجہ تھا کہ اپنا ذاتی تجارتی کتب خانہ ’’مکتبۃ الشيخ‘‘ کے نام سے قائم فرمایا اور اس کا بنیادی مقصد حضرت شیخ رحمہ اللہ کی تالیفاتِ مبارکہ کی اشاعت اور حضرت کے اشارہ پر متوسلینِ حضرت شیخ کی کتب و رسائل کی نشر و اشاعت تھا۔

اپنی حیاتِ طي بہ میں اپنے سلسلہ کے اکابرِ اربعہ کے ناموں سے موسوم کراچی میں ہی چار تعلیمی ادارے قائم فرمائے۔

۱۔ معہد الخلیل الاسلامی، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ کے نام پر، جو الحمدللہ آج ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا۔
۲۔ معہد الشیخ زکریا، پنجاب کالونی کراچی۔
۳۔ مرکز الرشید، بلوچ کالونی مدنی مسجد کراچی۔
۴۔ مرکز الامداد، اللہ والا ٹاؤن کراچی۔

حضرت رحمہ اللہ اکرام و احترام و ادب و تعظیم جملہ سلاسل کے اکابر و معاصرین کا فرماتے، لیکن بہرحال اپنے بارے میں اپنے شیخ کے سلسلہ میں متصلّب تھے۔ عمرِ مبارک کے آخری حصہ میں آپ نے کچھ معاصر مشائخ نقشبندیہ و چشتیہ سے اجازت و نسبت کا تبادلہ بھی فرمایا۔

حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت میں فطری طور پر جلال غالب تھا، لیکن جب طبیعت جمال کی طرف آتی تو اس جلال کی وجہ سے طبیعتوں میں جو گرانی اور بوجھ آتا وہ سب ایسے کافور ہو جاتا جیسے سورج چڑھنے سے رات کی تاریکی غائب ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کو اپنی طبیعت کے اس جلال کا خود بھی بخوبی احساس تھا، اور اپنے جلال کے اظہار کے بعد اس کی مکمل مکافات بھی فرماتے تھے۔

حضرت شیخ رحمہ اللہ کی اپنے متوسلین کی تاکیدات و تعلیمات میں سب سے اہم دو چیزوں کی تاکید ہوتی تھی: ۱۔ موت کو کثرت سے یاد کرو ۲۔ درود شریف کی کثرت کرو۔

حضرت رحمہ اللہ پر بھی اس تاکید کا بہت گہرا اثر تھا، کئی سالوں سے ہر بات میں یہی فرماتے تھے کہ ’’بس میرا آخری وقت ہے‘‘۔ غالباً تین دفعہ (یعنی پندرہ سال) سے جب بھی اپنے پاسپورٹ کی تجدید فرماتے تو یہی فرماتے کہ ’’بس یہ میرا آخری پاسپورٹ ہے، اس کے بعد کس نے دیکھا ہے‘‘۔ اسی فکر اور استحضار کی وجہ سے اپنے دنیاوی معاملات و دیگر امور سے کافی عرصہ سے سبکدوشی فرماتے رہے تھے۔ اور الحمدللہ دنیا سے اسی طرح تشریف بھی لے گئے کہ کسی کا کوئی مالی معاملہ آپ کے ذمہ میں نہیں تھا۔ اس حوالہ سے اور موت کو یاد رکھنے اور اس کے یقین رکھنے پر تاکیداً تربیت بھی فرمایا کرتے تھے۔

ایک موقع پر اس راقم کے گھر میں ایک خوشی کے موقع پر آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ ’’آج اگر بھائی یاسین صاحب زندہ ہوتے تو کتنا خوش ہوتے‘‘۔ لیکن پھر فوراً ہی بلا کسی توقف کے فرمایا کہ ’’زندہ کیوں ہوتے؟ جب اللہ نے اس موقع تک کی زندگی دی ہی نہیں تھی‘‘۔

مزاج شناسی اور مردم شناسی اللہ نے غضب کی دی تھی، مدرسہ کے جدید و قدیم داخلہ کے اوقات میں اس کا بڑا مشاہدہ ہوتا تھا۔ طالبِ علم کے نتائج سے صرفِ نظر اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے مزاج کو دیکھ کر اس کے رکھنے نہ رکھنے کا فیصلہ فرماتے تھے۔

میرا حضرت سے تعلق کچھ مختلف نوعیت کا تھا۔ یہ بھی حضرت رحمہ اللہ کی کمالِ شفقت تھی، ممکن ہے کہ اپنی بہت کچھ یادیں تحریر کرنے پر یادِ حضرت سے زیادہ آپ بیتی کا شائبہ نہ ہو۔

حضرت رحمہ اللہ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’یار! ہم باپ بیٹے بھی ہیں، پیر مرید بھی ہیں اور دوست بھی، تو مجھ سے کھل کر بات کیا کر‘‘۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ الحمدللہ اپنے ہر کام میں عموماً حضرت کی مشاورت شاملِ حال رہتی تھی اور جس معاملہ میں مشاورت نہ ہوتی تھی اس میں بہرحال اطلاع ضرور دینے کا معمول تھا۔

غالباً اسی وجہ سے راقم کے ساتھ حضرت رحمہ اللہ کا وقتاً فوقتاً ظریفانہ جملوں کا تبادلہ بھی چلتا تھا۔

ایک دفعہ اجتماعِ اساتذہ کے موقع پر راقم قدرے تاخیر سے حاضر ہوا تو حضرت رحمہ اللہ نے برسرِ مجمع خوب اظہارِ ناراضگی فرمایا اور سب کے سامنے خوب بے نقط سنائیں، (حضرت رحمہ اللہ کا عام معمول ہر ایک کے لیے نہ تھا کہ کسی غلطی پر سب کے سامنے اس کو عتاب فرماتے۔ لیکن الحمدللہ راقم پر اس حوالہ سے خاص شفقت تھی جس پر کبھی کبھی بہت ہی حظ محسوس ہوتا تھا۔ جن میں سے یہ مذکورہ الصدر واقعہ بھی تھا)۔

اجتماع کے ختم پر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا عذر اور بیماری کا ذکر کیا تو اس پر آبدیدہ ہو گئے اور اس کے بعد اس حوالہ سے بندہ کے لیے جو مفید غذا اور دوائی آ جاتی تو بندہ کے سپرد فرماتے۔

