اِک شجر سایہ دار
حضرت مولانا مفتی محمد شاہد صاحب دامت بركاتھم العالیہ
خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ
حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ سے احقر کا قدیم تعلق اور رشتہ داری ہے۔ گہرا تعلق تو لگ بھگ نصف صدی پر محیط ہے اور رشتے داری میں ان کی والدہ میرے والد ماجد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ ۱۹۶۷ء میں میں نے پہلا حج حضرت مولانا رحمہ اللہ کی معیت بلکہ رہنمائی میں کیا۔ پہلا حج ہونے کی وجہ سے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا، انہی کی قدم قدم پر رہنمائی نے زندگی کے اس پہلے مبارک سفر کو آسان بنایا۔ اسی مبارک سفر میں حضرت مولانا رحمہ اللہ نے مکہ مکرمہ میں مجھے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ سے بیعت کروادیا۔ احقر کا حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے تعلق حضرت مولانا رحمہ اللہ کے ہی مرہونِ منت ہے۔
جامعہ بنوری ٹائون میں حضرت مولانا کا زمانۂ طالبعلمی میرے سامنے گزرا ہے۔ دورہ حدیث میں محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے درس بخاری کی عبارت حضرت مولانا پڑھتے تھے۔ زمانۂ طالبعلمی میں فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ سے ان کا خاص تعلق تھا۔ اپنے ہر کام کا مشورہ اور رہنمائی وہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ سے ہی لیتے تھے۔ مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ کو ناشتے میں نہاری بڑی پسند تھی۔ حضرت مولانا یحییٰ مدنی رحمہ اللہ وقتاً فوقتاً حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی اس پسند کو دسترخوان کی زینت بنایا کرتے تھے۔ بعض دفعہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ شام کو حضرت مولانا سے کہتے: ’’بھائی یحییٰ! (تب حضرت مولانا، ’’بھائی یحییٰ‘‘ سے ہی طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یاد کئے جاتے تھے) کل فجر کا دوسرا سلام نہاری کی دیگ پر ہوگا‘‘۔
غالباً ۱۹۷۴ء کے بعد سے ایک عرصے تک حضرت مولانا سے میرا تعلق منقطع رہا۔ پھر حضرت صوفی اقبال صاحب رحمہ اللہ کے حضرت مولانا رحمہ اللہ کے یہاں اعتکاف نے ایک بار پھر مجھے حضرت مولانا رحمہ اللہ سے جوڑ دیا۔ دعوت و تبلیغ سے وابستگی، دینی تعلیم سے اشتغال، حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی صحبت میں گزرے وقت اور پھر بعد کی زندگی کی یادیں تازہ کر کے حضرت مولانا اپنے والد ماجد رحمہ اللہ کے ذکر میں رطب اللسان ہوجاتے۔ کہا کرتے تھے کہ ’’مجھے والد صاحب نے دین کے لیے وقف کر چھوڑا تھا۔ والد صاحب نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔ ایک بار دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں سوڈان کے سفر کے لیے میں نے تین ہزار کی فرمائش کی تو پانچ ہزار بھیج دیے‘‘۔
میرے نزدیک حضرت مولانا رحمہ اللہ کی سب سے زیادہ قابلِ رشک صفت ان کی جامعیت تھی۔ اللہ نے ان کی شخصیت کو ہر دینی کارکن کے لیے ایک شجر سایہ دار بنایا تھا۔ اس بارے میں وہ اپنے شیخ کا حقیقی پرتَو تھے۔ ہم نے جو جامعیت حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی شخصیت میں دیکھی اس کا عکسِ جمیل ہمیں حضرت مولانا رحمہ اللہ کی ہستی میں دکھائی دیا۔ ہر دینی رضاکار کے لیے ان کا در کھلا ہوتا تھا۔ حق کے ہر علمبردار کا وہ ساتھ دیتے تھے۔ ہر ایک انہیں اپنا سمجھتا تھا۔
اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ ان کی سب سے بڑی امنگ تھی۔ سرزمین افغانستان پر خلافتِ راشدہ کی جب بہاریں آئیں تو حضرت مولانا رحمہ اللہ ان ایمان افروز بہاروں سے اپنی روح کو تازگی بخشنے کے لیے چار بار افغانستان گئے۔ وقت کے فرعون کے سامنے ڈٹ جانے والے خدا مست درویشوں کی حضرت مولانا رحمہ اللہ نے استطاعت سے بڑھ کر مالی مدد کی۔ بتایا کرتے تھے کہ ’’امیر المومنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ نے بڑی عزت افزائی کی‘‘۔ سخاوت اور راہِ خدا میں مال لٹانا تو حضرت مولانا رحمہ اللہ کے خمیر کا حصہ تھا۔
اپنے شیخ کے وہ چلتے پھرتے نمونہ تھے۔ اپنے مشائخ کی نسبت کے وہ امین تھے۔ ایک بار خواب میں انہیں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ سے تعبیر پوچھی گئی تو فرمایا کہ ’’اس کی تعبیر انتقالِ نسبت ہے۔ حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کی نسبت ان کی طرف منتقل کر دی گئی ہے‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے علمی ورثے کی طباعت و اشاعت کے سلسلے میں حضرت مولانا کی خدمات قابلِ رشک اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس خدمت کو انہوں نے جس والہانہ جذبے اور لگائو کے ساتھ سرانجام دیا وہ انہی کا امتیاز تھا۔
عام طور پر بعد از عصر میری حضرت مولانا رحمہ اللہ کے ہاں حاضری ہوتی۔ عصر تا مغرب جاری رہنے والی اس نشست میں کبھی تو حالاتِ حاضرہ پر گفتگو ہوتی، کبھی مشائخ کی حسین یادوں کا ذکر ہوتا اور کبھی دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا روح پرور تذکرہ چھڑ جاتا۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ کے ساتھ بیتے لمحات کا بڑے والہانہ انداز سے ذکر کرتے۔ ایک بار بتایا کہ حضرت رائے پوری شدید ضعف اور معذوری کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے لیکن اقامت سن کر نہ جانے کہاں سے جسم میں طاقت آجاتی تھی کہ کھڑے ہو کر پوری نماز پڑھتے تھے۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کے ہاں سنتوں کا بڑا اہتمام تھا۔ اس بارے میں رواداری اور مداہنت سے وہ قطعاً ناآشنا تھے۔ شادی ہالز میں منعقد تقریبات میں آج کل بہت سے ایسے تکلفات کو اپنایا جاتا ہے جو شریعت کے مزاج سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ بہت سے دیندار حضرات بھی اس طرح کے تکلفات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ کے ہاں اس طرح کی سمجھوتہ بازی نہ تھی۔ کہا کرتے تھے: ’’آج کل شادی کی تقریبات میں کرسیوں پر بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا ہے اور بعض جگہ تو کھڑے ہو کر لوگ کھاتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں جس تقریب میں بھی جائوں، اپنے ساتھ شرعی حلیے میں کچھ ساتھیوں کو بھی لے کر جائوں، پگڑیاں سروں پر سجائی ہوں اور تقریب کے سارے شرکاء کے برعکس ہم زمین پر بیٹھ کر کھائیں‘‘۔
ایک بار اپنے انتہائی قریبی عزیز کی دعوتِ ولیمہ میں خلافِ سنت کسی تکلف کو دیکھ کر کہا: ’’السلام علیکم! میں تو جا رہا ہوں‘‘۔ چنانچہ نہ چاہتے ہوئے بھی منتظمین نے اس غیر شرعی تکلف کو ختم کردیا۔ اسی طرح ایک دوسری تقریب میں مووی بنتے دیکھ کر حضرت مولانا رحمہ اللہ نے کیمرا مین سے ریل لی اور سب کے سامنے اسے اُدھیڑ ڈالا۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کو اس کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے اور کہا کہ ’’شکر ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی اس طرح کے لوگ موجود ہیں‘‘۔
