مضامین

خاندان میں وہ بے نظیر تھے

برادر کبیر محترم جناب حضرت حافظ فیروز الدین صاحب

برادرِ صغیر مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی دین کیلئے وقف کر دی تھی۔ ہمارے خاندان میں دینداری دعوت و تبلیغ کی مرہونِ منت ہے۔ مولانا یحییٰ صاحب نے بھی شروع میں عصری تعلیم کو خیرباد کہہ کر دعوت و تبلیغ کیلئے خود کو وقف کیا، پھر بعد میں وہ مدرسہ و خانقاہ کے ہو کر رہ گئے۔ اپنے شیخ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کے حکم پر وہ دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے حجازِ مقدس سے پاکستان آئے۔ تعلیم سے فراغت پاکر انہوں نے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسہ کی تأسیس میں ان کی قربانی عام سطح سے بڑھی ہوئی تھی۔

ہماری برادری اور علاقے میں دینی فضا اسی مدرسے کا فیضان ہے۔ ’’معہد الخلیل‘‘ کی ترقی حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور ان کے خلفاء کی توجہات کا ثمرہ ہے۔ میرے بچوں نے اسی مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ اسی مدرسے کی بدولت آج الحمدللہ اگر گھر میں ہم ختم قرآن کرانا چاہیں تو پندرہ منٹ میں گھر کے افراد ہی قرآن مجید مکمل کر لیں گے۔ ہمارے خاندان میں علماء و حفاظ کی کثرت ہے۔ یہ کثرت اللہ کے فضل و کرم، والد مرحوم کی شفقت اور مولانا یحییٰ صاحب کی محنت اور جان سوزی کا نتیجہ ہے۔

معہد الخلیل کی طرف رُخ کرنے والے طلبہ غیر اقامتی اور شہری ہوتے ہیں۔ یہ طلبہ دنیاوی وعصری ماحول سے نکل کر آتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو دینی تعلیم کی طرف لانا اور پھر انہیں علم و عمل اور صحیح تربیت سے آراستہ، سازگار اور ان کے مزاجوں کے مطابق فضا فراہم کرنا بڑی للہیت اور انتھک جد و جہد کا طلبگار ہے۔ مولوی صاحب اس طلب سے خوب احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوئے۔ مدرسے کی پوزیشن علم و تربیت میں ہمیشہ قابلِ تحسین رہی۔ وفاق المدارس کے امتحانات میں یہاں کے طلبہ نے پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔ دینی تعلیم کے لحاظ سے مولوی صاحب کی خاندان پر بھرپور شفقت رہی۔ الحمدللہ! اس وقت بنین و بنات کے دونوں مدرسوں میں اکثر اساتذہ خاندان ہی کے ہیں۔ یہ سب مولانا یحییٰ رحمہ اللہ کا فیضان ہے۔ ہماری برادری میں کسی قدر حفظ قرآن کا رواج تو پُرانا ہے، لیکن باقاعدہ دینی تعلیم کی تکمیل کی ریت مولوی صاحب ہی نے ڈالی۔ وہ دن رات مدرسے کا کھونٹا بنے رہے۔ نہ سردی دیکھی نہ گرمی، نہ صحت کو دیکھا اور نہ ہی بیماری کی پرواہ کی۔ اللہ ان کے لگائے ہوئے اس باغ کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔

ان کی معاشرت سادہ تھی۔ معاملات میں صاف تھے۔ جس کسی سے بھی کوئی معاملہ کرتے تو اس سے مکمل وضاحت طلب کرتے۔ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں آخرت کا محاسبہ دامن گیر ہوتا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کوئی شخص لین دین کے معاملات میں ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اس دور میں معاملات کی صفائی بہت بڑی بات ہے۔ میرے نزدیک ان کا امتیازی وصف ان کا مسجد میں کثرتِ قیام ہے۔ میں تو جب بھی ان کے پاس گیا انہیں مسجد میں قرآن کھولے تلاوت میں ہی مشغول پایا۔ یوں لگتا تھا کہ ان کا سکون و قرار اللہ کے گھر سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے یومیہ معمولات کے بارے میں سوچ کر میں تو ششدر رہ جاتا ہوں۔

