خود نوشت سوانح
حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ
اسمِ گرامی: محمد یحییٰ بن الحاج شیخ محمد یونس بن الحاج شیخ محمد صدیق بن الحاج شیخ عبدالرحمن رحمہ اللہ۔ میرے دادا صاحب جناب الحاج محمد صدیق رحمہ اللہ کی ذکور اولاد میں: تایا شفیق، تایا ابراہیم، تایا حافظ عثمان شہید (ان کے صاحبزادے جناب مشتاق صاحب بھی حافظ تھے)، تایا محمد یوسف، میرے والد شیخ الحاج محمد یونس اور میرے چچا شیخ الحاج محمد ایوب چھ حضرات تھے۔
ولادت
تقریباً مابین ۱۹۳۸ء تا ۱۹۴۰ء، متعین معلوم نہیں، کیونکہ لکھنے یا شہادۃ المیلاد بنوانے یا محفوظ کرنے کا رواج نہ تھا۔
خاندانی مزاج
بندہ کا تعلق دہلی کی پنجابی برادری کے ایک تاجر گھرانے سے ہے۔ اس برادری کا شعار صوم و صلوٰۃ کی پابندی، فریضۂ حج کی ادائیگی، علماء کے ساتھ محبت، ان کے درسِ قرآن کے حلقوں میں بیٹھنا اور ان کی خدمت و مدارات کرنا رہا ہے۔ اگر اس سے آگے بڑھے تو خاندان کے کسی ایک دو افراد کو قرآن پاک حفظ کرادیا۔ بس اس کے علاوہ تجارت میں مشغولی و انہماک، بچے اسکول میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ چھٹی کے بعد شام کو دکانوں پر بلا لیے جاتے ہیں، تاکہ بے کار فضولیات میں بھی نہ پڑیں اور ابتداء ہی سے تجارت گھٹی میں پڑے۔
میرے دادا، تایا، والد سب کے سب بسلسلۂ تجارت دہلی سے مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں آکر اقامت پذیر ہوگئے تھے۔ میری پیدائش لدھیانہ ہی میں ہوئی۔ لدھیانہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاندان کو ایک وجاہت اور غیر معمولی تجارتی شہرت عطا فرما رکھی تھی۔
ابتدائی تعلیم
پانچ برس کی عمر میں ایک استانی صاحبہ کے پاس ناظرہ قرآن شریف پڑھنے کے لیے بٹھایا گیا، جبکہ مجھ سے بڑے بھائی حافظ فیروز الدین صاحب ایک ممتاز قاری صاحب کے پاس قرآن پاک حفظ کر رہے تھے۔ بندہ کی طبیعت کا میلان اسکول کی طرف تھا، چنانچہ بغیر تکمیلِ ناظرہ کے اسکول میں داخل ہوگیا۔ ایک دو سال بعد تقسیمِ ہند کا سانحہ پیش آگیا، جس کی وجہ سے والدین کے ہمراہ لاہور اور اس کے بعد مستقلاً کراچی آنا ہوگیا۔
حضرت رائے پوری رحمہ اللہ کی زیارت
لدھیانہ میں سکونت کے دوران جبکہ میری عمر پانچ سات سال کے درمیان ہوگی، ایک مرتبہ حضرت شاہ مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کی آمد ہوئی تھی، میرے بڑے ماموں محمد الیاس مرحوم بھی ان کے ہمراہ تھے، بندہ کو بھی حضرت کی جائے قیام لے گئے تھے، اور تو کچھ سمجھ نہ تھی، صرف یہ یاد ہے کہ بہت سارے آدمی مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے اور بہت سارے وضو وغیرہ کر رہے تھے۔
تبلیغ میں شرکت اور تعلیم
کراچی میں آکر چوتھی جماعت میں پھر داخلہ لیا۔ ۱۹۵۶ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد کراچی کے سب سے بڑے مشہور کالج ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا اور انٹر سائنس تک تعلیم جاری رکھی، کہ میٹرک بورڈ کے امتحان میں ممتاز (First Division) کے ساتھ چند مضامین الجبرا، جیومیٹری، ٹرگنومیٹری میں مراتبِ شرف (Distinction) حاصل کی تھی، اور اسی دوران تبلیغی جماعت سے تعلق ہوگیا۔ اور یہ ہی تعلق بندہ کو دین کی طرف راغب کرنے والی سب سے پہلی شکل و حید تھی۔ اسکول کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کام سے بھی تعلق بڑھتا گیا۔ تین دن، چلہ اور اس سے بھی زیادہ وقت لگانے لگا۔ یہاں تک کہ ۱۹۵۹ء کے شروع میں مستقل اس ہی کام میں لگے رہنے کا ارادہ کر کے پاکستان کے تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں قیام کرلیا۔
حضرت شیخ قدس سرہ کی پہلی زیارت