راقم کے ابتدائی ایامِ مدرسہ کی بات ہے، اس کی لذت بھی بڑے خاصہ کی ہے۔ بندہ کے والد محترم مرحوم جمعہ کی نماز معہد الخلیل کی مسجد میں ادا فرماتے، اس کے بعد حضرت کے ساتھ ایک بے تکلف نشست ہوتی جو حضرت کے قدیم دفتر میں ہوتی۔ اسی مجلس میں ایک موقع پر حضرت رحمہ اللہ نے والد محترم رحمہ اللہ سے ارشاد فرمایا کہ ’’بھائی یاسین صاحب! یہ سلمان آدھا آپ کا، آدھا میرا ہے‘‘۔ تو والد صاحب نے برجستہ فرمایا کہ نہیں حضرت، یہ پورا آپ کا ہے۔ اس پر سارے حضرات بھی متحیر ہوئے اور حضرت کی تو کیفیت ہی فرحت و مسرت سے قابلِ دید تھی!

اور پھر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اپنے قول و عمل سے اس کو ثابت بھی کیا کہ گویا اس راقم کو حضرت کے لیے وقف فرما دیا۔ فجزاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَأَحْسَنَهُ وَأَوْفَرَهُ۔ حضرت رحمہ اللہ نے بھی اس واقعہ کے بعد مکمل اپنی نگرانی میں اس طرح لے لیا جیسے مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں میں چھپاتی ہے۔ اس عہد و پیمان کا بعد میں تکرار بھی ہوتا رہا اور حضرت رحمہ اللہ بھی بڑے احساسِ لطف کے ساتھ اپنے اس واقعہ اور سلمان کو پورا پورا وصول کرنے کی بات کو سنایا کرتے تھے، بلکہ کبھی کبھی یہ بھی ارشاد فرماتے تھے کہ ’’تیرے باپ کی قربانی تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘۔

حضرت رحمہ اللہ کا ایک ممتاز اور نمایاں وصف نماز کی بروقت ادائیگی اور تاکیدِ جماعت کا التزام اور صفِ اول و تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام تھا، حضرت کے اس وصف کو، اور لکھنے والے حضرات نے یقینا واضح کیا ہوگا۔ بندہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ دسیوں سفر میں رفاقت کی نعمت نصیب فرمائی، بلکہ کئی اسفار الحمدللہ ایسے بھی حضرت نے فرمائے کہ سوائے اس خادم کے اور کوئی بھی رفیقِ سفر نہ ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اس سفر کا لطف ہی اور ہوتا تھا۔

حضرت کے ساتھ تنہا سفر کی ابتداء ۱۹۹۸ء یعنی ۱۴۱۸ھ کے سفرِ حج سے ہوئی، یہ سفر کراچی تا حجازِ مقدس تو حضرت نے محترم الحاج عبد السلام چاولہ صاحب زید مجدہم کے ساتھ کیا تھا اور بندہ چونکہ پہلے سے ایک گروپ کے ساتھ وہاں تھا، اس لیے حضرت کے استقبال کے لیے مدینہ ائیر پورٹ حاضر ہوا۔ اس سفر میں حضرت کے دورانِ قیام از ابتداء تا آخر حضرت کی معیت رہی، سوائے مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ کے سفر کے، کہ حضرت رحمہ اللہ ہوائی جہاز سے اور بندہ بس کے ذریعہ سے پہنچا۔ اسی سفر میں ایک موقع پر حضرت نے مکہ مکرمہ میں حرم پاک سے آتے جاتے ارشاد فرمایا کہ ’’سلمان! اب تو طے کر لے کہ اب میرا کوئی سفر تیرے بغیر نہیں ہوگا‘‘۔ یہ حضرت کا بہت بڑا احسان تھا اس بندہ پر، اور الحمدللہ اس سلسلہ میں حضرات والدین کا اس بندہ کو مکمل تعاون رہا کہ حضرت کی معیت کو بندہ کے لیے غنیمت سمجھتے تھے۔

بہرحال اسفار میں حضرت کا معمول تھا کہ اگر نماز کسی مسجد میں نہ پڑھتے تو اول وقت میں کم از کم دو آدمیوں کی جماعت کراتے اور فرماتے کہ ’’نماز آدمی پڑھ لے تو پھر وہ بادشاہ ہے‘‘۔ کہیں سفر کی ترتیب بناتے تو سب سے پہلے اس بات کا بطور خاص لحاظ فرماتے کہ کوئی نماز درمیان میں نہ آئے۔ اسی حساب سے فلائٹ طے فرماتے۔

حضرت رحمہ اللہ کا ایک اور ممتاز وصف معاملات کی صفائی تھا، کسی سے پانچ دس روپے کا بھی کوئی کام کرواتے تو پہلے رقم دیتے۔ کہیں سفر پر جانا ہو، تعمیراتی کام ہو یا کسی سے مزدوری پر کوئی کام لیا ہو، کسی سے پھل وغیرہ منگوایا ہو، پہلے رقم ادا فرماتے تھے، بعض مخلصین اس پر مشورہ بھی دیتے کہ حضرت اس طرح نہیں ہوتا ان کو آرام سے پیسے دیں، تاکہ یہ کام کرتے رہیں، ایک مخلص نے تو یہ بھی عرض کیا کہ ہم تو سفر کر کے واپس آ کر اطمینان سے پیسے دیتے ہیں، تو فرماتے کہ ’’مجھ سے ایسا نہیں ہوتا‘‘۔

سفر میں بالخصوص اس کا اہتمام فرماتے کہ ٹیکسی، مکان وغیرہ کا کرایہ ادا کرنے میں سب سے پہلے اپنا حصہ نکال کر مرحمت فرماتے، اگر کوئی اس وقت حضرت کی طرف سے خود رقم دینے کی کوشش کرتا تو فرماتے: ’’وَأَمَّا بِلَا ثَمَنٍ فَلَا‘‘۔ اس سلسلے میں اپنے پرائے سب کے ساتھ یکساں معاملہ تھا حتی کہ اہلِ خانہ اور اپنی اولاد کا بھی کوئی قرض نہ رکھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے: تَعَاشَرُوا كَالْإِخْوَانِ وَتَعَامَلُوا كَالْأَجَانِبِ۔