گیارہ ماہ بعد کیا یاد دلا دیا گیا! ان کی جدائی کے زخم جو کچھ مندمل ہوگئے تھے، آج پھر تازہ ہوگئے۔ بہتی آنکھوں اور پارہ پارہ جگر کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ میرے عزیز ترین بھائی تھے۔ بھائیوں کی باهمی لازوال محبتوں کی مثالیں تو بہت ملیں گی، لیکن ہماری آپس کی محبت شاید بے نظیر تھی۔ کبھی کبھی معمولی سا اختلاف بھی ہوا لیکن وہ ہمیشہ ناپائیدار اور عارضی ہی رہا۔ میری اور ان کی عمر میں سال ڈیڑھ سال کا ہی تفاوت ہے۔ لڑکپن میں وہ میرا صرف چھوٹا بھائی تھا، پھر گزرتے وقت کے ساتھ اللہ نے انہیں بہت اونچا کردیا، بڑا باکمال انسان تھا۔ کاش ان کی یادوں کو اگر گیارہ ماہ قبل تازہ کرنے کا مجھے کہا جاتا تو شاید بہت کچھ ان کے بارے میں سامنے آجاتا۔ اب تو پیشانی سے اوپر سر کے اگلے حصے میں دو آپریشنوں نے یادداشت کو حد سے زیادہ کمزور کردیا ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ بعض دفعہ بات کرتے کرتے بھول جاتا ہوں کہ پہلے بات کیا کہی تھی۔

بڑے وثوق کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ اللہ نے ان سے کام لیا ہے۔ میں نے ان میں استغناء اور خودداری کا بہت مشاہدہ کیا ہے۔ میرے علم اور مشاہدے کے مطابق انہوں نے کبھی کسی کی طرف للچائی نظروں سے نہیں دیکھا۔ کسی سے کوئی توقع نہیں رکھی۔ اپنے لیے مال جمع کرنے کی حرص و ہوس نے ان کو کبھی نہیں ستایا۔ کسی کا دیا ہوا مال ذاتی مفادات میں وہ کبھی نہیں لائے۔ زبان کے وہ پکے تھے۔ جو کہتے اور جس وقت کا کہتے اسے پورا کرتے۔ ٹال مٹول اور ہیر پھیر سے ان کی طبیعت پاک تھی۔ وعدہ خلافی سے وہ گِھن کھاتے تھے۔ بڑے ہمدرد تھے۔ مجھے جان سے زیادہ چاہتے تھے۔ میری غمی و خوشی میں نمایاں دکھائی دیتے تھے۔ میرے لیے جو ہو سکتا کرتے۔ سچ کہہ رہا ہوں کہ میں تو ان سے بڑا متأثر تھا۔ الجھے معاملات کو سلجھانے کا انہیں خاص سلیقہ تھا۔

میں نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے متعدد رسائل اور کتب بھائی یحییٰ کے کہنے پر اپنے ذاتی خرچے سے چھپوائیں۔ کئی فلاحی کاموں کی طرف انہوں نے مجھے خرچ کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ امارتِ اسلامیہ قائم ہوئی تو متعدد بار انہوں نے مجھے مالی امداد روانہ کرنے کا کہا۔ بعض دفعہ تو کسی بڑے فلاحی کام کے بارے میں کہتے کہ ’’اس پر یہ خطیر رقم لگے گی، اس میں سے آدھی آپ نے دینی ہے‘‘۔ الحمدللہ! میں نے بھی ہمیشہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے سعادت سمجھ کر خرچ کیا۔ خود پسندی اور ریاکاری کا اندیشہ دامن گیر نہ ہوتا تو اس وقت ذہن میں جو کچھ آرہا ہے سب بتا دیتا۔ جامعیت یعنی ہر ایک کے مزاج اور نفسیات کو سمجھ کر اسے ساتھ جوڑے رکھنا بھی ان کی شخصیت کی قابلِ رشک صفت تھی۔

وہ ہمہ گیر انسان تھے۔ میں اگر یہ کہوں کہ ان کا جو معاملہ میرے ساتھ تھا وہ کسی سے نہ تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کے جانے کے بعد میں اپنی زندگی میں ایک بڑا خلاء محسوس کرتا ہوں۔ وہ بہت یاد آتے ہیں۔ میں دعوت و تبلیغ کی لائن کا آدمی ہوں، انہوں نے اپنی زندگی مدرسہ و خانقاہ میں کھپائی، فکر وطرزِ عمل کی اس انفرادیت نے کبھی ہماری ہم آہنگی کو ٹھیس نہیں پہنچਾਈ۔ میرے مشورے کو وہ اہمیت دیتے تھے۔ متعدد بار مختلف معاملات میں مشورے کیلئے مجھے بلایا۔ یہ ان کی حسنِ تربیت کا ثمر ہی ہے کہ صاحبزادگان نے ان کے جانے کے بعد نیاز مندی میں اضافہ ہی کیا ہے۔ اس میں کمی نہیں آنے دی۔ حرمین شریفین سے ان کو والہانہ لگائو تھا۔ مدینہ کی موت آخری دنوں میں ان کی شاید سب سے بڑی تڑپ تھی۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ اللہ نے ان کے جسدِ خاکی کو بعد از مرگ مدینہ منتقل کر ہی دیا ہوگا۔ مدرسہ و خانقاہ سے کلی وابستگی کے باوجود دعوت و تبلیغ سے کمال درجے کی انہیں محبت تھی۔

حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ہر وقت مسجد میں تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔ تلاوت کرتے کرتے تھک جاتے تو قرآن سننا شروع کر دیتے۔ قرآن سے یہی شغف میں نے مولانا یحییٰ صاحب میں دیکھا۔ مدرسے کی ذمہ داریوں سمیت دیگر اشغال کے باوجود میں تو جب بھی ان کے پاس گیا مسجد میں قرآن کھولے انہیں پایا۔

ہماری برادری میں جن صفات سے اللہ نے انہیں نوازا وہ کسی اور کے حصے میں نہ آسکیں۔ خاندان میں وہ ممتاز اور بے نظیر تھے۔ میں تو کہتا ہوں کہ وہ ہمارے خاندان میں ایک نعمت تھی جو اٹھ گئی۔ عجیب آدمی تھے وہ، فراغت کو تو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اب قبر میں ہی فراغت کے ساتھ محو آرام ہوں گے۔ میرے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ سے رابطے کا وہ ہی ذریعہ تھے۔ میں نے ایک بار مدینہ منورہ فون کر کے مولوی صاحب سے کہا کہ ’’میری طرف سے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمت میں دس ہزار ریال ہدیہ پیش کردیں‘‘۔ کہنے لگے کہ ’’میں پیش تو کردونگا لیکن حضرت شیخ کا قبول کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے‘‘۔ بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ’’میں نے آپ کا ہدیہ پیش کیا تو فرمانے لگے کہ ہدیہ تو قبول کرنے میں میں بڑی احتیاط کرتا ہوں، لیکن یہ ہدیہ چونکہ فیروز کی طرف سے ہے، اس لیے قبول کر لیتا ہوں، اسے بتادینا کہ تمہارا ہدیہ ’’صحیح بخاری‘‘ کی طباعت میں لگا دیا گیا ہے تاکہ تمہارے لیے ہمیشہ کا صدقۂ جاریہ بن جائے‘‘۔

ذکر کے شغل کو آخری دم تک مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آخری دنوں میں تو ڈاکٹروں نے بھی کہا کہ ان کے اعضاء تو جواب دے चुके ہیں، جسدِ عنصری نے تو کام چھوڑ دیا ہے، بس روحانی طاقت سے ہی ان کے سانس چل رہے ہیں۔

مجھے افسوس ہے کہ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اپنی شدید بیماریوں کی وجہ سے میں ان کی قربت سے محروم رہا۔ مجھے تو ان کے انتقال کا بھی پتہ نہیں چلا۔ میرے سر کے اگلے حصے کا ایک آپریشن ناکام ہو چکا تھا۔ دوسرے آپریشن کے انتظار میں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل تھا۔ ان کے انتقال کے کچھ گھنٹوں کے بعد مجھے ایک شخص نے کال کی کہ جنازہ کہاں ہے؟ میں نے بڑی حیرانگی سے پوچھا کہ بھئی! کس کا جنازہ؟ وہ کہنے لگے کہ کیا آپ حافظ صاحب ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ پوچھنے لگے: کہ آپ ہیں کہاں؟ میں نے کہا کہ بھئی! میں تو ہسپتال میں داخل ہوں۔ اتنا سن کر اس نے فون بند کردیا۔

اس کال نے میرے جسم میں سنسناہٹ کی ایک لہر دوڑا دی۔ میں نے اپنے کئی اعزہ کو فون کیا لیکن ہر ایک غمزدہ لہجے میں بات کو گول کرتا رہا۔ بالآخر ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ جب مجھے اپنے عزیز ترین بھائی کی جدائی کی اطلاع ملی تو مت پوچھیے اس وقت میری کیا کیفیت تھی۔ اس متاعِ عزیز کے چھن جانے پر میرے اندر کے کرب کو میں جانता تھا یارب۔ میں نے فی الفور اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت سول ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھے۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے وہ فوراً میرے پاس پہنچے، انہیں دیکھتے ہی میں نے کہا: ڈاکٹر صاحب! میں نے اپنے بھائی کی زیارت اور جنازے میں شرکت بہرصورت کرنی ہے۔ چاہے اس کی قیمت جو بھی مجھے ادا کرنی پڑے۔ ڈاکٹر صاحب نے دو ٹیسٹ کیے اور بولے: میں آپ کو آخری دیدار اور جنازے میں شرکت کی تو اجازت دے سکتا ہوں، لیکن آپ وعدہ کریں کہ قبرستان نہیں جائینگے۔

میں نے وضو کیا اور ہسپتال سے سیدھا بھائی کے گھر گیا۔ کھڑے ہونے کی سکت تو نہ تھی۔ میری کرسی میت کے قریب رکھ دی گئی۔ نمناک آنکھوں اور زخمی دل کے ساتھ ٹکٹکی باندھے میں بھائی کا دیدار کرتا رہا۔

اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے اور ان کے درجات بلند کرےَ۔ آمین۔