اب رائے ونڈ ہی میں رہتے ہوئے حضرت جی مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ کے اسفار پاکستان اپنے مخصوص احباب حضرات: مولانا انعام الحسن، مولانا عبید اللہ صاحب، منشی بشیر احمد صاحب، میانجی محراب صاحب رحمہم اللہ وغیرہ کے ساتھ ہوتے تھے۔ ۱۹۵۶ء میں کراچی کے ایک سفر میں مکی مسجد میں قیام کے دوران بیعت کی سعادت حاصل کی۔ ۱۹۵۹ء کے آخر میں رائے ونڈ سے نظام الدین دہلی حاضری ہوئی تو حضرت اقدس حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی، کہ حضرت رحمہ اللہ کی سہارنپور سے دہلی تشریف آوری ہوئی تھی۔ حضرت والا کا ظاہری و باطنی حسن تو دیکھنے والے کو ایک دم فریفتہ و گرویدہ بنا ہی دیتا تھا۔ چنانچہ مجھ سیاہ کار کو بھی ایک قلبی محبت حضرت والا سے اسی وقت پیدا ہو گئی تھی۔
پہلی بیعت
بندہ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ سے بیعت تھا اور مستقل تبلیغ میں تھا۔ اس بنا پر حضرت جی رحمہ اللہ کی عنایات بھی بہت تھیں۔ ایک خاص بات جو حضرت جی رحمہ اللہ میں تھی وہ یہ کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے عاشق تھے اور دل سے مطیع تھے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کو اپنا محسنِ عظیم اور اپنے تبلیغی کام کا سرپرست سمجھتے تھے۔
ایک مرتبہ جبکہ بندہ اور مولانا عبدالمنان صاحب دہلوی رحمہ اللہ دوپہر کے کھانے کے بعد حضرت جی رحمہ اللہ کے پاس تھے اور حضرت آرام فرمانے کے لیے لیٹے تھے، بندہ پیر دبا رہا تھا اور مولانا سر پر تیل لگا رہے تھے، حضرت جی رحمہ اللہ نے (حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بارے میں) فرمایا کہ: ’’ہم ان بڑے میاں کے سامنے مر جائیں تو اچھا ہے، کچھ ہمارے لیے توبہ استغفار کرلیں گے‘‘۔
امامِ فن اور امامِ وقت
پھر فرمایا کہ ’’میرے والد صاحب مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت رائے پوری تو امامِ فن ہیں اور حضرت شیخ امامِ وقت ہیں‘‘۔
سفر حجاز میں معیت اور روضۂ اطہر پر حضرت کی حالت
۱۹۶۴ء کے حج کے سفر میں حضرت جی رحمہ اللہ حضرت شیخ رحمہ اللہ پر یہی اصرار فرما کر ہمراہ لے گئے کہ آپ میرے لیے تشریف لے چلیں، مجھے آپ کی معیت کی ضرورت ہے۔
اس سال بندہ بھی حجاز حاضر ہوا تھا۔ اب تک وہ منظر سامنے ہے کہ یہ مبارک قافلہ مکہ مکرمہ سے مدینہ پاک دو تین گھنٹے قبل الظہر پہنچا، مدرسہ ’’علوم الشرعیہ‘‘ میں قیام ہوا، مولانا اسعد مدنی مدظلہ العالی بھی موجود تھے اور حضرت شیخ رحمہ اللہ سے عرض کر رہے تھے کہ ’’یہ وقت حاضری کے لیے بہت موزوں ہے، روضۂ اطہر پر بھیڑ نہیں ہوگی‘‘، اور حضرت شیخ کا جواب تھا کہ بس یوسف کا انتظار ہے، کہ حضرت جی رحمہ اللہ غسل فرمانے چلے گئے تھے اور پھر حضرت جی رحمہ اللہ کو ہمراہ لے کر حاضری دی، اور مخصوص طرز کی جسم میں دھڑدھڑی پیدا ہوئی کہ سارا جسم کانپ رہا تھا، اب تک آنکھوں کے سامنے ہے۔
مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ کی تمنا
عرض یہ کر رہا تھا کہ حضرت جی رحمہ اللہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے اعلیٰ مقام کی وجہ سے اپنے تبلیغی احباب، کام کرنے والوں، خاص کر پُرانوں کے بارے میں دل سے چاہا کرتے تھے کہ وہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی صحبت میں وقت گزاریں، بعض کو بھیجتے ہوئے بھی دیکھا۔ مجھے جب میرا ۳ ماہ کا قیام بستی نظام الدین دہلی میں اسی کام کے سلسلہ میں تھا اور حضرت جی رحمہ اللہ ایک سفر پر تشریف لے جارہے تھے، بندہ کے پاس ویزا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے معیت سفر کی سعادت نہ مل سکی تھی، تو گاڑی پر سوار ہوکر رخصت کے مصافحہ کے وقت فرمایا: ’’سہارنپور چلے جانا اور جتنا جی لگے ٹھہر جانا، اللہ تعالیٰ متمتع فرمائے‘‘۔