حضرت رحمہ اللہ کا ایک اور وصفِ ممتاز طبیعت کی سادگی تھا، کھانا، پینا، پہننا اوڑھنا، رہن سہن، سادہ تھا اور مزہ کی بات یہ کہ پسند بھی سادہ لوگوں کو ہی فرماتے۔

گذشتہ چند سال قبل ہندوستان سے حضرت مولانا ابوبکر غازی پوری رحمہ اللہ کراچی تشریف لائے تو بندہ کے غریب خانہ پر کچھ دیر (۵ منٹ) کی نیت سے تشریف لائے، بندہ کے عرض کرنے پر حضرت رحمہ اللہ بھی تشریف لے آئے، اور پھر یہ پانچ منٹ کی ہونے والی مجلس عصر تا عشاء جاری رہی۔ اور پھر مولانا غازی پوری صاحب حضرت رحمہ اللہ کو چھوڑنے گھر تک ساتھ گئے اور حضرت کو اتار کر بندہ سے فرمایا: ’’مولانا سلمان! آج ہماری ان بزرگ سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی ہے، تم نے ہم کو ایسے آدمی سے ملوایا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی یاد تازہ ہو گئی، پورے پاکستان میں ہمیں یہ واحد مولانا ایسے ملے جن پر ڈیکوریشن نہیں، ورنہ آپ کے یہاں علماء پر ڈیکوریشن بہت ہو گئی ہے‘‘۔

اس کے بعد ان دونوں اکابر کی حجازِ مقدس کے اسفار میں حضرت مولانا اسماعیل بدات صاحب کے توسط سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ہدایا کا تبادلہ بھی رہا، مولانا بھی حضرت کے وصال سے پورے ایک سال قبل دہلی میں واصل بحق ہو گئے۔ رحمهما اللَّهُ تعالى رحمةً واسعةً۔

کئی سال سے الحمدللہ حج پر جانے کا معمول بنایا تھا اور یہ فرماتے تھے کہ ’’بار بار اس لیے جاتا ہوں کہ شاید میرا وقت آگیا ہو تو مدینہ کی مٹی نصیب ہو جائے‘‘۔ حضرت کے سفر حج کے رفقاء اور منتظمین حج گروپ کا مشاہدہ ہے کہ حضرت اپنے لیے کسی اضافی خصوصیت کے طالب نہیں ہوتے، جو نظم گروپ کی طرف سے طے ہو جائے خود بھی اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کا پابند بناتے تھے۔ جو وقت نقل و حرکت کا گروپ کی طرف سے طے ہوا، حضرت اس سے پہلے ہی تیار ہو کر سامان وغیرہ باندھ کر کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے۔ کبھی یہ یاد نہیں کہ حضرت کی وجہ سے سفر میں کوئی تاخیر ہوئی ہو یا گروپ کا نظم متاثر ہوا ہو۔

حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت پر حرمین کی حاضری اور بالخصوص مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کا شوق و جذبہ بہت غالب رہتا تھا۔ ایک موقع پر حضرت کے تمام اسبابِ سفر تیار تھے لیکن طبیعت ناساز تھی فرمانے لگے کہ ’’یار! اگر وہاں طبیعت نہ لگی تو حرمین کے حقوق تو ادا ہوں گے نہیں، ایسا نہ ہو کہ بجائے قبولیت کے ادبار ہو جائے، وہاں جا کر آدمی پچھتائے کہ کیوں آیا۔ اس سے بہتر ہے کہ یہاں پڑے رہو وہاں کی تڑپ رہے‘‘۔ بندہ نے عرض کیا کہ یہ آپ سے کس نے کہا ہے کہ آپ کثرت سے طواف کرنے اور حرم نبوی میں نمازوں کی تعداد پوری کرنے کی نیت سے تشریف لے جائیں؟ آپ تو بیت اللہ کی زیارت اور بالمشافہہ سلام عرض کرنے کی نیت کریں، اگر چوبیس گھنٹہ میں ایک دفعہ بھی یہ کام ہو جائے تو مقصدِ سفر حاصل ہو گیا، پھر دیکھیں گے ہمت ہوگی تو طواف بھی ہوگا اور حرمین کی نمازیں بھی۔ حضرت نے اس درخواست کو قبول فرما لیا، حجاز مقدس پہنچے تو سارے ہی کام اور خوب مجاہدے فرمائے اور واپسی میں ارشاد فرمایا کہ ’’تیری بات سے مجھے بہت فائدہ محسوس ہوا‘‘۔

بندہ کی معہد میں آمد محرم الحرام ۱۴۰۹ ہجری میں ہوئی، اس سال سے ۱۴۱۲ تک تو آپ سفر حج پر تشریف نہیں لے گئے، ۱۴۱۳ھ میں تشریف لے گئے۔ اس کے بعد پھر لگاتار ۱۴۱۶ھ تک چار اسفار ہوئے، ۱۴۱۷ھ چھوڑ کر پھر ۱۴۱۸ھ، ۱۴۱۹ھ میں حج فرمایا، ۱۴۲۰ھ کا نہیں فرمایا پھر ۱۴۲۱، ۱۴۲۲ھ میں ہوا پھر ۱۴۲۳ھ تا ۱۴۲۶ھ تک چار سال توقف رہا اور پھر ۱۴۲۷ھ تا ۱۴۳۳ھ تاحیات ہر سال کا معمول تھا۔ اس طرح ۱۴۱۳ھ سے تاآخر عمر آپ کے کل ۱۵ حج ہوئے، اس سے پہلے کے حج کے اسفار کا صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔

۱۴۲۷ھ کے سفرِ حج سے حضرت کے ساتھ ایک سے زیادہ خدام شریکِ سفر ہوتے تھے، اس سے پہلے عموماً ایک ہی خادم ساتھ ہوتا تھا۔ بندہ کا حج کا آخری سفر ۱۴۲۷ھ کا ہے۔ اس سفر میں برادرم مفتی محمد صاحب زید مجدہم بھی رفیقِ سفر تھے۔ اس کے بعد ۱۴۲۸ھ تا ۱۴۳۲ھ برادرم مولوی احمد بلال سلمہ مستقل خادمِ سفر رہے۔ ان کے ساتھ کبھی کسی کی معیت رہی اور کبھی کسی کی۔ اور آخری سفر حج ۱۴۳۳ھ میں مولوی عبداللہ گل اور مولوی عزیر انوار بطور خادم شریکِ سفر رہے۔