وقت کی پابندی کا بھی حضرت مولانا رحمہ اللہ کے یہاں بڑا اہتمام تھا۔ اپنے ایک صاحبزادے کی دعوتِ ولیمہ میں کارڈ پر نو بجے کا وقت لکھا۔ رائج سوچ کے مطابق میں کافی تاخیر سے ہال میں پہنچا تو آگے سناٹا تھا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ سے بات ہوئی تو کہنے لگے: ’’کھانا تو مقررہ وقت پر لگ گیا تھا۔ وقت گزرنے پر باقی ماندہ کھانا مستحقین تک پہنچا دیا گیا۔ اب اگر میں کہوں کہ آپ باہر سے کھانا خرید کر کھالیں تو میری تو اس میں ناک نہیں کٹے گی۔‘‘
تادمِ واپسی معمولات کی پابندی بھی مولانا کی زندگی کا ایک درخشندہ باب ہے۔ تاحیات تہجد کی پابندی بھی قابلِ رشک تھی۔
آج سے تقریباً نو سال قبل حضرت مولانا رحمہ اللہ نے مجھ سے اپنے صاحبزادے عزیزم مولانا عیسیٰ کے لیے میری بچی کا رشتہ مانگا۔ میں نے استخارہ اور غور و فکر کے لیے تین دنوں کی مہلت مانگی۔ تین روز کے بعد میں نے آمادگی کا اظہار کیا تو کہنے لگے: ’’ہر باپ کی چاہت ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کا مستقبل معاشی لحاظ سے آسودہ ہو۔ اس بارے میں آپ بے فکر رہیں۔ میں نے اپنے بچوں کا معاشی بندوبست کر رکھا ہے‘‘۔
چار سال قبل میں ایک بیماری کے سلسلے میں ہسپتال میں داخل تھا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ عیادت کے لیے آئے، واپس جا کر صاحبزادے مولانا عیسیٰ صاحب کے ذریعے ایک معقول رقم بھیجی اور تاکید کی کہ بھیجنے والے کا نام ظاہر نہ ہو۔ ایک بار کیفیات سے متعلق میں نے ایک استفسار کیا تو فتاویٰ محمودیہ کا حوالہ دیدیا کہ اس میں اپنے استفسار کا جواب دیکھ لیں۔ رحمانیہ مسجد نارتھ ناظم آباد کا حلقۂ ذکر جس کی رونق مولانا زبیر صاحب رحمہ اللہ (خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ) ہوا کرتے تھے، ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد حضرت مولانا رحمہ اللہ نے میری نااہلیت کے باوجود مجھے اس حلقے کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کے سانحۂ ارتحال سے میں اپنی زندگی میں ایک واضح خلا محسوس کرتا ہوں۔ عصر تا مغرب عموماً میری ان کے ساتھ نشست ہوا کرتی تھی جو ان کی رخصتی کے ساتھ برخاست ہوگئی۔ میں ان کی زندگی پر اور ان کے ساتھ اپنی رفاقت پر ایک طائرانہ نظر ڈالوں تو یہ کہوں گا کہ شاید ہی ان کی ذات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو۔ ہر دینی کارکن کے تعاون اور اس کی حوصلہ افزائی میں وہ پیش پیش رہے۔ مدینہ طیبہ کے وہ عاشقِ زار تھے۔ کہا کرتے تھے کہ ’’میں مدینہ منورہ میں مرنے کے لیے جاتا ہوں‘‘۔ کچھ عرصہ پہلے الجنت فارم ہائوس میں ان کے ساتھ ایک شب بھی ایک یادگار شب تھی۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے میرے پسندیدہ پان منگوا کر مجھے چارج کیا اور پھر شب بھر ہم محفل آراء رہے۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ رات گئے تک مجھ سے منظوم کلام سنتے رہے، آنے والے اشعار میں نے سنائے تو بار بار سنانے کا تقاضہ کرتے رہے۔ یہ اشعار ان کے پسندیدہ ترین اشعار تھے۔ یہ اشعار لکھوائے بھی اور ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔ مرض الوفات میں حاضری کے موقع پر بھی ان اشعار کے سنانے کا بار بار تقاضہ کرتے رہے۔ ہر بار رحمتِ حق پر امید بھری نگاہیں جما کر جھوم جھوم کر سنتے رہے۔ آپ بھی ان اشعار سے امید افزا تاثر ضرور لیں:
یہ قرب مبارک تجھے اے صوفی صافی!
مجذوب کو اک دور کی نسبت بھی ہے کافی
اس رند کے حق میں یہ دعا کردے خدارا!
توفیقِ ندامت سے ہو غفلت کی تلافی
بخشے اللہ وہ تجھ کو بلندیٔ مراتب
مجھ کو ہو عطا میری خطائوں کی معافی
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی بال بال مغفرت فرمائے، غریقِ رحمت کرے اور آپ کو اپنے قرب و رضا کے اعلیٰ درجات نصیب فرمائے۔ آمین۔