میرے ایک دوست بھائی برکت اللہ صاحب رحمہ اللہ کو (جن کا قیام ہمارے ساتھ رائے ونڈ ہی میں تھا اور حضرت جی رحمہ اللہ سے بیعت تھے اور ذکر و شغل کا اہتمام کرنے لگے ہمارے ساتھ تھے) تحریر فرمایا کہ ’’اپنے ذکر و شغل کے احوال حضرت شیخ رحمہ اللہ کو لکھتے رہیں اور جیسے حضرت ارشاد فرمائیں اس پر عمل کرتے رہیں‘‘۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ کی شفقتیں
بندہ نظام الدین میں حجرہ کے متصل مسجد کی پہلی صف کے کونے میں نماز پڑھتا تھا اور حضرت شیخ رحمہ اللہ کو بھی اس طرف سے مسجد میں آنے میں سہولت رہتی تھی۔ اس لیے بندہ حضرت والا کے لیے پہلی صف میں خوب وسیع جگہ رکھتا تھا۔ حضرت والا کا جسم بھاری تھا اور بندہ دبلا پتلا۔ بندہ تو حضرت والا کی آمد پر پیچھے دوسری صف میں ہٹ جاتا، حضرت والا سنت وغیرہ پڑھتے، لیکن جب جماعت کھڑی ہوتی تو حضرت والا کھڑے ہو کر ذرا سا اپنے ایک طرف کو جھک کر اشارے سے مجھے بھی بلا لیتے اور بندہ گویا کہ حضرت والا کی بغل میں کھڑا ہوجاتا۔
کھانے پر بھی یاد فرماتے، ایک دفعہ فرمایا کہ ’’بھائی یحییٰ! پیارے تو کہاں؟ یہاں تو مال ہو رہا‘‘۔
ایک دفعہ فیصل آباد ماہِ مبارک میں حضرت اقدس حضرت رائے پوری رحمہ اللہ کی خدمت میں ایک دو شب کے لیے حاضر ہوا۔ غالباً یہ حضرت رحمہ اللہ کا آخری رمضان تھا۔ وہاں ذاکرین اور ذکر کی صدائیں دل کو بے خود کئے دیتی تھیں۔ حضرت کی زیارت و مصافحہ کے بعد نمازِ عصر خصوصی سفارش پر مولانا عبدالمنان صاحب مرحوم خادمِ خاص نے کروائی۔ حضرت کی اتنی معذوری تھی کہ ہاتھ تک بھی مصافحہ کے لیے نہ اٹھا سکتے تھے، نہ کھڑے ہو سکتے تھے، لیکن تکبیر تحریمہ کے بعد عشق کی بجلی اور تعلقِ مولا کا کرنٹ قیام، رکوع، سجدہ سب کروا دیتا اور سلام پھیرنے کے بعد ویسے ہی بے جان۔ اللہ رے، قسمت! نہ جب شعور تھا کہ یہ کیا ہے اور نہ اب ہے۔ خداوندِ قدوس مرنے سے پہلے سمجھ اور حقیقت نصیب فرمادے تو ان کا فضل و کرم، ورنہ اپنے سے تو ۔۔۔۔
تبلیغی سرگرمیاں
کالج میں انٹر سائنس تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد رائے ونڈ قیام کرلیا۔ ۵۹ء تا ۶۴ء رائے ونڈ، نظام الدین، حجاز، اردن، شام، عراق، کویت، بحرین، سوڈان، حبشہ جماعتوں کے ساتھ آنا جانا رہا۔ حضرت والا سے محبت کی وجہ سے ہندوستان جب نظام الدین کے قیام کے لیے جانا ہوتا تو راستے میں سہارنپور حضرت شیخ رحمہ اللہ کے یہاں چند یوم قیام کرتا اور کبھی نظام الدین کے دوران حضرت جی رحمہ اللہ کہیں سفر پر تشریف لے جاتے تو بندہ ہفتہ عشرہ کے لیے اجازت لے کر سہارنپور آجاتا تھا۔
سہارنپور کی حاضری میں بندہ کا معمول
یہاں حضرت رحمہ اللہ کی عنایات خوب ہوتیں۔ صبح چائے کے بعد کچے گھر کے کوٹھے پر حضرت کے دار التصنیف کے بالمقابل بیٹھ کر ذکر کرتا۔ ظہر تا عصر دو گھنٹے حضرت کے درسِ بخاری شریف میں اور عصر کے بعد عمومی مجلس میں شرکت رہتی۔ مغرب کے بعد حضرت والا کے پیچھے بیٹھتا۔ بخاری شریف ہی کے درس میں حضرت والا سے نسبت کی اقسام اربعہ سنی تھیں۔ غالباً حدیثِ جبرائیل کی تشریح کے موقع پر ارشاد فرمائی تھیں۔
مراقباتِ ثلاثہ
ایک روز مغرب کے بعد تخلیہ لے کر مراقبہ پوچھا تو مراقبۂ معیت، دعائیہ اور ’’اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض‘‘، ہر سہ مراقبات کو مختصر بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ ’’جس میں جی لگے کر لیا کرو‘‘۔ الغرض بندہ کو تو حضرت والا سے خوب محبت ہو گئی اور حضرت رحمہ اللہ بھی بندہ کو اچھی طرح پہچاننے لگے۔
حضرت جی رحمہ اللہ کے وصال کے بعد حضرت شیخ رحمہ اللہ سے بیعت