تقریباً دو سال قبل حضرت کی طبیعت کافی ناساز تھی اور حج پر تشریف لے جانے سے قبل ہی دل کو خون کی روانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا آلہ لگوا کر تشریف لے گئے تھے۔ حضرت کو بتائے بغیر راقم نے پیچھے کوشش کی کہ سفر کر کے حاضرِ خدمت ہو جائے۔ یہاں تقریباً انتظامات مکمل ہو گئے تو حضرت کو خبر نہیں کیسے علم ہو گیا، شروع میں تو حضرت بہت ناراض ہوئے، اطلاع یہ ہے کہ رفقائے سفر بھی حیران تھے کہ حضرت کو ہو کیا گیا کہ سلمان کو منع فرما رہے ہیں، اس دوران بندہ نے فون کیا تو وہ سارا غصہ فون پر اتار کر فرمایا کہ ’’کوئی ضرورت نہیں آنے کی۔ اگر آؤ گے تو اپنے لیے آنا میرے پاس آ کر مجھ پر احسان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنا پاسپورٹ واپس لے لو اور جو پوچھے صاف کہہ دو میں نے منع کیا ہے‘‘۔ اور جو کچھ فرما سکتے تھے فرما گئے۔

بندہ نے بہت بوجھل دل کے ساتھ پاسپورٹ واپس منگوا لیا۔ جب یہ واقعہ ہو گیا تو رفقائے سفر بتاتے ہیں کہ وہاں کا رنگ و فضا ہی تبدیل ہو گئی، ہر ایک سے فرماتے جاتے ہیں کہ ’’سلمان تو وہاں میرے بغیر بے چین ہو گیا‘‘، وغیرہ وغیرہ۔

یہ اصل میں حضرت کا اندازِ تربیت تھا اور اس سفر سے روکنے کی ایک بنیادی وجہ جو میرے علم میں ہے وہ یہ تھی کہ بندہ کا ایک فرزند ان دنوں بیمار تھا، حضرت کو یہ فکر تھی اس کی خبر گیری اور عید الاضحی کے ایام کی محنت کون کرے گا؟ جبکہ آنے کے بعد فرمایا کہ ’’تم دوسرے کی خدمت میں حصہ دار کیوں بنو، مستقل سفر تمہارے ساتھ کرنا ہے‘‘۔ (أوكما قال)

حضرت کا اس سفر سے روکنا من جانب اللہ باعثِ خیر ہوا۔ خبر نہیں کہ حضرت کو کشف ہوا یا اور کوئی بات کہ میرا یہ نورِ نظر پندرہ سے بیس روز اسپتال میں داخل رہا۔ اور قسمت کہ جس کی بنا پر حضرت اس کے بعد بھی سفرِ حج پر اس لیے ساتھ نہ لے گئے کہ یہ کمزور ہے اس کو تمہاری مستقل ضرورت ہے جبکہ عید الاضحی میں دیگر مشقت آمیز امور بھی ہوتے ہیں، حضرت رحمہ اللہ کے پیچھے پیچھے پورے پندرہ یوم کے بعد اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا۔

اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا۔

حضرت رحمہ اللہ کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اور تمنا یہ تھی کہ وقتِ آخر مدینہ طیبہ میں ہو اور مسکنِ آخر جنت البقیع میں اہلِ بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں، اپنے محبوب و معشوق شیخ و مرشد حضرت اقدس شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے قرب میں نصیب ہو۔ ظاہراً تو آپ کی اس خواہش کی تکمیل نہ ہو سکی، البتہ منامی و کشفی مبشرات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روحِ مبارک کو ارواحِ بقیع کے ساتھ ملحق فرما دیا ہے اور اس کی عملی شکل بھی اللہ نے بنا دی کہ آپ کا نواسہ آپ کے وصال کے متصل عرصہ میں واصل بحق ہو کر پیوندِ خاک بقیع ہوا۔ اور اہلِ بیت و ازواجِ مطہرات کا جوار اس کا مسکن بنا۔ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ۔

حضرت رحمہ اللہ کا ایک وصفِ خاص آپ کا منفرد اندازِ تربیت تھا، کسی شخص کی عموماً اس کے سامنے تعریف و توصیف نہیں فرماتے تھے، لیکن اس کی خوبی کا دوسروں کے سامنے اظہار بھی فرماتے اور کبھی برسرِ مجمع تعریف بھی فرماتے تھے۔ آپ کا سب سے زیادہ زور طلبہ پر بالخصوص یہ ہوتا تھا کہ تعلقات اور دوستوں سے مکمل اجتناب برتیں۔ حضرت مولانا یحییٰ صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ والدِ گرامی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا مقولہ کثرت سے سنایا کرتے تھے کہ ’’جس طالب علم میں دوستیوں کا مرض ہوگا خواہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو ایک نہ ایک دن ناکام ہو کر رہے گا‘‘۔ اس حوالہ سے حسبِ مراتب اپنے متعلقین و متوسلین کی نگرانی بھی فرمایا کرتے۔

مجھے یاد ہے کہ اپنے زمانہ طالب علم میں درجہ اولیٰ میں داخلہ کے بعد سے فراغت کے ایک طویل عرصہ تک حضرت کی صحبت و نصیحت اور توجہ کی برکت سے کبھی کسی ساتھی کے گھر نہ جانا ہوا اور نہ اپنے گھر کسی کو بلانے کی ہمت ہوئی، لیکن اس کی کمی الحمدللہ حضرت رحمہ اللہ خود پوری فرما دیا کرتے تھے، جیسا کہ حضرت کا ارشادِ گرامی سطورِ سابقہ میں تحریر کر چکا ہوں۔