جیسے کہ عرض کیا کہ پہلی زیارت تو حضرت رحمہ اللہ کی نظام الدین میں ۱۹۵۹ء میں (جبکہ بندہ کی عمر ۱۹، ۲۱ سال کے درمیان ہوگی) ہوئی، لیکن بندہ حضرت جی مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ سے بیعت تھا۔ ۱۹۶۴ء میں حضرت جی کا وصال ہو گیا، بندہ اس وقت مدینہ پاک میں تھا۔
۶۵ء میں حبشہ جماعت میں گیا، آخر میں حجاز واپسی ہوئی۔ ۶۶ء میں شام، اردن، پاکستان ہوتے ہوئے پھر حجاز واپسی ہوئی تو حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب مدظلہ العالی مع حضرت رحمہ اللہ حجازِ مقدس تشریف لائے، تو اس وقت بندہ نے حضرت کے ایک بہت ہی قریبی عزیز الحاج بھائی شمیم مسعود بن شیخ سلیم صاحب رحمہ اللہ مدیر مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے واسطے سے اپنے تعارف کے ساتھ کہ میں سہارنپور حاضر ہوتا رہا ہوں، بیعت کی درخواست کی، حضرت رحمہ اللہ نے جواباً کہلوایا کہ:
’’میں اسے خوب جانتا ہوں، اس سے کہہ دینا کہ یوسف کی بیعت میری ہی بیعت تھی، کہ میں نے ہی اسے بیعت پر کھڑا کیا تھا، اب اگر اس کی طبیعت میری طرف ہے تو خدمت کے لیے میں بھی حاضر ہوں‘‘۔
پھر کیا تھا! دوسرے ہی دن بعد نمازِ فجر میں مدرسہ صولتیہ کے دیوان میں جہاں حضرت شیخ کی مجلسِ ذکر ہوتی تھی، حضرت قاضی عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ کے ہمراہ حاضر ہوا، قاضی صاحب سے حضرت والا نے الفاظِ بیعت و توبہ کہلوائے، ایک ساتھی نے عرض کیا کہ یہ ذکر بالجہر بھی کرتا ہے۔ ایک لمحہ کیلئے گردن جھکائی پھر سر اٹھا کر فرمایا: ’’مبارک ہے، کرتے رہو‘‘۔ عرض کیا کہ ایک دفعہ خود تلقین فرما دیں اگرچہ میں پہلے سے کر رہا ہوں اور حضرت والا کے خدام کو کرتا ہوا بھی دیکھتا ہوں، فرمایا: ’’بہت اچھا‘‘۔ دوسرے دن صبح تلقین فرمائی، بس اس طرح غلامی میں داخل ہوگیا۔
اب حضرت رحمہ اللہ کے قیامِ حرمین کے دوران مجلس ذکر اور مجلس عمومی میں ضرور شریک ہوتا۔ اس کے علاوہ کے اوقات میں تبلیغی معمولات میں حصہ لیتا۔
رہی یہ بات کہ حضرت والا کا انتخاب بیعت کے لیے کیوں کیا؟ تو اصل تو تقدیرِ ازلی، دوسرے یہ کہ بندہ نے جو مشائخ حضرت رائے پوری اور حضرت جی رحمهم اللہ دیکھے ان کا وصال ہو چکا تھا، حضرت شیخ رحمہ اللہ کی صحبت میں عنایات اٹھا چکا تھا۔ اس کے علاوہ اکابرین نظام الدین: حضرت قاری دائود صاحب، حافظ اسماعیل، مولانا عبید اللہ صاحب مدظلھم اور حضرت جی رحمہ اللہ کی صحبت سے حضرت رحمہ اللہ کی عظمت و عقیدت دل میں پیدا ہو چکی تھی۔
قاری دائود صاحب فرماتے تھے کہ ’’حضرت شیخ کا تبلیغ کے کام پر بہت احسان ہے‘‘۔ حافظ اسماعیل صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ’’تبلیغ کے کام کی ابتدائی مجلسِ شوریٰ، اکابرین کے درمیان کچے گھر کے کوٹھے پر حضرت شیخ کے دار التصنیف میں ہی ہوئی تھی‘‘۔ اس سب سے بڑھ کر اپنے شیخ حضرت جی مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ کے یہاں حضرت شیخ رحمہ اللہ کی عظمت اور اعلیٰ مقام کا ہونا دیکھتا اور سنتا رہا تھا۔
مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ کا انقیاد و امتثال
ایک دفعہ بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) میں تبلیغی اجتماع طے تھا۔ حضرت جی رحمہ اللہ کا تشریف لے جانا متعین تھا۔ پاسپورٹ، ویزا وغیرہ کی تکمیل ہو چکی تھی۔ پاکستان سے ایک جماعت الحاج محمد امین صاحب امیر مکی مسجد کی سرپرستی میں حضرت جی رحمہ اللہ کو لینے کے لیے نظام الدین آئی۔ حضرت جی رحمہ اللہ اس جماعت کو لے کر سہارنپور تشریف لائے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی زبانِ مبارک سے یہ فقرہ نکلا کہ ’’پیارے یوسف! تیرا اس وقت جانا میرے سمجھ میں تو آتا نہیں‘‘۔
پھر کیا تھا! طبیبِ قلب سفر منسوخ اور فطری و طبعی ملال کے آثار جو نمایاں تھے اس کے باوجود جماعت کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ’’جب تک حضرت شیخ مجھے جانے کا حکم نہیں فرمائیں گے میرا جانا اللہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے نفس کے لیے ہوگا‘‘۔
گویا کہ میرے شیخ اول حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب نور اللہ مرقدہ واعلیٰ اللہ مراتبہ میرے اندر رجوع الی الشیخ کی رغبت پیدا فرما گئے تھے۔
شغلِ معاش اگر ضرورت ہو
چونکہ بندہ کا قیام حجاز میں ہی تھا، پہلے ہی سال یعنی بیعت کے چند ماہ بعد ہی سہارنپور ماہِ مبارک کے لیے حاضری ہوئی اور اس کے بعد بھی ایک چلہ حضرت کے پاس رہا، چلتے ہوئے بندہ نے حضرت رحمہ اللہ سے یکسو ہو کر صرف ذکر شغل کرنے کی اجازت چاہی، فرمایا کہ ’’معمولات کے اہتمام اور پابندی کے ساتھ تبلیغی کام میں بھی شرکت کرتے رہو‘‘۔ معاش کے سلسلہ میں مدینہ پاک سے دو ایک گھنٹے پارٹ ٹائم کے طور پر ٹائپ کا کام کرنے کی اجازت چاہی، فرمایا: ’’فی الحال تو تمہارے لیے کسی مشغلہ کی رائے نہیں۔ ہر شبِ جمعہ کو استخارہ اہتمام سے کرتے رہو‘‘۔ مزید یہ فرمایا کہ ’’والدین سے جو کچھ ملتا ہے اس میں تدبیر و انتظام کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کرو۔ دوسروں کو جب تک عطایا وغیرہ نہ کرو جب تک اللہ کی طرف سے تم پر ہدایا کا دروازہ نہیں کھلنے‘‘۔
سفرِ سہارنپور کے لیے قرض کی اجازت
مدینہ پاک سے خط و کتابت جاری رکھی۔ حضرت کے بھی شفقت نامے جواباً خوب آتے۔ ’’اکمال الشیم‘‘ وغیرہ کا پڑھنا، معمولات کی پابندی اور محترم بزرگ صوفی محمد اقبال صاحب رحمہ اللہ سے ملتے رہنے پر خوشی کا اظہار فرماتے، بلکہ اس میں ازدیاد کے لیے گرامی نامے مشترک دونوں کے نام ارسال فرماتے۔
دوسرے سال ۶۸ء ماہِ مبارک میں سہارنپور کی حاضری کے ارادے کا اظہار کر کے عرض کیا کہ ویزے کی دشواری ہے اور سفر کے لیے قرض بھی لینا پڑے گا۔ مدینہ پاک جواب آیا کہ ’’ویزے کی دشواری تو اہم بات ہے، اللہ تعالیٰ آسان فرمائے۔ رہا قرض، تو تم دوستوں کو فکر نہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دار الكفر میں رہنے والوں کو بھی روٹی دیتا ہے، تم تو حرمین میں ہو‘‘۔ اس جواب کو اجازت و ترغیب پر محمول کر کے تیاری شروع کی۔ بفضلہ تعالیٰ بسہولت قرض کا بھی انتظام ہو گیا اور ویزا بھی مل گیا۔
میری طلب بھی کسی کے کرم کا صدقہ ہے
مبشرات
اس سے پہلے مدینے پاک میں چند خواب دیکھے:
۱۔ دیکھا کہ حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمہ اللہ نے ڈانٹ کر بندہ کو ارشاد فرمایا کہ ’’جائو حضرت شیخ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی لے کر آئو‘‘۔ چنانچہ خواب میں ہی ایک انگوطھی کا بطورِ نشانی ملنا یاد ہے۔
۲۔ ایک روز بعد نمازِ فجر مدینہ پاک میں لیٹا تو جاگتے میں دیکھتا ہوں کہ گویا کہ میں حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کے جسم میں ہوں اور سورج پوری روشن ٹکیا کی صورت میں میرے سرہانے کی طرف سے آسمان کی طرف اُٹھ رہا ہے۔
۳۔ دیکھا کہ کشمیر کی طرف جماعت میں گیا ہوں اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک جگہ ہماری دعوت ہے، روٹیاں بغیر پکانے والے کے پکی پکائی تندور سے نکل رہی ہیں، بندہ نے کھانے سے فراغت پر خواب ہی میں سوچا کہ کچھ تبرک اپنی اہلیہ اور والدین کے لیے بھی مانگ لوں۔ پھر خیال آیا کہ سوال تو بُری بات ہے، معاً یہ خیال بھی آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں حرج نہیں۔ چنانچہ عرض کیا، ایک روٹی میرے پیالے میں ڈال دی گئی، جس نے عمدہ قسم کے شاہی ٹکڑے کی صورت اختیار کر لی۔ گویا کہ بندہ اوپر سے اونچان سے تیزی سے نیچے کی طرف اترتا ہوا آیا، اہلیہ کھڑی انتظار کر رہیں تھیں ۔ میں نے تبرک میں سے اہلیہ اور والدین کا حصہ لگایا۔