راقم کی نوعمری کا زمانہ تھا کہ حضرت نے دریافت فرمایا کہ ’’فجر کی نماز کہاں ہوتی ہے؟‘‘ عرض کیا: کبھی گھر میں، کبھی مسجد میں۔ فرمایا: ’’اچھا مجھ کو روزانہ کان میں بتایا کرو کہ آج نماز گھر میں ہوئی یا مسجد میں جماعت سے‘‘۔ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو اللہ کے فضل سے خود بخود اللہ نے پابندی کرائی، اس دوران اگر کبھی نماز گھر میں پڑھنے کی خبر دیتا تو حضرت اس پر بھی خوشی کا اظہار فرماتے کہ سچ بات کہی۔

حضرت فرمایا کرتے تھے: ’’سچ پر تو جرم معاف ہو سکتا ہے، لیکن جھوٹ کی معافی نہیں‘‘۔ بندہ کی تربیت کے سلسلہ میں تو حضرت رحمہ اللہ اور حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے مابین کافی مذاکرہ ہوتا تھا، یہ بات بندہ کو بعد میں معلوم ہوئی۔ ایک موقع پر حضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ’’ہم دوستوں کی طرح رہتے ہیں، تو اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی ہے کہ صرف دوست ہی ہیں، میں تیری اور چیزوں پر نگاہ رکھتا اور فکر مند رہتا ہوں‘‘۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب حضرت رحمہ اللہ دوپہر کو کھانا مدرسہ میں ہی تناول فرماتے تھے، گھر سے بھی حضرت امی جان صاحبہ کھانا بھیجا کرتی تھیں اور مدرسہ میں جو پکتا تھا وہ بھی دسترخوان پر آتا تھا، حضرت رحمہ اللہ مدرسہ میں باقاعدہ کھانے کی ماہانہ رقم جمع فرماتے تھے اور جو رقم عام طلبہ و اساتذہ سے وصول کی جاتی تھی حضرت اس سے تقریباً تین گنا زائد رقم جمع فرماتے تھے۔ مدرسہ کے معاملات میں بے انتہا احتیاط حضرت کا مزاج تھا۔ مدرسہ سے کبھی کسی طرح کا مادی فائدہ نہیں اٹھاتے تھے، آپ نے اپنی ساری زندگی اپنی تدریسی و دیگر خدمات پر کبھی کوئی مالی منفعت حاصل نہیں فرمائی، نہ جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن میں، نہ معہد الخلیل الاسلامی میں۔

ایک موقع پر مدینہ طیبہ حاضری پر حافظ محمد شاہد صاحب اور بندہ کو کام سے بھیجا، ہم اپنا ٹہلتے ٹہلاتے اطمینان سے پہنچے اور کافی تاخیر سے آئے، تو پہلے تو حضرت نے ہم دونوں کو خوب سنائیں کہ مدینہ میں بھی دوستیوں سے باز نہیں آتے وغیرہ وغیرہ اتنا سنایا کہ بس۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ’’اللہ کرے میرے بعد بھی تم لوگ اسی طرح آپس کی محبت اور ربط سے رہو‘‘۔

حضرت رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے اتباعِ سنت کے جذبہ اور اس پر حتی الوسع عمل کرنے اور نہی عن المنکر کا بھی ایک وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ کئی واقعات اس پر شاہد ہیں۔ اس حوالہ سے حضرت رحمہ اللہ نے اپنی قوم اور برادری میں ایک تجدیدی کام بھی فرمایا۔

جس کا پس منظر یہ ہے: ۱۹۸۹ء میں اس راقم کی ہمشیرہ کی شادی ہوئی تو حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے تمام برادری اور خاندان و احباب کی عام روش سے ہٹ کر شادی کی دعوت میں زنانہ و مردانہ دونوں نشستیں فرشی رکھیں۔ اور الحمدللہ وقت مقررہ پر مہمانانِ گرامی کی ضیافت ہوئی، اس اقدام پر حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کو اپنے پرائے سب کے طعن بھی سننے پڑے، الہبتہ حضرت رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’میری اور بھائی یاسین کی دوستی اور محبت اسی دن سے پکی ہوئی‘‘۔ اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے اس بات (زمین پر بٹھا کر کھانا کھلانے) کو اتنا پھیلایا کہ اچھے اچھے دنیادار لوگوں کی تقریبات میں بھی کچھ نہ کچھ فرشی انتظام حضرت اور رفقائے حضرت کے لیے ہونے لگا۔ حضرت رحمہ اللہ کے پاس جب کوئی شادی یا کسی تقریب کا دعوت نامہ لے کر آتا، تو حضرت اپنے آنے کی چار شرطیں اس کے سامنے رکھتے:

۱۔ کھانا سب مہمانوں کا یا کم از کم سو پچاس افراد کا فرشی ہوگا سنت کے مطابق۔
۲۔ کوئی منکر، فوٹو، مووی، گانا بجانا وغیرہ کچھ نہیں ہوگا، اگر کسی اور کی طرف سے بھی ہوا تو یہ عذر نہیں ہوگا۔
۳۔ کھانا وقت پر ہوگا۔
۴۔ میں اکیلے نہیں آؤں گا، بلکہ میرے ساتھ آٹھ دس افراد کی ایک جماعت ہوگی، (اور اس جماعت پر پابندی ہوتی کہ یہ سب کے سب عمامہ باندھ کر جائیں گے)۔

ایک دفعہ ایک تقریب میں ایک نوجوان کیمرہ لے کر آگے بڑھا اور دولہا کا فوٹو لینے ہی والا تھا کہ حضرت اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے ہاتھ سے کیمرہ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس لائے اور فرمایا کہ ’’اس میں سے ریل نکال دو‘‘۔ پھر وہ ریل بندہ کے والد صاحب نے اپنے ہاتھ سے نکال کر حضرت رحمہ اللہ کو دونوں چیزیں دے دیں، اس دن پہلی مرتبہ حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ کا عملی نمونہ دیکھا۔

جمعہ کے دن فجر کی نماز میں اصرار ہوتا تھا کہ امام سورہ سجدہ اور سورہ دھر کی تلاوت کا اہتمام کرے. اگر کبھی امام نہیں پڑھتا تو ابتداءً اس پر اظہارِ ناراضگی زبانِ مبارک سے فرما دیتے تھے، بعد میں اس پر سمجھوتہ تو فرما لیا کرتے لیکن چہرے سے ناگواری کے آثار بہرحال نمایاں ہو جاتے تھے۔

حضرت رحمہ اللہ تواضع کا سراپا مجسمہ تھے، اپنے آپ کو کہیں نمایاں کرنے یا ظاہر کرنے کا شوق دل میں نہیں تھا، آپ نے کئی تحریریں اپنے دستِ مبارک سے قلم بند فرمائیں، لیکن اپنا نام نہیں ظاہر فرمایا: کبھی کسی کے نام سے مضمون یا کتابچہ لکھا، کبھی کسی کے نام سے۔

حضرت نے چہل حدیث صلوٰۃ و سلام ’’زاد الخلیل‘‘ کے نام سے مرتب فرمائی اس کو حسبِ معمول بغیر نام کے چھپوایا، لیکن پھر اگلے ایڈیشن میں اپنا نام معاصر مشائخ بالخصوص حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی زید مجدہم کے اصرار پر طبع کروایا۔ ورنہ اس ناموری اور نمایاں ہونے سے دور بھاگتے تھے۔ اپنی اسی متواضعانہ طبیعت کی بنا پر حضرت رحمہ اللہ بعض اوقات اپنے چھوٹوں کے مشورہ پر عمل بھی فرما لیا کرتے تھے، اور کبھی محسوس کرتے تو قولاً یا عملاً رجوع بھی فرماتے تھے۔ حضرت نے بارہا کئی مواقع پر بڑے کھلے دل سے اس بات کا اظہار فرمایا کہ فلاں وقت میں یہ کام کرنے سے غلطی ہو گئی، فلاں کے مشورہ پر عمل ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔ الغرض رجوع میں وقت نہیں لگاتے تھے، اگر کہیں اپنی بھول چوک یا غلطی کا احساس فرماتے تو اس کو غلط کہنے میں تامل نہیں ہوتا تھا۔ اور اگر اس میں محسوس فرماتے کہ کسی کے ساتھ کچھ زیادتی ہو گئی تو اس کا مداوا بھی فرماتے تھے۔ آج الحمدللہ! حضرت کی شبانہ روز محنتوں، دن رات کی قربانیوں کے نتیجہ میں حضرت کا ادارہ معہد الخلیل الاسلامی بلاشبہ علم و عرفان، رشد و ہدایت کا ایسا تناور درخت بن گیا جس کے اکابر و اصاغر سب ہی مدح سرا ہیں، لیکن حضرت طلبہ کے مجمع میں خطاب کے دوران تواضعاً بڑے درد سے فرمایا کرتے تھے کہ ’’عزیز طلبہ! ابھی تو ہمارا مدرسہ بنا ہی نہیں، یہ تو مدرسی ہے، مدرسہ بنانے کی کوشش ہے‘‘۔

حضرت رحمہ اللہ کی طبیعت کا ایک اور ممتاز وصف آپ کا استغناء و توکل علی اللہ تھا۔ آپ کسی بھی مالدار اور سرمایہ دار سے اس کی مالی اور مادی حیثیت سے متاثر نہ ہوتے تھے۔ البتہ اگر اس طرح کا کوئی دنیا دار شخص دین کی طرف متوجہ ہوتا تو اس کی بڑی قدر فرمایا کرتے تھے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کا اکثر یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ ’’پیارے اپنے مدرسہ کے لیے کبھی کسی سے اتنا چندہ نہ لینا کہ وہ تم کو اپنا نوکر ہی سمجھنے لگے‘‘۔ کوئی بھی معاملہ ہو، کیسا ہی ہو، نگاہ اللہ کی طرف ہی رکھتے تھے اور اللہ ہی سے مانگنا اور امید وابستہ رکھنا ایک مزاج بن گیا۔ مدرسہ کا معاملہ ہو یا اپنا ذاتی کوئی مسئلہ کسی کی طرف نگاہ نہیں کی، آپ نے اپنی اس حیاتِ مستعار میں دسیوں دفعہ لوگوں سے قرض لیا اور الحمدللہ تاحیات اس کی مقررہ میعاد سے قبل اس کو لوٹا دیا۔

آپ خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کا شکر ہے کہ مدرسہ کے بڑے بڑے معاملات میں کبھی کسی کے گھر جا کر پیسے مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، اللہ پاک یہاں بیٹھے بیٹھے سب کام کرا دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت رحمہ اللہ کی ایک عجیب عادتِ مبارکہ بعض دفعہ یہ بھی دیکھنے کو ملی کہ مدرسہ کے لیے کسی جگہ کا سودا فرمایا اور وسائل نہ دارَد، پھر خاموشی سے اپنے اللہ سے راز و نیاز شروع کر دی، تو اللہ تعالیٰ نے بھی حسبِ وعدہ ایسی جگہ سے انتظام فرمایا کہ جہاں کسی کا وہم و گمان بھی نہیں گیا ہو۔ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا کہ کوئی متمول شخص چندہ دینے آیا تو فرمایا: ’’ہمیں تم سے یہ نہیں، تمہارا بچہ چاہیے‘‘۔

معہد الخلیل الاسلامی کی بنیاد حضرت نے اس نظریہ پر رکھی کہ شہری ماحول میں رہنے اور پرورش پانے والے اعلیٰ حسب و نسب اور خاندان کے بچے یہاں دینی تعلیم حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے خاندانوں میں اور معاشرہ میں بغیر کسی مادی لالچ کے دین کی خدمت کریں۔

آپ کی حیات طیبہ میں مدرسہ نے اپنی عمر کے تیس سال مکمل کیے، لیکن کبھی کسی طالب علم یا استاذ سے بحیثیت طالب علم یا مدرس کوئی مادی فائدہ یا مدرسہ کی ضروریات سامنے رکھ کر مدرسہ کے چندے کا مطالبہ نہیں فرمایا، اور نہ اس کا خیال فرمایا۔ بلکہ اگر کبھی کسی طالب علم کے والد اس طرف متوجہ ہوتے تو حضرت اس امر کا بخوبی جائزہ لیتے کہ اس کا ایک دفعہ کا چندہ دینا بعد میں مدرسہ کی عزت کا مسئلہ نہ بن جائے۔