ماہِ مبارک میں حاضری
الغرض ۶۸ء کے رمضان المبارک کیلئے سہارنپور ماہِ مبارک سے چند یوم قبل حاضری ہوگئی تھی، حضرت والا نے گلے سے لگایا، میری اس وقت دل سے یہ دعا تھی: ’’یا اللہ! جس طرح آپ نے ولی سے ملایا ہے ان کے واسطے سے اپنے سے ملا دیجئے‘‘۔
ماہِ مبارک میں حضرت کے معتکف کے بالکل پیچھے خوب اہتمام کے ساتھ معمولات میں مشغولی رہی۔ آپس کی مجلس اور بات چیت سے خوب اجتناب رکھا۔ اس ماہِ مبارک میں ایک خاص یہ بات نصیب ہوگئی تھی کہ ہر وقت اٹھتے بیٹھے چلते پھرتے حضوری کی سی کیفیت رہتی، گویا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں، اور جب نماز کی جماعت کھڑی ہوتی تو حضرت الحاج ابو الحسن رحمہ اللہ اشارے سے پہلی صف میں حضرت والا کے پاس بلا لینے۔ غالباً منشائے مبارک سے ہی بلاتے ہوں گے، پوچھنے پاچھنے کی زیادہ نوبت نہ آئی۔
تربیتی ارشادات
ایک مرتبہ معتکف میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ کبر بہت ہے۔ فرمایا کہ ’’کس میں نہیں ہے؟ نکل جائے گا، کام کرتے رہو‘‘۔
ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ویرانہ مکان ہے اور بہت سے سانپ جگہ جگہ ہیں، بندہ ان کو مار رہا ہے۔
ایک دفعہ حضرت والا سے عرض کیا کہ مجلس میں حضرت والا کے ارشادات سن کر دل کی کیفیت بدل جاتی ہے اور مرمٹنے کے جذبات و عزائم پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن یہ کیفیت ہمیشہ باقی نہیں رہتی (اس رمضان میں حضرت رحمہ اللہ مغرب اور عشاء کے درمیان کی مجلس میں خود کچھ واقعات اپنے اور کچھ اپنے اکابر کے سنایا کرتے تھے) ہنس کر فرمایا کہ: ’’بھئی! ہمارا تو جذبہ بھی نہیں بنتا‘‘۔
اعتکاف میں ہی ایک دن عرض کیا کہ طبیعت چاہتی ہے کہ یکسوئی سے ایک عرصے تک حضرت والا کے پاس رہ لوں؟ فرمایا کہ ’’بھائی اصل تو کام ہے۔ البتہ اتنی بات ہے کہ کسی نہ کسی دہانے سے جڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم جڑے ہوئے ہو‘‘۔
بندہ کیونکہ مستقل تبلیغ میں تھا، اس لیے ایک دن بندہ کو اور ایک خاص تعلق دار حضرت مولانا احسان الحق صاحب رائے ونڈ والے کو بہت اہتمام سے متوجه کر کے فرمایا کہ: ’’غور سے سنو! اگر کوئی شخص تبلیغ میں نہ لگتا ہو اور ذکر شغل کرتا ہو اسے حقیر نہ جانیو‘‘۔ ماہِ مبارک بہت کیفیات اور انوارات کے ساتھ گزرتا رہا۔
شب قدر کا اعلان
اکیسویں شب کی مغرب میں بارش ہوئی، حضرت والا پر جلال تھا، عشاء کے بعد تراویح و کتاب سے فراغ پر فرمایا کہ ’’پیارو! کچھ کر لو۔ آج شب قدر ہے‘‘۔
معتکف کے اندر جا کر چند خصوصی خدام جو تیل لگاتے اور بدن دباتے تھے ان کو بھی تھوڑی ہی دیر بعد رخصت فرما دیا کہ ’’جائو! کچھ کر لو‘‘۔ حضرت مولانا احسان الحق صاحب نے عرض کیا: حضرت والا نے تو آج شب قدر ہونا فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ’’مجھے تو مغرب کے فرضوں میں ہی خیال ہوگیا تھا اور پھر بارش نے میرے اس خیال کو اور مؤکد کر دیا‘‘۔ سالکین وطالبین سب مشغول ہوگئے۔
خلافت
حسبِ معمول سحری شروع کی۔ سحر سے فراغ پر الحاج ابو الحسن آئے اور آواز دی کہ ’’بھائی یحییٰ! حضرت یاد فرما رہے ہیں‘‘۔ بندہ معتکف میں حاضر ہوا۔ حضرت رحمہ اللہ حضرت اقدس سہارنپوری والا ان ہی پیچوں پر سلا ہوا سبز عمامہ باندھے ہوئے مراقب تھے، الحاج احمد ناخدا افریقی ثم مدنی مدظلہ العالی قریب میں بیٹھے ہوئے تھے، اور دو زرد رنگ کے مصلے حضرت رحمہ اللہ کے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ نیز پہنچنے پر حضرت رحمہ اللہ نے پوچھا کہ ’’آگئے؟‘‘ اور اس کے بعد میرا اور الحاج احمد ناخدا صاحب کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے جو حسنِ ظن تم دونوں سے پیدا فرمادیا ہے اس حسنِ ظن کے ساتھ تم دونوں کو بیعت کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔
کچھ رقت طاری ہوئی تو تسلی فرمائی کہ ’’اللہ تمہاری بھی مدد فرمائے اور میری بھی مدد فرمائے‘‘۔ ایک ایک مصلّٰی ہم دونوں کو عنایت فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ ’’یہ اس لیے ہے کہ تاکہ یہ سلسلہ آگے چلے‘‘۔
شرفِ خدمت
۶۹ء میں حضرت رحمہ اللہ طویل قیام کی نیت سے حجاز تشریف لائے، تقریباً دس ماہ قیام رہا، اس پورے قیام میں حضرت کے ساتھ ہی رہنا ہوا، بلکہ ابو الحسن دوماہ کے لیے ہندوستان گئے تو ان کی جگہ ہمہ وقت رات دن مستقل خدمت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضرت رحمہ اللہ نے خوب ہی اظہارِ خوشی، عنایات اور دعائوں سے نوازا۔ ایک دفعہ فرمایا کہ ’’یہ ہر وقت میرے پاس مسجد نبوی میں بیٹھا رہتا ہے، میں اس کی، اس کی اہلیہ اور اس کے والدین کی طرف سے صلوٰۃ و سلام عرض کرتا رہتا ہوں‘‘۔
متوسلین کے لیے روضۂ اطہر پر سفارش
ایک دفعہ کہلوایا کہ ’’اہتمام سے کام کرتے رہو، میں دوستوں کی طرف سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ یہ میرے لونڈے ہیں، ان سے کام لیا جائے‘‘۔
سفارش قبول
رمضان بھی امسال نصف مکہ مکرمہ میں اور نصف مدینہ پاک میں گزرا۔ آخری عشرہ کا اعتکاف مسجد نبوی میں ہوا۔ بندہ نے ایک روز خواب دیکھا کہ ’’ہم حضرت کے مہمانوں کو کھانا کھلا رہے ہیں، اور ہم سے کہا گیا کہ تم लोग अंदर آکر کھانا کھالو۔ چنانچہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنها کے حجرۂ مبارکہ والے راستے سے اندر لے جایا گیا اور کھانا کھلایا گیا، جالی مبارک کے اندر بیٹھ کر مقام کی عظمت کے خیال سے بہت ہی حیا اور شرم محسوس ہوئی‘‘۔
دینی عربی تعلیم کی بسم اللہ
اسی سفر میں بندہ نے حضرت سے ایک روز تخلیہ مانگا۔ فرمایا کہ ’’تُو تو ہر وقت ساتھ رہے، جب چاہے‘‘۔ چنانچہ ایک روز بندہ نے عرض کیا کہ کالج کی تعلیم حاصل کی تھی اب علمِ دین پڑھنے کی خواہش ہے۔ گزر اوقات وغیرہ کی تفصیل پوچھنے کے بعد خوشی سے اجازت فرمادی اور ایک روز اقدامِ عالیہ میں بسم اللہ کرائی۔ میں نے عرض کیا کہ صلوٰۃ و سلام میری طرف سے پیش فرما کر بسہولت تکمیل کی دعا بھی فرمادیں ۔ فرمایا کہ ’’کردی‘‘۔
چنانچه شوال ۷۰ء میں حضرت کی ہندوستان تشریف بری ہوئی۔ بندہ مع اہلیہ و بچی کے کراچی آگیا۔
درسِ نظامی کی تکمیل
۷۰ء سے ۷۴ء تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں طالبعلم رہا۔ اس اثناء میں کئی مرتبہ عمرہ اور حج کے عنوان سے حجاز حاضری ہوئی۔ حضرت کی برکت سے اہلِ مدرسہ خصوصاً حضرت شیخ الحدیث العلامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ بانی جامعہ نے بہت ہی شفقت اور عنایت فرمائی۔ بخاری شریف آپ ہی سے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
حجازِ مقدس واپسی
تعليم سے فراغ پر رمضان ۷۴ء میں مع اہل و عیال کے پھر مدینے پاک واپسی ہوئی اور ہر وقت کا حاضر باش ہوگیا۔ مجلس ذکر، مجلس عمومی، حرم شریف کی نشست اور خدمت میں شرکت روزانہ کا معمول بن گیا، کبھی کوئی خواب عرض کر دیا، کبھی کوئی ذاتی بات پوچھ لی۔
مدینہ طیبہ میں مکتب کا قیام
حضرت کی زیر سرپرستی اور مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی اور صوفی محمد اقبال صاحب مدنی زادمجدہما کی معیت میں ایک مدرسہ تحفیظ القرآن کھولا تھا۔ حضرت اقدس اس کے حالات خود بھی سنتے اور خوب ہی مالی اعانت فرماتے۔ دو تین سال تک مدرسہ رہا، اساتذہ بھی بدلے، سب سے پہلے سال حضرت مولانا قاری امیر الدین صاحب خلیفۂ مجاز حضرت اقدس بھی مدرس رہے۔ بندہ کے پسر اکبر مولانا محمد الیاس صاحب ان ہی کے پہلے شاگردِ رشید ہیں۔ لیکن اپنی ہی بداعمالیاں اور کچھ ملکی قوانین کہ مدرسہ بند کرنا پڑا۔