ایک عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ کسی کا احسان اگر ہوتا تو اس کے بدلہ کی بھی فکر فرماتے اور ایسے کہ بدلہ بھی دو چند ہی ہوتا، خدمت، محبت اور وفا شعاری کی قدر حضرت رحمہ اللہ پر بس تھی۔

۱۴۳۲ھ کے سفرِ حج سے واپسی کے موقع پر جہاز کے ٹکٹوں میں کسی پریشانی کے باعث گروپ کو دو حصوں میں آنا پڑا، اس سفر میں حضرت کے ساتھ حضرت کے دیرینہ خادم برادرم مولوی احمد بلال سلمہ تھے، ہوائی میزبانوں کی ترتیب کے مطابق حضرت کی روانگی پہلے اور مولوی احمد بلال کی بعد میں طے ہوئی، تو حضرت نے اکیلے پہلے تشریف لانے سے انکار فرما دیا۔ فرماتے کہ ’’وہ تو میری خدمت کے لیے آئے اور میں اس کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے آرام کی خاطر پہلے واپس چلا جاؤں‘‘، پوری جماعت کے سمجھانے اور خوشامد کے باوجود دوسری فلائٹ میں ساتھ ہی تشریف لائے۔

اسفار میں حضرت کی شان بھی بہت عجیب ہوتی، اکابر و معاصرین کی مالی خدمت اور دعوت کا اہتمام خوب خوب فرماتے، ضرورت مند احباب کی بعض اوقات ایسے مدد فرماتے کہ ان کی عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو اور تعاون بھی ہو جائے۔ سفر میں اپنے خادمین کا ہر طرح سے خیال فرماتے تھے، ان کے کھانے، پینے، آرام اور ہر طرح کی راحت کا خیال فرماتے۔ اکثر حضرت شیخ رحمہ اللہ کا جملہ نقل فرماتے کہ ’’خدمت تو کرے کوئی، اور جب کھانے پینے کا دسترخوان لگے تو کوئی اور؟‘‘ (یعنی ایسا نہیں ہو سکتا)۔

حضرت رحمہ اللہ کا ایک اور وصفِ خاص آپ کا مجالسِ ذکر اور مکاتبِ قرآنیہ کے قیام کی فکر تھا، آپ اخیر وقت تک خود بھی اذکارِ مسنونہ کے حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بتائے ہوئے معمولات کا اہتمام فرماتے، ذکر بالجہر اور پاسِ انفاس کا معمول اخیر دم تک رہا اور یہی حضرت کی گویا غذا بن گئی تھی۔ وصال سے تقریباً ۱۴ سے ۱۵ یوم قبل وقتاً فوقتاً غنودگی کی کیفیت سی رہنے لگی، لیکن اس میں بھی جب کچھ احساس ہوتا تو ذکر بالجہر شروع فرما دیتے تھے۔ وصال سے پورے ایک ہفتہ قبل بندہ نے عرض کیا جبکہ طبیعت میں گھبراہٹ بہت زیادہ تھی کہ آپ کے کمرہ میں مجلس ذکر کرا لیں؟ تو فرمایا کہ ’’ہاں بلاؤ‘‘۔ تو بندہ نے کچھ عزیز طلبہ کو بلوایا، جب حضرت کے سامنے ان بچوں نے ذکر بالجہر شروع کیا تو حضرت نے بھی باوجود نقاہت و انتہائی ضعف کے خود ذکر شروع فرما کر اس مجلس میں عملاً شرکت فرمائی۔

ان ایامِ مرض میں کچھ احباب عیادت کے لیے آئے۔ انہوں نے کچھ گفتگو کسی موضوع پر شروع کی تو راقم کو قریب بلا کر کان میں ارشاد فرمایا کہ ان سے کہو فضول باتیں نہ کریں، اللہ کا ذکر کریں۔ حضرت رحمہ اللہ کے یہاں اپنے متوسلین میں وہ شخص سب سے زیادہ قیمتی تھا جو ذکر کا اہتمام کرتا ہو، اکابر و اسلاف پر اندھا اعتماد کرتا ہو اور اطاعت گزار ہو۔

حضرت رحمہ اللہ کی ایک خاص بات حضرت کی باقیاتِ صالحات ہے۔ الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس رحمہ اللہ پر ایک خاص کرم یہ فرمایا کہ آپ کی اولاد و احفاد، بنین و بنات کو زیورِ علم و عمل سے آراستہ فرمایا اور آپ کو ان کی بہاریں اپنی آنکھوں سے دیکھنا نصیب فرمائیں۔ الحمدللہ! حضرت رحمہ اللہ کی اولاد میں تمام بیٹے، داماد اور دو بیٹیاں، چار بہوؤیں، دو پوتے، ایک پوتی، پانچ نواسے اور دو نواسیاں حافظِ قرآن ہیں۔ ان میں سے ۱۹ بیٹے، داماد، بیٹیاں، بہوؤیں اور ایک نواسے درسِ نظامی کے فضلاء ہیں۔ آج الحمدللہ! حضرت کے اس خاندان کا کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو کسی نہ کسی حوالہ سے درس و تدریس اور دینی دعوت سے منسلک نہ ہو۔ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ۔ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔

اللہ تعالیٰ کے اس انعامِ عظیم کو دیکھ کر اکثر حضرت رحمہ اللہ کی زبانِ مبارک پر حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا یہ جملہ جاری ہوتا: ’’اس سے بڑا کوئی شرف نہیں، اگر قبول ہو جائے‘‘۔ اس حقیقت کے عینی شاہدین موجود ہیں کہ حضرت نے اپنی اولاد کی کس انداز سے تربیت فرمائی، ان کے بچپن کی عمروں میں کیسی پابندیاں عائد فرمائیں اور کیا کچھ قربانیاں ان کی خاطر دیں۔

اس سلسلہ میں حضرت کی سب سے بڑی قربانی قیامِ مدینہ منورہ کا ترک ہے۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’میں نے مدینہ پاک ان بچوں کے لیے چھوڑا ہے۔ میں نے جب وہاں پلنے بڑھنے والے بچوں میں جرأت اور بے ادبی کا عنصر دیکھا تو یہی خیال و فکر دامن گیر رہا کہ اگر میرے بچوں نے اس ماحول کا اثر قبول کر لیا تو یہاں رہنا تو بے فائدہ رہے گا‘‘۔ اس لیے مدینہ منورہ کا اقامہ ختم فرما کر کراچی میں ہی سکونت اختیار فرما لی اور الحمدللہ ثم الحمدللہ أَدَّبَهُمْ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهُمْ کا مصداق ٹھہرے۔

حضرت کی اولاد میں الحمدللہ ہر ایک اپنی جگہ ایک چمکتا دمکتا ستارہ ہے، جبکہ ان میں کی اکثریت اصحابِ نسبت، حضرت اور دیگر اکابرِ امت سے خلعتِ اجازت سے سرفراز ہیں اور الحمدللہ حضرت کی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کے وقتِ اخیر میں آپ کی عین خواہش کے مطابق آپ کی جملہ اولاد و احفاد و دیگر افرادِ خاندان نے ذکر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے آپ کو رخصت کیا۔

حضرت ہر دعا میں بڑے اہتمام سے دعا فرماتے تھے کہ ’’اے اللہ اخیر وقت میں ڈاکٹروں، نرسوں، غیر محرموں کے ہاتھوں کی موت سے محفوظ فرما، کشفِ عورت سے محفوظ فرما‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اس دیرینہ خواہش کی تکمیل فرمائی اور زبان پر وردِ ذکر کے ساتھ ذکر بالجہر کے ماحول میں آپ کی روح اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر گئی۔

حضرت نے اپنی زندگی میں کئی اصلاحی سلسلوں کی بنیاد ڈالی۔ ابتداءِ مدرسہ کے ایام میں ہر پیر کو اصلاحی مجلس ہوتی تھی جو عصر تا عشاء ہوتی، بعد میں حالات کی بنا پر اس کا دورانیہ مختصر فرما دیا تھا۔ پھر شوال ۱۴۰۹ھ سے ہر اسلامی ماہ کی آخری جمعرات (شبِ جمعہ) کو مجلسِ درود شریف اور سیرت پر مبنی کسی بھی عنوان سے بیان کی ترتیب قائم فرمائی، ہر جمعہ نمازِ جمعہ سے ایک گھنٹہ قبل درود ناریہ اور بعد عصر تا مغرب معمولاتِ تلاوت و ذکر و مراقبہ و دعا کی ایک مجلس ہوتی تھی۔ اخیر ایام میں ہر اتوار کو بعد عصر عوام الناس کے لیے ایک اصلاحی مجلس کا سلسلہ شروع فرمایا۔ ایک مجلسِ ذکر یومیہ بعد از فجر اور ایک قبیل عصر اور اب کچھ عرصہ سے صبح سوا دس بجے کے وقت بھی معمولات میں تھی۔ الحمدللہ حضرت کے وصال کے بعد یہ تمام سلسلے جوں کے توں جاری و ساری ہیں۔

حضرت رحمہ اللہ کا ویسے تو حضرت شیخ بنوری رحمہ اللہ کے زمانہ سے ہی ختم نبوت کے کام سے گہرا تعلق تھا اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کراچی کی سطح پر قائدانہ کردار ادا کیا، لیکن عمر کے آخری حصہ میں اس کام کی عملاً سرپرستی اور لگاؤ میں قابلِ دید اضافہ اور توجہ بڑھ گئی تھی اور کراچی میں ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کی تقریباً ہر سطح پر سرپرستی فرماتے تھے اور اس کو اپنے لیے باعثِ نجات اور شفاعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ سمجھتے تھے۔

صفر ۱۴۲۵ھ اپریل ۲۰۰۴ء میں بندہ کے والد صاحب کا انتقال ہوا تو حضرت رحمہ اللہ کے ہوتے ہوئے اپنے والد صاحب کی کمی اس شدت سے محسوس نہ ہوئی، آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر پر ایک سائبان اور چھت تھی جو ایک دم سے ہٹ گئی۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ آندھی اور طوفان کیا ہوتا ہے، لیکن نظامِ قدرت ایسا ہی ہے اس کے بغیر چارہ کار بھی نہیں۔

حضرت رحمہ اللہ نے ایک نشست میں ازراہِ شفقت فرمایا کہ ’’دیکھ بھائی میری زندگی تک تو ان شاء اللہ تجھے کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا، بعد میں بھی اللہ ہی حفاظت فرمائے گا‘‘۔ ایک موقع پر حضرت نے بڑے عجیب انداز میں فرمایا کہ ’’ابے! تو جتنا بھی مجھ سے لڑائی کر لے مجھے پتہ ہے نہ تو مجھے چھوڑ سکتا ہے اور نہ میں تجھے چھوڑ سکتا ہوں‘‘۔

اللہ سبحانه وتعالیٰ کا بے حد احسان و اک کرام ہے کہ حضرت کے وصال سے تقریباً پورے ایک ماہ قبل حضرت کے دفتر میں بیٹھے بیٹھے بغیر کسی سیاق و سباق کے اپنی گستاخیوں کو دھرا کر عرض کیا: میرا آپ کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوتا ہے ناراضگی یا گستاخی کا، بس وہ اوپر اوپر ہی سے ہے، اس سلسلہ میں میرا جواب وہی ہوگا جو حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنها نے سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ اب تک جو کچھ ہو گیا سب معاف فرما دیں۔ حضرت پہلے تو بہت حیران ہوئے کہ کس بات کی معافی؟ لیکن راقم کے اصرار پر بہرحال صراحۃً معاف فرما ہی دیا۔

حضرت رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ ’’ہمارے حضرت شیخ ہم سے راضی خوشی اس دنیا سے گئے‘‘۔ حق جل مجدہ کا کرم ہی کرم اور بے حد و حساب شکر ہے کہ الحمدللہ ہمارے حضرت بھی اپنی تمام اولاد اور خدام و متوسلین سے خوش ہو کر ہی دنیا سے تشریف لے گئے۔

اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے، حضرت امام الانبیاء سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوار نصیب فرمائے، ہماری بھی لاج رکھ لے اور ہم کو حضرت کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور روزِ قیامت ہم سب کو اپنے اسلاف کے سامنے سرخرو فرمائے۔ آمین۔