علم، تصوف، تبلیغ میں ترتیبِ مراتب
شروع میں تو حضرت والا مسجد نور کے ہفتہ واری تبلیغی اجتماع میں بندہ کا جانا بہت ہی ضروری فرماتے تھے، ایک دفعہ فرمایا کہ ’’میرے خیال میں تو اہتمام کر، اور اگر ارادہ نہ ہو تو کہیں خانقاہ لے کر بیٹھ‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے، فرمایا: ’’بڑے شوق سے‘‘۔ اور فرمایا کہ ’’اپنے لیے تو میں سب سے پہلے درجے میں علم میں لگنا پسند کرتا ہوں اور اس کے بعد تصوف، اور پھر تبلیغ‘‘۔
ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ’’میرے اکابرین کا اصل مشغلہ تو پڑھنا پڑھانا رہا‘‘۔
میرے پاس رہنا تبلیغ سے کم نہیں
آخری سالوں میں حضرت رحمہ اللہ بندہ کا اپنے پاس رہنا پسند فرماتے تھے۔ ایک دفعہ فرمایا: ’’میرے پاس رہا کر، تاکہ تجھے علم یا بزرگی کا فائدہ ہو‘‘۔
میرے ایک خواب کی تعبیر میں ارشاد فرمایا کہ ’’میرے پاس رہنے کو تبلیغ میں ہی سمجھیو! کم نہ سمجھیو!‘‘۔
حضرت رحمہ اللہ کے علاوہ، سوائے تبلیغی کام کے کسی اور کام یا تنظیم سے کبھی مناسبت نہ ہوئی، اگرچہ اپنے حضرت کی جامعیت کی برکت سے ان میں سے بہت سوں کو حق اور ضروری سمجھنے لگا ہوں۔ خداوندِ قدوس سے دعا بھی کرتا رہتا ہوں کہ حق تعالیٰ کسی اہلِ حق بندے کی یا کسی حق کام کی مخالفت نہ کرائے اور ان سے محبت کرنے والوں میں اٹھائے۔
اسفار میں رفاقت
۷۴ء کے بعد سے ماہِ مبارک ہمیشہ حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ گزرا اور منشائے مبارک بھی یہ ہی پایا۔ حجاز، سہارنپور، فیصل آباد اور آخری رمضان اسٹینگر (جنوبی افریقہ) حضرت والا کے لندن کے پہلے سفر اور آخری حج اور سہارنپور کے آخری سفر کے بعد بحالتِ علالت کراچی سے حجاز مقدس کے سفر میں صحبت و رفاقت نصیب ہوئی۔
جامعہ بنوری ٹائون میں تدریس
افریقہ کے رمضان میں حضرت والا سے اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں کراچی قیام کے دوران جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں تدریس کا مشورہ کیا، خوشی کا اظہار اور اجازت فرمائی۔ دو سال جامعہ میں ابتدائی مدرسی کی خدمت پر مامور رہا۔ حجازِ مقدس کے اقامہ کے سبب سے سال میں دو ایک دفعہ حرمین کی زیارت بھی نصیب ہوجاتی ہے اور حضرت کے بعض خواص مقیمین کی ملاقات و صحبت بھی۔
کراچی میں اللہ تعالیٰ نے وسیع مکان عنایت فرمایا، جس میں انہی کے فضل وتوفیق سے ایک مدرسہ تحفیظ القرآن کھولا تھا۔ اس میں آگے ترقی ابتدائی کتب کی تدریس سے دورۂ حدیث اور دار الافتاء تک ہونی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسان فرمائے۔ وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز۔
مادی اعانت و عطایا
حضرت کی مادی عنایات بھی مجھ سیاہ کار پر بہت رہیں۔ سہارنپور حاضری اور مدینہ پاک کے قیام میں کھانے کا تو مستقل مہمان شیخ رحمہ اللہ کے یہاں رہتا ہی تھا۔ آٹھ دس سالہ مدینہ کے قیام میں رات کا کھانا بجز بیماری یا کسی عذر کے گھر کھانا یاد نہیں۔ اس کے علاوہ نقد رقوم بندہ کے لیے، اہلیہ، بچوں کے لیے مختلف عنوانات سے ملنا خوب یاد ہے۔
ایک دفعہ جبکہ بندہ مدینہ پاک میں مکان تعمیر کروا رہا تھا اور پیسے کی سخت تنگی و ضرورت تھی، یاد فرمایا اور کمرہ بند کر کے ارشاد فرمایا کہ ’’تم مکان تعمیر کروارہے ہو پیسوں کی ضرورت ہوگی، میرے پاس اس وقت یہ رقم ہے، فی الحال ضرورت بھی نہیں‘‘۔ دس ہزار ریال صوفی اقبال صاحب المحترم سے (کہ وہ اس وقت حضرت کے خزانچی اور حساب کتاب رکھنے والے تھے) دلوائے، جو بندہ نے دو تین سال کے بعد حضرت کو ادا کیے۔ اس کے علاوہ ٹوپی، مصلّٰی، گرم چادر، جبہ، عطر، کمری، کتنی ہی چیزیں حضرت کی مستعمل، جو حضرت نے عنایت فرمائیں، یادگار ہیں۔